Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 215 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.co پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہمارے ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 36 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔

جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔


گمراہ لوگوں کے لیے جنگ

(جنگ کے بحرانوں کے سلسلے میں نمبر ایک)
THE BATTLE FOR LOST SOULS
(NUMBER TWO IN A SERIES OF BATTLE CRIES)
(Urdu)

مسٹر سیموئیل کیگن کی جانب سے
by Mr. John Samuel Cagan

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
خداوند کے دن کی شام، 15جنوری، 2017
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Evening, January 15, 2017

’’راستوں اور کھیتوں کی باڑوں کی طرف نکل جا اور لوگوں کو مجبور کر کہ وہ آئیں تاکہ میرا گھر بھر جائے‘‘ (لوقا 14:‏23).

دُنیا بدل رہی ہے۔ ایک پوری نسل منظر سے دور گزرتی جا رہی ہے۔ ریاست ہائے متحدہ تقسیم ہو چکا ہے۔ دُںیا خوف اور تشویش کی حالت میں ہے۔ ایک اوسط انسان کی اقدار بدل رہی ہیں۔ جب لوگ کبھی مردانگی اور قربانی کے تصورات میں یقین کیا کرتے تھے، وہ اب اُنہیں خود پرستی کی حمایت میں مسترد کرتے ہیں۔ دُنیا بدل رہی ہے۔ کلیسیا کا کردار کم سے کم اہم ہوتا جا رہا ہے۔ ایک کے بعد دوسرا فرقہ مرتا جا رہا ہے، دوسرے تباہی کی جانب آہستہ آہستہ دھنسنا شروع ہو چکے ہیں۔ گرجا گھر ہمارے تمدن میں اپنا تاثر کھو چکا ہے۔ کلیسیائیں اب کمزور ہو چکی ہیں۔ وجوہات میں سے ایک کہ کیوں ہماری ثقافت میں گرجا گھر مذید اور طاقتور نہیں رہے یہ ہے کہ وہ غیر مسیحی پس منظر والے نوجوان لوگوں کو انجیلی بشارت کا پرچار نہیں کرتے۔

انتہائی کم گرجا گھر باہر جاتے ہیں اور دُنیا میں سے لوگوں کو اندر لانے کے لیے کوشش کرتے ہیں۔ پادری صاحبان گمراہ لوگوں کے لیے انجیلی بشارت کے پرچار پر زور نہیں دیتے۔ اِس کے بجائے بے شمار پادری صاحبان دوسرے گرجا گھروں سے لوگوں کو چرانے میں اپنی کوششوں پر توجہ دیتے ہیں۔ اِس کو بھیڑیں چُرانا کہتے ہیں۔ یہ ہمارے گرجا گھر کا معاملہ نہیں ہے۔ ہمارے پادری صاحب، ڈاکٹر ہائیمرز، گمراہ لوگوں کو جیتنے کے لیے اپنے تئیں اِس گرجہ گھر کا تاثر بنانے کے لیے ہمیشہ پوری کوشش کرتے ہیں۔ ڈاکٹر ہائیمرز نے اِس گرجا گھر کو کسی کی مدد کے بغیر کیلفورنیا کے شہر ویسٹ ووڈ میں اپنے اپارٹمنٹ سے شروع کیا تھا۔ کئی سال گزرنے کے بعد، خُدا کے فضل سے، اُنہوں نے ہمارے گرجا گھر کو ایک ہی وقت میں ایک شخصیت میں بدل دیا جو یہ آج ہے۔ کیسے ڈاکٹر ہائیمرز نے ایک گرجا گھر کو تعمیر کیا جو ایک ایسی مذہبی خدمت کو سہارا دے سکتا ہے جو ساری دُنیا کو متاثر کرتی ہے؟ ڈاکٹر ہائیمرز نے اِس گرجا گھر کو انجیلی بشارت کے پرچار کی تعلیم کے ذریعے سے تعمیر کیا تھا! کیوں غیر مسیحیوں کو انجیلی بشارت سُننا اِس قدر اہم ہے؟ میں آپ کو آج کی رات تین وجوہات پیش کروں گا۔

I۔ پہلی وجہ، ہمارے گرجا گھر کو زندہ رہنے کے لیے گمراہ لوگوں کو انجیلی بشارت کا پرچار کرنا چاہیے۔

’’راستوں اور کھیتوں کی باڑوں کی طرف نکل جا اور لوگوں کو مجبور کر کہ وہ آئیں تاکہ میرا گھر بھر جائے‘‘ (لوقا 14:‏23).

