Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 215 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.co پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہمارے ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 36 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔

جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔


ہماری زوال پزیر کلیسیائیں

OUR DECADENT CHURCHES
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
خُداوند کے دِن کی شام، 19 فروری، 2017
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord's Day Evening, February 19, 2017

’’تم زمین کا نمک ہو لیکن اگر نمک کی نمکینی جاتی رہے تو اُسے کیسے نمکین کیا جا سکتا ہے؟ تب وہ کسی کام کا نہیں رہتا سِوائے اِس کے کہ باہر پھینکا جائے اور لوگوں کے پاؤں سے روندا جائے۔ تم دُنیا کا نور ہو۔ پہاڑی پر بسا ہوا شہر چھِپ نہیں سکتا۔ چراغ جلا کر برتن کے نیچے نہیں بلکہ چراغدان پر رکھا جاتا ہے تاکہ وہ گھر کے سارے لوگوں کو روشنی دے۔ اِسی طرح تمہاری روشنی لوگوں کے سامنے چمکے تاکہ وہ تمہارے نیک کاموں کو دیکھ کر تمہارے آسمانی باپ کی تمجید کریں‘‘ (متی5:13۔16)۔

آج ہماری کلیسیاؤں کے ساتھ کوئی نہ کوئی غلط بات ہے۔ ڈاکٹر کارل۔ ایف۔ ایچ۔ ھنری نے یہ بات کی۔ وہ ایک جانے مانے عالم اِلہٰیات تھے، لیکن اُنہوں نے یہ بات واضح کی۔ آج ہماری کلیسیاؤں کے ساتھ کوئی نہ کوئی بات غلط ہے۔ ڈاکٹر ھنری نے کہا، ’’منظم مسیحیت پر غلط فہمیوں سے آزادی اِنتہائی بُلندی پر ہے؛ کوئی بھی اِنہیں گرجا گھر میں حاضریوں کی کمی ہوتی ہوئی شماریات میں دیکھ سکتا ہے… وحشی ایک زوال پزیر تہذیب کی گرد کو ہوا دے رہے ہیں اور پہلے سے ہی ایک معذور کلیسیا کے سائیوں میں نظر بچا کر دبے پاؤں چلے آ رہے ہیں‘‘ (عظیم تہذیب کی طلوع صبح: جدید کافر پرستی کی جانب بہاؤ Twilight of a Great Civilization: The Drift Toward Neo-Paganism، صفحہ17)۔

کیا ڈاکٹر ھنری دُرست تھے؟ جی ہاں بِلاشُبہ وہ تھے! ’’گرجا گھر میں کم ہوتی ہوئی حاضریاں۔‘‘ جی ہاں، وہ صحیح تھے۔ مغربی بپتسمہ دینے والے اب ہر سال تقریباً ایک چوتھائی ملین اِراکین کو کھو دیتے ہیں۔ ’’وحشی ایک معذور کلیسیا کے سائیوں میں نظر بچا کر دبے پاؤں چلے آ رہے ہیں۔‘‘ وہ دوبارہ دُرست تھے! گرجا گھر بِلاشُبہ اپاہج ہو چکے ہیں، تباہ حال اور آج نوجوان لوگوں کو مسیح میں ایمان دِلا کر تبدیل کرنے کے لیے نااہل ہو چکے ہیں۔ وہ بات سچی کیوں ہے؟ کیونکہ نمک اپنی نمکینی کھو چکا ہے! مسیح نے یہ بات کہی تھی۔ ’’تب وہ کسی کام کا نہیں رہتا سِوائے اِس کے کہ باہر پھینکا جائے اور لوگوں کے پاؤں سے روندا جائے‘‘ (متی5:13)۔

مذہبی سُدھار کا مطالعۂ بائبل Reformation Study Bibleکہتی ہے، ’’مسیح کو اُن سے جو اُن کے اِردگرد ہیں مختلف ہونا چاہیے‘‘ (صفحہ1732)۔ آج گرجا گھر اپنے نوجوان لوگوں کو تقریباً 90 % کھو رہے ہیں اِس سے پہلے کہ وہ 25 برس کی عمر تک پہنچیں – اور وہ ’’کبھی بھی واپس‘‘ نہیں آتے (برنا Barna)۔ ایسا کیوں رونما ہو رہا ہے؟ یہ اِس لیے ہے کیونکہ گرجا گھر اپنی نمکینی کھو چکے ہیں!

