Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 215 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.co پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہمارے ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 36 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔

جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔


کائفا – وہ شخص جس نے
مسیح کے قتل کا منصوبہ بنایا تھا!

CAIAPHAS – THE MAN WHO
PLANNED THE MURDER OF CHRIST!
(Urdu)

ایک واعظ جس کو ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر نے تحریر کیا
اور جس کی تبلیغ مسٹر جان سیموئیل کیگن نے کی
لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت میں
خُداوند کے دِن کی صبح، 9 اپریل، 2017
A sermon written by Dr. R. L. Hymers, Jr.
and preached by Mr. John Samuel Cagan
at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Morning, April 9, 2017

’’تب اُن میں سے ایک جس کا نام کائفا تھا اور جو اُس سال سردار کاہن تھا، کہنے لگا، تُم لوگ کچھ نہیں جانتے۔ تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ بہتر یہ ہے کہ لوگوں کی خاطر ایک شخص مارا جائے نہ کہ ساری قوم ہلاک ہو۔ یہ بات اُس نے اپنی طرف سے نہیں کہی تھی بلکہ اُس سال کے سردار کاہن کی حیثیت سے اُس نے پیشن گوئی کی تھی کہ یسوع ساری یہودی قوم کے لیے اپنی جان دے گا۔ اور صرف یہودی قوم کے لیے ہی نہیں بلکہ اِس لیے بھی کہ خدا کے سارے فرزندوں کو جو جا بجا بکھرے ہُوئے ہیں جمع کر کے واحد قوم بنا دے۔ پس اُنہوں نے اُس دِن سے یسوع کے قتل کا منصوبہ بنانا شروع کر دیا‘‘ (یوحنا 11:49۔53).

یہ مسیح کی مذہبی خُدمت کے آخری دور میں رونما ہوا تھا۔ یسوع کے لعزر کو مُردوں میں سے زندہ کر چکنے کے بعد وہ دیہی علاقہ جات کی جانب نکل گیا۔ وہ یروشلم میں اپنی مصلوبیت سے ایک ہفتہ پہلے تک واپس نہیں آیا تھا۔ کوئی سوچتا ہوگا کہ لعزر کو مُردوں میں سے زندہ کرنے سے مذہبی رہنما قائل ہو چکے ہونگے، لیکن وہ نہیں ہوئے تھے۔ یسوع پہلے بھی کہہ چکا تھا،

’’جب وہ مُوسٰی اور نبیوں کی نہیں سُنتے تو اگر کوئی مُردوں میں سے زندہ ہو جائے تب بھی وہ قائل نہ ہوں گے‘‘ (لوقا 16:31).

لوگ اکثر معجزات دیکھنے سے بھی قائل نہیں ہوتے۔ وہ معجزہ جس کی اُنہیں ضرورت ہوتی ہے وہ اُن کی جانوں پر خُدا کے پاک روح کا سزایابی کا کام ہوتا ہے، جو ’’قصوروں اور گناہوں میں مُردہ‘‘ ہوتی ہیں (افسیوں2:1)۔ اگر ایک شخص معجزاتی طور پر گناہ کی سزایابی میں نہیں ہوتا، تو وہ مسیح میں ایمان لا کر تبدیل نہیں ہوتا۔ وہ مسیح میں ایمان لا کر تبدیل نہیں ہوتا حتّٰی کہ ’’چاہے کوئی مُردوں میں سے زندہ ہی کیوں نہ ہو جائے‘‘ (لوقا16:31)۔ خُدا کے روح کی بیدار کر دینے والی سزایابی، لوگوں کو اپنے گناہ کا احساس کرنے پر مجبور کر دیتی ہے، جو وہ معجزہ ہوتا ہے جس کو مسیح میں ایمان لانے کی حقیقی تبدیلی کا تجربہ کرنے کے لیے اُنہیں قبول کر لینا چاہیے۔