انجیلی بشارت کے پرچار کے لیے باہر جانا کوئی تجویز نہیں تھی جو یسوع نے اپنے کچھ شاگردوں کو پیش کی تھی۔ جب مسیح نے کہا، ’’باہر جاؤ‘‘ وہ محض کسی مخصوص ہستی سے بات نہیں کر رہا تھا۔ مسیح یہ حکم اپنے تمام پیروکارو کو دے رہا تھا۔ کچھ لوگوں نے کہا ہے کہ کلیسیا کو انجیلی بشارت کے پرچار کے لیے باہر جانے کی ضرورت نہیں۔ کچھ لوگ یقین کرتے ہیں کہ کلیسیا کو گمراہ لوگوں کو جیتنے کی ضرورت نہیں۔ وہ یقین کرتے ہیں کہ خُدا اپنے چُنیدہ لوگوں کو کلیسیا کی کوششوں کے بغیر ہی کھینچ لے گا۔ لیکن ایسے لوگ بھی ہیں جو اِس سے بھی بدتر ہیں، وہ تو بالکل بھی پرواہ ہی نہیں کرتے! لیکن یہ نہیں ہے جس کی تعلیم یسوع نے دی!

یسوع نے نہیں کہا کہ ہمیں اُس کے گھر میں بیٹھا رہنا چاہیے اور اُن کے اندر آنے کے لیے انتظار کرتے رہنا چاہیے! اصلی یونانی میں، وہ لفظ ’’مجبورکرنا compel‘‘ اپنے ساتھ عمل کی ایک قوت کے اُٹھائے ہوئے ہے۔ یونانی لفظ ’’مجبور کرنا compel‘‘ کا مطلب ہوتا ہے ’’طاقت کے بل پر مجبور کرنا یا ترغیب دے کر مجبور کرنا‘‘ (Strong)۔ اِس لیے کلیسیا کو گمراہ لوگوں کو انجیل بشارت کے پرچار کے لیے عملی طور پر کچھ کرنا چاہیے! کلیسیا کو گمراہ لوگوں کو اپنی زندگی میں سے یونہی گرجا گھر میں آئے بغیر اور خوشخبری کو سُنے بغیر گزر جانے کی اجازت نہیں دینی چاہیے!

’’اِس لیے تم جاؤ اور ساری قوموں کو شاگرد بناؤ، اور اُنہیں باپ، بیٹے اور پاک روح کے نام سے بپتسمہ دو: اور اُنہیں یہ تعلیم دو کہ اُن سب باتوں پر عمل کریں جن کا میں نے تمہیں حکم دیا ہے اور دیکھو! میں دُنیا کے آخر تک تمہارے ساتھ ہوں‘‘ (متی28:‏19۔20)۔

باہر جانے کو نظر انداز کرنا اور گمراہ لوگوں کو انجیلی بشارت سُنانے کو نظر انداز کرنا مسیح کی عظیم مقصد کی تردید کرتا ہے! ہماری کلیسیا کی بہت بڑی تقسیم یاد ہے؟ یہ اُس وقت شروع ہوئی تھی جب مسٹر اُولیواس نے کہا تھا کہ ڈاکٹر ہائیمرز غلط تھے۔ اُںہوں نے کہا تھا کہ متی 28:‏19۔20 کا اِطلاق صرف رسولوں پر ہوتا ہے اور نا کہ گرجا گھر میں ہر شخص پر لاگو ہوتا ہے۔ جو گرجا گھر گمراہ لوگوں کو انجیل کی بشارت نہیں سُناتا وہ مسیح کی نافرمانی کرتا ہے۔ جب تک کلیسیا یا گرجا گھر گمراہ لوگوں کو انجیل کی بشارت نہ سُنانے سےمسیح کی نافرمانی میں ہے، وہ خُدا کی برکت نہیں پا سکتا۔