نمک کو بنیادی طور پر اشیائے خوردنی کو محفوظ کرنے والی شے کی حیثیت سے استعمال کیا جاتا تھا۔ گرجا گھر کا مقصد محفوظ کرنا یا برقرار رکھنا ہوتا ہے۔ جب گمراہ لوگ مسیح میں ایمان لا کر تبدیل ہوتے ہیں تو وہ محفوظ ہو جاتے ہیں – وہ نجات پا لیتے ہیں۔ یسوع نے کہا، ’’تم زمین کا نمک ہو۔‘‘ گرجا گھر کا مقصد گنہگاروں کو خوشخبری تک لانے کے ذریعے سے محفوظ کرنا اور اِس بات کو یقینی بنانا کہ وہ ’’مسیح کی حفاظت‘‘ (یہوداہ1)میں رہیں ہوتا ہے۔ لیکن آج زیادہ تر گرجا گھر ایسا نہیں کر رہے ہیں۔ آج ہمارے گرجا گھروں کے ذریعے سے نوجوان لوگوں کو انجیلی بشارت کا پرچار نہیں کیا جا رہا ہے۔ گرجا گھر اپنی نمکینی کھو چکے ہیں، وہ بے ذائقہ ہو چکے ہیں (NASV)۔ وہ اُنہیں محفوظ نہیں کر رہے ہیں جو گمراہ ہو چکے ہیں۔ مسیح کے الفاظ آج زیادہ تر گرجا گھر کے لیے سچے ہیں۔ وہ اپنی نمکینی کھو چکے ہیں، وہ بے ذائقہ ہو چکے ہیں۔ اِس لیے وہ ’’کسی کام کے نہیں‘‘ ہیں، ماسوائے باہر پھینکے جانے کے اور لوگوں کے پیروں تلے روندے جانے کے‘‘ (متی5:13)۔ میسح نے اُن گرجا گھروں کے بارے میں بات کی تھی جو اپنی نمکینی کھو چکے تھے جب اُس نے کہا، ’’میں تجھے اپنے مُنہ سے نکال باہر پھینکوں گا۔‘‘ لودیکیہ کی کلیسیا جو نہ سرد ہے نہ گرم آج اُس [یسوع] کے مُنہ سے نکال باہر پھینکی جائے گی (مکاشفہ3:16)۔

ڈیوڈ میورو David Murrow نے ’’کیوں لوگ گرجا گھر جانے سے نفرت کرتے ہیں Why Men Hate Going to Church‘‘ کے عنوان سے ایک کتاب لکھی ہے۔ اُنہوں نے نشاندہی کی کہ لوگ اور نوجوان گرجا گھر اِس لیے نہیں آتے کیونکہ گرجا گھر اپنی نمکینی کو کھو چکے ہیں۔ وہ بے ذائقہ ہو چکے ہیں۔ ڈاکٹر کارل ایف۔ ایچ۔ ھنری نے بجا طور پر کہا کہ ’’منظم مسیحیت پر غلط فہمیوں سے آزادی اِنتہائی بُلندی پر ہے ایک اپاہج کلیسیا [کی وجہ سے]۔