معجزات لوگوں کو خُدا کے خلاف اپنے دِلوں کو اور زیادہ سخت کر دینے کا سبب بھی بن سکتے ہیں۔ اب، جب سردار کاہن اور فریسیوں نے دیکھا کہ یسوع ’’بے شمار معجزات‘‘ کر رہا تھا، تو اُنہوں نے مِل کر ’’ایک اِجلاس‘‘ طلب کیا، عدالت عالیہ [شریعت کے عالمین] کی ایک کمیٹی (یوحنا11:47)۔ اُس اِجلاس میں ایک عجیب بات رونما ہوئی۔ سردار کاہن کائفا نے مسیح سے تعلق رکھتے ہوئے ایک بالکل سچی پیشن گوئی پیش کی۔ نئے عہد نامے کا تبصرہ The New Testament Commentary اُس نظارے کی تفصیل بیان کرتا ہے: کائفا ایک ’’ہنرمند، ایک موقعہ پرست تھا، جس کو انصاف یا غیرجانبداری کے معنوں کے بارے میں کچھ معلوم نہیں تھا… وہ معصوموں کا خون بہانے سے باز نہیں آتا تھا۔ [جو اُس کا دِل چاہتا تھا وہ اِس طرح سے کرواتا تھا] جیسے وہی بات لوگوں کی بھلائی کے لیے واحد اہم ضرورت ہوتی تھی۔ کائفا یسوع سے خار کھاتا تھا۔ کائفا چاہتا تھا کہ خود اُس کی اپنی خودغرضانہ ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے یسوع کو موت کی گھاٹ اُتار دیا جائے۔ یسوع کی سزا کو پُرتاثر بنانے کی خاطر، وہ اُن آلات کو استعمال کرنے جا رہا تھا جو ہوشیاری سے کی گئی منصوبہ بندی کا نتیجہ تھے… وہ ایک مُنافق تھا کیونکہ آخری مقدمہ میں… جب وہ اندرونی شادمانی سے بھرا پڑا تھا کیونکہ اُس کو وہ مل چکا تھا جس کو اُس نے مسیح کی سزا کے لیے ایک زمین سمجھا تھا، اُس نے اپنے کاہنانہ لبادے کو پھاڑ ڈالا تھا جیسے کہ وہ گہرے دُکھ سے بے قابو ہو چکا ہو! ایسا تھا کائفا۔ جوزیفُسJosephus کو بھی دیکھیں، نہایت قدیم Antiquities، XVIII، 4:3‘‘ (ولیم ھینڈرِکسن، ٹی ایچ۔ ڈی۔ William Hendriksen, Th.D.، نئے عہدنامے کا تبصرہ New Testament Commentary، بیکر کُتب گھر Baker Book House، اشاعت 1981، جلد اوّل، صفحہ 163؛ یوحنا11:49۔50 پر غور طلب بات)۔ اب دوبارہ غور کریں کہ اِس شیطانی سردار کاہن نے ایک پیشن گوئی بتائی تھی۔پرانے عہد نامے میں بلعام کی مانند، اِس مکار شخص نے اصل میں ایک سچی پیشن گوئی بتائی تھی،

’’تب اُن میں سے ایک جس کا نام کائفا تھا اور جو اُس سال سردار کاہن تھا، کہنے لگا، تُم لوگ کچھ نہیں جانتے۔ تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ بہتر یہ ہے کہ لوگوں کی خاطر ایک شخص مارا جائے نہ کہ ساری قوم ہلاک ہو۔ یہ بات اُس نے اپنی طرف سے نہیں کہی تھی بلکہ اُس سال کے سردار کاہن کی حیثیت سے اُس نے پیشن گوئی کی تھی کہ یسوع ساری یہودی قوم کے لیے اپنی جان دے گا۔ اور صرف یہودی قوم کے لیے ہی نہیں بلکہ اِس لیے بھی کہ خدا کے سارے فرزندوں کو جو جا بجا بکھرے ہُوئے ہیں جمع کر کے واحد قوم بنا دے‘‘ (یوحنا 11:49۔52).

لیکن پھر بائبل کہتی ہے،

’’پس اُنہوں نے اُس دِن سے یسوع کے قتل کا منصوبہ بنانا شروع کر دیا‘‘ (یوحنا 11:53).

