Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 215 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.co پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہمارے ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 36 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔

جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔


ایک شفیق اور جوشیلی اُداسی

A SOFT AND VIOLENT SADNESS
(Urdu)

مسٹر جان سیموئیل کیگن کی جانب سے
by Mr. John Samuel Cagan

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
ہفتہ کے دِن کی صبح، 30 اپریل، 2017
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Morning, April 30, 2017

’’اور ایک عورت تھی جس کے بارہ برس سے خون جاری تھا۔ اُس نے اپنی ساری پُونجی حکیموں سے علاج کرانے پر خرچ کر دی تھی لیکن کسی کے ہاتھ سے شفا نہ پا سکی تھی۔ اُس نے پیچھے سے یسوع کے پاس آکر اُس کی پوشاک کا کنارہ چھُوا اور اُسی وقت اُس کا خون بہنا [بند ہو گیا]‘‘ (لوقا 8:43۔44).

ایک عورت بے انتہا شدید بیمار تھی۔ اُس نے اپنی بیماری کا علاج کرنے کے لیے وہ سب کچھ کیا جو وہ کر سکتی تھی۔ وہ ڈاکٹروں کے پاس گئی لیکن وہ اُس کا علاج نہیں کر پائے۔ اُس نے اپنی ساری جمع پونجی جو اُس کے پاس تھی اُس بیماری کا علاج کرنے میں خرچ کر ڈالی۔ اُس نے ہر علاج کروایا جو وہ کروا سکتی تھی، لیکن کسی کے ہاتھ سے شفا نہ پا سکی۔ اپنے زمانے کے معالجوں کی نگہداشت میں، اُس نے ہر اُس علاج کی اذیت کو برداشت کیا جو وہ کر سکتے تھے۔ اپنے زمانے کے یہودی لوگوں کی جانب سے اُس کو ناپاک سمجھا گیا۔ وہ مذہبی اور معاشرتی طور پر علیحدہ زندگی بسر کرنے لگی۔ وہ تنہا تھی اور کوئی بھی اُس سے بات نہیں کر سکتا تھا۔

اُس کے پاس تدابیر ختم ہو چکی تھیں۔ اُس کے پاس اُمید ختم ہو چکی تھی۔ اُس کے پاس کوئی اُمید نہیں تھی جب تک اُس نے یسوع کو نہ دیکھ لیا۔ اُس نے ایک ہجوم میں یسوع کو دیکھا۔ وہ جانتی تھی یسوع اُس کا علاج کر سکتا تھا۔ اُس کو یسوع کے پاس تک پہنچنا تھا۔ وہ نہیں جانتی تھی کہ آیا وہ یسوع کے کافی نزدیک تک پہنچ پائے گی۔ وہ اِس قدر دور دکھائی دے رہا تھا کہ یہ ناممکن دکھائی دیتا تھا کہ وہ کبھی بھی شفا حاصل کر پائے گی۔ لیکن وہ ہر کوشش کر چکی تھی، اور وہ جانتی تھی کہ واحد ہستی جو اُس کی مدد کر سکتی تھی یسوع تھا۔ وہ ہجوم میں سے دھکے کھاتی ہوئی یسوع تک پہنچی۔ وہ پوری طرح یسوع تک نہیں پہنچ پائی تھی، لیکن وہ اُس کے لبادے کے کنارے کو چھو سکتی تھی۔ جس لمحے اُس نے مسیح کے لبادے کے کنارے کو چھوا، اُس کی بیماری نے شفا پائی، اور یسوع نے اُس کو تندرست کر دیا۔ یہ کہانی براہ راست آپ سے تعلق رکھتی ہے۔

I. پہلی بات، آپ بیمار ہیں۔

تمام کی تمام انسانیت بیمار ہے۔ انسانیت ایک ایسی بیماری کے ساتھ عفونت دار ہو چکی ہے کہ جو انسانیت کو خود اپنے خلاف کر چکی ہے۔ اِس بیماری کے نتیجے میں، لوگ ایک دوسرے کو چوٹ پہنچا رہے ہیں، ایک دوسرے کی کمزوریوں سے فائدہ اُٹھا رہے ہیں، اور بالاآخر، یہاں تک کہ خود کو ہی تباہ کیے جا رہے ہیں۔ یہ بیماری کوئی راز نہیں ہے۔ سائنس اور تاریخ دونوں ہی اِس بیماری کا سامنا کر چکے ہیں، حالانکہ وہ اِس کو مختلف ناموں سے پکارتے ہیں۔ یہ بیماری خُدا کی طرف سے گناہ کی حیثیت سے جانی جاتی ہے۔ گناہ تمام انسانیت کو عفونت دار کر چکا ہے۔ یہ آپ کو عفونت دار کر چکا ہے۔ بائبل کہتی ہے،