لیکن کیوں کلیسیائیں یعنی گرجا گھر ’’اپاہج‘‘ ہو چکے ہیں؟ کیونکہ وہ دُنیا میں سے گمراہ نوجوان لوگوں کو اندر گرجا گھروں میں نہیں لا رہے ہیں۔ کیونکہ تبلیغ بے ذائقہ ہو چکی ہے۔ کیونکہ وہ مسیح کی خوشخبری کی منادی نہیں کر رہے ہیں۔ سپرجئین کا عظیم گرجا گھر ’’بشروں کا شکنجہa soul trap‘‘ کہلاتا تھا، کیونکہ سپرجیئن مسیح مصلوب کی منادی کیا کرتے تھے، کیونکہ وہ مسیح کے خون کے وسیلے سے نجات پر منادی کیا کرتے تھے، تنہا مسیح کے وسیلے سے نجات۔ وہ گمراہ لوگوں کو اندر گرجا گھر میں لانے کے لیے سخت محنت کیا کرتے تھے۔ ہماری ہر عبادت میں گمراہ لوگ ہوتے ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ میں تنہا مسیح کے وسیلے سے نجات پر مسلسل منادی کرتا ہوں، تنہا اُسی میں ایمان کے ذریعے سے۔ لیکن زیادہ تر گرجا گھروں کے پاس مٹی کی مانند خشک آیت بہ آیت بائبل کے مطالعے ہوتے ہیں – مسیح مصلوب پر کوئی بھی شعلہ فشاں واعظ نہیں ہوتے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ وہ اپنی نمکینی کو کھو چکے ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اُن کی عبادتیں بے ذائقہ ہو چکی ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اُنہوں نے اپنی اِتوار کی شام کی عبادتیں بند کر دی ہیں! یہ ہی وجہ ہے کہ وہ ’’کسی کام کے نہیں رہے، ماسوائے باہر پھینکے جانے اور پیروں کے تلے روندے جانے کے، لوگوں اور نوجوانوں کے ذریعے سے۔ آدمی اور نوجوان لوگ اب گرجا گھر جانے سے نفرت کرتے ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ گرجا گھر مر رہے ہیں!

یسوع نے کہا، راستوں اور کھیتوں کی باڑھوں کی طرف نکل جا اور لوگوں کو مجبور کر کہ وہ آئیں تاکہ میرا گھر بھر جائے‘‘ (لوقا14:23)۔ گمراہ لوگوں کو اندر گرجا گھر میں لانے سے انکار کرنے سے، ہمارے گرجا گھر مر رہے ہیں۔ مسیح مصلوب کی منادی کو مسترد کرنے کی وجہ سے گرجا گھروں نے اپنی نمکینی کھو دی ہے اور ’’کسی کام کے نہیں رہے‘‘ ہیں (متی5:13)۔ میں جانتا ہوں ہمارے گرجا گھروں کے ساتھ کیا غلط ہے۔ جب میں تیرہ برس کی عمر کا تھا تو مجھے پڑوسی بپتسمہ دینے والے [بپٹسٹ] گرجا گھر لے کر گئے تھے۔ وہ پادری صاحب آج کے مقابلے کے زیادہ تر پادریوں سے بہتر تھے۔ اُنہوں نے خوشخبری کی منادی کی تھی لیکن اُس کا مجھ پر کوئی اثر نہیں ہوا تھا۔ اُن کے واعظوں سے میں مسیح میں ایمان لا کر تبدیل نہیں ہوا تھا۔ وہ 1950 کی دہائی کے اُس زمانے کے خوشخبری کے واعظ تھے۔ مگر وہ بے جان اور بوریت والے تھے۔ میں ایک مسیحی بننا چاہتا تھا، مگر میں اندازہ نہیں لگا پایا تھا نجات کیسے پائی جائے۔ نا ہی گرجا گھر میں دوسرے نوجوان لوگ لگا پائے تھے۔ میری معلومات کے مطابق اُن نوجوان گروہوں میں سے کوئی ایک بھی جن میں مَیں رہا تھا کبھی بھی مسیح میں ایمان لا کر تبدیل نہیں ہوا۔ کوئی ایک بھی نہیں! خود میں نے بھی نجات نہیں پائی تھی، حالانکہ میں اُس گرجا گھر میں تقریباً سات برس تک گیا تھا۔ میں بس نجات کے معنوں کو جکڑ میں نہیں کر پایا تھا۔ مسیح کی پوری قوت سے تبلیغ نہیں کی گئی تھی۔ یوں لگتا تھا جیسے وہ پادری صاحب گرجا گھر میں بوڑھی خواتین کو ٹھیس پہنچانے سے ڈرتے تھے – لہٰذا اُنہوں نے اپنے واعظوں کو کمزور کر دیا تھا۔ اُںہوں نے بوڑھی خواتین کو قائم رکھا تھا – لیکن اُںہوں نے سارے کے سارے نوجوان لوگوں کو کھو دیا تھا۔ آج ہمارے گرجا گھر کا المیہ یہ ہے کہ وہ اُس نمکینی کو کھو چکے ہیں جس کا تقاضا مسیح نے کیا تھا۔ وہ خُدا کی نظر میں ’’کسی کام کے نہیں رہے‘‘ ہیں۔

