Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 215 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.co پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہمارے ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 36 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔

جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔


ہمارے لڑنے کے ہتھیار

THE WEAPONS OF OUR WARFARE
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
ہفتہ کے دن کی شام، 7جنوری، 2017
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Saturday Evening, January 7, 2017

’’جن ہتھیاروں سے ہم لڑتے ہیں وہ دُنیا کے ہتھیار نہیں بلکہ خدا کے ایسے قوی ہتھیار ہیں جن سے ہم بُرائی کے مضبوط قلعوں کو مسمار کر دیتے ہیں‘‘ (2۔ کرنتھیوں 10:4).

میرے دوستو، ہم حالتِ جنگ میں ہیں۔ یہ اُس قسم کی جنگ نہیں ہے جس کے بارے میں دُنیا باتیں کرتی ہے۔ یہ قوموں کے درمیان جنگ نہیں ہے۔ یہ ایک مختلف قسم کی جنگ ہے۔ یہ اِن میں سے کسی بھی جنگ کے مقابلے میں بہت زیادہ بڑی لڑائی ہے۔ ہم اِس لڑائی کو بندوقوں یا ہاتھ سے پھینکے جانے والے گرنیڈوں یا بموں کے ساتھ نہیں جیت سکتے۔ ہمارے آباؤاِجداد نے ھٹلر کے خلاف اِنہی ہتھیاروں سے لڑائی لڑی تھی۔ اُنہوں نے دوسری جنگِ عظیم جیتی، جیسا کہ چرچل اِس کو لکھتے ہیں، ’’خون، مشقت، پسینے اور آنسوؤں‘‘ کے ساتھ۔ اُنہوں نے اِس کو زبردست مشکلات کے خلاف جیتا۔ دونوں انگلستان اور امریکہ کی مشترکہ فوجوں کے مقابلے میں ھٹلر کی فوج قوت میں زیادہ تھی۔ اگر ھٹلر جیت جاتا تو وہ ہماری طرز زندگی کو مکمل طور پر تباہ کر چکا ہوتا۔ وہ مغربی دُنیا کی دراز تاریخ کا خاتمہ کر چکا ہوتا۔ ہم ہیبت ناک تباہی اور بربادی کی زنابالجبر والی حالت میں زندگی بسر کر رہے ہوتے – جیسے کوڑے کے ڈھیر کو اُٹھا باہر مارا ہو۔ چرچل، روزویلٹ اور ہمارے عسکری لوگوں کی مشترکہ فوجوں کے لیے خدا کا شکر ادا کریں جنہوں نے اُن کی پیروی کی، اُس آمِرانہ بالادستی کو تباہ کرنے کے لیے، جو اُس بدکِردار آڈولف ھٹلر اور اُس کی نازی جنگی مشین کی دیوانگی اور جنون کے ذریعے سے تخلیق ہوئی تھی۔

میرے پاس اُس جنگ کی مبہم سی بس ایک یاد ہے۔ یہ میرے بچگانہ ذہن میں خوف اور سائرنوں اور بلیک آؤٹز کی وجہ سے کُھدی ہوئی ہے۔ اِس کے باوجود ہماری تلاوت ایک دوسری قسم کی لڑائی کے بارے میں ہمیں بتاتی ہے۔ یہ کسی گوشت پوست کے دشمن کے خلاف نہیں ہے۔ یہ کہیں زیادہ پُرکشش لیکن نقصان دہ اور اِنتشار انگیز لڑائی سے بڑھ کر ہے، ایک جنگ جو انسانوں کے خلاف نہیں ہے، بلکہ زیادہ تر لوگوں کے تصور کے مقابلے میں سوچ سے بھی کہیں بڑی قوتوں کے خلاف ہے۔ یہ شیطان اور اُس کی آسیبی قوتوں کے ہجوموں کے خلاف لڑائی ہے۔

پولوس رسول اِس بات کو نہایت سادہ بیان کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے، ’’اگرچہ ہم دُنیا ہی میں رہتے ہیں، لیکن ہم دُنیا والوں کی طرح نہیں لڑتے‘‘ – ہم اِس جنگ کو دُنیا کے مطابق نہیں لڑتے‘‘ (2 کرنتھیوں10:3)۔ ہم صرف لوگ ہیں۔ ہم اِس دُشمن کو انسانی ذرائع کے ذریعے سے شکست نہیں دے سکتے۔ کوئی بھی سیاستدان، کوئی بھی جنرل یا کمانڈر اِن چیف – کوئی ڈونلڈ ٹرمپ، گوشت پوست کا کوئی بھی انسان تمام جنگوں میں سے اِس سب سے زیادہ بُری جنگ کو نہیں جیت سکتا۔

’’جن ہتھیاروں سے ہم لڑتے ہیں وہ دُنیا کے ہتھیار نہیں بلکہ خدا کے ایسے قوی ہتھیار ہیں جن سے ہم بُرائی کے مضبوط قلعوں کو مسمار کر دیتے ہیں‘‘ (2۔ کرنتھیوں 10:4).

