Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 215 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.co پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہمارے ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 36 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔

جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔


جِدوجہد کرنے کا فائدہ

THE BENEFIT OF STRIVING
(Urdu)

ایک واعظ جسے ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز نے تحریر کیا
اور جس کی منادی مسٹر نوح سُونگ کے ذریعے سے کی گئی
لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں
ہفتے کی شام، 12 نومبر، 2016
A sermon written by Dr. R. L. Hymers, Jr.
and preached by Mr. Noah Song
at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Saturday Evening, November 12, 2016

’’تنگ دروازے سے داخل ہونے کی پوری کوشش کرو: کیونکہ میں تم سے کہتا ہوں کہ بہت سے لوگ اندر جانے کی کوشش کریں گے لیکن جا نہ سکیں گے‘‘ (لوقا13:24)۔

تمام مسیحی رہنما جانتے ہیں کہ یورپ اور امریکہ میں گرجا گھروں میں ایک سنجیدہ زوال آیا ہوا ہے۔ مشہور ترین حل ’’ترقی یافتہ بننا‘‘ ہے – گیتوں کی عبادت کو ’’جدید بنانا‘‘، بائبل کے نئے ترجموں کو متعارف کروانا، پادری صاحب سے اُن کی ٹائی اُتروانا، اور لوگوں کو گرجا گھر میں ایسے آنے دینا جیسے وہ کسی ساحل سمندر پر پارٹی منانے آئے ہوئے ہیں۔ یہ سب کچھ اِس لیے کیا گیا ہے کیونکہ وہ سوچتے ہیں کہ ’’دورِ حاضرہ‘‘ کا انسان بیسویں صدی میں تبدیل ہو چکا ہے، اور ہمیں اُس کی توجہ حاصل کرنے کے لیے اور اُس میں سے ایک مسیحی بنانے کے لیے ’’ترقی یافتہ‘‘ ہونا چاہیے۔

اب، بِلاشُبہ، اُس قسم کی وجوہات بے معنی ہیں۔ ڈاکٹر لائیڈ جونز نے کہا یہ ایک سنجیدہ غلطی تھی کیونکہ،

انسان بالکل بھی نہیں بدلا ہے۔ وہ تمام تبدیلیاں جن کے بارے میں انسان شیخیاں بگھارتا ہے اِس قدر زیادہ بیرونی ہوتی ہیں۔ وہ خود انسان میں تبدیلیاں نہیں ہیں، بلکہ محض اُس کی سرگرمی کے ڈھنگ میں ہیں، اُس کے ماحول میں ہیں… انسان بحیثیت انسان بالکل بھی نہیں بدلا۔ وہ اب بھی وہی پیچیدہ ہستی ہے جیسی وہ کبھی برگشتہ ہونے کے وقت سے رہی ہے (ڈی۔ مارٹن لائیڈ جونز، ایم۔ ڈی۔ D. Martyn Lloyd-Jones, M.D.، Truth Unchanged Unchanging، جیمس کلارک پبلیشرزJames Clark Publishers، 1951، صفحات 110، 112)۔