’’تم زمین کا نمک ہو لیکن اگر نمک کی نمکینی جاتی رہے تو اُسے کیسے نمکین کیا جا سکتا ہے؟ تب وہ کسی کام کا نہیں رہتا سِوائے اِس کے کہ باہر پھینکا جائے اور لوگوں کے پاؤں سے روندا جائے‘‘ (متی5:13)۔

مگر ہم اِس گرجا گھر میں دعا مانگتے اور کام کرتے ہیں۔ ہم ایک ہی وقت میں اِس کو سنجیدہ اور جوشیلا بنا دیتے ہیں! جی نہیں، دورِ حاضرہ کی موسیقی کے ذریعے سے نہیں۔ ہمارے گرجا گھر میں توجہ کی وجہ مسیح اور وہی مصلوب ہے۔ جان کیگن John Cagan نے اپنے واعظوں میں سے ایک میں کہا تھا کہ ہمارا گرجا گھر بڑھ رہا ہے کیونکہ میں ہر واعظ میں مسیح کی خوشخبری کی منادی کرتا ہوں۔ میں نے اُس بارے میں اُس وقت تک نہیں سوچا تھا جب تک اُنہوں نے یہ بات نہیں کہیں تھی۔ مگر یہ سچ ہے۔ پچاس سالوں سے بھی زیادہ عرصے سے میرا مرکزی موضوع مسیح مصلوب ہی رہا ہے۔ اِتوار در اِتوار، مہینہ در مہینہ، سال در سال، دہائی در دہائی – ’’کیونکہ میں نے فیصلہ کیا ہوا تھا کہ جب تک تمہارے درمیان رہوں گا مسیح، یعنی مسیح مصلوب کی منادی کے سِوا کسی اور بات پر زور نہ دوں گا‘‘ (1 کرنتھیوں2:2)۔

آپ فطری طور پر گنہگار ہیں۔ آپ ایک تباہ حال گنہگار ہیں۔ آپ کا دِل غلطی پر ہوتا ہے۔ آپ کی خود غرضی آپ کے دِل کو اندھا کر چکی ہے۔ آپ کو شاید ہمارے لوگوں کی پارٹیاں اور دوستانہ پن اچھا لگے – لیکن آپ اُس حقیقت کے بارے میں نہیں سوچیں گے کہ آپ یسوع مسیح بخود کو مسترد کر چکے ہیں۔ آپ اپنے دِل میں اُس کے خلاف ہوتے ہیں – جو موروثی گناہ کے سبب سے تباہ ہو چکا ہے۔ آپ کو آدم سے وراثت میں ملی ہوئی اُس موروثی گناہ کی فطرت نے یسوع کا ایک دشمن بنا ڈالا ہے۔ آپ مسیح کا انکار کرنے والے گنہگار ہیں۔ اوہ، بیرونی طور پر آپ اِس قدر زیادہ اچھے دکھائی دیتے ہیں۔ مگر آپ کا دِل غلطی پر ہوتا ہے۔ آپ کو اپنے دِل کی مُردگی کو محسوس کرنا چاہیے۔ آپ کو محسوس کرنا چاہیے کہ آپ یسوع مسیح بخود کو نہیں جانتے ہیں۔ آپ کو خود اپنے ہی دِل کی گناہ کی گہری سزایابی میں آ جانا چاہیے۔ آپ کو دوبارہ سے جنم لینا چاہیے، ورنہ آپ جہنم کی آگ میں ہمیشہ کی زندگی بسر کریں گے۔ آپ کو مسیح میں ایمان لا کر تبدیل ہو جانا چاہیے۔ اور کہ دوبارہ سے جنم لینا چاہیے۔ آپ کو اِدھر اُدھر بیوقوفیاں کرتے رہنا چھوڑ دینی چاہیے۔ آپ کو اپنی پوری طاقت اور زور کے ساتھ یسوع کے پاس آنے کی جدوجہد کرنی چاہیے۔ آپ کو اپنے دِل کے گناہ کو محسوس کرنا چاہیے اور اِس سے نفرت کرنی چاہیے! اِس سے نفرت کرنی چاہیے! اِس سے نفرت کرنی چاہیے! اِس سے نفرت کرنی چاہیے! جب آپ اپنے گناہ سے بھرپور دِل سے نفرت کرتے ہیں اور اپنے گھٹنوں پر گرتے ہیں اور رحم کے لیے اِلتجا کرتے ہیں، تب مسیح آپ کے پتھردِل کو پگھلا ڈالتا ہے اور اپنے خون کے ساتھ آپ کو گناہ سے پاک صاف کر دیتا ہے۔

