Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 215 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.co پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہمارے ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 36 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔

جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔


اچھا آدمی گمراہ ہوا اور بُرا آدمی نجات پا گیا!

A GOOD MAN LOST AND A BAD MAN SAVED!
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
خُداوند کے دِن کی شام، 5 مارچ، 2017
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Evening, March 5, 2017

’’اور یسوع نے بعض ایسے لوگوں کو جو اپنے آپ کو تو راستباز سمجھتے تھے لیکن دُوسروں کو ناچیز جانتے تھے، یہ تمثیل سُنائی، دو آدمی دعا کرنے کے لیے ہیکل میں گئے۔ ایک فرِیسی تھا اور دُوسرا محصول لینے والا۔ فرِیسی نے کھڑے ہو کر دل ہی دل میں یہ دعا کی، اَے خدا، میں تیرا شکر کرتا ہُوں کہ میں دُوسرے آدمیوں کی طرح نہیں ہوں جو لُٹیرے، ظالم اور زناکار ہیں اور اِس محصول لینے والے کی مانند بھی نہیں ہُوں۔ میں ہفتہ میں دوبار روزہ رکھتا ہُوں اور اپنی ساری آمدنی کا دسواں حِصہ نذر کر دیتا ہُوں۔ لیکن اُس محصول لینے والے نے جو دُور کھڑا ہُوا تھا، اتنا بھی نہ چاہا کہ آسمان کی طرف نظر اُٹھائے بلکہ چھاتی پیٹ پیٹ کر کہا، خدایا مجھ گنہگار پر کرم کر۔ میں تُم سے کہتا ہُوں یہ آدمی اُس دُوسرے سے خدا کی نظر میں زیادہ مقبول ہو کر اپنے گھر گیا کیونکہ جو کوئی اپنے آپ کو بڑا بنائے گا وہ چھوٹا کیا جائے گا اور جو اپنے آپ کو چھوٹا بنائے گا وہ بڑا کیا جائے گا‘‘ (لوقا 18:9۔14).

یہ ایک تمثیل ہے، یہ ایک کہانی ہے جو یسوع نے ایک عظیم سچائی کو سمجھانے کے لیے بتائی تھی۔ یسوع نے یہ کہانی اُن کچھ لوگوں کو بتائی تھی جو پُراعتماد تھے، جو خود اپنی نیکی پر بھروسہ کرتے تھے، جو باقی ہر کسی کو حقارت کی نظر سے دیکھتے تھے۔

ڈاکٹر آر۔ اے۔ ٹورے Dr. R. A. Torrey ایک عظیم مبشر تھے۔ وہ اکثر اِن آیات پر منادی کیا کرتے تھے۔ وہ اِس واعظ کو ’’ایک اچھا شخص گمراہ ہو گیا اور ایک بُرا شخص نجات پا گیا‘‘ کہا کرتے تھے۔ ڈاکٹر ٹورے نے کہا، ’’آپ میں سے کچھ شاید سوچتے ہوں کہ میں نے اِس موضوع کو تروڑ مروڑ دیا ہے۔ کہ اِس کو تو ’ایک اچھا شخص نجات پا گیا اور ایک بُرا شخص گمراہ ہو گیا‘ ہونا چاہیے تھا۔ لیکن آپ غلطی پر ہیں۔ یہ موضوع واضح ہے، ’ایک اچھا شخص گمراہ ہو گیا اور ایک بُرا شخص نجات پا گیا۔‘‘‘ مسیح نے ہمیں یہ کہانی سُنائی تھی۔ مسیح نے ایک اچھے شخص اور ایک بُرے شخص کے بارے میں بتایا تھا۔ مسیح نے ہمیں بتایا کہ وہ اچھا شخص گمراہ تھا اور وہ بُرا شخص نجات پا گیا تھا۔

فریسی نیک لوگ ہوا کرتے تھے۔ وہ مذہبی ہوتے تھے۔ وہ اچھی زندگیاں بسر کرتے تھے۔ محصول لینے والے لگان وصول کیا کرتے تھے۔ وہ اِس قدر پیسے لیا کرتے تھے جہنے وہ لے سکتے تھے۔ وہ بدمعاشوں کی مانند تھے۔ وہ لوگوں کو زیادہ سارے پیسے دینے کے لیے مجبور کیا کرتے تھے۔ وہ پیسے کی ایک مخصوص تعداد رومیوں کے حوالے کیا کرتے تھے۔ باقی کی رقم وہ اپنے لیے رکھ لیا کرتے تھے۔ یہودی لوگ اُن سے نفرت کیا کرتے تھے۔ اُنہوں غدار اور بُرا سمجھا جاتا تھا۔ محصول لینے والے تمام گنہگاروں میں سے بدترین ہوا کرتے تھے۔ وہ ظالم اور لُٹیرے تھے۔ اِس تمثیل میں یسوع واقعی میں ساری کی ساری نسل اِنسانی کو تقسیم کر رہا ہے۔ وہ اُنہیں دو قسم کے لوگوں میں بانٹ رہا تھا – خود کو راستباز کہنے والے لوگ جو گمراہ تھے، اور وہ جو نجات کے تنگ راستے پر گامزن تھے۔ یسوع نے نوع انسان کو تقسیم کیا تھا، اور آج یہاں پر ہر کوئی اُن دونوں گروہ میں سے کسی ایک میں ہے۔ آج کی رات آپ کونسے گروہ میں ہیں؟ یسوع نے کہا، ’’دو آدمی دعا کرنے کے لیے ہیکل میں گئے۔ ایک فرِیسی تھا اور دُوسرا محصول لینے والا تھا۔‘‘ ایک اچھا آدمی اور ایک بُرا آدمی۔ آپ کونسے والے ہیں؟