ایک ہفتے کے بعد، کائفا ہیکل کے چند ایک نگرانوں کو یسوع کو گرفتار کرنے کے لیے بھیجتا ہے جب وہ گتسمنی کے باغ میں دعا کر رہا تھا۔ وہ نگران اُس کو کائفا کے پاس لے گئے تھے، جس نے اُس سے کہا، ’’ہمیں بتا کہ کیا تو خُدا کا بیٹا مسیح ہے‘‘ (متی26:63)۔ جب یسوع نے مثبت میں جواب دیا،

’’تب سردار کاہن نے اپنے کپڑے پھاڑ کر کہا، اُس نے کفر بکا ہے، اب ہمیں گواہوں کی کیا ضرورت ہے؟ تُم نے ابھی ابھی اُس کا کفر سُنا ہے۔ تمہاری کیا رائے ہے؟ اُنہوں نے جواب دیا، وہ قتل کے لائق ہے۔ اِس پر اُنہوں نے اُس کے مُنہ پر تھوکا، اُسے مکے مارے اور بعض نے طمانچے مار کر کہا، اَے مسیح، اگر تُو نبی ہے تو بتا کہ کس نے تجھے مارا ہے؟‘‘ (متی26:65۔68).

سردار کاہن کے پاس لوگوں کو قتل کروانے کا اختیار نہیں تھا۔ اِس لیے کائفا یسوع کو گھسیٹتا ہوا پینطوس پیلاطُس کے پاس لے گیا، جو رومی گورنر تھا – اور اُس کو مصلوب کرنے کے لیے رومیوں کو کہا۔

اِس قسم کے سیرت نگاری سے تعلق رکھنے والے واعظ کو تحریر کرنا مشکل ہوتا ہے، لیکن اِس شخص جوزف کائفا، وہ سردار کاہن جس نے مسیح کی مصلوبیت کا منصوبہ بنایا تھا اُس کے الفاظ اور اعمال سے دو عمومی نتائج کو اخذ کرنا جائز ہے،

I۔ پہلی بات، کائفا بہت مذہبی تھا، اور یہاں تک کہ مسیح کی متبادلیاتی قربانی کے بارے میں ایک ٹھوس سچائی بھی بتائی تھی۔

کائفا بوڑھے سردار کاہن انناس Annas کا داماد تھا۔ اُس نے 18 سالوں سے سردارکاہن کے رُتبے پر قبضہ کیا ہوا تھا، اُس زمانے میں کسی اور کے مقابلے میں کافی عرصہ تک۔

بدقسمتی سے، ہم جان سکتے ہیں وہ کس قسم کا انسان تھا۔ مثال کے طور پر، بے شمار مرتبہ، جب ڈاکٹر ہائیمرز نوجوان تھے، اُنہیں کہا گیا، ’’اُس کی منادی نہیں کر سکتے،‘‘ یا ’’تم اُس طرح سے منادی نہیں کر سکتے۔‘‘ جیسے جیسے سال گزرتے چلے گئے یہ بات واضح ہوتی چلی گئی کہ یہ نصیحت غلط تھی۔ وہ لوگ جنہوں نے اُسے وہ بات بتائی تھی وہ سچائی کے مقابلے میں اپنے رُتبے کے بارے میں زیادہ فکر مند تھے، جیسا کہ یہ بات بائبل میں پیش کی گئی ہے۔ ایک مبلغ اُن لوگوں کو خوش نہیں رکھ سکتا جو صرف اپنی ملازمت کو بچانے کے لیے فکر مند ہوتے ہیں اور وہ مبلغ کسی اور کو پریشان نہیں کرتا۔ کائفا اُس قسم کا انسان تھا۔ وہ جانتا تھا کہ یسوع نے ’’بے شمار معجزات‘‘ کیے تھے (یوحنا11:47)، لیکن وہ صرف یسوع کو سیاسی مفادات کی خاطر روکنے میں دلچسپی رکھتا تھا۔ اُس نے سوچا، ’’اگر ہم نے اِس کو تنہا چھوڑ دیا تو ہم کچھ نہ کچھ کھو دیں گے۔‘‘