اِس کا حل تلاش کرنے کی کوششیں کرنا ترک کر دیں! آپ کبھی بھی اِس کا حل تلاش نہیں کر پائیں گے! ایمان کے وسیلے سے یسوع کے پاس آئیں۔ ایمان کے وسیلے سے اُس پر بھروسہ کریں۔ وہ آپ کو گناہ سے نجات دلا دے گا۔ یسوع کے بغیر آپ کی زندگی کا کوئی مقصد نہیں ہے۔ یسوع کے بغیر آپ کی کوئی اُمید نہیں ہے۔ تب آپ مسیح میں ایمان لا کر تبدیل ہو جائیں گے۔ تب آپ خدا کے قہر سے نجات پا لیں گے۔ تب اور صرف تب ہی آپ ایک حقیقی مسیحی بن پائیں گے۔

اور یہ بات ہمیں اگلے نکتے تک لے جاتی ہے، یسوع نے کہا،

’’تم دُنیا کا نور ہو۔ پہاڑی پر بسا ہوا شہر چھِپ نہیں سکتا‘‘ (متی5:14)۔

ڈاکٹر لائیڈ جونز نے کہا، ’’اُس بیان کی حقیقی قوت یہ ہے: ’تم اور تنہا تم ہی دُنیا کا نور ہو‘؛ وہ ’تم‘ تاکیدی انداز میں ہے اور اِس میں یہ تجویز نظر آتی ہے… جن میں کچھ باتوں کا اِطلاق ہوتا ہے۔ پہلی یہ ہے کہ دُنیا ایک تاریکی کی حالت میں ہے‘‘ (پہاڑی واعظSermon on the Mount، صفحہ139)۔ دُنیا تاریکی کی ہولناک حالت میں ہے۔ یسوع کہہ رہا ہے کہ صرف اصل میں مسیح میں ایمان لا کر تبدیل ہوا ایک مسیحی ہی دوسروں کو دکھا سکتا ہے کیسے اِس روحانی تاریکی سے فرار اختیار کیا جا سکتا ہے۔ دُنیا میں بالکل بھی کوئی اور نور نہیں ہے۔ وہ واحد نور حقیقی مسیحیوں اور اِس طرح کے گرجا گھر کے ذریعے سے ہی مہیا کیا جا سکتا ہے۔ یسوع نے اپنے شاگردوں کے چھوٹے سے گروہ پر نظر ڈالی تھی۔ اُس نے اُن سے کہا، ’’تم اور تنہا تم ہی، دُنیا کا نور ہو۔‘‘ وہ یہ بات عام لوگوں سے کہتا ہے۔ ’’تم اور تنہا تم ہی دُںیا کا نور ہو۔‘‘