اِس کے علاوہ، نئے لوگوں کی مسقتل موجودگی کے بغیر، گرجا گھر باسی اور بوڑھا ہو جائے گا۔ جب گرجا گھر میں نئے لوگ آتے رہتے ہیں، یہ اپنے ساتھ ایک جوش یا خوشی بھی لے کر آتے ہیں۔ جب خوشخبری کی منادی کی جاتی ہے، اُن لوگوں میں سے کوئی ایک نجات بھی پا سکتا ہے! گرجا گھر میں موجود مسیحیوں کو موقع ملتا ہے کہ کسی ایسے کو دیکھ پائیں جس کو وہ لے کر آئے تھے اور جس کی مسیح کی قوت کے وسیلے سے کایا پلٹ جاتی اور ایک ایسا نیا مخلوق بن جاتا ہے جو گرجا گھر میں ہونے سے پیار کرتا ہے! مسیحیوں کو اُس انسان کو دیکھنے کا موقع ملتا ہے جس کے لیے اُنہوں نے دعا مانگی تھی اور جس کی اُنہوں ںے پرواہ کی تھی، اور جو دُنیا سے مُنہ موڑ کر خُدا کی بادشاہی میں مسیح میں ایمان کے ذریعے سے آ جاتا ہے! یہ بات گرجا گھر میں جوش دلائے رکھتی ہے! جب نئے لوگ آ رہے ہوتے ہیں تو گرجا گھر مسیح کے جواز کے لیے زندہ اور متحرک ہوتا ہے!

’’راستوں اور کھیتوں کی باڑوں کی طرف نکل جا اور لوگوں کو مجبور کر کہ وہ آئیں تاکہ میرا گھر بھر جائے‘‘ (لوقا 14:‏23).

II۔ دوسری وجہ، انجیلی بشارت کا پرچار مسیحیوں کے بڑھنے کا سبب بنتا ہے۔

آپ میں سے کچھ حال ہی میں مسیح میں ایمان لا کر تبدیل ہوئے ہیں۔ مسیح کے خون کے وسیلے سے حال ہی میں نجات پا لینے پر کونسا کام کرنا بہترین ہے؟ کیا آپ کو گھر میں بیٹھنا چاہیے اور اپنی زندگی کی تفصیلات پر دھیان لگانا چاہیے؟ کیا آپ کو تبصرے اور مسیحی لٹریچر کا مطالعہ کرنا چاہیے؟ کیا آپ کو کیسے ایک بہترین مسیحی بننا چاہیے کے لیکچرز دیکھنے چاہئیں؟ ایک نئے مسیحی ہونے کی حیثیت سے بہترین کام جو آپ کر سکتے ہیں وہ باہر جائیں اور انجیلی بشارت کا پرچار کریں!

بائبل ایک شخص کے بارے میں بتاتی ہے جو چل نہیں سکتا تھا اور شفا پانا چاہتا تھا۔ وہ اڑتیس سالوں سے چلنے کے قابل نہیں تھا! یسوع اُس کو مِلا اور اُس پر ترس کھایا۔ یسوع نے اُس سے کہا،

’’اُٹھ، اور اپنی چٹائی اُٹھا، اور چل پھر۔ وہ آدمی اُسی وقت تندرست ہو گیا اور اپنی چٹائی اُٹھا کر چلنے پھرنے لگا‘‘ (یوحنا5:‏8۔9)۔

یسوع نے اُس شخص کو اُٹھنے کے لیے اور چلنے پھرنے کے لیے کہا، اور اُس شخص نے ویسا فوراً ہی کیا! وہ اپنے پیروں کے انگوٹھوں کو ہلاتا ہوا یا اِس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ وہ اصل میں چل پھر سکے گا اپنی ٹانگوں کا معائنہ کرنے کے لیے وہیں پر بیٹھا ہی نہیں رہا تھا۔ اُس نے یسوع کا یقین کیا تھا۔ وہ فوراً اُٹھ کھڑا ہوا تھا، اور اپنی چٹائی اُٹھائی اور چلنے پھرنے لگا!