I۔ پہلی بات، ہمیں پہچاننا چاہیے کہ ہم حالتِ جنگ میں ہیں۔

ایک اوسط انسان کو تو احساس تک نہیں ہوتا کہ یہ لڑائی جاری ہے۔ وہ اپنے چھوٹے سے سیل فون پر بچے کی مانند کھیلتا رہتا ہے۔ وہ اپنی چرس پیتا ہے اور کبھی بھی اُس بُرائی کے بارے میں جو وہ پیدا کرتا ہے نہیں سوچتا۔ وہ زانی عورتوں کے اور بدچلن مردوں کے ساتھ جنسی کھیل رچانے کے لیے جاتا ہے۔ اُس کے لیے جیسا کہ ڈاکٹر ٹوزر Dr. Tozer نے اِس بات کو بخوبی کہا، ’’یہ دُنیا ایک میدان جنگ کے بجائے ایک کھیل کا میدان ہے۔‘‘

ہمارے گرجا گھر بھی مختلف قسموں کے کھیل کھیلتے ہیں۔ ہمارے اندھے مبلغین اِتوار کی شام کی عبادتوں کو بند کر دیتے ہیں۔ وہ کبھی بھی نوجوان نسل کے بارے میں نہیں سوچتے جس کے پاس اِتوار کی شاموں کو گناہ کی تاریکی میں جانے کے سوا اور کوئی جگہ نہیں ہے۔ اِن مُردہ ذہنوں والے مبلغین کے لیے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ وہ جتنا پیسہ اِتوار کی صبح میں جمع کر سکتے ہیں کر لیتے ہیں – تاکہ اُن کے پاس اِتوار کی شام کو ٹیلی ویژن دیکھنے کے لیے کافی وقت میسر ہو سکے یا خود کو اپنے کمروں میں بے شرمی کے ساتھ فحش فلموں کو دیکھنے کے لیے تالا لگا لیتے ہیں، جن کے وہ عادی ہو چکے ہیں۔ یہاں تک کہ کسی زمانے کے عظیم موڈی بائبل انسٹیٹیوٹ نے بھی اب اپنے ملازمین اور سٹاف کو تمباکو اور الکوحل کے استعمال کی اجازت دے دی ہے۔ بائیولا یونیورسٹی نے بھی گذشتہ سال (ڈان بوائز، پی ایچ۔ ڈی۔Don Boys, Ph.D.، 26 دسمبر، 2016) ایسا ہی فیصلہ صادر کیا۔ میری بیوی اور میں شسدر رہ گئے تھے جب اُس گرجا گھر میں جس کا کئی سال پہلے بانی تھا پادری صاحب کے بیٹے کی شادی ضیافت میں بئیر اور وائن [شراب] پیش کی گئی اور لوگ ناچے تھے۔ کنیکٹیکٹ Connecticut کے آکسفورڈ میں ایک گرجا گھر میں رِک وارن Rick Warren کی کتاب کا مطالعہ کرنے کے لیے ’’شراب، بائبل اور بھائی چارہ اِکٹھے ہوتے ہیں۔ ایسے واقعات تمام امریکہ میں گرجا گھروں میں رونما ہو رہے ہیں (بوائزBoys، ibid.)۔

اِتوار کی صبح کی عبادتوں میں تقریباً گھنٹہ گھنٹہ بھر ہمارے بے شمار گرجا گھروں میں بے ھنگم موسیقی بجائی جاتی ہے – جس کے بعد پندرہ منٹ کی مٹی کی مانند خشک آیت بہ آیت ’’تعلیمات‘‘ دی جاتی ہیں جس میں کہیں بھی خوشخبری یا مسیح کا تزکرہ نہیں ہوتا، انجیلی بشارت کے پرچار کے ذریعے سے گمراہ اور گمشدہ لوگوں کو گرجا بھر میں لایا ہی نہیں جاتا، کوئی تزکرہ نہیں کیا جاتا کہ کیسے ایک گمراہ گنہگار نجات پا سکتا ہے! جی ہاں، ایک عظیم لڑائی جاری ہے جبکہ یہ گرجا گھر کے لوگ اِس سے مکمل طور پر آنکھیں موندے [اندھے بنے] ہوئے ہیں، جب وہ اپنے چھوٹے کھیل کھیلتے ہیں اور سوچتے ہیں وہ حقیقی مسیحی ہیں۔ وہ کبھی بھی دعائیہ اِجلاس میں نہیں جاتے۔ وہ کبھی بھی گمراہ لوگوں خوشخبری کی منادی سُننے کے لیے لے کر نہیں آتے۔ ’’اُن کے بیچ میں سے نکل آئیں۔‘‘ اِس قسم کے گرجا گھر میں کبھی بھی شمولیت اختیار مت کریں۔ اگر آپ پہلے ہی سے کسی میں شامل ہو چکے ہیں، تو اِس سے بھاگ نکلیں، جیسے لوط صدوم سے اُس سزا والے دِن بھاگ نکلا تھا۔