’’کیونکہ سب نے گناہ کیا اور خدا کے جلال سے محروم ہیں‘‘ (رومیوں 3:23).

ہر کوئی گناہ کی بیماری سے عفونت دار ہو چکا ہے۔ حالانکہ گناہ کی ایک ساری زندگی میں مشق کی جاتی اور اِس کو کامل کیا جاتا ہے، اِس کو سیکھنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ یہ قدرتی طور پر نشوونما پاتا ہے اور آپ کے باطن کو پیپ زدہ کر دیتا ہے۔ گناہ ہر اُس کام کو جو آپ کرتے ہیں متاثر کرتا ہے۔ جب آپ بے ایمان ہوتے ہیں، یہ گناہ کی بیماری کا ثبوت ہے۔ جب آپ فحش فلمیں دیکھتے ہیں، یہ اِس لیے ہوتا ہے کیونکہ آپ گناہ سے بھرپور ہوتے ہیں۔ آپ اُن باتوں کے کرنے سے جو غلط ہوتی ہیں گنہگار نہیں بن جاتے۔ آپ کی گناہ کی بیماری وارثتی ہے۔ آپ ایک گنہگار ہی پیدا ہوئے تھے۔ آپ ایک گنہگار ہیں، اور یہ چونکہ آپ گنہگار ہیں، اِس لیے آپ غلط کام کرتے ہیں۔ گناہ آپ کے دِل کو عفونت دار کر چکا ہے۔ اپنے خاموش خیالوں میں، آپ بے شمار ہولناک کام کرنا چاہتے ہیں جو آپ کرتے نہیں ہیں۔ اگر آپ وہ کر پائیں تو آپ جو ہیں اُس سے کہیں زیادہ بدتر ہو جائیں گے۔ آپ کا دِل اتنی ہی آسانی کے ساتھ جھوٹ کا تصور کر سکتا ہے جتنی سہولت کے ساتھ آپ کے پھپھڑے سانس بناتے ہیں۔ آپ کا دِل خُفیہ طور پر ہولناک باتوں کی خواہش کرنے کی اِجازت دیتا ہے جبکہ اُسی وقت میں خود آپ کا ایک اچھے انسان میں بھیس بھی بدل ڈالتا ہے۔ آپ گناہ سے عفونت دار ہو چکے ہیں، اور گناہ ہے جو لوگوں کو خودغرض، دھوکہ باز، اور ناگوار بناتا ہے۔ بائبل کہتی ہے،

’’لیکن ہم سب اُس شخص کی مانند ہو گئے ہیں جو ناپاک ہے، اور ہمارے راستبازی کے سارے کام گویا گندی دھجیوں کی طرح ہیں؛ ہم سب پتے کی طرح مُرجھا جاتے ہیں، اور ہمارے گناہ ہمیں ہوا کی طرح اُڑا لے جاتے ہیں‘‘ (اشعیا 64:6).