لہٰذا، جب ہم اِس تلاوت لوقا13:24 آیت پر آتے ہیں، تو آئیے یہ مت سوچیے کہ یہ لوگ کوئی ہم سے مختلف تھے۔ اُن کے بیرونی حالات مختلف تھے، لیکن وہ خود بالکل ویسے ہی تھے جیسے ہم ہیں – ’’وہی پیچیدہ ہستی [جو لوگ ہمیشہ سے رہے ہیں] گمراہ ہونے کے وقت سے،‘‘ جیسا کہ ڈاکٹر جان لائیڈ اِس کو لکھتے ہیں۔ اور بالکل آج کی رات آپ میں سے کچھ لوگوں کی مانند، اُنہوں نے لاتعداد خوشخبری کے واعظ سُنے ہوئے تھے۔ اُںہوں نے بے شمار موقعوں پر دونوں یوحنا اصطباغی اور خود مسیح سے منادی سُنی ہوئی تھی۔ وہ سچائی کے ساتھ مسیح سے کہہ سکتے تھے، ’’تو نے ہمارے گلی کوچوں میں تعلیم دی ہے‘‘ (لوقا13:26)۔ اور اِس کے باوجود وہ وہیں پر تھے، ابھی تک غیرنجات یافتہ اُن تمام عظیم واعظوں کو سُننے کے بعد بھی۔ آخر کو وہ نجات ہی تھی جس کے بارے میں یسوع باتیں کر رہا تھا! ایک شخص نے اُس سے پوچھا، ’’کیا چند ایک ہونگے جو نجات پائیں گے؟‘‘ اور اُس نے اِس آدمی کی جانب سے رُخ پھیرا اور تمام ہجوم سے کہا،

’’تنگ دروازے سے داخل ہونے کی پوری کوشش کرو: کیونکہ میں تم سے کہتا ہوں کہ بہت سے لوگ اندر جانے کی کوشش کریں گے لیکن جا نہ سکیں گے‘‘ (لوقا13:24)۔

اِس لیے میں اِس کو قبول کرتا ہوں، چونکہ انسانی فطرت کبھی بھی نہیں بدلی، اور خوشخبری کبھی بھی نہیں بدلی، اور مسیح خود کبھی بھی نہیں بدلا – کہ یہ الفاظ آج کی رات آپ میں سے اُن کے لیے کہے گئے ہیں جنہوں نے خوشخبری کی منادی کو بغیر نجات پائے بار بار سُنا۔ اِس بارے میں کوئی غلطی مت کیجیے گا۔ کلام پاک کی اِس آیت کے ذریعے سے، مسیح آپ سے بات کر رہا ہے!

’’تنگ دروازے سے داخل ہونے کی پوری کوشش کرو: کیونکہ میں تم سے کہتا ہوں کہ بہت سے لوگ اندر جانے کی کوشش کریں گے لیکن جا نہ سکیں گے‘‘ (لوقا13:24)۔

وہ تلاوت میری رہنمائی آپ سے ایک انتہائی اہم سوال پوچھنے کے لیے کرتی ہے – کیا آپ ابھی تک جدوجہد کر رہے ہیں یا آپ ہمت ہار چکے ہیں؟ کیا آپ اب بھی مسیح میں داخل ہونے کی جدوجہد کر رہے ہیں یا آپ محض وقت گزار رہے ہیں، گرجا گھر میں بیٹھنے سے، کسی سوچ کے بغیر کہ آپ کبھی بھی نجات پا جائیں گے؟ میں یقینی طور پر اُمید کرتا ہوں کہ وہ بات سچی نہیں ہے! میں اُمید کرتا ہوں اور دعا مانگتا ہوں کہ آپ مسیح کے حکم کی فرمانبرداری کریں گے،

’’تنگ دروازے سے داخل ہونے کی پوری کوشش کرو‘‘ (لوقا13:24)۔

جس یونانی لفظ نے ’’جدوجہدstrive‘‘ کا ترجمہ کیا وہ ’’ایگونائزستھیagonizesthe‘‘ ہے۔ اِس کا مطلب ’’ایماندارانہ کوشش،‘‘ یہاں تک کہ ’’لڑائی‘‘ ہوتا ہے۔ ہم اِس کو یوں کہہ سکتے ہیں، ’’ایماندارانہ یا سنجیدہ کوشش کرو، یہاں تک کہ داخل ہونے کے لیے لڑو‘‘ مسیح میں داخل ہونے کے لیے جو خود ’’وہ تنگ دروازہ‘‘ ہے۔ اِس کا مطلب ہوتا ہے کہ اُس میں داخل ہونے کے لیے ہر ممکن کوشش کرو، مسیح میں داخل ہونے کے لیے جدوجہد کرو۔