یسوع نے جو کہا اور کیا وہ خُدا کی فرمانبرداری اور محبت کی خاطر اُس نے کہا اور کیا۔ کائفا نے جو کہا اور کیا وہ خُدا کے کسی بھی خیال کے بغیر اُس نے کہا اور کیا۔ آج ہمارے گرجا گھروں میں اُس جیسے بے شمار لوگ ہیں۔ وہ انتہائی مذہبی تھا۔ اِس کا احساس کیے بغیر، اُس نے تو یہاں تک کہ مسیح کے متبدلیاتی کفارے کے بارے میں سچائی بھی بتا ڈالی جب اُس نے کہا،

’’بہتر یہ ہے کہ لوگوں کی خاطر ایک شخص مارا جائے نہ کہ ساری قوم ہلاک ہو‘‘ (یوحنا 11:50).

یوں، گنہگاروں کے لیے ایک متبادل کی حیثیت سے مسیح کی موت کی ٹھوس سچائی اُس نے بتائی، جو اشعیا کے الفاظ کی بازگشت کر رہے تھے،

’’لیکن وہ ہماری خطاؤں کے سبب سے گھائل کیا گیا، اور ہماری بداعمالی کے باعث کُچلا گیا، جو سزا ہماری سلامتی کا باعث ہُوئی وہ اُس نے اُٹھائی، اور اُس کے کوڑے کھانے سے ہم شفایاب ہُوئے‘‘ (اشعیا 53:5).

لیکن انتہائی احتیاط کریں! آپ اُن الفاظ کو اُن سے بغیر کوئی فائدہ اُٹھائے جان سکتے ہیں! وہ کائفا کا معاملہ تھا۔ وہ دُرست الفاظ جانتا تھا، لیکن اُن کا اُس کی زندگی پر قطعی طور پر کوئی اثر نہیں ہوا تھا۔

یہ وہی سردار کاہن تھا جس نے پطرس کو دھمکایا تھا جب اُس نے یسوع کے مُردوں میں سے زندہ ہو جانے پر منادی کی تھی۔ لیکن چونکہ وہ لوگوں سے خوفزدہ تھا، اُس نے پطرس کو دھمکایا اور اُسے جانے دیا (اعمال4:21)۔ دوبارہ، کائفا وہی سردار کاہن تھا جس نے رسولوں کو قید خانے میں ڈلوایا تھا (اعمال5:17۔18)۔ لیکن خُدا نے ایک فرشتے کو قید خانے کے دروازے کھولنے اور اُنہیں آزاد کروانے کے لیے بھیجا۔ پھر کائفا نے پطرس کو عدالت عالیہ کے سامنے پیش کرنے کے لیے سپاہیوں کو بھیجا تھا ’’لیکن زبردستی نہیں… کہیں وہ اُنہیں سنگسار نہ کر دیں‘‘ (اعمال5:26)۔ یوں بے شمار لوگ رسولوں کی سُن رہے تھے کہ کائفا خوفزدہ تھا وہ اُس کو سنگسار کر دیں گے اگر اُس نے اُنہیں [رسولوں کو] نقصان پہنچایا! عدالتِ عالیہ میں لوگوں میں سے ایک، گمالیئل Gamaliel نامی شخص نے کائفا اور دوسروں کو بتایا

’’اِن آدمیوں سے دُور ہی رہو اور اِنہیں جانے دو کیونکہ اگر یہ تدبیر یا یہ کام اِنسانوں کی طرف سے ہے تو خُود بخود مٹ جائے گا۔ لیکن اگر یہ خدا کی طرف سے ہے تو تُم اِن آدمیوں کا کچھ بھی نہ بگاڑ سکو گے بلکہ خدا کے خلاف لڑنے والے ٹھہرو گے۔ اُنہوں نے اُس کی صلاح مان لی‘‘ (اعمال 5:38۔39).

کائفا اور دوسرے لوگ گمالئیل کے ساتھ متفق تھے۔ لیکن اُنہوں نے کیا کِیا؟ وہ خُدا کے بارے میں فکرمند ہو گئے تھے؟ جی نہیں! اُںہوں نے رسولوں کو پیٹا تھا اور ’’حکم دیا تھا کہ یسوع کا نام لے کر کوئی بات نہیں کریں گے، اور اُنہیں جانے دیا تھا‘‘ (اعمال5:40)۔

’’وہ تعلیم دینے سے باز نہ آئے بلکہ ہر روز ہیکل میں اور گھروں میں خوشخبری سُناتے رہے کہ یسوع ہی مسیح ہے‘‘ (اعمال 5:42).