اگر آپ حال ہی میں مسیح میں ایمان لا کر تبدیل ہوئے ہیں، تو اُٹھیں، اور چلیں پھریں! وہیں پر بیٹھے ہی نہ رہیں، ایک بالغ مسیحی بننے کے انتظار میں! اُٹھیں، اور چلیں پھریں! اُٹھ کھڑے ہوں اور انجیلی بشارت کے پرچار کے لیے باہر جائیں! باہر جائیں اور ہر موقع پر ناموں کی فہرست لے کر آئیں! اپنے روحانی پٹھوں کو کھینچیں اور کسی دوسرے کی زندگی میں کوئی تبدیلی لائیں! ہمارے پادری صاحب، ڈاکٹر ہائیمرز، نے یہ بات کہی تھی کہ کوئی بھی بات ایک مسیحی کو اتنی جلدی بالغ نہیں بنا سکتی جتنی جلدی بشروں کو جیتنا اور انجیلی بشارت کا پرچار کرنا! وہ کُلی طور پر بالکل دُرست ہیں! اپنے ذہن کو دوسرے لوگوں پر لگائیں! انجیلی بشارت کے پرچار کے لیے باہر جائیں! خود کو دوسرے لوگوں کے لیے صرف کریں! مسیح کے حکم کی فرمانبرداری کریں! کوئی بھی بات آپ کے مسیحیت میں بڑھنے میں اِس سے زیادہ مدد نہیں دے گی! ایک مسیحی کے بڑھنے کے لیے انجیلی بشارت کا پرچار اشد ضروری ہوتا ہے!

دوسرے لوگ وقت کے ایک طویل دورانیے سے مسیحی رہ چکے ہیں۔ یہ زیادہ تجربہ کار مسیحی بے شمار لوگوں کو گرجا گھر کے دروازے سے اندر اور باہر آتا جاتا ہوا دیکھ چکے ہیں۔ انجیلی بشارت کے پرچار کا جوش کمزور ہونا شروع ہو چکا ہے جیسے کہ کمزوری مسیحی زندگی کی قدرتی عمر بڑھنے کے طریقہ کار کا حصہ تھی۔ تاہم، وہ احتیاط کے ساتھ سوچنے کے بعد اقرار بھی کریں گے، کہ وہ خوش تھے جب وہ مسیح میں ایمان لا کر پہلے تبدیل ہوئے تھے۔ وہ خوش تھے جب انجیلی بشارت کا زیادہ سے زیادہ پرچار کرنے کے ذریعے سے اُن کی زندگیوں کا مرکز مسیح کی خوشنودی ہوتا تھا۔ تاہم، زندگی کی ذمہ داریوں نے اُس وقت کو پرے دھکیل دیا جو کبھی اُنہوں نے انجیلی بشارت کے پرچار کے لیے نکلا تھا۔ گمراہ لوگوں کو انجیل کی بشارت سُنانے کے لیے پُرجوش نہ ہونے کی وجہ سے وہ اُس محبت کو کھو دیتے ہیں جو کبھی مسیحی ہونے کی حیثیت سے اُن میں تھی۔ اُن کی کمزور سی کوشش بنجر ہوتی ہوئی ثابت ہوئیں۔ گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ، وہ انجیل کی بشارت کے پرچار میں یقین اور اعتقاد کو بھی کھوتے چلے گئے۔ مگر یسوع تمام باتوں کو نیا کر سکتا ہے۔