گناہ ایک بیماری ہے۔ گناہ کی علامتیں ہونے کے ساتھ ساتھ اثرات بھی ہوتے ہیں۔ گناہ کے نتیجے کے طور پر، لوگ اکثر خود اپنی زندگیوں میں شدید ناخوش ہوتے ہیں۔ گناہ کے نتیجے کے طور پر لوگ شرمندہ ہوتے ہیں، ذہنی دباؤ اور درد میں مبتلا ہوتے ہیں۔ خاموش سوچ بچار کے لمحات میں، آپ کبھی کبھار اپنے اندر تاریکی کا احساس کرتے ہیں۔ گاہے بگاہے، آپ خود میں اُس اندھیرے کو محسوس کر سکتے ہیں جو معصومیت کی غیرموجودگی کا ساتھ دیتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ آپ کی زندگی ایک خالی احساس سے گُھٹ جاتی ہے جس کی تقریباً وضاحت نہیں کی جاتی۔ آپ گناہ کی علامات کو محسوس کر چکے ہیں۔ بعض اوقات، اپنی حالت کی سنجیدگی کو آپ خود اپنے باطن کی گہرائی میں محسوس کر چکے ہوتے ہیں، جب یہ آپ پر ایک شفیق اور جوشیلی اُداسی میں حاوی ہوتی چلی جاتی ہے۔ آپ ایسے لمحات میں سے گزر چکے ہوتے ہیں جب آپ نے اِس طرح سے محسوس کیا ہوتا ہے، لیکن کسی نہ کسی طرح آپ جان جاتے ہیں کہ آپ ایک طویل مدت تک اِس طرح کے احساس کے ساتھ زندگی نہیں بسر کر سکتے۔ تقریباً بالکل ایسے جیسے بقا کی جبلّت کے ردعمل میں ہوتا ہے، آپ علاج تلاش کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ اور بالکل جیسے باقی کی دُنیا کرتی ہے، آپ وہ علاج تلاش کرنا شروع کر دیتے ہیں جو اِس دُنیا میں ڈھونڈے جا سکتے ہیں۔

’’اور ایک عورت تھی جس کے بارہ برس سے خون جاری تھا۔ اُس نے اپنی ساری پُونجی حکیموں سے علاج کرانے پر خرچ کر دی تھی لیکن کسی کے ہاتھ سے شفا نہ پا سکی تھی‘‘ (لوقا 8:43).

II. دوسری بات، آپ اپنی بیماری کے لیے علاجوں کی تلاش کر چکے ہوتے ہیں۔

گناہ کی علامات کے لیے بے شمار ایسے علاج ہیں جن کی پیشکش کی جا چکی ہے۔ لوگ محظوظ ہونے کی مسرت کے ساتھ گناہ کی تشخیص کو رفاع کرنا سیکھ چکے ہیں۔ ساری دُنیا میں لوگ گناہ کی علامتوں سے فرار پانے کے لیے نشہ کرتے ہیں۔ کبھی کبھی زندہ ہونا ہی اِس قدر غیرمطمئن ہوتا ہے، اور ایک گولی یا ایک سوئی یا ایک بوتل اِس تمام کو دور کر دیتی ہے، چاہے تھوڑے بہت عرصے کے ہی لیے کرے۔ آپ شاید مسرت میں خود کو کھو بھی دیں، گناہ کی علامتوں سے چھٹکارہ پانے کے طریقوں کے طور پر۔ آپ کا چُنا ہوا نشہ شاید ہیروئین یا شراب نہ ہو، لیکن چاہے وہ کچھ بھی ہو، یہ ایک علاج ہے، اور یہ عادی بنا ڈالنے والا ہوتا ہے۔

مسرت کے علاج بے شمار بھیسوں میں موجود ہوتے ہیں۔ آج لوگ روچوئل virtual دُنیا کی مسرتوں کے عادی بن چکے ہیں۔ بزنس انسائیڈر Business Insider میں پرکھے گئے حال ہی میں ایک مشاہدے میں پایا گیا کہ اوسط لوگ اپنے سمارٹ فونز کو 2,000 سے 5,000 مرتبہ ہر ایک دِن چھوتے ہیں۔ لوگ معلومات، رابطوں اور کچھ نہ کچھ تلاش کرنے کے سفروں کی جلد بازی کے عادی ہو چکے ہیں جو ٹیکنالوجی اُنہیں پیش کرتی ہے۔ وہ مسلسل اُن اکٹھے کیے گئے حقائق جن سے نتائج اخذ کیے جا سکتے ہیں ڈوبے رہتے ہیں، اِس طرح سے اُنہیں گناہ کی علامتوں کو محسوس کرنے کے لیے – کبھی بھی نہیں سوچنا پڑتا۔

آپ کی جیب میں بھی ایک سمارٹ فون ہوتا ہے۔ ہر فارغ لمحے میں، آپ اپنے فون میں خود کو گم کر دیتے ہیں۔ سوچے سمجھے اعمال کے وقفوں کے دوران، آپ بِنا اِرادہ کیے اِس کو اپنی جیب میں سے نکال لیتے ہیں۔ آپ کے پاس ایک فرار کی راہ ہے۔ آپ کے پاس ایک علاج ہوتا ہے۔ آپ گناہ کی تشخیص کا علاج کر رہے ہوتے ہیں، لیکن آپ نے اُن کا علاج نہیں کیا ہوتا۔

’’اور ایک عورت تھی جس کے بارہ برس سے خون جاری تھا۔ اُس نے اپنی ساری پُونجی حکیموں سے علاج کرانے پر خرچ کر دی تھی لیکن کسی کے ہاتھ سے شفا نہ پا سکی تھی‘‘ (لوقا 8:43).