پس، ہم کائفا کو چھوڑ دیتے ہیں – کمزور ہوا، جو خوشخبری کی منادی اور مسیحیت کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے نااہل تھا۔ یہ بات کبھی بھی اُس کے ذہن میں نہیں آئی تھی کہ خُدا کے بارے میں سوچتا اور اپنے گناہ پر توبہ کرتا۔ اُس نے سیاسی چالیں کھیلنی جاری رکھیں – جو مذہب سے بھرپور تھیں، خُدا کے کسی خوف کے بغیر – جب تک کہ کچھ سالوں کے بعد اُس کے کہانت سے پیلاطُس کے جانشین وائٹیلُس Vitellus کے ذریعے سے نکال باہر کیا گیا، جوزیفُس Josephus کے مطابق 36 بعد از مسیح میں (نہایت قدیم Antiquities، XVIII:4، 2)۔ یہ نہیں معلوم اُس کے تخت پر سے اُتارے جانے کے بعد اُس کے ساتھ کیا ہوا۔ ایک چونے کے پتھر کا صندوق (انسانی ہڈیوں کو دفنانے کے لیے کوئی شے) جس میں مُردے کی ہڈیاں تھیں یروشلم میں 1991 میں دریافت ہوا جس پر کائفا کا نام کُھدا ہوا تھا – جس کے بارے میں ماہرین آثار قدیمہ یقین کرتے ہیں وہ اُس کا اصل کفن تھا (آثار قدیمہ کا مطالعۂ بائبل Archaeological Study Bible، ژونڈروان Zondervan، 2005، صفحہ 1609؛ متی 26:3 پر غور طلب بات)۔ اُس کو صرف ’’اُس معصوم قیدی [یسوع] کے عدالتی قتل کے لیے شدید طور پر ذمہ دار‘‘ ٹھہرایا جانے کے لیے یاد رکھا جاتا ہے (جان ڈی۔ ڈیوس، ڈی۔ڈی۔ John D. Davis, D.D.، بائبل کی ڈیوس کی لُغت Davis Dictionary of the Bible، بیکر کُتب گھر Baker Book House، 1978ایڈیشن، صفحہ 114)۔

II۔ دوسری بات، کائفا نے، قائین ہی کی مانند، کبھی بھی توبہ نہیں کی تھی – اور کبھی بھی نجات نہیں پائی تھی۔

کائفا اور قائین کے درمیان ایک حقیقی مماثلت ملتی ہے۔ قائین جانتا تھا کہ اُس کو ایک خونی قربانی گزراننے کی ضرورت تھی، جیسے ہابل نے گزرانی تھی۔ لیکن قائین نے توبہ نہیں کی۔ اِس کے بجائے،

’’قائن نے اپنے بھائی ہابل پر حملہ کیا اور اُسے قتل کر ڈالا‘‘ (پیدائش 4:8).

قائین اور کائفا جیسے لوگوں کے لیے یہاں پر نئے عہد نامے کا ایک تعلق ہے۔ یوحنا رسول نے کہا،

’’قائن کی مانند نہ بنو جو اُس شریر سے تھا۔ اُس نے اپنے بھائی کو قتل کیا۔ کیوں قتل کیا؟ اِس لیے کہ اُس کے تمام کام بدی کے تھے مگر اُس کے بھائی کے راستبازی کے تھے۔ لیکن بھائیو! اگر دُنیا تُم سے دشمنی رکھتی ہے تو تعجب نہ کرو‘‘ (1۔ یوحنا 3:12۔13).