اگر آپ کی انجیلی بشارت کے پرچار کی کوششیں صرف ایک شخص کو ہی اندر لا پاتی ہیں جو تمام سال گرجا گھر میں ٹکتا ہے تو آپ کی زندگی ایک نئی خوشی اور نئی زندگی کے جذبات سے لبریز ہو جائے گی۔ اگر آپ انجیلی بشارت کے پرچار کے لیے باہر جاتے ہیں، اُس ایک شخص کو ڈھونڈنے کے لیے، وہ شخص جو وہ ہوگا جس کو گرجا گھر لانے کے لیے خُدا نے آپ کو استعمال کیا، تو آپ ایک مرتبہ پھر مسیح کا حکم ماننے کے لیے دوبارہ سے پُرجوش ہو جائیں گے! یہ ممکن ہے! کیونکہ خُدا کے ساتھ، ساری باتیں ممکن ہیں! انجیلی بشارت کے پرچار پر جانے سے پہلے دعا مانگا کریں! اپنے نکلنے سے پہلے خُدا سے اپنے ایمان کو بڑھانے کے لیے دعا مانگا کریں! اُس ایک شخص تک پہنچنے کے لیے خُدا سے دعا مانگا کریں جو ہمارے گرجا گھر میں اگلا بھائی یا بہن ہوگا! اگر آپ یہ کریں گے، تو آپ کبھی بھی پشیمان نہیں ہونگے! وہ آپ کی زندگی کے سب سے زیادہ قیمتی اور اہم تجربات میں سے ایک ہوگا۔ کیونکہ وہ اُن وجوہات میں سے ایک ہوگی کہ یسوع نے آپ کو کیوں بچایا! وہ وجوہات میں سے ایک ہوگی کہ آپ نے جنم کیوں لیا۔

’’راستوں اور کھیتوں کی باڑوں کی طرف نکل جا اور لوگوں کو مجبور کر کہ وہ آئیں تاکہ میرا گھر بھر جائے‘‘ (لوقا 14:‏23).

III۔ تیسری وجہ، انجیلی بشارت کا پرچار نوجوان لوگوں کو گناہ اور جہنم سے بچاتا ہے۔

کالجوں کے کیمپسوں میں بے شمار طُلبہ ہوتے ہیں جن کے پاس کبھی بھی زندگی کے سچے معنی یا مقصد نہیں ہوتا۔ وہ تعلیم کے ذریعے سے اِس دُنیا میں جگہ ڈھونڈنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہوتے ہیں۔ وہ اپنے والدین کو خوش کرنے کے لیے، نوکری پانے کے لیے، ایک خاندان کو سہارا دینے کی خاطر کافی پیسہ کمانے کے لیے ایک ڈگری حاصل کر رہے ہوتے ہیں – وہ اِس کو بنانے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں۔ تاہم، تعجب کی کوئی بات نہیں وہ تعلیمی طور پر کامیاب ہونے کے لیے چاہے کتنی ہی کوششیں کریں، وہ کبھی بھی اپنی زندگی میں امن اور معنی نہیں پائیں گے۔ وہ کبھی بھی اپنے گناہ سے معافی نہیں پائیں گے! وہ کبھی بھی جہنم کی دائمی آگ سے بچ نہیں پائیں گے! اُنہیں یسوع مسیح کی ضرورت ہے۔ اُنہیں اِس گمراہ دُنیا میں انجیل کی بشارت کا پرچار کرنے کے لیے چیلنج پیش کرنا چاہیے!

’’راستوں اور کھیتوں کی باڑوں کی طرف نکل جا اور لوگوں کو مجبور کر کہ وہ آئیں تاکہ میرا گھر بھر جائے‘‘ (لوقا 14:‏23).