’’تنگ دروازے سے داخل ہونے کی پوری کوشش کرو‘‘ (لوقا13:24)۔

میں اِس کے سات تین طرح سے نمٹوں گا: پہلے، آپ کو کس کے خلاف جدوجہد کرنی چاہیے؛ دوسرے، آپ کیوں شاید جدوجہد کرنا چھوڑ جائیں؛ اور تیسرے کیسے جدوجہد کرتے رہنا آپ کو مسیح میں داخل ہونے کے لیے تیار کرتا ہے۔

I۔ پہلی بات، آپ کو کس کے خلاف جدوجہد کرنی چاہیے۔

اس جدوجہد کا ایک منفی پہلو ہے۔ یقیناً ’’جدوجہد‘‘ کرنے کی کوئی ضرورت محسوس نہیں ہوتی اگر کچھ ہے ہی نہیں جس کے خلاف جدوجہد کی جائے! لڑنے یا جدوجہد کرنے کی کوئی ضرورت ہی نہیں اگر آپ کسی کے خلاف جدوجہد یا لڑائی نہیں کر رہے ہیں!

یہ کوئی عام سے جدوجہد نہیں ہے۔ یہ ایک اندیکھی لڑائی ہے، ایک جدوجہد جو آپ کے دِل و دماغ کی انتہائی گہرائیوں میں رونما ہوتی ہے۔ دورِ حاضرہ کی منادی میں مسیح پر ایمان لا کر تبدیل ہونے کے اِس پہلو پر شدید تھوڑا سا زور ڈالا گیا ہے۔ یہ ایک اندرونی جدوجہد ہے۔

یہ خود شیطان کے ساتھ جدوجہد ہے۔ کیا آپ شیطان کے بارے میں بھول چکے ہیں؟ آپ کا کیا خیال ہے وہ خاموشی سے کھڑا تماشہ دیکھتا رہے اور بغیر کوئی لڑائی کھڑی کیے آپ کو مسیح میں داخل ہونے کی اجازت دے دے گا؟ سپرجئین نے لوقا9:42 پر دو واعظوں کی منادی کی،

’’ابھی وہ آ ہی رہا تھا کہ بدروح نے اُسے مروڑ کر زمین پر دے پٹکا‘‘
       (لوقا9:42)۔

کچھ بدلا نہیں ہے۔ جیسا کہ میں نے شروع میں کہا، آپ بائبل کے زمانے کے لوگوں سے کوئی مختلف نہیں ہیں۔ بدروح نے اِس نوجوان شخص کو نیچے زمین پر دے پٹکا اور اُسے مروڑ کر رکھ دیا، اُس یسوع کے پاس آنے سے روکنے کے لیے۔ سپرجیئن نے کہا،

کیوں [بدروح] نے آنے والے انسان کو نیچے دے پٹکا اور اُسے مروڑ ڈالا؟… کیوںکہ وہ اُس کو کھونا پسند نہیں کرتا… اُس کا مقصد آپ کو نیچے پٹکنا ہوتا ہے… آپ کو مسیح کے پاس جانے سے روکنے کے لیے، اور آپ کو اپنے جال میں پھنسانے کے لیے، جہاں پر وہ بالاآخر آپ کو تباہ کر ڈالتا ہے (سی۔ ایچ۔ سپرجیئن C.H. Spurgeon، ’’آنے والے کی شیطان کے ساتھ کشمکش The Comer’s Conflict With Satan،‘‘ The New Park Street Pulpit، پِلگرِم پبلیکیشنز Pilgrim Publications، دوبارہ اشاعت1981، جلد دوئم، صفحہ373)۔