کائفا، قائین ہی کی مانند، شیطان سے متاثر تھا، ’’وہ بدکار۔‘‘ قائین کی مانند، کائفا ’’دُنیا کا‘‘ تھا۔ اُس نے کبھی بھی شیطان کے سُننے کو نہیں روکا تھا۔ اُس نے کبھی بھی خُدا کی خدمت کرنے کے لیے ’’دُنیا‘‘ کو نہیں چھوڑا تھا۔ یہودیوں کی قُمران برادری کے بزرگان، جنہوں نے ڈید سی سکرول Dead Sea Scrolls لکھے تھے، کائفا کے بارے میں نہایت ہی تنقیدی تھے، جس کو اُنہوں نے ’’بدکار کاہن‘‘ کہا تھا (آثار قدیمہ کا مطالعۂ بائبل Archaeological Study Bible، ibid.)۔

قائین اور کائفا اُن کے لیے جو مذہبی تو رہتے ہیں لیکن گمراہ ہوتے ہیں ایک ناخوشگوار تنبیہہ پیش کرتے ہیں۔ دونوں قائین اور کائفا خونی قربانی کے بارے میں جانتے تھے۔ دونوں قائین اور کائفا نے خُدا سے براہ راست بات کی تھی۔ خُدا بیٹے نے براہ راست کائفا کے ساتھ بات کی تھی – جیسے اُس نے قائین کے ساتھ کی تھی (پیدائش4:6۔7)۔ دونوں قائین اور کائفا نے خُدا کی آواز کو سر پر سے گزار دیا تھا، جو اُن کے ضمیر سے بات کر رہی تھی، اور آگے خود کو مرکز بنانے والی زندگیوں میں غرق کر دیا تھا۔ دونوں قائین اور کائفا آخری عدالت کے موقع پر مسیح کے سامنے کھڑے ہوں گے اور وہ اُن سے کہے گا،

’’میں تُم سے کبھی واقف نہ تھا۔ اَے بدکارو! میرے سامنے سے دُور ہو جاؤ‘‘ (متی 7: 23).

تب اُنہیں ’’اندھیرے میں جھونک دیا جائے گا: جہاں پر رونا اور دانتوں کا پیسینا ہوگا‘‘ (متی8:12)۔

میں آج کی صبح آپ کو انتباہ کرتا ہوں – اِس بات کو یقینی بنائیں آپ خُدا کے بارے میں سوچتے ہیں! اِس بات کو یقینی بنائیں آپ اپنے گناہ کے بارے میں سوچتے ہیں! اِس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ محض ’’دُرست الفاظ‘‘ ہی نہیں کہتے۔ اِس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ اپنے گناہوں کو مانتے ہیں!

’’افسوس اور ماتم کرو اور روؤ۔ تمہاری ہنسی ماتم میں اور تمہاری خُوشی غم میں بدل جائے‘‘ (یعقوب 4:9).

اِس بات کویقینی بنائیں آپ نے ایک مسیح میں ایمان لانے کی ایک حقیقی تبدیلی کا تجربہ کیا ہے – کہ آپ واقعی میں یسوع مسیح کے روبرو آئے اور ’’اُس یسوع کے خود کے خون میں‘‘ اپنے گناہوں سے دُھل کر پاک صاف ہو گئے ہیں (مکاشفہ1:5)۔ انتظار مت کریں! یسوع کے پاس آنے کے لیے انکار مت کریں! اِس قدر سُست مت ہو جائیں کہ خُدا آپ کو چھوڑ دے، اور آپ کو ایک اُوباش ذہن کے حوالے کر دے!

کافی دیر میں نے نجات دہندہ کو نظرانداز کیا۔
   کافی عرصہ جیسے میں اپنے گناہ کے ساتھ جکڑا رہا۔
کافی عرصہ میں نے اپنے رد کیے جانے کا بہانہ کیا،
   اور اب میں اُس کے بغیر کھو چکا ہوں۔
اب دیر ہو چکی ہے، ہائے، اس قدر تاخیر! اِس کے باوجود وہ دروازے پر کھٹکھٹاتا ہے،
   اور یسوع، پیارا مُنجی، ایک بار پھر بُلا رہا ہے۔
(’’کافی دیر میں نے نجات دہندہ کو نظر انداز کیا Too Long I Neglected‘‘ شاعر ڈاکٹر جان آر۔ رائس Dr. John R. Rice، 1895۔1980)۔