ٹیکنالوجی آپ کی ایک دوسری دُنیا تک رسائی کرواتی ہے۔ ٹیکنالوجی آپ کو ایک دُنیا ڈھونڈنے کی اجازت دیتی ہے جو جس دُنیا میں آپ پیدا ہوئے ہوتے ہیں اُس کے مقابلے میں کہیں زیادہ موزوں دکھائی دیتی ہے۔ لوگ روزانہ گھنٹوں معاشی میڈیا کی ویب سائٹس پر صرف کر دیتے ہیں۔ لوگ دس یا پندرہ یا بیس تصویریں خود کی اُتارتے ہیں، اِس سے پہلے کے وہ خود کی بالکل صحیح نمائش ڈھونڈ پائیں جس کو وہ اپنی الیکٹرانکس کی حقیقت کے مزار میں بند کر پائیں۔ وہ خود کو اِس طرح سے پیش کرتے ہیں، کسی ایسی صورت میں جس میں وہ خود کے ہونے کا یقین نہیں کرتے۔ وہ احتیاط کے ساتھ ہر تصویر کو اور ہر پوسٹ کو تراشتے ہیں، تاکہ دُنیا اُن کی جو وہ ہیں ویسی کسی مثالی شکل کو دیکھ سکے۔

آپ کا ایک فیس بُک اکاؤنٹ ہوتا ہے۔ آپ کا ایک اِنسٹاگرام اکاؤنٹ ہوتا ہے۔ آپ اپنے بہترین زاویوں اور چہروں کو چُننے میں وقت صرف کرتے ہیں تاکہ دُنیا اُس ہستی کو نہ دیکھ پائے جس کو خود آپ اپنے طور پر جانتے ہیں۔ اگر آپ اِس کو بالکل صحیح طور پر کریں، تو شاید دُنیا آپ کو قائل کر سکے کہ آپ خوبصورت ہیں، کہ آپ اچھے ہیں، کہ آپ گناہ کی علامات سے متاثر نہیں ہیں۔ آپ علاج پا چکے ہیں، لیکن آپ ابھی تک شفایاب نہیں ہوئے ہیں۔

’’اور ایک عورت تھی جس کے بارہ برس سے خون جاری تھا۔ اُس نے اپنی ساری پُونجی حکیموں سے علاج کرانے پر خرچ کر دی تھی لیکن کسی کے ہاتھ سے شفا نہ پا سکی تھی‘‘ (لوقا 8:43).

غور کریں آپ کی زندگی کس قدر مصروف ہو چکی ہے۔ اپنی سچی حالت کو محسوس کرنے میں وقت لگتا ہے۔ اِسی لیے اپنی سچی حالت سے فرار پانے کی کوشش میں، آپ اپنے وقت کو ایسے لائحہ عمل میں ڈھال دیتے ہیں جو قطعی طور پر وقت کا محتاج ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ آپ کا فارغ وقت بھی فارغ نہیں ہوتا۔ آپ کا ضمیر توجہ بٹانے کے عمل سے بھر چکا ہوتا ہے۔ آپ ہر روز گھنٹوں ویڈیو گیمز کھیلنے میں گزار دیتے ہیں۔ آپ کی تصوراتی virtual دُنیا حقیقی دُنیا پر قابض ہو چکی ہوتی ہے۔ جب آپ جماعت میں بیٹھے ہوتے ہیں، یا ٹریفک میں ہوتے ہیں، یا اِس واعظ میں ہوتے ہیں، تو آپ گھر جانے کے بارے میں سوچ رہے ہوتے ہیں، اور ویڈیو گیمز کے بارے میں ذرا سا کچھ زیادہ سوچ رہے ہوتے ہیں۔ آپ اپنی زندگی میں شفیق اور جوشیلی اُداسی کو محسوس کرنے کے لیے بے انتہا مصروف ہو جاتے ہیں۔ آپ خود اپنی حالت کی حقیقت کو گرفت میں کرنے کے لیے بہت مصرف ہو جاتے ہیں۔