میں پرانا اور بوڑھا ہو چکا ہوں۔ کسی دِن میں یہاں نہیں ہونگا۔ لیکن میں آپ میں سے ہر ایک کو جو ہمارے گرجا گھر میں آتا ہے ذمہ داری سونپتا ہوں کہ ایسے پاگل پن میں کبھی بھی شامل مت ہوں۔ ایسی دُنیاوی بیوقوفی میں کبھی بھی شامل مت ہوں۔ کبھی بھی شامل مت ہوں! کبھی بھی! کبھی بھی ! کبھی بھی! کبھی بھی ماضی میں گزرے حیاتِ انواع کے پرانے حمدوثنا کے گیتوں کو مت چھوڑیں۔ کبھی بھی اُس شاندار پرانے گیت کو جو مسٹر گریفتھ نے چند ایک لمحے بیشتر گایا مت چھوڑیں! یہ آپ کے گیتوں کے ورق پر 10 نمبر ہے۔ یہ ’’بڑھتے چلو، مسیحی سپاہیو Onward, Christian Soldiers‘‘ ہے۔ کھڑے ہوں اور اِسے گائیں – باآوازِ بُلند اور واضح!

بڑھتے چلو، مسیحی سپاہیو، جنگ کے لیے قدم بڑھاتے چلو،
   یسوع کی صلیب کی قیادت میں بڑھتے چلو:
مسیح جو شاہی حاکم ہے دشمن کے خلاف رہنمائی کرتا ہے؛
   جنگ میں اُس کے جھنڈے کو آگے بڑھتا ہوا دیکھو۔
بڑھتے چلو، مسیحی سپاہیو، جنگ کے لیے قدم بڑھاتے چلو،
   یسوع کی صلیب کی قیادت میں بڑھتے چلو۔

جیسے ایک طاقتور فوج خُدا کے گرجہ گھر کو چلاتی ہے؛
   بھائیو، ہم قدم بڑھا رہے ہیں جہاں مقدسین نے قدم بڑھائے تھے؛
ہم منقسم نہیں ہیں، ہم سب ایک بدن ہیں،
   عقیدے اور اُمید میں ایک، صدقے میں ایک۔
بڑھتے چلو، مسیحی سپاہیو، جنگ کے لیے قدم بڑھاتے چلو،
   یسوع کی صلیب کی قیادت میں بڑھتے چلو۔

تاج اور تخت فنا ہو جائیں گے، سلطنتوں کا عروج و زوال ہوتا ہے،
   مگر یسوع غیرمتغیر کی کلیسیا ہمیشہ قائم رہے گی؛
جہنم کے پھاٹک وہ کبھی بھی نہیں پا سکتے جو کلیسیا قائم کرتی ہے؛
   ہمارے پاس خود مسیح کا اپنا وعدہ ہے، اور وہ کبھی نہیں ٹوٹے گا۔
بڑھتے چلو، مسیحی سپاہیو، جنگ کے لیے قدم بڑھاتے چلو،
   یسوع کی صلیب کی قیادت میں بڑھتے چلو۔
(’’بڑھتے چلو، مسیحی سپاہیو Onward, Christian Soldiers‘‘ شاعرہ سابین بارنگ گوولڈ Sabine Baring-Gould، 1834۔1924)۔

آپ تشریف رکھ سکتے ہیں۔

’’جن ہتھیاروں سے ہم لڑتے ہیں وہ دُنیا کے ہتھیار نہیں بلکہ خدا کے ایسے قوی ہتھیار ہیں جن سے ہم بُرائی کے مضبوط قلعوں کو مسمار کر دیتے ہیں‘‘ (2۔ کرنتھیوں 10:4).

ہماری لڑائی کے ہتھیار دُنیاوی نہیں ہیں، انسانوں والے ہتھیار نہیں ہیں۔ وہ فوق الفطرت ہتھیار ہیں۔ اُنہیں فوق الفطرت ہتھیار ہونا چاہیے کیونکہ ہم فوق الفطرت قوتوں کے ساتھ لڑ رہے ہیں۔ ہم شیطان اور اُس کے آسیبوں کے ساتھ لڑ رہے ہیں۔ ہم ’’ابلیس کے منصوبوں کے خلاف‘‘ لڑ رہے ہیں (افسیوں6:11)۔ ہم جو مسیحی ہیں ابلیس کی چالوں کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ ہم تدبیروں، اور جھوٹے تصورات اور بٹّی ہوئی سوچ کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ وہ خیالات جو ابلیس اُن لوگوں کے ذہنوں میں ڈالتا ہے جو مسیح میں ایمان لا کر تبدیل نہیں ہوئے۔ بائبل کہتی ہے، ’’ہمیں خون اور گوشت یعنی انسان سے نہیں بلکہ تاریکی کی دُنیا کے حاکموں اور شرارت کی روحانی فوجوں سے لڑنا ہے…‘‘ (افسیوں6:12 NIV)۔ ہمیں ابلیس کے خلاف لڑنا چاہیے اور آسیبوں کے خلاف لڑنا چاہیے۔ ہمیں ہر گمراہ جان کے لیے جس کو ہم گرجا گھر لے کر آتے ہیں آسیبوں کے خلاف لڑنا چاہیے۔ وہ اُنہیں لڑائی کیے بغیر نہیں چھوڑتا۔