I۔ پہلی بات، وہ ’’اچھا‘‘ شخص جو گمراہ ہو گیا تھا۔

’’فرِیسی نے کھڑے ہو کر دل ہی دل میں یہ دعا کی، اَے خدا، میں تیرا شکر کرتا ہُوں کہ میں دُوسرے آدمیوں کی طرح نہیں ہوں جو لُٹیرے، ظالم اور زناکار ہیں اور اِس محصول لینے والے کی مانند بھی نہیں ہُوں۔ میں ہفتہ میں دوبار روزہ رکھتا ہُوں اور اپنی ساری آمدنی کا دسواں حِصہ نذر کر دیتا ہُوں‘‘ (لوقا 18:11۔12).

دُنیا کی نظروں میں وہ واقعی میں ایک ’’اچھا‘‘ شخص تھا۔ وہ ایک اِخلاقی شخص تھا۔ وہ ایک صاف سُتھری زندگی بسر کرنے والا شخص تھا۔ وہ ایک مذہبی شخص تھا۔ وہ ایک سخی شخص تھا۔ وہ ایک قابلِ احترام شخص تھا۔ وہ بالکل میری طرح تھا میرے نجات پانے سے پہلے۔ میں نے اپنا سوٹ پہنا اور اپنے انکل کے گھر کے ڈرائنگ روم میں سے گزر کر گیا۔ دوسرے نشے میں دُھت تھے۔ وہ کاؤچ اور زمین پر سو رہے تھے۔ میں تقریباً 18 برس کی عمر کا تھا۔ میں نے سوچا، ’’میں اُن جیسا بننا نہیں چاہتا۔‘‘ میں ایک اچھا لڑکا تھا۔ مجھے منشیات پسند نہیں تھیں۔ میں نشے میں نہیں ہوتا تھا۔ اور میں سگریٹ نوشی پہلے ہی چھوڑ چکا تھا۔ میں ایک اچھا لڑکا تھا۔ میں نے ایک بپٹسٹ پادری کی حیثیت سے تبلیغ کے لیے خود کو وقف کر دیا تھا۔ میں انتہائی اچھا تھا۔ لیکن میں ابھی بھی گمراہ ہی تھا! مجھے فخر تھا کہ میں نے وہ کام نہیں کیے تھے جو دوسرے بچے کر چکے تھے۔ مجھے خود پر فخر تھا۔ میں نے سوچا میرے میں کوئی غلط بات نہیں تھی۔ لیکن میں پھر بھی خود کے بارے میں اچھا محسوس نہیں کرتا تھا۔ میں نے خود سے پوچھا، ’’خُدا اور کیا چاہتا تھا؟‘‘ میں گرجا گھر گیا۔ میں ہر اِتوار کی صبح اور ہر اِتوار کی رات کو گیا۔ میں ہر اِتوار کی دوپہر کو ریڈیو پر بلی گراھم کو سُنا کرتا تھا۔ میں ہر اِتوار کی شام کو یوتھ کوائر میں گایا کرتا تھا۔ میں اپنی زندگی خدا کے حوالے کر چکا تھا، ایک مبلغ بننے کے لیے۔ پھر بھی میرے دِل کی کہیں گہرائی میں مجھے سکون نہیں تھا۔ بائبل کہتی ہے، ’’شریروں کے لیے سلامتی نہیں ہے‘‘ (اشعیا57:21)۔ خُدا اور کیا چاہتا تھا؟ میں اُس فریسی کی مانند تھا!