تمام سچے مسیحی اُن اوقات سے گزرتے ہیں جب اُنہیں محسوس نہیں ہوتا ہے جیسے وہ ’’دُنیا کے لیے نور‘‘ ہیں۔ وہ کسی بھی دوسرے کی ہی مانند مضطرب اور ذہنی دباؤ کا شکار محسوس کرتے ہیں۔ سچے مسیحی کسی بھی دوسرے کی مانند بیمار ہو جاتے ہیں۔ سچے مسیحی تنہا ہو جاتے ہیں، کسی بھی دوسرے کی مانند۔ سچے مسیح آزمائیشوں میں سے گزرتے ہیں، تنہائی کے درد کو محسوس کرتے ہیں، دوستوں کو کھو دیتے ہیں، جن کے ایسے بچے ہوتے ہیں جو غلطی کرتے ہیں، اور بعض اوقات تو یہاں تک کہ محسوس کرتے ہیں وہ خُدا کی جانب سے چھوڑے جا چکے ہیں – اور محسوس کرتے ہیں کہ خُدا غیر حاضر ہے اور کوئی بھی اُن کو سمجھتا نہیں ہے۔ اُن تمام کے تمام لوگوں نےجنہوں نے اولیواس کی گرجا گھر کی تقسیم کے دوران ہمارے گرجا گھر کی عمارت کو بچایا تھا شدید درد اور غم کو محسوس کیا ہے۔ اکثر ہم نے یوں محسوس کیا کہ بس اب اور نہیں سہا جاتا۔ ہم نے خود کو دعائیہ اِجلاسوں میں گھسیٹا جب ہم نے محسوس کیا کہ خُدا ہماری دعاؤں کو نہیں سُنے گا۔ ہم نے خود کو گرجا گھر عبادتوں میں گھسیٹا جب ہم نے اِس طرح سے محسوس نہیں کیا۔ ہم تنہا بیٹھے، کوئی بھی ہمیں تسلی دینے کے لیے نہیں تھا۔ ایسے وقت رہ چکے ہیں جب ہم دوسروں سے مُنہ چھپاتے پھرتے تھے اور روتے اور چِلّاتے تھے کیونکہ ہم نے محسوس کیا تھا کہ خُدا ہمیں چھوڑ چکا ہے۔ ہمارے دوستوں نے ہمیں چھوڑ دیا تھا۔ ہمارے بچے گرجا گھر کا ساتھ چھوڑ چکے تھے۔ وہ جو ہمارے قریبی تھے اُنہوں نے گناہ کی زندگی میں واپس جانے کے لیے ہمارے گرجا گھر کو چھوڑ دیا تھا۔ ہم ایوب کی مانند محسوس کر چکے ہیں جس نے کہا، ’’میرے دِن… اُمید کے بغیر گزرتے ہیں‘‘ (ایوب7:6)۔ وہ جو ہمارے قریب ترین تھے اُنہوں نے کہا، ’’خُدا پر لعنت بھیجو اور مر جاؤ‘‘ (ایوب2:9)۔ ہم نے محسوس نہیں کیا کہ ہم جاری رہ پائیں گے۔ مگر کسی نہ کسی طور ہم جاری رہے تھے۔

اُنہوں نے اُس کی خوراک میں منشیات ملائیں۔ وہ مذید اور دعا نہیں مانگ پاتا تھا۔ وہ عشائے ربانی یاد نہیں کر پاتا تھا۔ وہ صرف کہہ پاتا تھا ’’یسوع، میں تجھ سے محبت کرتا ہوں!‘‘ اِس سے پہلے کہ وہ بے ہوش ہوتا۔ وہ اُس کو بند اور تنگ قید خانے میں ڈالتے، جو زمین سے تیس فٹ نیچے تھا۔ چوہے اُس کے پیروں کو چبا ڈالتے تھے۔ مہینے اور سال کسی انسان کی آواز سُنے بغیر گزر گئے۔ وہ مکمل طور پر جسمانی اور ذہنی طور پر تباہ ہو چکا تھا۔ اُنہوں نے اُس پر تشدد کیا۔ اُنہوں نے اُس کی کمر کو سُرخ دہکتی ہوئی سُلاخوں سے داغا۔ اُنہوں نے اُس کے تلووّں کو پیٹا یہاں تک کہ وہ مشکلوں ہی سے چل پاتا۔ اُس کا نام رچرڈ ورمبرانڈ Richard Wurmbrand تھا۔ مجھے زندگی میں ملنے والے لوگوں میں وہ سب سے عظیم تھے۔ کسی نہ کسی طرح رچرڈ زندہ رہے۔ میں کس قدر اُنہیں پیار کرتا ہوں! اُن پر مسیح کی خاطر تشدد کیا گیا اور مسیح کی خوشخبری کی منادی کرنے پر اُنہوں نے 14 سال ایک اشتراکیت پسند قیدخانے میں گزارے۔ جب اُنہوں نے اُنہیں پہلی مرتبہ گرفتار کیا تھا تو وہ ایک خوبصورت نوجوان شخص تھے۔ جب اُنہیں بالاآخر قید سے رہا کیا گیا تو وہ ایک بوڑھے شخص تھے۔ اُن کے دانت ٹوٹ چکے تھے۔ اُن کے بال سفید ہو چکے تھے۔ وہ ایک آدمی لگنے کے بجائے ایک ڈھانچہ زیادہ لگ رہے تھے۔ اُنہیں کُرسی پر بیٹھنا پڑا تھا جب اُنہوں نے ہمارے گرجا گھر میں تبلیغ کی تھی۔ وہ بولنے کے لیے کھڑے نہیں ہو سکتے تھے کیونکہ پیٹے جانے کی وجہ سے اُن کے پاؤں بُری طرح سے خراب ہو چکے تھے۔ اُن کی بیوی کو بھی گرفتار کیا گیا تھا۔ اُنہوں نے اُن کی بیوی کو غلاموں کی طرح کام کرنے پر مجبور کر دیا تھا۔ دونوں رچرڈ اور اُن کی بیوی نے سوچا تھا کہ دوسرا والا مرچکا تھا۔ اِس کے باوجود وہ مسکرا اور ہنس رہے تھے جب وہ ہمارے گرجا گھر میں آئے تھے۔ آپ اُن کی ایک تصویر دیکھ سکتے ہیں جس میں اُنہوں نے ہمارے دونوں لڑکوں کو اپنے بازؤں میں تھاما ہوا تھا۔ آپ اُس تصویر کو دیوار پر دیکھ سکتے ہیں جب آپ اُوپر رفاقت میں ہال میں جاتے ہیں۔ جب میں انتہائی ذہنی دباؤ کا شکار ہوتا ہوں اور تنہا ہوتا ہوں تو میں ورمبرانڈ کی کتاب ’’مسیح کے لیے تشدد سہاTortured for Christ‘‘ پڑھتا ہوں۔ یہ ایک ہولناک کتاب ہے، لیکن یہ میرے دِل کو حوصلہ پہنچاتی ہے۔ یہ مجھے سوچنے پر مجبور کرتی ہے، ’’اگر رچرڈ ورمبرانڈ اُس تمام میں سے گزر سکتے ہیں اور مسکراتے ہوئے باہر آتے ہیں، تو شاید میں بھی یہ کر سکتا ہوں۔‘‘