اگر آپ نے ابھی تک نجات نہیں پائی ہے تو آپ کے ذہن میں بالکل ابھی آسیب کام کر رہے ہیں! ابلیس بالکل ابھی کام پر لگا ہوا ہے، اِس اِجلاس میں۔ ابلیس آپ کے ذہن میں اپنی چالیں اور منصوبے بالکل ابھی جب میں بول رہا ہوں ڈال رہا ہے۔ ابلیس ’’وہ روح ہے جو ابھی اُن کے ذہنوں میں تاثیر کر رہی ہے جو نافرمان ہیں‘‘ (افسیوں2:2 NIV)۔ بائبل کہتی ہے کہ ابلیس آپ کے دِل اور ذہن میں ’’ابھی کام پر لگا ہوا ہے۔‘‘

سُنیں جو جولی Julie نامی ایک لڑکی نے اپنے نجات پانے سے پہلے کہا تھا۔ ’’ڈاکٹر ہائیمرز نے مجھے بتایا میں گمراہ تھی اور تفتیشی کمرے میں چلی جاؤں۔ اِس موقع پر میں گرجا گھر آنے سے خوفزدہ تھی۔‘‘ وہ اُس کے ذہن اور دِل میں ابلیس بول رہا تھا۔ آپ میں سے کچھ بالکل ابھی ابلیس کے ذریعے سے دھوکا کھا رہے ہوتے ہیں۔ میں کہتا ہوں آپ گمراہ یا گمشدہ ہیں، لیکن آپ یہ سُننا نہیں چاہتے۔ آپ سُننا نہیں چاہتے کہ آپ گمراہ یا گمشدہ ہیں، کیونکہ آپ شیطان کے خیالات کو سُن رہے ہوتے ہیں، ابلیس کے خیالات۔ جولی نے کہا، ’’میں نے سوچا تھا میں نیک تھی، اور یہی سب کچھ تھا جس کی میری زندگی میں ضرورت تھی۔‘‘ وہ اپنی ساری زندگی گرجا گھر میں رہی تھی، کیا وہ کافی نہیں تھا؟ کیوں ڈاکٹر ہائیمرز مجھے بتا رہے ہیں کہ میں گمراہ ہوں؟ میں ایک اچھی انسان تھی۔ ’’میں اُن باتوں کو نا کرنے پر فخر کرتی تھی جو دوسرے بچے کر چکے تھے اور میں… خود میں فخر کرتی تھی جب میں نے سوچا مجھ میں کوئی خامی نہیں ہے۔‘‘ وہ اُس کے دِل میں ابلیس کام کر رہا تھا۔

کیا یہی نہیں ہے جو آپ بھی سوچتے ہیں؟ کیا آپ سوچتے ہیں آپ کافی بہتر ہیں؟ بائبل کہتی ہے کہ ابلیس ’’ابھی نافرمانی کے بچوں میں کام کر رہا ہے۔‘‘ ابلیس اِس وقت آپ پر کام کر رہا ہے! آپ کے دِل اور آپ کے ذہن میں!

جولی نے کہا، ’’میں جتنی ہو سکتی تھی اُتنی اچھی تھی۔ وہ اِس سے اور زیادہ اچھا کیا چاہتے ہیں؟… میں ہر واعظ سے پہلے بے تاب ہوتی تھی۔ میں ہفتے کے ہر دِن بیچین محسوس کرتی تھی۔‘‘ ابلیس اُس میں کام کر رہا تھا، اُسے بتا رہا تھا وہ اچھی تھی۔ اُسے بتا رہا تھا کہ اُس کو نجات پانے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ کہ وہ ایک اچھی انسان تھی۔ کہ اُس کے مقابلے میں گناہ سے دوسرے لوگ زیادہ بھرپور ہیں۔ اُنہیں نجات پانے کی ضرورت تھی۔ لیکن اُس کو نہیں! وہ تو پہلے ہی سے کافی اچھی شخصیت ہے۔ وہ باتیں شیطان کی طرف سے تھیں۔ وہ شیطان کے گرفت میں آئی ہوئی تھی۔ وہ ابلیس کی ایک غلام تھی۔ وہ ابلیس کے ساتھ زنجیر میں بندھی ہوئی تھی، اُس کے ساتھ زنجیر میں بندھی ہوئی تھی کیونکہ اُس نے اُس کے جھوٹ پر یقین کیا تھا کہ وہ کافی اچھی تھی، کہ دوسروں کو مسیح کے خون کے ساتھ پاک صاف ہونے کی ضرورت تھی۔ لیکن اُس کو نہیں۔ آخرکو وہ ہر اِتوار کو گرجا گھر آتی تھی۔ آخر کو، وہ بائبل پڑھتی اور دعا مانگتی تھی۔ ’’اِس سے زیادہ وہ اور کیا چاہتے ہیں؟‘‘ اور جولی کو میرا اُس کو بتانا کہ وہ گمراہ تھی پسند نہیں آیا۔ مسیح کے پاک صاف کرنے والے خون کے بغیر گمراہ۔ مگر خُدا کے پُرکشش فضل کے وسیلے سے وہ بار بار ہمارے گرجا گھر میں واپس کھینچی گئی۔ خُدا کے پُرکشش فضل کے وسیلے سے منادی کی گئی اُس خوشخبری کو سُننے کے لیے جو اُن لوگوں کے لیے تھی جنہیں نجات پانے کے لیے چُنا گیا تھا واپس کھینچی گئی۔