ایک کمپوٹر کی سکرین کے سامنے کئی کئی دِن کھو چکے ہوتے ہیں۔ خود اپنے ذہن کے ساتھ تنہا بیٹھنا کیسا محسوس ہوتا ہے یہ آپ کو اچھا نہیں لگتا، اور اِس طرح سے آپ انٹرنیٹ کی ہمراہی مستقل جاری رکھتے ہیں۔ آپ یہاں تک کہ ایک لمحے کے لیے بھی نہیں رک سکتے کیونکہ آپ ہمیشہ ہی کمپیوٹر کے سامنے بیٹھے رہتے ہیں۔ آپ موسیقی سُنتے رہتے ہیں، ویڈیو گیمز کھیلتے رہتے ہیں، اِنٹرنیٹ پر، مسرت پہنچانے والے تجربات میں، کسی بھی بات میں ماسوائے زندگی کی حقیقت کے۔ آپ خود کو بتاتے ہیں، کہ آپ واقعی میں گناہ کی علامتوں سے خوفزدہ نہیں ہیں۔ بوریت کی وجہ سے آپ اُن تمام کاموں کو کرتے ہیں جو آپ کر سکتے ہیں۔ آپ یہ کام کرتے ہیں کیونکہ یہ تفریح ہوتے ہیں، ناکہ آپ کو اِن کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور اِس کے باوجود، اگر آپ غور کرنے کے لیے رُک جائیں کہ کس قدر شدت کے ساتھ آپ تفریح کے تعاقب میں ہیں تو آپ شاید غور کر پائیں کہ وہ آپ کی زندگی کے لیے بھاگ رہے ہیں۔ فکر کرنے یا پرواہ کرنے کے لیے کوئی وقت نہیں ہوتا، کیونکہ آپ اپنی زندگی کو بے انتہا مصروف ہونے کے لیے مرتب کر چکے ہوتے ہیں۔ بائبل کہتی ہے،

’’سکون کے ساتھ ایک بھری ہُوئی مُٹھی اُن دو مُٹھی بھرے ہاتھوں سے بہتر ہے جن کے ساتھ محنت و مشقت اور ہوا کا تعاقب ہو‘‘ (واعظ 4:6).

آپ خود سے کہتے ہیں کہ آپ مدد نہیں کر سکتے کیونکہ آپ اسقدر مصروف ہیں۔ آپ کی ششماہی امتحان ہوتے ہیں اور پھر ایک پروجیکٹ ہوتا ہے اور پھر نوکری ہوتی ہے۔ یہ کسی دِن بھی نہیں بدلے گا۔ آپ ہمیشہ ہی اتنے مصروف رہیں گے۔ آپ کو اِسی طرح سے اپنی زندگی کو کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ آپ یقین کرتے ہیں کہ کہیں پرے آپ کے مستقبل میں، آپ مختلف ہو جائیں گے۔ آپ یقین کرتے ہیں آپ گریجوایٹ ہو جائیں گے، اور پیسے کمانا شروع کر دیں گے، اور آپ بالاآخر کوئی ایسی ہستی بن جائیں گے جس کے ہونے پر آپ کو فخر ہوتا ہے۔ لیکن اِس سے کوئی فرق نہیں پڑتا آپ کہاں سے گریجوایشن کرتے ہیں، کوئی فرق نہیں پڑتا آپ جتنا زیادہ مرضی پیسا کما لیں، آپ مطمئن نہیں ہونگے، اور یہ کبھی بھی کافی نہیں ہوگا۔ بائبل کہتی ہے،

’’جیسا کہ اِنسان ماں کے پیٹ سے ننگا آتا ہے، اور جیسے وہ ننگا آتا ہے، ویسے ہی ننگا چلا جاتا ہے۔ اور اُسے اپنی کمائی سے کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا جسے وہ اپنے ساتھ لے جا سکے‘‘ (واعظ 5:15).