یسوع نے کہا، ’’تم دُنیا کا نور ہو۔ پہاڑی پر بسا ہوا شہر چھِپ نہیں سکتا… اِسی طرح تمہاری روشنی لوگوں کے سامنے چمکے تاکہ وہ تمہارے نیک کاموں کو دیکھ کر تمہارے آسمانی باپ کی تمجید کریں‘‘ (متی5:14، 16)۔

پولوس رسول بھی ہولناک حالات سے گزرا تھا۔ ہولناکیوں کی اُس فہرست کو پڑھیں جن میں سے وہ گزرا تھا۔ وہ 2کرنتھیوں11:22۔30 میں ہیں۔ اُن تمام سے بڑھ کر پولوس کو ایک ہولناک بیماری تھی، ’’جسم میں ایک ناسور۔‘‘ اُس نے خُدا سے سنجیدگی سے اِس کو ہٹانے کے لیے دعا مانگی لیکن خُدا نے اِس کو نہیں ہٹایا۔ اِس کے بجائے، یسوع نے پولوس سے کہا، ’’میرا فضل تیرے لیے کافی ہے کیونکہ میری قدرت کمزوری ہی میں پوری ہوتی ہے۔‘‘ تب پولوس نے کہا، ’’جب میں کمزور ہوتا ہوں تو مجھے اپنے قوی ہونے کا احساس ہونے لگتا ہے‘‘ (2کرنتھیوں12:9، 10)۔

رچرڈ اور سبینہ ورمبرانڈ دُنیا کے لیے نور ہیں۔ پولوس رسول دُنیا کے لیے نور تھا۔ اور آپ بھی دُنیا کے لیے نور ہو سکتے ہیں۔ مسیح آپ کو کوئی آسان زندگی کی پیشکش نہیں کرتا۔ وہ جو زندگی میں آسان راستہ اپناتے ہیں کبھی بھی ’’دُںیا کا نور‘‘ نہیں بن سکتے۔ یہ صرف وہی لوگ ہوتے ہیں جو مسیح کے لیے تکلیفیں برداشت کرتے ہیں جو اِس بُری دُنیا کی تاریکی میں نور بن جاتی ہیں۔ یہ مسیح کے لیے تکلیفیں برداشت کرنے سے ہے کہ آپ ’’دُنیا کا نور‘‘ بن جاتے ہیں۔ کوئی دوسری راہ نہیں ہے۔ ہمارے پاس اب ایک ویب سائٹ ہے جس کی ہر سال ڈیڑھ ملین لوگ رسائی کرتے ہیں۔ واعظوں کی ویڈیوز اور مسوّدے 34 زبانوں میں شائع ہوتے ہیں۔ ہماری دُنیا کے لیے نور کی حیثیت سے ایک عالمگیری مذہبی خدمت موجود ہے۔