اُس نے کیوں واپس آتے رہنا جاری رکھا تھا؟ ہمارے گرجا گھر میں اپنے ساتھ لائی ہوئی ایک سہیلی اُس وقت بہت پریشان ہوئی تھی جب میں نے اُس [سہیلی] کو بتایا اُسے تفتیشی کمرے میں جانے کی ضرورت تھی کہ وہ کبھی بھی دوبارہ واپس نہیں آئی۔ اُس لڑکی نے ابلیس کی سُنی تھی اور اپنے پرانے والے گرجا گھر میں چلی گئی تھی، ایک گرجا گھر جہاں کسی نے بھی اُسے کبھی نہیں بتایا کہ وہ گمراہ یا گمشدہ تھی۔ اُس دوسری لڑکی نے ابلیس کی سُنی تھی اور اِس گرجا گھر سے بھاگ گئی تھی کیونکہ وہ اپنے گناہ کے خلاف مجھے منادی کرتے ہوئے سُننا نہیں چاہتی تھی۔ مجھے جولی کے والد نے بتایا تھا اُس لڑکی کا گناہ کیا تھا۔ وہ ایک گندہ گناہ تھا اور وہ اُسے چھوڑنا نہیں چاہتی تھی۔ وہ سچائی سے بھاگی تھی اور شاید کبھی بھی نجات نہ پا سکے – کیونکہ اُس نے اپنی غلامی کے آقا ابلیس کی فرمانبرداری کی تھی۔

یہاں اِس کمرے میں اُس جیسے لوگ ہیں۔ آپ ابلیس کے ذریعے زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں۔ آپ اپنے گناہ سے محبت کرتے ہیں۔ آپ اپنی فحش فلموں سے پیار کرتے ہیں۔ آپ اپنی غلاظت سے پیار کرتے ہیں۔ آپ اُس انداز کو پسند کرتے ہیں جو آپ کے باطن میں ہے۔ اِس کا احساس کیے بغیر، آپ خود کو ابلیس کا غلام بنا چکے ہیں!

لیکن بدترین گناہ جو آپ نے کیا ہے وہ آپ نے یسوع کو مسترد کیا ہے۔ وہ آپ کو بچانا چاہتا ہے اور اپنے خون کے ساتھ آپ کو گناہ سے پاک صاف کرنا چاہتا ہے۔ مگر آپ اپنے ذہن میں سے یسوع کے تمام خیالات کو باہر دھکیل دیتے ہیں اور اپنے گناہ میں جاری رہتے ہیں۔

II۔ دوسری بات، ہماری لڑائی کے ہتھیار۔

ہماری تلاوت کہتی ہے، ’’جن ہتھیاروں سے ہم لڑتے ہیں وہ دُنیا کے ہتھیار نہیں بلکہ خدا کے ایسے قوی ہتھیار ہیں جن سے ہم بُرائی کے مضبوط قلعوں کو مسمار کر دیتے ہیں۔‘‘ وہ ہتھیار جو ہم ابلیس کے خلاف استعمال کرتے ہیں بنیادی طور پر دعا اور خُدا کی شریعت ہیں، وہ شریعت جو کہتی ہے کہ آپ ایک گمراہ گنہگار ہیں۔ شریعت کہتی ہے آپ گناہ سے بھرپور ہیں۔ ہماری دعائیں آپ کو آپ کے گناہ کی سزایابی میں لانے کے لیے پاک روح کو نازل کرتی ہیں۔

اِس ہی لیے ہمیں اپنے تمام دِل کے ساتھ گمراہ لوگوں کو اُن کے گناہ کی سزایابی میں آنے کے لیے دعا مانگنی چاہیے۔ آج کی رات یہاں اِس گرجا گھر میں لوگ ہیں جو نجات نہیں پائیں گے جب تک ہم دعا نہ مانگیں۔ جب تک ہم اُن کے لیے شدید جراٗت اور آنسوؤں کے ساتھ دعا نہ مانگیں۔ صرف جب ہم آنسوؤں کے ساتھ دعا مانگتے ہیں ہم گمراہ گنہگاروں کو گناہ کی سزایابی میں آتا ہوا دیکھیں گے۔ آنسوؤں کے بغیر کی گئی دعاؤں کا شاذونادر ہی جواب ملتا ہے۔ ہمیں ایسے ہی دعا مانگنی چاہیے جیسے اشعیا نے مانگی تھی،

’’کاش کہ تُو آسمان کو چاک کر دے اور نیچے اُتر آئے، اور پہاڑ تیرے حضور میں لرزنے لگیں‘‘ (اشعیا 64:1).