آپ کی اُمیدیں آپ کے لیے کچھ بھی جمع نہیں کریں گی۔ روپے کی کوئی تعداد، اور کوئی کامل نوکری اچانک آپ کو زندگی کے اُس خالص تجربے سے نہیں نوازے گی جس کے لیے آپ کی روح بھوکی ہوتی ہے۔ آپ کی زندگی آپ کو کبھی بھی مطمئن نہیں کرے گی۔ آپ خوش نہیں ہوتے ہیں۔ آپ گناہ کی علامتوں میں مبتلا ہوتے ہیں، اور آپ اِنہی کا علاج کر رہے ہوتے ہیں۔ آپ گناہ کی علامتوں کا علاج کر رہے ہوتے ہیں لیکن آپ کبھی بھی علاج نہیں ڈھونڈ پائیں گے۔

’’اور ایک عورت تھی جس کے بارہ برس سے خون جاری تھا۔ اُس نے اپنی ساری پُونجی حکیموں سے علاج کرانے پر خرچ کر دی تھی لیکن کسی کے ہاتھ سے شفا نہ پا سکی تھی‘‘ (لوقا 8:43).

کوئی بھی علاج کبھی بھی گناہ کے لیے دوا کا مترادف نہیں ہو گا۔ دُنیا کی ساری خوشیاں کبھی بھی آپ کے گناہ کی بیماری کی دوا نہیں ہونگی۔ دُنیا میں موجود سارے کا سارا روپیہ اکٹھا ہو کر بھی کبھی بھی ایک دوا نہیں خرید سکتا۔ ایک پرانا گیت اِس کو یوں بیان کرتا ہے،

جواہرات کی ذاتی ملکیت، سونے کے پہاڑوں،
   چاندی کے دریا، ان کہے زیورات؛
یہ سب مل کر بھی مجھے یا آپ کو خرید کر نہ دے سکے
   سکون جب ہم سو رہے ہوتے ہیں یا ایک ضمیر جو آزاد ہوتا ہے۔
(’’جواہرات کی ذاتی ملکیت Acres of Diamonds‘‘ شاعر آرتھر سمتھ Arthur Smith، 1959)۔

آپ کو اپنے گناہ کی بیماری کے لیے مذید اور علاجوں کی ضرروت نہیں پڑتی۔ وہ علاج جو آپ ایک کے بعد دوسرا کرواتے ہیں صرف آپ کی علامتوں سے نِپٹتا ہے۔ علاج علامتوں سے نِپٹتے ہیں، لیکن بیماری کو نہیں شفا بخشتے۔ آپ اپنے علاجوں میں جاری رہیں گے جب تک کہ آپ اپنی تمام کی تمام زندگی کو جو آپ کے پاس ہوتی ہے ختم نہیں کر چکے ہوتے ۔ اور کسی دِن، اچانک، بہت تاخیر ہو جائے گی۔ آپ کے گناہ کی بیماری بدترین ہو چکی ہے، اور بدترین ہوتی رہنا جاری رکھے گی۔ آپ کی بیماری دیرینہ اور مُہلک اور حتمی ہوتی ہے۔ گناہ کی یہ بیماری آپ کو تباہ کر دے گی۔ بائبل کہتی ہے،

’’کیونکہ گناہ کی مزدوری مَوت ہے لیکن خدا کی بخشش ہمارے خداوند یسوع مسیح میں ہمیشہ کی زندگی ہے‘‘ (رومیوں 6:23).

آپ کو بیماری کے لیے ایک دوا چاہیے۔ آپ کو اُس واحد دوا کی ضرورت ہے جو موجود ہے۔ آپ کو یسوع مسیح کی ضرورت ہے۔

III. تیسری بات، آپ کے گناہ کی بیماری کا علاج یسوع ہے۔

آپ کے گناہ کی بیماری کے لیے دوا کو سرسری علاجوں کے مقابلے میں شدید ترین حد تک جانا چاہیے۔ بالکل جیسے ہماری تلاوت میں عورت نے کیا تھا، آپ کو علاجوں سے مُنہ موڑ لینا چاہیے اور یسوع کی جانب رُخ کرنا چاہیے۔

’’اور ایک عورت تھی جس کے بارہ برس سے خون جاری تھا۔ اُس نے اپنی ساری پُونجی حکیموں سے علاج کرانے پر خرچ کر دی تھی لیکن کسی کے ہاتھ سے شفا نہ پا سکی تھی۔ اُس نے پیچھے سے یسوع کے پاس آکر اُس کی پوشاک کا کنارہ چھُوا اور اُسی وقت اُس کا خون بہنا [بند ہو گیا]‘‘

(لوقا 8:4

3۔44).