شیطان آپ کی جان کا سب سے بڑا دشمن ہوتا ہے۔ وہ، وہ ہے

’’جس کی روح اب تک نافرمان لوگوں میں تاثیر کرتی ہے‘‘ (افسیوں2:2)۔

یہ وہی ہے جس نے

’’… اُن بے اعتقادوں کی عقل کو اندھا کر دیا ہے‘‘ (2کرنتھیوں4:4)۔

یہ ہے،

’’… وہ شیطان [جو] [تمہارے] دِلوں میں سے پاک کلام نکال لے جاتا ہے، کہیں [تم] ایمان نہ لے آؤ اور نجات نہ پا لو‘‘

اِس لیے، میں آج کی رات آپ سے کہتا ہوں، آپ کو ’’تنگ دروازے سے داخل ہونے کی کوشش کرنی‘‘ چاہیے، کیونکہ شیطان اپنی ہر ممکن کوشش آپ کو مسیح کے پاس جانے سے روکنے کے لیے کر سکتا ہے! وہ آپ میں سے کچھ سے کہے گا کہ بہت تاخیر ہو چکی ہے – کہ مسیح میں ایمان لا کر حقیقی طور پر تبدیل ہونے جیسی کوئی بات ہوتی ہی نہیں ہے۔ وہ آپ کو مسیح سے دور رکھنے کے لیے ہر قسم کے سوالات اور شکوک آپ کے دِل میں ڈالے گا۔ سپرجیئن نے کہا، ’’بے شمار مرتبہ جب ایک جان مسیح کے پاس جا رہی ہوتی ہے، شیطان شدت کے ساتھ اُس میں کافرانہ خیالات کے بیج بوتا ہے… وہ گستاخانہ یا کفریہ خیالات کو ذہن میں ڈالنے کے لیے محنت کرتا اور پھر ہمیں کہتا ہے کہ یہ تمہارے ہی ہیں‘‘ (سپرجیئنSpurgeon، ibid.، صفحہ372)۔

سپرجیئن صرف بائیس برس کی عمر کے تھے جب اُنہوں نے اِس واعظ ’’آنے والے کی شیطان کے ساتھ کشمکش The Comer’s Conflict With Satan‘‘ کی تبلیغ کی تھی۔ اُںہیں واضح طور پر یاد تھا کیسے شیطان نے اُن کے مسیح میں ایمان لا کر تبدیل ہونے سے کچھ ہی عرصہ پہلے اُن کے ذہن کو بُرے خیالات کے ساتھ بھرا تھا۔ سات سے پہلے، پندرہ برس کی عمر میں، اُںہوں نے کہا، ’’… اچانک ہی یوں لگتا ہے جیسے جہنم کے سیلابی پھاٹک کُھلے جا چکے تھے… دس ہزار بدکار روحیں میرے ذہن میں جسمانی نیت کو تھامے ہوئے دکھائی دیتی تھیں۔۔۔ باتیں جو میں نے کبھی بھی پہلے سُنی یا سوچی ہی نہیں تھیں میرے ذہن میں سُبک رفتاری سے گُھسی چلی آ رہی تھیں، اور میں مشکل ہی سے اُن کے اثر کو توڑ پا رہا تھا… لیکن اگر آپ خوف کریں کہ یہ خیالات خود آپ کے اپنے ہیں، تو آپ شاید کہیں، ’’میں مسیح کے پاس جاؤں گا، اور چاہیے یہ گستاخانہ خیالات میرے ہی ہیں… میں جانتا ہوں کہ گناہ کے تمام قسمیں اور گستاخیاں [اُس یسوع کے وسیلے] سے معاف کر دی جائیں گے‘‘‘ (سپرجیئن Spurgeon، ibid.، صفحات372۔373)۔ آپ کو مسیح میں داخل ہونے کے لیے شیطانی خیالات کے خلاف جدوجہد کرنی چاہیے!