ہمیں ایسے دعا مانگنی چاہیے جیسے ہم نے پہلے کبھی بھی نہ مانگی ہو، کہ خُداوند کا روح نازل ہو اور گمراہ لوگوں کو اُن کے گناہ کے لیے سزایابی میں لائے۔ اُن کو فحش فلموں کو دیکھنے کے گناہ کی سزایابی میں لائے۔ اپنے والدین سے نفرت کرنے کے گناہ کی سزایابی میں اُنہیں لائے۔ خود اُن کی اپنی اچھائیوں میں غرور کرنے کے گناہ کی سزایابی میں اُنہیں لائے۔ اُن کو یسوع کو مسترد کرنے کے گناہ کی سزایابی میں لائے۔

اور ہمیں اُن کو شریعت کی منادی کرنی چاہیے۔ دعا اور شریعت کی منادی ابلیس کے خلاف ہماری جنگ کے اہم ہتھیار ہیں۔ اور میں نے جولی کو شریعت کی تبلیغ اِتوار کے اِتوار کی۔ اُس نے کہا، ’’یہ تقریباً ایسا لگتا تھا جیسے ڈاکٹر ہائیمرز نے براہ راست میرے گناہ کے خلاف منادی شروع کر دی تھی۔ اُنہوں نے منادی کی کہ بچے گناہ سے بھرپور کیسے ہو جاتے ہیں جب وہ اپنے والدین کے خلاف چلتے ہیں، اور میں زاروقطار رو پڑی تھی۔ یہ وہ [گناہ] تھا جس کے ساتھ خُدا نے مجھ سے نمٹنا شروع کیا۔ میں [واقعی میں] ایک ہولناک بچی تھی، خصوصی طور پر اپنے والدین کے لیے۔ یہ وہ عمل تھا جو میرے والد کے خلاف میری نفرت کو ڈھانپنے کے لیے تھا۔ پاک روح نے مجھے دیکھایا کہ میں واقعی میں ایک اچھی انسان نہیں تھی۔ میں واقعی میں ایک اچھی انسان نہیں تھی۔ میں واقعی میں اتنی اچھی نہیں تھی جتنی لوگوں کو دکھائی دیتی تھی، اور جتنا میں خود سمجھتی تھی۔ میں ایک ہولناک شخصیت تھی، اور میں خودغرض تھی اور بہت مغرور تھی، اور میں نے خود پر اور میرے اندر گہرائی میں مَیں کون تھی اِس پر اِس قدر شرمندگی محسوس کی۔ مجھے شدت کے ساتھ معافی کی ضرورت تھی، اور اِس کے باوجود میں نے اِس کے لیے خود کو بالکل بھی مستحق نہیں پایا۔ میں نے گناہ سے بھرپور اور غلط محسوس کیا۔ کیسے کوئی میرے جیسے اِس قدر دھوکے باز کو معاف کر پائے گا؟‘‘دعا کے ہتھیار اور شریعت کی منادی اُس پر سے ابلیس کی طاقت کو مار رہے تھے۔ ’’جن ہتھیاروں سے ہم لڑتے ہیں وہ دُنیا کے ہتھیار نہیں بلکہ خدا کے ایسے قوی ہتھیار ہیں جن سے ہم بُرائی کے مضبوط قلعوں کو مسمار کر دیتے ہیں‘‘ (2۔ کرنتھیوں 10:4). شیطان کی بُرائی کے مضبوط قلعے اِس قدر طاقتور ہیں۔ وہ آپ کے دِل میں وہ قلعے ہیں جو آپ کو شیطان کی قید میں رکھتے ہیں۔ آپ کو آزاد کروانے اور شیطان کی قید کی دیواروں کو گرانے کے لیے خُدا کی طاقت چاہیے ہوتی ہے۔

وہ تنسیخ شُدہ گناہ کی قوت کو توڑتا ہے،
   وہ قیدی کو آزادی دیتا ہے؛
اُس کا خون غلیظ ترین کو پاک صاف کر دیتا ہے؛
   اُس کا خون میرے لیے فائدہ مند ہے!
(’’اوہ ہزار زبانوں کے لیے O For a Thousand Tongues‘‘ شاعر چارلس ویزلی
      Charles Wesley، 1707۔1788)۔