اِس عورت نے ہر ایک بات جو وہ کر سکتی تھی کر کے دیکھ لی تھی، اور کسی نے بھی اُس کی بیماری کو شفا نہیں بخشی، جب تک وہ یسوع کی جانب نہیں مُڑی۔ حالانکہ بے شمار لوگوں نے کوشش کی لیکن کوئی بھی اُس کو شفایاب نہ کر پایا۔ وہ یسوع کی جانب اپنی آخری مایوس کُن اُمید کے ساتھ مُڑی تھی، اور یسوع نے اُس کو شفا بخشی۔ گناہ کی بیماری کے لیے یسوع واحد دوا ہے۔ صرف یسوع ہی آپ کے گناہ کی بیماری کی دوا ہو سکتا ہے، کیونکہ صرف یسوع آپ کے گناہ کے لیے قربان ہوا تھا۔ یسوع ہر طرح سے کامل ہے۔ یسوع بے داغ، بے گناہ برّہ ہے جو آپ کے گناہ کا بوجھ اپنے بدن پر لاد کر صلیب کے لیے گیا۔ اُس کے آپ کے گناہ کا کفارہ ادا کرنے کے لیے صلیب پر کیلوں سے جڑا گیا۔ یسوع نے اپنے خون کو آپ کے گناہ کے تریاق کی حیثیت سے بہایا۔ بائبل کہتی ہے،

’’یقیناً اُس نے ہماری بیماریاں برداشت کیں اور ہمارے غم اُٹھا لیے، پھر بھی ہم نے اُسے خدا کا مارا، کُوٹا اور ستایا ہُوا سمجھا۔ لیکن وہ ہماری خطاؤں کے سبب سے گھایل کیا گیا، اور ہماری بداعمالی کے باعث کُچلا گیا، جو سزا ہماری سلامتی کا باعث ہُوئی وہ اُس نے اُٹھائی، اور اُس کے کوڑے کھانے سے ہم شفایاب ہُوئے‘‘ (اشعیا 53:4۔5).

یسوع نے یہ سب کچھ اِس لیے کیا کیونکہ وہ آپ سے محبت کرتا ہے۔ یسوع آپ کے گناہوں کے لیے قربان ہو گیا تاکہ آپ کی گناہ کی بیماری کو شفا مل پائے۔ آپ ایک گنہگار ہیں۔ آپ علاج معالجوں کی کوششیں کر چکے ہیں۔ اُن علاجوں نے آپ کے گناہ کو شفا نہیں دی۔ کسی بھی علاج کی کوئی بھی خوراک آپ کو شفا نہیں بخشے گی۔ آپ گناہ کی ہولناک بیماری سے انتہائی درد میں ہیں۔ آپ کو قائل ہونا چاہیے کہ آپ بیمار ہیں۔ جب تک آپ جان نہیں جاتے کہ آپ بیمار ہیں، آپ کو اُکسایا جائے گا کہ علامتوں کی غیرموجودگی ثابت کرتی ہے کہ آپ کو دوا کی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن آپ کو دوا کی ضرورت ہے۔ یسوع نے کہا،

’’بیماروں کو طبیت کی ضرورت ہوتی ہے، تندرستوں کو نہیں۔ میں راستبازوں کو نہیں بلکہ گنہگاروں کو بلانے آیا ہُوں‘‘ (مرقس 2:17).