اُس نے خود پر بھروسہ کیا تھا۔ اُس نے دوسروں کی تضحیک کی تھی۔ اُس نے اقرار نہیں کیا تھا کہ وہ ایک گنہگار تھا۔ اُس نے اپنے گناہ سے بھرپور دِل کو تسلیم نہیں کیا تھا۔ وہ خُدا کے بجائے ’’خود سے‘‘ دعا مانگتا تھا۔ وہ اپنی راستبازی پر خود ہی کو مبارک باد دیتا تھا۔ آج شام آپ بالکل اُسی کی مانند ہیں! آپ سوچتے ہیں کہ آپ جیسے ہیں ویسے ہی کافی اچھے ہیں۔ آپ خود کو دھوکہ دے چکے ہیں۔ آپ شیطان کی سُن چکے ہیں۔ آپ اُس کے ذریعے سے دھوکہ کھا چکے ہیں۔ آپ ایماندار ہیں اور بیرونی طور پر اخلاقی ہیں۔ مگر آپ کا دِل شدید طور پر گناہ سے بھرپور ہے۔ بائبل کہتی ہے کہ آپ کا دِل ’’سب چیزوں سے بڑھ کر حیلہ باز اور لا علاج ہوتا ہے‘‘ (یرمیاہ17:9)۔ جب میں اُس پر تبلیغ کرتا ہوں، آپ اِس کو پسند نہیں کرتے۔ یہ آپ کو مضطرب اور بےچین محسوس کرنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ آپ اپنے دِل کا جائزہ لینا ہی نہیں چاہتے۔ آپ خُدا سے آدم کی مانند چھپنا چاہتے ہیں۔ آپ آدم ہی کی طرح اپنے گناہ کو ڈھانپنا چاہتے ہیں۔ آپ آدم ہی کی طرح دوسرے لوگوں پر اِلزام لگانا چاہتے ہیں۔ اور آدم ہی کی مانند خُدا کی جانب سے معلون کیے گئے ہیں! آپ گمراہ ہیں۔ اخلاقیات اور مذہب میں کھوئے ہوئے۔ خود کو دھوکہ دینے میں گمراہ۔ ایک جھوٹی اُمید میں کھوئے ہوئے۔ اور جیسے آپ ہیں ایسے ہی مر جائیں گے، آپ ساری دائمیت میں گمراہ ہی رہیں گے۔

دائمی زندگی، دائمی زندگی،
ساری دائمیت میں گمراہ رہے۔
دائمی زندگی، دائمی زندگی،
ساری دائمیت میں گمراہ رہے!
   (’’دائمی زندگیEternity‘‘ شاعر الیشاہ اے۔ ھوفمین Elisha A. Hoffman، 1839۔1929)۔

میں خود سے پوچھوں گا، ’’خُدا اِس سے زیادہ اور کیا چاہتا ہے؟‘‘ ایسا کچھ بھی نہیں تھا جو میں نے کیا ہو اور کافی لگتا ہو! میں ہر دِن اور ہر رات کو بے چین محسوس کرتا تھا – اور آپ بھی ایسے ہی محسوس کرتے ہیں! آپ اِس طرح کبھی بھی خوشی محسوس نہیں کر پائیں گے! آپ اس طرح سے کبھی بھی سکون نہیں پائیں گے! ’’خُداوند خُدا فرماتا ہے شریروں کے لیے کوئی سلامتی نہیں ہے‘‘ (اشعیا57:21)۔ آپ نوجوان دولت مند کی مانند ہیں۔ آپ نے خُدا کی شریعت کو بیرونی طور پر اپنایا ہوا ہے، مگر آپ نے اپنے دِل کی اندرونی گناہ کی بھرپوری کے بارے میں کبھی بھی نہیں سوچا۔ آپ خُدا کی شریعت کے روحانی احساس کو نہیں سمجھ پاتے۔ خُدا کی شریعت جو آپ کے دِل کی چھوٹی سی چھوٹی شہوت کو بھی سزاوار کرتی ہے! آپ خود اپنے ذہن میں ایک اچھے شخص ہیں۔ مگر خُدا کی نظر میں آپ کسی بھی کام کے گنہگار نہیں ہیں! اگر آپ اِسی طرح مر جاتے ہیں تو سیدھے دائمی جہنم کے شعلوں میں جائیں گے!