یہ آپ پر منحصر ہے۔ اور کون کون گمراہ لوگوں تک پہنچ رہا ہے؟ کون باہر سڑکوں پر ہے، کیمپسوں میں ہے، یا بازاروں میں گمراہ لوگوں تک پہنچنے کے لیے کوششیں کر رہا ہے؟ ہمارے پادری صاحب ایک وقت کو یاد کر سکتے ہیں جب آپ خوشخبری کا ایک کتابچہ لیے بغیر لاس اینجلز کے مرکزی شہر میں پیدل نہیں چل سکتے تھے۔ کوئی وقت تھا جب ہر نوجوان ہستی بائبل کی عظیم کہانیوں کو جانتی تھی۔ لیکن وہ دُنیا جا چکی ہے۔ ایونجیلیکل گرجا گھروں نے اِس کو مرنے دیا ہے۔ اُنہوں نے نوجوان لوگوں کو انجیل کی بشارت کا پرچار نہیں کیا۔ اُنہوں نے گمراہ لوگوں کی پرواہ نہیں کی۔ وہ شاہراہوں اور کھیتوں کی باڑوں میں باہر نہیں نکلے اور اُنہیں اندر آنے کے لیے مجبور نہیں کیا۔ وہ وہیں بیٹھے رہے جہاں پر وہ آرام سے تھے۔ اُنہوں نے اپنی شام کی عبادتوں کو بند کر دیا۔ وہ اپنے گرجا گھروں کو نسلی اور مذہبی بنیادوں پر الگ کر چکے ہیں۔ وہ صرف اپنے ہی بچوں کے بارے میں سوچتے ہیں، یہاں تک کہ جب وہ دُنیا میں اُن میں سے 88 % کو کھو چکے ہیں۔ گرجا گھر دُںیا کو انجیل کی بشارت کا پرچار کرنا بھول چکے ہیں، اور اب دُںیا گرجا گھر سے اپنا مُنہ موڑ چکی ہے۔

آج ایک اوسط نوجوان شخص گرجا گھر کے لیے ایک اجنبی ہے۔ ایک اوسط نوجوان شخص خوشخبری کو نہیں جانتا۔ ایک اوسط نوجوان یہ نہیں سوچتا کہ باہر کہیں کوئی اُن کے لیے پرواہ کرتا ہے۔ وہ سوچتے ہیں کہ وہ زیادہ تر اِس دُنیا میں تنہا ہی ہیں۔ لیکن یہ سچ نہیں ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ خُدا اُن میں سے ہر ایک سے اِس قدر زیادہ محبت کرتا ہے کہ اُس نے اُن کے گناہوں کے لیے اپنے بیٹے کو صلیب پر مرنے کے لیے بھیج دیا! کون باہر جائے گا اور اُنہیں اندر لے کر آئے گا؟

’’راستوں اور کھیتوں کی باڑوں کی طرف نکل جا اور لوگوں کو مجبور کر کہ وہ آئیں تاکہ میرا گھر بھر جائے‘‘ (لوقا 14:‏23).

یہ آپ پر منحصر ہے۔ یہ دکھائی نہیں دیتا کہ گرجا گھر بدلنے جا رہے ہیں۔ گرجا گھر انجیلی بشارت کے پرچار کی تعلیم سے اپنے مُنہ موڑنے کی وجہ سے خودکشی کر رہے ہیں۔ لیکن اِس گرجا گھر کے پاس جینے کے لیے ایک اُمنگ ہے! اِسی لیے یہ گمراہ لوگوں کو انجیلی بشارت کا پرچار کرنا ہم پر منحصر کرتا ہے! یہ ناصرف ہماری ذمہ داری ہے کہ گمراہ لوگوں کو انجیلی بشارت کا پرچار کریں، بلکہ یہ ہمارے لیے سب سے موزوں وقت اور موقع بھی ہے۔

گزرتے ہوئے بے شمار سالوں میں، یہ گرجا گھر سیکھ چکا ہے کیسے نوجوان لوگوں تک باہر پہنچا جائے۔ ہم اُنہیں کالجوں میں ملتے ہیں۔ ہم اُنہیں سینما گھروں میں ملتے ہیں۔ ہم اُنہیں چائے کافی کی دکانوں کے باہر ملتے ہیں۔ ہم اُنہیں اندر آنے کے لیے مجبور کرتے ہیں! ہم اُنہیں ہمارے گرجا گھر میں آنے کے لیے مجبور کرتے ہیں! ہم بدھ کے روز باہر جانے والے ہیں، اور جمعرات کو، اور ہفتے کو، اور اِتوار کی دوپہر کو۔ ہم اپنے ذاتی وقت میں باہر جانے کے لیے جا رہے ہیں، جب دوسرے امریکی مسیحیت کی موت کے بارے میں فکر کر رہے ہیں اور آرام فرما رہے ہیں، یہ گرجا گھر باہر ہے مسیح کے لیے کوئی مختلف کرنے کی کوششیں کرتا ہوا! ہم انجیلی بشارت کے پرچار کی تعلیم کے لیے جنگ میں لڑنے کی خاطر باہر ہیں!