آپ کا کونسا مضبوط قلعہ ہے؟ کیا چیز آپ کو شیطان کی قید میں بند رکھتی ہے؟ کیا یہ فحش فلمیں ہیں؟ کیا یہ منشیات ہیں؟ کیا یہ وہ سوچ ہے کہ آپ کافی نیک ہیں، وہ سوچ کہ آپ کو مسیح میں ایمان لا کر تبدیل ہونے کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ آپ گرجا گھر آتے ہیں اور بائبل پڑھتے ہیں اور دعا مانگتے ہیں؟ کیا یہ ہی وہ طریقہ ہے جس سے ابلیس آپ کو اپنے مضبوط قلعہ میں بند رکھتا ہے – اپنے قید خانے میں؟

خُدا کا شکر ہو کہ ہمارے لوگوں نے جولی کو آزاد کروانے کے لیے شدید دعائیں مانگیں! خدا کا شکر ہو کہ میں نے شریعت کی منادی کی اور اُس کو ہر واعظ میں بتایا کہ وہ گمراہ تھی۔

’’جن ہتھیاروں سے ہم لڑتے ہیں وہ دُنیا کے ہتھیار نہیں بلکہ خدا کے ایسے قوی ہتھیار ہیں جن سے ہم بُرائی کے مضبوط قلعوں کو مسمار کر دیتے ہیں‘‘ (2۔ کرنتھیوں 10:4).

جولی میرے واعظ میں سے ایک کے بعد مجھے ملنے کے لیے آئی۔ اُس نے کہا، ’’ڈاکٹر ہائیمرز نے مجھے بتایا تھا کہ یسوع میری جگہ پر صلیب پر قربان ہو گیا تھا، اور کہ [خُدا کا] عذاب اُس پر نازل ہوا تھا تاکہ وہ مجھ پر نازل نہ ہو۔ اب میں جان گئی ہوں مجھے یسوع اور اُس کے خون کی ضرورت کیوں ہے… مجھے یسوع کی ضرورت ہے تاکہ میرے گناہ [اُس کے خون کے وسیلے سے] مکمل طور پر دھول جائیں۔ ڈاکٹر ہائیمرز نے مجھے بتایا تھا کہ یسوع مجھ سے پیار کرتا ہے اور کہ یسوع مجھے بچا لے گا چاہے میری زندگی میں کیسے ہی گناہ کیوں نہ رہے ہوں۔ اُنہوں نے مجھے یسوع پر بھروسہ کرنے کے لیے کہا تھا۔ میں بس یہ سب کچھ مذید اور برادشت نہیں کر سکتی۔ میرا چہرہ آنسوؤں سے تر تھا اور میں مسیح پر بھروسہ کرنے کے لیے تیار تھی… دوزانو ہوتے ہوئے میں نے مسیح پر بھروسہ کیا۔ میں نے اپنی اچھائیوں پر نہیں مسیح پر بھروسہ کیا۔ میں نے اپنا بھروسہ مسیح اور اُس کے خون پر رکھا… میں نے مذید اور اِس بات پر انحصار نہیں کیا کہ میں کس قدر نیک ہو سکتی ہوں اور میں نے اپنے تکبر کو چھوڑ دیا۔ میں نے یسوع پر بھروسہ کیا اور اُس نے مجھے نجات دلائی!‘‘

کس قدر شاندار گواہی! اب جولی نجات پا چکی ہے، اور وہ میری دوست ہے! میں سچے طور پر یقین کرتا ہوں وہ اب ایک مسیحی ہے۔ ایسا ہی یقین ڈاکٹر کیگن کرتے ہیں۔ اور مستقبل قریب میں اُسے بپتسمہ دوں گا۔ کیا آپ کے الفاظ نے آج رات آپ کو کچھ بتایا؟ کیا آپ نے محسوس کیا آپ کس قدر گناہ سے بھرپور ہیں؟ کیا آپ نے خود اپنے لیے یسوع پر بھروسہ کرنے کی ضرورت اور اُس خون کے وسیلے سے جو اُس نے صلیب پر بہایا اپنے گناہ سے پاک صاف ہونے کی ضرورت کو دیکھا؟ یسوع آپ سے اِس قدر زیادہ محبت کرتا ہے۔ کیا آپ نیچے آئیں گے اور مجھ سے، جان کیگن سے اور ڈاکٹر کیگن سے یسوع پر بھروسہ کرنے کے بارے میں بات کریں گے؟ جب ہر کوئی اُوپر کھانے کے لیے جائے تو کیا آپ یہاں نیچے آئیں گے اور ہمیں آپ سے مشاورت کرنے دیں اور آپ کے ساتھ دعا مانگنے دیں؟ اگر آپ کو بیت الخلا جانے کی ضرورت ہو، تو جائیں اور پھر یہاں واپس آئیں – یا بس ابھی یہاں چلے آئیں جب ہم گا رہے ہیں۔ خُداوند کھانے کو برکت دے اور ہر اُس شخص کو برکت دے جو آج رات یسوع پر بھروسہ کرتا ہے! آمین!