دائمی زندگی، دائمی زندگی،
ساری دائمیت میں گمراہ رہے۔

لیکن میں آپ کو اِس شخص کے بارے میں ایک اور بات دکھانا چاہتا ہوں۔ اُس کی دعا ظاہر کرتی ہے کہ وہ کیسا دھوکے باز تھا؛ وہ ایک مکمل جعل ساز تھا۔ اُس کو خُدا کی بالکل بھی آگاہی نہیں تھی۔ اُس کی ’’دعا‘‘ مصنوعی اور جھوٹی تھی۔ ایک شخص کی دعائیں اکثر ظاہر کرتی ہیں کہ وہ کبھی بھی مسیح میں ایمان لا کر تبدیل ہوئے ہی نہیں ہیں۔ اُن کی دعاؤں میں اُن کے لیے ایک جھوٹی آواز ہوتی ہے۔ وہ میکینکی دعائیں ہوتی ہیں۔ وہ ایک ڈھونگ ہوتی ہیں۔ وہ واقعی میں بالکل بھی دعائیں ہوتی ہی نہیں ہیں! وہ محض کھوکھلے الفاظ ہوتے ہیں جو آپ دوسروں کو متاثر کرنے کے لیے کہتے ہیں – یا خود کو دھوکہ دینے کے لیے۔ اِس شخص نے بالکل بھی دعا نہیں مانگی تھی! وہ اپنی ’’نیک نیتی‘‘ پر خود ہی کو مبارک باد دیتا ہے – خُدایا میں تیرا شکر گزار ہوں کہ میں دوسروں کی مانند نہیں ہوں۔‘‘ کیسا پاگل پن! کیا وہ نہیں جانتا کہ خُدا دیکھتا ہے اُس کے الفاظ کس قدر جھوٹے ہیں؟ جھوٹے الفاظ! کیا وہ واقعی میں خُدا میں سرے سے یقین کرتا بھی ہے؟ کسی بھی حقیقی سمجھ میں نہیں۔ خُدا صرف ایک خیالی تصور ہے، ناکہ ایک ذاتی اور حقیقی خُدا – جیتا جاگتا خُدا تو بالکل بھی نہیں! میں یہ بات کیسے جانتا ہوں؟ کیونکہ اُس نے ’’کھڑے ہو کر دِل ہی دِل میں خود سے دعا مانگی تھی‘‘ (لوقا18:11)۔ اِس کا ترجمہ یوں بھی کیا جا سکتا ہے، ’’اُس نے خود سے دعا مانگی‘‘ (NIV، غور طلب بات الف)۔ حقیقت میں، اِس شخص نے خُدا سے بالکل بھی دعا نہیں مانگی تھی۔ اُس نے صرف خود اپنی اچھائیوں پر شیخی بگھاری تھی۔ اُس نے خُود سے دعا مانگی تھی ناکہ خُدا سے! کیا ایسے ہی آپ بھی دعا نہیں مانگتے، اگر آپ دعا مانگیں بھی؟ کیا آپ کبھی کبھار محسوس نہیں کرتے کہ آپ صرف خود کو دعا مانگتا ہوا سُننے کے لیے دعا مانگ رہے ہوتے ہیں؟ کیا یہی وجہ تو نہیں ہے کہ آپ دعا اِجلاسوں میں باآوازِ بُلند دعا مانگنے سے خوفزدہ ہوتے ہیں؟ کیا یہ اِس لیے نہیں ہوتا کہ آپ جانتے ہیں دوسرے سوچیں گے کہ آپ کی دعائیں جھوٹی ہیں؟ کہ آپ صرف دکھاوے کے لیے دعا مانگ رہے ہیں؟ اور کیا یہ بات ظاہر نہیں کرتی کہ آپ ایک گمراہ شخص ہیں، ایک گمراہ شخص جو واقعی میں خُدا سے دعا نہیں مانگ سکتا؟ 14ویں آیت میں یسوع ہمیں واضح طور پر بتاتا ہے کہ یہ نام نہاد کہلانے والا ’’اچھا‘‘ شخص ’’صحیح طور پر دلائل پیش‘‘ [راستبازی] نہیں کر پایا تھا۔ وہ ایک نجات یافتہ شخص نہیں تھا! وہ ایک گمراہ شخص تھا۔ وہ ایک مذہبی لیکن گمراہ شخص تھا۔ وہ دائمیت کے لامحدود زمانوں کے لیے جہنم میں جا رہا تھا!

دائمی زندگی، دائمی زندگی،
ساری دائمیت میں گمراہ رہے!

یہ شخص ایک منافق تھا – اور آپ بھی ہیں۔ اُس نے خُدا سے دعا مانگنے کا دکھاوا کیا تھا – اور ایسا آپ بھی کرتے ہیں! ایک دِن خود آپ کی اپنی ’’نیکی‘‘ آپ کے لیے مدد گار ثابت نہیں ہوگی۔ آپ کے ساتھ کچھ ہولناک رونما ہو جائے گا، جیسا یہ ہر کسی کے ساتھ ہوتا ہے۔ لیکن ہولناکی اور دِل کے درد کے اُس دِن میں آپ کی منافقت سے آپ کو کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا۔ بائبل کہتی ہے، ’’بے دینو کو کپکپی نے آ پکڑا ہے‘‘ (اشعیا33:14)۔ آپ مر جائیں گے اور خُدا کے سامنے کھڑے ہوں گے، اور خُدا کہے گا، ’’میں تمہیں نہیں جانتا میرے پاس سے دفع ہو جاؤ‘‘ (متی7:23)۔ آپ کا جھوٹا مذہب پھر آپ کے لیے فائدہ مند ثابت نہیں ہوگا۔ خُدا آپ جیسے سارے منافقوں کو جہنم کی آگ میں جھونک دے گا۔ وہ دُنیا کی نظروں میں ایک اچھا انسان تھا۔ لیکن وہ خُدا کی نظروں میں ایک گمراہ شخص تھا! آپ شاید دُنیا کی نظروں میں اچھے ہوں۔ لیکن آپ خُدا کی نظروں میں گمراہ ہو چکے ہوتے ہیں۔

II۔ دوسری بات، وہ بُرا شخص جس نے نجات پائی تھی۔

’’لیکن اُس محصول لینے والے نے جو دُور کھڑا ہُوا تھا، اتنا بھی نہ چاہا کہ آسمان کی طرف نظر اُٹھائے بلکہ چھاتی پیٹ پیٹ کر کہا، خدایا مجھ گنہگار پر کرم کر‘‘ (لوقا 18:13).