آپ کو اپنے گناہ کی بیماری کی حقیقتوں کو دیکھنا اور محسوس کرنا چاہیے۔ اور ایک مرتبہ آپ نے اُنہیں محسوس کر لیا، تو پھر کسی اور علاج کی جانب رُخ مت کریں، دوا کی جانب رُخ کریں۔ گناہ کی علامتوں پر نقاب چڑھانے سے باز آ جائیں اور یسوع کی جانب رُخ کریں۔ صرف یسوع ہی آپ کو گناہ سے بچا سکتا ہے۔ وہ نجات جو یسوع پیش کرتا ہے کمائی نہیں جا سکتی۔ اُس عورت نے شفا پائی تھی، گناہ سے معافی پائی تھی، اور یسوع کے وسیلے سے نجات پائی تھی۔ اُس نے اپنی دوا کے لیے رقم نہیں ادا کی تھی۔ اُس نے یسوع کو نہیں اُکسایا تھا کہ اُس کو شفا بخشے۔ یوں دکھائی دیتا تھا وہ یسوع تک پہنچ نہیں پائے گی، لیکن وہ یسوع کی جانب کسی نہ کسی طور پہنچ گئی۔ وہ یسوع تک گئی اور اُس کی پوشاک کے کنارے کو چھوا اور ایمان کے وسیلے سے نجات پائی! بے شک آپ یسوع تک نہیں پہنچ سکتے، اُس کی جانب جائیں! بے شک آپ محسوس کرتے ہیں آپ یسوع تک اتنے قریب نہیں پہنچ سکتے، مسیح کی جانب ایمان میں پہنچیں، اور وہ آپ کو نجات دے گا! یسوع پر ایمان کے وسیلے سے بھروسہ کریں اور وہ آپ کو نجات دلائے گا! یسوع پر بھروسہ کریں، اور گناہ کی بیماری سے شفا یاب ہو جائیں۔ آمین۔


اگر اس واعظ نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز آپ سے سُننا پسند کریں گے۔ جب ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں تو اُنہیں بتائیں جس ملک سے آپ لکھ رہے ہیں ورنہ وہ آپ کی ای۔میل کا جواب نہیں دیں گے۔ اگر اِن واعظوں نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز کو ایک ای میل بھیجیں اور اُنہیں بتائیں، لیکن ہمیشہ اُس مُلک کا نام شامل کریں جہاں سے آپ لکھ رہے ہیں۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای میل ہے rlhymersjr@sbcglobal.net (‏click here) ۔ آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو کسی بھی زبان میں لکھ سکتے ہیں، لیکن اگر آپ انگریزی میں لکھ سکتے ہیں تو انگریزی میں لکھیں۔ اگر آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو بذریعہ خط لکھنا چاہتے ہیں تو اُن کا ایڈرس ہے P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015.۔ آپ اُنہیں اِس نمبر (818)352-0452 پر ٹیلی فون بھی کر سکتے ہیں۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہائیمرز کے واعظ www.sermonsfortheworld.com
یا پر پڑھ سکتے ہیں ۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

یہ مسوّدۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے ہمارے گرجہ گھر سے ویڈیو پر دوسرے تمام واعظ اور ویڈیو پیغامات حق
اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

واعظ سے پہلے کلام پاک میں سے تلاوت مسٹر نوح سونگ Mr. Noah Song نے کی تھی: اعمال 1:1۔12 .
واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بینجیمن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith نے گایا تھا:
’’یسوع کی جانب اپنی نظریں اُٹھائیں Turn Your Eyes Upon Jesus،
(شاعرہ ھیلن ایچ. لیمل Helen H. Lemmel، 1863۔1961).

لُبِ لُباب

ایک شفیق اور جوشیلی اُداسی

A SOFT AND VIOLENT SADNESS

مسٹر جان سیموئیل کیگن کی جانب سے
by Mr. John Samuel Cagan

’’اور ایک عورت تھی جس کے بارہ برس سے خون جاری تھا۔ اُس نے اپنی ساری پُونجی حکیموں سے علاج کرانے پر خرچ کر دی تھی لیکن کسی کے ہاتھ سے شفا نہ پا سکی تھی۔ اُس نے پیچھے سے یسوع کے پاس آکر اُس کی پوشاک کا کنارہ چھُوا اور اُسی وقت اُس کا خون بہنا [بند ہو گیا]‘‘ (لوقا 8:43۔44).

I.   پہلی بات، آپ بیمار ہیں، رومیوں 3:23؛ اشعیا 64:6۔

II.  دوسری بات، آپ اپنی بیماری کے لیے علاجوں کی تلاش کر چکے ہوتے ہیں،
واعظ 4:6؛ 5:15؛ رومیوں 6:23۔

III. تیسری بات، آپ کے گناہ کی بیماری کا علاج یسوع ہے، اشعیا 53:4۔5؛
مرقس 2:17۔