ہم چاروں طرف سے گِھرے ہوئے ہیں۔ مادہ پرستی ہمارے لوگوں کی اقدار کا گلا گھونٹتی ہے۔ تفریح ہمیں کافی زیادہ مدہوشی میں کیے رکھتی ہے کہ ہم کہیں اپنے سُست تنزلی کو نہ سمجھ جائیں۔ اُمید کہاں پائی جا سکتی ہے؟ جیسے جیسے یہ زمانہ اِرتداد کے اندھیرے میں گم ہوتا جا رہا ہے، ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ امریکہ میں مسیحیت مر رہی ہے۔ ابلیس ہمارے گرجا گھروں کو موت کی نیند میں لُبھا چکا ہے۔ لیکن، اُس اچھی رات میں، اتنے مطمئن مت رہیں۔ طیش میں آئیں، نور کے مرنے کے خلاف طیش میں آئیں‘‘ (ڈیلِن تھامس Dylan Thomas)۔ چرچل ہر طرف سے گِھر چکا تھا۔ ھٹلر کی طاقتور قوتوں کے خلاف اُس کی جنگ طویل اور مایوس کُن دکھائی دیتی تھی۔ اور اِس کے باوجود، چرچل لڑتا رہا، اور اُس کی کوششوں نے جنگ جیت لی۔ اور اِس ہی طرح سے، ہمیں بھی انجیلی بشارت کے پرچار کی تعلیم کےلیے جنگ لڑنی چاہیے، اور ہم یہ جنگ جیت جائیں گے، ایک وقت میں ایک شخص۔

’’راستوں اور کھیتوں کی باڑوں کی طرف نکل جا اور لوگوں کو مجبور کر کہ وہ آئیں تاکہ میرا گھر بھر جائے‘‘ (لوقا 14:‏23).

ہم یہ جنگ جیت جائیں گے کیوںکہ مسیح پہلے ہی ہمیں فتح دِلا چکا ہے! یسوع مسیح نے فتح پائی تھی جب وہ ہمارے گناہ کی خاطر صلیب پر قربان ہوا تھا اور تیسرے دِن دوبارہ جی اُٹھا تھا! اُس نے ہماری خاطر گناہ اور موت پر فتح پائی تھی۔ اُس نے ہمارے گناہوں کا کفارہ ادا کرنے کے لیے اپنے خون کو بہایا تھا۔ جب آپ مسیح پر بھروسہ کرتے ہیں، اُس کا خون آپ کو تمام گناہوں سے پاک صاف کر دیتا ہے! جب آپ یسوع پر بھروسہ کرتے ہیں، تو وہ آپ کو بچائے گا! یہ ہے وہ خوشخبری! دوسروں کو اِس کو جاننے کی ضرورت ہے! ہمیں اُس اُمید کو بانٹنے کی ضرورت ہے جو یسوع لاتا ہے! دُنیا میں انجیل کی بشارت کو پھیلائیں! باہر جائیں اور اُنہیں گرجا گھر میں اندر لے کر آئیں! اُنہیں مسیح کی خوشخبری کو سُن لینے دیں! یہ ہماری اُمید ہے! یہ ہی واحد اُمید ہے جو دُنیا میں بچی رہ گئی ہے! یہ ہی وہ واحد اُمید ہے جو یہاں کبھی تھی!

’’راستوں اور کھیتوں کی باڑوں کی طرف نکل جا اور لوگوں کو مجبور کر کہ وہ آئیں تاکہ میرا گھر بھر جائے‘‘ (لوقا 14:‏23).