وہ ایک اچھا انسان نہیں رہا تھا۔ وہ ایک اخلاقی انسان نہیں رہا تھا۔ وہ نہیں دیکھ پایا تھا کہ وہ کس قدر گناہ سے بھرپور تھا۔ پاک روح نے اُس پر ظاہر کیا تھا کہ وہ واقعی میں ایک گمراہ گنہگار تھا۔ اُس نے محسوس کیا تھا کہ وہ صرف خُدا کی سزا کا ہی مستحق تھا۔ اُس نے اُس زبور نویس کی مانند محسوس کیا تھا جس نے کہا، ’’میرا گناہ ہر وقت میری نظروں کے سامنے رہتا ہے‘‘ (زبور51:3)۔ ڈاکٹر جان گِل Dr. John Gill نے کہا، ’’وہ نظریں اوپر نہیں اُٹھا پایا؛ شرمندگی سے اُس کا چہرہ لال ہو گیا تھا؛ غم نے [اُس کے چہرے کو] نڈھال کر دیا تھا؛ [خُدا کے قہر] اور ناراضگی نے اُسے جکڑا ہوا تھا؛ وہ خود اپنی ہی نظروں میں خود کو [خُدا کے فضل کے] قابل نہیں سمجھتا تھا۔ اُس نے اپنی چھاتی پیٹی تھی… اُس نے ایسا اپنی روح… کو جگانے اور بیدار کرنے کے لیے کیا تھا، خُدا کو بُلانے کے لیے … کہتے ہوئے، ’خُدایا مجھ گنہگار پر کرم کر‘! وہ اُس کی دعا تھی، ایک مختصر، لیکن انتہائی جامع… جس میں ایک اعتراف تھا کہ وہ ایک گنہگار تھا، آدم میں ایک گنہگار، ایک گنہگار جس نے وراثت میں آدم سے گناہ سے بھرپور فطرت پائی تھی، جو گناہ میں رحم میں پڑا اور پیدا ہوا؛ اور عمل میں ایک گنہگار، جس سے بے شمار اصلی قصور سرزد ہوئے تھے؛ ایک قصوروار اور غلیظ گنہگار – جو خُدا کے قہر کا مستحق تھا، اور جہنم کے گہرے ترین [حصے کا] مستحق تھا… خُدا جس کے خلاف وہ گناہ کر چکا تھا‘‘ (لوقا18:13 پر غور طلب بات)۔

اور پھر بھی آپ شاید گناہ کی سزایابی میں سے گزریں اور اُس کے باوجود نجات نہ پائیں۔ میں لوگوں کے چہروں کو سزایابی کے آنسوؤں سے تر دیکھ چکا ہوں۔ لیکن وہ کبھی بھی نجات نہیں پا سکے تھے، یہاں تک کہ اپنے گناہ کے لیے غم اور رونے کے وقت سے گزرنے کے بعد بھی۔ میں لوگوں کو گناہ کی شدید غمگینی اور سزایابی میں سے گزرتا ہوا دیکھ چکا ہوں۔ لیکن وہ کبھی بھی نجات نہیں پا سکے تھے۔ میں لوگوں کو کہتے ہوئے سُن چکا ہوں، ’’میں نے غلط اور گناہ سے بھرپور محسوس کیا۔‘‘ میں اُنہیں آنسوؤں کے ساتھ ایسے باتیں کرتے ہوئے سُن چکا ہوں – لیکن وہ کبھی بھی نجات نہیں پا سکتے تھے! وہ کیسے ہو سکتا ہے؟ آئیے مجھے اِس کو اتنا واضح کر لینے دیجیے جتنا میرے لیے ممکن ہو سکتا ہے۔ گناہ کی سزایابی گناہ سے تبدیلی نہیں ہوتی ہے۔ آپ گناہ کی سزایابی میں آ سکتے ہیں اور اِس کے باوجود یسوع کے وسیلے سے نجات نہیں پاتے ہیں۔ میں لوگوں کو بارہا آنسوؤں کے ساتھ روتا ہوا دیکھ چکا ہوں – اور اِس کے باوجود اُنہوں نے کبھی بھی خُداوند یسوع مسیح پر بھروسہ نہیں کیا تھا۔ ڈاکٹر مارٹن لائیڈ جونز Dr. Martyn Lloyd-Jones اُس بات کو سمجھ گئے تھے۔ اُنہوں نے کہا، مسیحی بننا ایک نازک دور ہے، ایک نازک واقعہ، ایک عظیم کُھلبلی جس کو نیا عہد نامہ ایسی اصطلاح میں بیان کرتا ہے جیسے کہ ایک نیا جنم، یا ایک نئی تخلیق… اِس سے بھی بڑھ کر، اِس کو ایک فوق الفطرت عمل کے ہونے کی حیثیت سے بیان کیا گیا ہے جو کہ خُدا کے وسیلے سے [کیا گیا]، کچھ ایسا جس کا موازنہ ایک مرُدہ بشر کے زندہ کیے جانے سے کیا جا سکتا ہے… یہ ایک ایسا بحران ہے جس میں خُدا آپ کو اپنے گناہ سے بھرپور دِل کے ساتھ نفرت کرنے کے لیے مجبور کر دیتا ہے۔ یہ ایک بحران ہے جو خُداوند آپ کے اندر تخلیق کرتا ہے۔ یہ صرف اُسی وقت آتا ہے جب سزایابی آپ کو سکون پانے کے لیے مجبور کرتی ہے۔ جان بنعیئن John Bunyan سات سالوں تک گناہ کی سزایابی میں رہے تھے۔ وہ زمین پر جہنم کے سات سال تھے۔ میں تجربے سے جانتا ہوں کہ گناہ کی سزایابی گناہ سے تبدیل نہیں ہوتی ہے۔