میں آپ سے مسیح کے پاس آنے کے لیے اِلتجا کرتا ہوں۔ مسیح پر بھروسہ کریں اور وہ آپ کو گناہ سے نجات دِلا دے گا۔ وہ آپ کے متبادل کی حیثیت سے صلیب پر قربان ہو گیا تھا، آپ کے گناہ کا کفارہ ادا کرنے کے لیے۔ اُس نے آپ کو تمام گناہ سے پاک صاف کرنے کے لیے اپنے خون کو بہایا تھا۔ یسوع اب جی اُٹھا ہے۔ وہ اب ایک دوسری وسعت میں، آسمان پر خُدا کے داہنے ہاتھ پر بیٹھا ہوا ہے۔ یسوع پر بھروسہ کریں اور وہ آپ کو گناہ سے نجات دلا دے گا۔ میں آپ سے کہنے کی جرأت بھی نہیں کروں گا کہ وہ اِس دُنیا میں آپ کو پریشانی سے آزاد زندگی بخشے گا۔ لیکن میں شاید بے خوفی سے کہتا ہوں کہ یسوع آپ کو بنا دے گا اور پولوس کی مانند، رچرڈ کی مانند اور سبینہ ورمبرانڈ کی مانند ایک فتح پانے والے مسیحی میں ڈھال دے گا۔ آئیں اور یسوع پر بھروسہ کریں جیسے اُنہوں نے کیا تھا اور یسوع آپ کو اِس تاریک دُنیا کے لیے ایک نور بنا دے گا۔ کھڑے ہوں اور حمدوثنا کا گیت نمبر7 اپنے گیتوں کے ورق میں سے گائیں،

مجھے آسمان میں اُٹھا کر لے جایا جانا چاہیے
   آسائش کے پھولوں کے بستر پر،
دوسرے جبکہ انعام جیتنے کے لیے لڑتے ہیں،
   اور خون کے سمندروں میں سفر کرتے ہیں؟
یقیناً مجھے لڑنا چاہیے، اگر مجھے حکومت کرنی ہے؛
   خُداوندا، میرے حوصلے کو بڑھا دے؛
میں مشقت کو جھیلوں گا، درد کو برداشت کروں گا،
   جسے تیرے کلام کے وسیلے کا سہارا ہے۔
(’’کیا میں صلیب کا ایک سپاہی ہوں؟Am I a Soldier of the Cross?‘‘
      شاعر ڈاکٹر آئزک واٹز Dr. Isaac Watts، 1674۔1748)۔


اگر اس واعظ نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز آپ سے سُننا پسند کریں گے۔ جب ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں تو اُنہیں بتائیں جس ملک سے آپ لکھ رہے ہیں ورنہ وہ آپ کی ای۔میل کا جواب نہیں دیں گے۔ اگر اِن واعظوں نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز کو ایک ای میل بھیجیں اور اُنہیں بتائیں، لیکن ہمیشہ اُس مُلک کا نام شامل کریں جہاں سے آپ لکھ رہے ہیں۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای میل ہے rlhymersjr@sbcglobal.net (‏click here) ۔ آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو کسی بھی زبان میں لکھ سکتے ہیں، لیکن اگر آپ انگریزی میں لکھ سکتے ہیں تو انگریزی میں لکھیں۔ اگر آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو بذریعہ خط لکھنا چاہتے ہیں تو اُن کا ایڈرس ہے P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015.۔ آپ اُنہیں اِس نمبر (818)352-0452 پر ٹیلی فون بھی کر سکتے ہیں۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہائیمرز کے واعظ www.sermonsfortheworld.com
یا پر پڑھ سکتے ہیں ۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

یہ مسوّدۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے ہمارے گرجہ گھر سے ویڈیو پر دوسرے تمام واعظ اور ویڈیو پیغامات حق
اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

¬واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بیجنیمن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith نے گایا:
’’کیا میں صلیب کا ایک سپاہی ہوں؟Am I a Soldier of the Cross?‘‘
(شاعر ڈاکٹر آئزک واٹز Dr. Isaac Watts، 1674۔1748)