’’بڑھتے چلو، مسیحی سپاہیو Onward, Christian Soldiers۔‘‘ کھڑے ہو جائیں اور اِسے گائیں۔

بڑھتے چلو، مسیحی سپاہیو، جنگ کے لیے قدم بڑھاتے چلو،
   یسوع کی صلیب کی قیادت میں بڑھتے چلو:
مسیح جو شاہی حاکم ہے دشمن کے خلاف رہنمائی کرتا ہے؛
   جنگ میں اُس کے جھنڈے کو آگے بڑھتا ہوا دیکھو۔
بڑھتے چلو، مسیحی سپاہیو، جنگ کے لیے قدم بڑھاتے چلو،
   یسوع کی صلیب کی قیادت میں بڑھتے چلو۔
(’’بڑھتے چلو، مسیحی سپاہیو Onward, Christian Soldiers‘‘ شاعرہ سابین بارنگ گوولڈ Sabine Baring-Gould، 1834۔1924)۔


اگر اس واعظ نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز آپ سے سُننا پسند کریں گے۔ جب ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں تو اُنہیں بتائیں جس ملک سے آپ لکھ رہے ہیں ورنہ وہ آپ کی ای۔میل کا جواب نہیں دیں گے۔ اگر اِن واعظوں نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز کو ایک ای میل بھیجیں اور اُنہیں بتائیں، لیکن ہمیشہ اُس مُلک کا نام شامل کریں جہاں سے آپ لکھ رہے ہیں۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای میل ہے rlhymersjr@sbcglobal.net (‏click here) ۔ آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو کسی بھی زبان میں لکھ سکتے ہیں، لیکن اگر آپ انگریزی میں لکھ سکتے ہیں تو انگریزی میں لکھیں۔ اگر آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو بذریعہ خط لکھنا چاہتے ہیں تو اُن کا ایڈرس ہے P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015.۔ آپ اُنہیں اِس نمبر (818)352-0452 پر ٹیلی فون بھی کر سکتے ہیں۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہائیمرز کے واعظ www.sermonsfortheworld.com
یا پر پڑھ سکتے ہیں ۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

یہ مسوّدۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے ہمارے گرجہ گھر سے ویڈیو پر دوسرے تمام واعظ اور ویڈیو پیغامات حق
اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

Scripture Read Before the Sermon by Dr. Kreighton L. Chan: Matthew 28:‏18-20.
واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بینجیمن کنکیڈ گریفتھ Benjamin Kincaid Griffith نے گایا تھا:
’’بڑھتے چلو، مسیحی فوجیوں Onward, Christian Soldiers‘‘
(شاعرہ سابین بارنگ گوولڈ Sabine Baring-Gould، 1834۔1924)۔

لُبِ لُباب

گمراہ لوگوں کے لیے جنگ

(جنگ کے بحرانوں کے سلسلے میں نمبر ایک)
THE BATTLE FOR LOST SOULS
(NUMBER TWO IN A SERIES OF BATTLE CRIES)

مسٹر سیموئیل کیگن کی جانب سے
by Mr. John Samuel Cagan

’’راستوں اور کھیتوں کی باڑوں کی طرف نکل جا اور لوگوں کو مجبور کر کہ وہ آئیں تاکہ میرا گھر بھر جائے‘‘ (لوقا 14:‏23).

I۔   پہلی وجہ، ہمارے گرجا گھر کو زندہ رہنے کے لیے گمراہ لوگوں کو انجیلی بشارت
کا پرچار کرنا چاہیے، متی28:‏19۔20 .

II۔  دوسری وجہ، انجیلی بشارت کا پرچار مسیحیوں کے بڑھنے کا سبب بنتا ہے،
یوحنا5:‏8۔9 .

III۔ تیسری وجہ، انجیلی بشارت کا پرچار نوجوان لوگوں کو گناہ اور جہنم سے بچاتا
ہے، لوقا14:‏23 .