جب وہ ایک شخص کو آنکھوں میں آنسوؤں کے ساتھ دیکھتے ہیں، تو دورِ حاضرہ کے مبشران سوچتے ہیں کہ اُنہوں نے نجات پالی! لیکن وہ ابھی تک اذیت کی گہرائیوں میں سے نہیں گزرے ہوتے۔ جب آپ ایک آنسو کو دیکھتے ہیں اور اُنہیں فوراً یسوع پر بھروسہ کرنے کے لیے کہتے ہیں تو یہ عام طور پر ہوتا نہیں ہے۔ وہ ابھی تک اِس قدر زیادہ ٹوٹے ہوئے نہیں ہوتے کہ یسوع کی اُنہیں بچانے کے لیے چاہت کرتے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ وہ اکثر کہتے ہیں، ’’اور پھر میں نے یسوع پر بھروسہ کیا۔‘‘ وہ خود کے بارے میں ایک مکمل صفحہ لکھ ڈالتے ہیں۔ لیکن اُن کے پاس خُداوند یسوع مسیح کے بارے میں کہنے کے لیے انتہائی کم ہوتا ہے۔ تب، جب ہم اُن سے چند ایک ہفتوں بعد سوال پوچھتے ہیں، وہ کہتے ہیں، ’’میں یقین کرتا ہوں کہ یسوع میرے لیے قربان ہوا تھا۔‘‘ ’’کہ‘‘ ظاہر کرتا ہے اُنہوں نے صرف ایک عقیدے پر بھروسہ کیا ہوتا ہے، ناکہ یسوع بخود پر۔ ایک گمراہ گنہگار کبھی بھی یسوع بخود پر بھروسہ نہیں کرتا۔ اُس وقت تک نہیں جب تک آپ انتہائی حوصلہ شِکن نہیں ہوجاتے۔ اُس وقت تک نہیں جب تک آپ کو نظر نہیں آ جاتا کہ سزایابی کی درد اور کوفت سے فرار کے لیے کوئی اور راہ نہیں ہے۔ کبھی کبھار وہ فوراً ہو جاتا ہے۔ لیکن عام طور پر آپ کو بے شمار جھوٹی ایمان لانے والی تبدیلیوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ صرف تب ہی آپ رسول کے ساتھ کہہ پاتے ہیں، ’’ہائے، میں کیسا بدبخت انسان ہوں، اِس موت کے بدن سے مجھے کون چُھڑائے گا؟‘‘ (رومیوں7:24)۔ صرف تب ہی آپ خُدا کے رحم کے لیے پکار اُٹھیں گے جیسے وہ محصول لینے والا پکار اُٹھا تھا! صرف تب ہی خُدا آپ کو جواب دے گا اور آپ کو یسوع کی جانب کھینچے گا!