کھڑے ہو جائیں اور اپنے گیتوں کے ورق پر سے گیت نمبر گیارہ گائیں۔ گائیں ’’میرے سارے تخیّل کو بھر دےFill All My Vision۔‘‘ یہ گیتوں کے ورق پر نمبر گیارہ ہے۔ جب ہم گا رہے ہوں تو آپ یہاں نیچے چلے آئیں تاکہ میں آپ کے ساتھ مشاورت کر سکوں اور آپ کے لیے دعا مانگ سکوں۔

میرے سارے تخّیل کو پورا کر، نجات دہندہ، میں دعا مانگتا ہوں،
   آج مجھے صرف یسوع کو دیکھ لینے دے؛
حالانکہ وادی میں سے تو میری رہنمائی کرتا ہے،
   تیرا کھبی نہ مدھم ہونے والا جلال میرا احاطہ کرتا ہے۔
میرے سارے تخّیل کو پورا کر، الٰہی نجات دہندہ،
   جب تک تیرے جلال سے میری روح جگمگا نہ جائے۔
میرے سارے تخّیل کو پورا کر، کہ سب دیکھ پائیں
   تیرا پاک عکس مجھ میں منعکس ہوتا ہے۔

میرے سارے تخّیل کو پورا کر، گناہ کے نتیجہ کو ناکام کر دے
   باطن میں جگمگاتی چمک کو چھاؤں دے۔
مجھے صرف تیرا بابرکت چہرہ دیکھنے لینے دے۔
   تیرے لامحدود فضل پر میری روح کو لبریز ہو لینے دے۔
میرے سارے تخّیل کو پورا کر، الٰہی نجات دہندہ،
   جب تک تیرے جلال سے میری روح جمگا نہ جائے۔
میرے سارے تخّیل کو پورا کر، کہ سب دیکھ پائیں
   تیرا پاک عکس مجھ میں منعکس ہوتا ہے۔
(’’میرے سارے تخّیل کو پورا کرFill All My Vision‘‘ شاعر ایوس برجیسن کرسچنسن
      Avis Burgeson Christiansen، 1895۔1985)۔

آمین۔


اگر اس واعظ نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز آپ سے سُننا پسند کریں گے۔ جب ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں تو اُنہیں بتائیں جس ملک سے آپ لکھ رہے ہیں ورنہ وہ آپ کی ای۔میل کا جواب نہیں دیں گے۔ اگر اِن واعظوں نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز کو ایک ای میل بھیجیں اور اُنہیں بتائیں، لیکن ہمیشہ اُس مُلک کا نام شامل کریں جہاں سے آپ لکھ رہے ہیں۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای میل ہے rlhymersjr@sbcglobal.net (‏click here) ۔ آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو کسی بھی زبان میں لکھ سکتے ہیں، لیکن اگر آپ انگریزی میں لکھ سکتے ہیں تو انگریزی میں لکھیں۔ اگر آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو بذریعہ خط لکھنا چاہتے ہیں تو اُن کا ایڈرس ہے P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015.۔ آپ اُنہیں اِس نمبر (818)352-0452 پر ٹیلی فون بھی کر سکتے ہیں۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہائیمرز کے واعظ www.sermonsfortheworld.com
یا پر پڑھ سکتے ہیں ۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

یہ مسوّدۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے ہمارے گرجہ گھر سے ویڈیو پر دوسرے تمام واعظ اور ویڈیو پیغامات حق
اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

واعظ سے پہلے کلام پاک کی تلاوت مسٹر جان سیموئیل کیگن Mr. John Samuel Cagan نے کی تھی: 2۔ کرنتھیوں 10:3۔5 .
واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بینجیمن کنکیڈ گریفتھ نے گایا تھا:
’’بڑھتے چلو مسیحی سپاہیوں Onward, Christian Soldiers‘‘
(شاعر سبین بارینگ گُلڈ Sabine Baring-Gould، 1834۔1924؛
بند اور کورس، آیات1، 2 اور 3)۔

لُبِ لُباب

ہمارے لڑنے کے ہتھیار

THE WEAPONS OF OUR WARFARE

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
ہفتہ کے دن کی شام، 7جنوری، 2017
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Saturday Evening, January 7, 2017

’’جن ہتھیاروں سے ہم لڑتے ہیں وہ دُنیا کے ہتھیار نہیں بلکہ خدا کے ایسے قوی ہتھیار ہیں جن سے ہم بُرائی کے مضبوط قلعوں کو مسمار کر دیتے ہیں‘‘ (2۔ کرنتھیوں 10:4).

(2کرنتھیوں10:3)

I.   پہلی بات، ہمیں پہچاننا چاہیے کہ ہم حالتِ جنگ میں ہیں، افسیوں6:11، 12؛
افسیوں2:2 .

II.  دوسری بات، ہماری لڑائی کے ہتھیار، اشعیا64:1 .