ڈاکٹر ہائیمرز، مہربانی سے آئیں اور اِس عبادت کا اختتام کریں۔


اگر اس واعظ نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز آپ سے سُننا پسند کریں گے۔ جب ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں تو اُنہیں بتائیں جس ملک سے آپ لکھ رہے ہیں ورنہ وہ آپ کی ای۔میل کا جواب نہیں دیں گے۔ اگر اِن واعظوں نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز کو ایک ای میل بھیجیں اور اُنہیں بتائیں، لیکن ہمیشہ اُس مُلک کا نام شامل کریں جہاں سے آپ لکھ رہے ہیں۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای میل ہے rlhymersjr@sbcglobal.net (‏click here) ۔ آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو کسی بھی زبان میں لکھ سکتے ہیں، لیکن اگر آپ انگریزی میں لکھ سکتے ہیں تو انگریزی میں لکھیں۔ اگر آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو بذریعہ خط لکھنا چاہتے ہیں تو اُن کا ایڈرس ہے P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015.۔ آپ اُنہیں اِس نمبر (818)352-0452 پر ٹیلی فون بھی کر سکتے ہیں۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہائیمرز کے واعظ www.sermonsfortheworld.com
یا پر پڑھ سکتے ہیں ۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

یہ مسوّدۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے ہمارے گرجہ گھر سے ویڈیو پر دوسرے تمام واعظ اور ویڈیو پیغامات حق
اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بینجیمن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith نے گایا تھا:
’’کافی دیر میں نے نجات دہندہ کو نظر انداز کیا Too Long I Neglected‘‘
(شاعر ڈاکٹر جان آر۔ رائس Dr. John R. Rice، 1895۔1980)۔

لُبِ لُباب

کائفا – وہ شخص جس نے
مسیح کے قتل کا منصوبہ بنایا تھا!

CAIAPHAS – THE MAN WHO
PLANNED THE MURDER OF CHRIST!

ایک واعظ جس کو ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر نے تحریر کیا
اور جس کی تبلیغ مسٹر جان سیموئیل کیگن نے کی
A sermon written by Dr. R. L. Hymers, Jr.
and preached by Mr. John Samuel Cagan

’’تب اُن میں سے ایک جس کا نام کائفا تھا اور جو اُس سال سردار کاہن تھا، کہنے لگا، تُم لوگ کچھ نہیں جانتے۔ تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ بہتر یہ ہے کہ لوگوں کی خاطر ایک شخص مارا جائے نہ کہ ساری قوم ہلاک ہو۔ یہ بات اُس نے اپنی طرف سے نہیں کہی تھی بلکہ اُس سال کے سردار کاہن کی حیثیت سے اُس نے پیشن گوئی کی تھی کہ یسوع ساری یہودی قوم کے لیے اپنی جان دے گا۔ اور صرف یہودی قوم کے لیے ہی نہیں بلکہ اِس لیے بھی کہ خدا کے سارے فرزندوں کو جو جا بجا بکھرے ہُوئے ہیں جمع کر کے واحد قوم بنا دے۔ پس اُنہوں نے اُس دِن سے یسوع کے قتل کا منصوبہ بنانا شروع کر دیا‘‘ (یوحنا 11:49۔53).

(لوقا16:31؛ افسیوں2:1؛ یوحنا11:47۔48، 49۔52، 53؛
متی26:63، 65۔68)

۔

I.    پہلی بات، کائفا بہت مذہبی تھا، اور یہاں تک کہ مسیح کی متبادلیاتی قربانی کے بارے میں ایک ٹھوس سچائی بھی بتائی تھی، یوحنا11:47، 50؛
اشعیا53:5؛ اعمال4:21؛ 5:17۔18، 26، 38۔39، 40، 42.

II.   دوسری بات، کائفا نے، قائین ہی کی مانند، کبھی بھی توبہ نہیں کی تھی – اور کبھی بھی نجات نہیں پائی تھی پیدائش4:8؛ 1یوحنا3:12۔13؛ پیدائش4:6۔7؛ متی7:23؛ 8:12؛ یعقوب4:9؛ مکاشفہ1:5.