دورِ حاضرہ کے مبشران ہر ایک بات کو جلدی سے اور فوراً ہوتا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں۔ ہم نے وہ گذشہ سال حیاتِ نو میں دیکھا تھا۔ آپ میں سے بے شمار کہتے ہوئے آئے تھے، ’’اور پھر میں نے یسوع پر خود کو بچانے کے لیے بھروسہ کیا۔‘‘ یا ’’پھر میں نے یقین کیا کہ یسوع نے مجھے بچا لیا۔‘‘ وہ خُداوند یسوع مسیح کو تو سرے سے چھوڑ ہی دیا جاتا ہے۔ چھوڑ دیا جاتا ہے کیونکہ گناہ کی سزایابی میں نہیں آئے ہوتے۔ اپنے دِل کی تاریکی کی سزایابی میں۔ خُدا کے خلاف آپ کی عداوت کی سزایابی میں۔ اُس حقیقت کی سزایابی میں کہ آپ خود کو بدل نہیں سکتے۔ جان کیگنJohn Cagan نے کہا، ’’مجھے یسوع کے پاس جانا چاہیے تھا، لیکن میں جا نہیں پایا۔‘‘ ’’ہائے میں کیسا بدبخت انسان ہوں، کون مجھے نجات دلائے گا؟ ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ آپ نے صرف یہ یقین کیا ہے کہ یسوع آپ کو بچا لے گا۔ آپ تھوڑے سے پریشان ہوتے ہیں اور پھر آپ واپس روحانی نیند میں چلے جاتے ہیں۔ اور آپ میں سے زیادہ تر تو کبھی بھی سرے سے مسیح میں ایمان لا کر تبدیل ہی نہیں ہوتے! آپ کو واپس جانا چاہیے اور دوبارہ سزایابی کے سارے عمل میں سے گزرنا چاہیے۔ مسیح میں ایمان لا کر تبدیل ہونا آپ کی زندگی میں وہ سب سے اہم بات ہے جو کبھی بھی آپ کی زندگی میں رونما ہوگی۔ آپ یسوع میں اپنے ایمان کو ایک ہی جملے میں نہیں سمجھا سکتے۔ یا ایک جملے کے آدھے میں، جیسا کہ ایک لڑکی نے کیا، ایک لڑکی جو اب واپس نیند میں جا چکی ہے، اور اب بالکل بھی سزایابی میں نہیں ہے۔ اگر آپ گناہ کی سزایابی میں ہوتے، آنسوؤں کے ساتھ، تو آپ سامنے ہی کیوں آتے ہیں؟ کیا آپ سوچتے ہیں کہ ہم کچھ کر سکتے ہیں؟ کچھ ایسا جو آپ کو سارے تجربے سے چند ہی منٹوں میں گزرنے پر مجبور کر دے؟ حالانکہ آپ الطار پر 1,000 مرتبہ آئے ہیں ایسے کچھ نہیں ہے جو ہم آپ کے لیے کر سکتے۔ ایسا کچھ نہیں ہے جس کی ہم آپ کو تعلیم دے سکیں۔ ایسا کچھ نہیں جو آپ کی مدد کرنے کے لیے ہم کہہ سکیں! صرف خُدا آپ کی مدد کر سکتا ہے – اور خُدا کبھی بھی منافقین کی مدد نہیں کرتا۔ کیا آپ یونیورسٹی سے ڈاکٹری کی ڈگری شدید پڑھائی اور راتوں کو جاگ جاگ کر پڑھے بغیر حاصل کر سکتے ہیں؟ بیشک نہیں! مگر یسوع میں ایمان لا کر تبدیل ہونا ایک پی ایچ۔ ڈی کے پانے کے مقابلے میں کہیں لامحدود طور پر کہیں زیادہ اہم ہے۔ اپنی زندگی میں ایک حقیقی تبدیلی وہ سب سے زیادہ اہم تجربہ ہے جو آپ کبھی حاصل کر پائیں گے۔ مگر آپ کبھی بھی مسیح میں ایمان لا کر تبدیل نہیں ہو پائیں گے جب تک آپ گمراہ محسوس نہ کریں۔ آپ کبھی بھی تبدیل نہیں ہو پائیں جب تک آپ بے بسی نہ محسوس کریں۔ آپ کبھی بھی تبدیل نہیں ہو پائیں گے جب تک کہ آپ اپنی زندگی اور دِل کے گناہ سے نفرت نہیں کرتے۔ جب تک آپ پکار نہیں اُٹھتے، ’’خُداوند مجھ گنہگار پر کرم کر۔‘‘ آئیے کھڑے ہوں اور حمدوثنا کا گیت نمبر10 اپنے گیتوں کے ورق میں سے گائیں۔ یہ شاعر جوزف ہارٹ (1712۔1768 کا لکھا ہوا گیت ’’آؤ، اے گنہگارو‘‘ ہے۔

اب، میں آج کی شام آپ سے یسوع پر بھروسہ کرنے کے لیے تمنا رکھتا ہوں۔ اگر آپ سزایابی کے تحت ہیں، اگر آپ نااُمیدی محسوس کرتے ہیں، اگر آپ کھوئے ہوئے محسوس کرتے ہیں، یہاں منبر کے سامنے نیچے آ جائیں اور ہم آپ سے یسوع کے بارے میں بات کریں گے۔ یسوع زمین پر آسمان سے نیچے آیا۔ وہ صلیب پر کیلوں سے جڑا گیا اور آپ کی جگہ پر وہاں قربان ہوا، آپ کے گناہ کی ادائیگی کرنے کے لیے، آپ کا جہنم اور سزا سے بچانے کے لیے تاوان ادا کرنے کے لیے۔ اور یسوع جسمانی طور پر مُردوں میں سے جی اُٹھا اور اوپر آسمان میں اُٹھا لیا گیا۔ جب آپ اُس پر بھروسہ کرتے ہیں، تو وہ آپ کو گناہ سے بچا لے گا۔ کھڑے ہوں اور ’’آؤ، اے گنہگارو‘‘ گائیں۔ یہ آپ کے گیتوں کے ورق پر گیت نمبر10 ہے۔

آؤ، اے گنہگارو، غریب اور خستہ حال، کمزور اور زخمی، بیمار اور دُکھی؛
   یسوع تمہیں بچانے کے لیے تیار کھڑا ہے، ہمدرردی، محبت اور قوت سے بھرپور:
وہ لائق ہے، وہ لائق ہے، وہ رضامند ہے، مذید اور شک مت کرو:
   وہ لائق ہے، وہ لائق ہے، وہ رضامند ہے، مذید اور شک مت کرو۔

آؤ، تمام تھکے ماندوں، بوجھ سے دبے، زخمی اور گرنے سے ٹوٹے ہوؤں؛
   اگر تم سستی کرو گے جب تک کہ ٹھیک نہیں ہو جاتے، تو تم کبھی بھی نہیں آ پاؤ گے:
راستباز کو نہیں، راستباز کو نہیں، یسوع تو گنہگاروں کو بلانے کے لیے آیا تھا؛
   راستباز کو نہیں، راستباز کو نہیں، یسوع تو گنہگاروں کو بلانے کے لیے آیا تھا۔

دیکھو! نجات دہندہ کو ابھی، آسمان پر اُٹھایا گیا، اُس کے خون کے حق کے لیے التجا کرو؛
   خود کو مکمل طور پر اُس کے حوالے کر دو، کسی اور پر بھروسہ کو مداخلت مت کرنے دو؛
کوئی اور نہیں ماسوائے یسوع کے، کوئی اور نہیں ماسوائے یسوع کے، جو بے یارومددگار گنہگاروں کے لیے کچھ اچھا کر سکتا ہے؛
   کوئی اور نہیں ماسوائے یسوع کے، کوئی اور نہیں ماسوائے یسوع کے، جو بے یارومددگار گنہگاروں کے لیے کچھ اچھا کر سکتا ہے۔
(’’آؤ، اے گنہگاروںCome, Ye Sinners ‘‘ شاعر جوزف ہارٹ Joseph Hart ، 1712۔1768).


اگر اس واعظ نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز آپ سے سُننا پسند کریں گے۔ جب ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں تو اُنہیں بتائیں جس ملک سے آپ لکھ رہے ہیں ورنہ وہ آپ کی ای۔میل کا جواب نہیں دیں گے۔ اگر اِن واعظوں نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز کو ایک ای میل بھیجیں اور اُنہیں بتائیں، لیکن ہمیشہ اُس مُلک کا نام شامل کریں جہاں سے آپ لکھ رہے ہیں۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای میل ہے rlhymersjr@sbcglobal.net (‏click here) ۔ آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو کسی بھی زبان میں لکھ سکتے ہیں، لیکن اگر آپ انگریزی میں لکھ سکتے ہیں تو انگریزی میں لکھیں۔ اگر آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو بذریعہ خط لکھنا چاہتے ہیں تو اُن کا ایڈرس ہے P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015.۔ آپ اُنہیں اِس نمبر (818)352-0452 پر ٹیلی فون بھی کر سکتے ہیں۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہائیمرز کے واعظ www.sermonsfortheworld.com
یا پر پڑھ سکتے ہیں ۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

یہ مسوّدۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے ہمارے گرجہ گھر سے ویڈیو پر دوسرے تمام واعظ اور ویڈیو پیغامات حق
اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بیجنیمن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith نے گایا:
(’’آؤ، اے گنہگاروںCome, Ye Sinners ‘‘ شاعر جوزف ہارٹ Joseph Hart ، 1712۔1768).

لُبِ لُباب

اچھا آدمی گمراہ ہوا اور بُرا آدمی نجات پا گیا!

A GOOD MAN LOST AND A BAD MAN SAVED!

’’اور یسوع نے بعض ایسے لوگوں کو جو اپنے آپ کو تو راستباز سمجھتے تھے لیکن دُوسروں کو ناچیز جانتے تھے، یہ تمثیل سُنائی، دو آدمی دعا کرنے کے لیے ہیکل میں گئے۔ ایک فرِیسی تھا اور دُوسرا محصول لینے والا۔ فرِیسی نے کھڑے ہو کر دل ہی دل میں یہ دعا کی، اَے خدا، میں تیرا شکر کرتا ہُوں کہ میں دُوسرے آدمیوں کی طرح نہیں ہوں جو لُٹیرے، ظالم اور زناکار ہیں اور اِس محصول لینے والے کی مانند بھی نہیں ہُوں۔ میں ہفتہ میں دوبار روزہ رکھتا ہُوں اور اپنی ساری آمدنی کا دسواں حِصہ نذر کر دیتا ہُوں۔ لیکن اُس محصول لینے والے نے جو دُور کھڑا ہُوا تھا، اتنا بھی نہ چاہا کہ آسمان کی طرف نظر اُٹھائے بلکہ چھاتی پیٹ پیٹ کر کہا، خدایا مجھ گنہگار پر کرم کر۔ میں تُم سے کہتا ہُوں یہ آدمی اُس دُوسرے سے خدا کی نظر میں زیادہ مقبول ہو کر اپنے گھر گیا کیونکہ جو کوئی اپنے آپ کو بڑا بنائے گا وہ چھوٹا کیا جائے گا اور جو اپنے آپ کو چھوٹا بنائے گا وہ بڑا کیا جائے گا‘‘ (لوقا 18:9۔14).

I.   پہلی بات، وہ ’’اچھا‘‘ شخص جو گمراہ ہو گیا تھا، لوقا18:11۔12؛ اشعیا57:21؛ یرمیاہ17:9؛ اشعیا33:14؛ متی7:23 .

II.  دوسری بات، وہ بُرا شخص جس نے نجات پائی تھی، لوقا18:13؛ زبور51:3؛ رومیوں7:24 .