’’تنگ دروازے سے داخل ہونے کی پوری کوشش کرو‘‘ (لوقا13:24)۔

لیکن ایک دشمن اور ہے جس کے خلاف جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔ آپ کو خود اپنی جسمانی نیت کے خلاف جدوجہد کرنی چاہیے،

’’کیونکہ جسمانی نیت خُدا کی مخالفت کرتی ہے‘‘ (رومیوں8:7)۔

جب تک آپ احساس کرنا شروع نہیں کر لیتے کہ، برگشتگی کی وجہ سے، خُدا کی ساتھ آپ کا تمام تعلق غلط ہو چکا ہے، تو کیا تم سمجھ نہیں پاؤ گے کہ تمہارا سب سے بڑا دشمن خود تمہاری اپنی ذات ہے۔ خود تمہارا اپنا دِل غلط ہے، گناہ ’’بنیادی طور پر اعمال کا معاملہ‘‘ نہیں ہوتا، آئعین ایچ۔ میورے Iain H. Murray نے کہا، ’’گناہ کی بھرپوری گناہوں کے مقابلے میں ایک گھمبیر مسئلہ ہوتی ہے۔ ’جسمانی نیت خُدا کی مخالفت کرتی ہے‘… جب تک کہ ایک شخص اپنے بارے میں سچائی کو جان نہیں جاتا کہ وہ کبھی بھی دُرست نیت میں خوشخبری تک نہیں پہنچ سکتا۔ خود کی پہچان کے بغیر وہ شاید چھان بین کرتا ہے، بحث کرتا ہے اور وجہ تلاش کرتا ہے لیکن اِس سے ذرا سے بھی فائدہ اُس کو نہیں پہنچتا‘‘ (آئعین ایچ۔ میورےIain H. Murray، لائیڈ جونز: فضل کا پیامبرLloyd-Jones: Messenger of Grace، The Banner of Truth Trust، 2008، صفحہ74)۔

کیا آپ مُڑیں گے اور گھومیں گے، ’’بے دینی کے سی وضع لیے ہوئے‘‘ (2تیموتاؤس3:5) جب تک آپ کو احساس نہیں ہو جاتا کہ خود آپ کا اپنا دِل گہرائی تک گناہ سے بھرپور ہے۔ آپ صرف اتنا کر سکتے ہیں کہ سوال پوچھیں، جیسے نیکودیمس نے پوچھا تھا۔ یسوع نے کہا، ’’تمہیں نئے سرے سے جنم لینا چاہیے‘‘ (یوحنا3:7)۔ نیکودیمس صرف یہ ہی کہہ پایا تھا، ’’یہ کیسے ہو سکتا ہے؟‘‘ (یوحنا3:9)۔ میں کیسے دوبارہ جنم لے سکتا ہوں؟‘‘ ’’میں کیسے مسیح کے پاس جا سکتا ہوں؟‘‘ – اُس قسم کے سارے سوالات ظاہر کرتے ہیں کہ آپ اب بھی مسیح کے پاس آنے کے لیے خود اپنی ہی سمجھ پر بھروسہ کر رہے ہیں۔ ’’میں سے کی وجہ بیان کر سکتا ہوں۔ اگر میرے پاس صرف تھوڑی سے اور معلومات ہوں تو میں پتا چلا لوں گا کہ اُس یسوع کے پاس کیسے جانا پڑے گا۔‘‘ ایک شخص اِس طرح سے سالوں تک زندگی بسر کر سکتا ہے، مروڑتے اور گھومتے ہوئے، مسیح میں کبھی بھی ایمان لائے بغیر۔ جیسا کہ آئعین میورے نے کہا، ’’وہ شاید چھان بین کرتا ہے، بحث کرتا ہے اور وجہ تلاش کرتا ہے لیکن اِس سے ذرا سے بھی فائدہ اُس کو نہیں پہنچتا۔‘‘ بحث کرنے اور دلیلیں دینے کے بجائے آپ کو چاہیے

’’داخل ہونے کی پوری کوشش کرو‘‘ (لوقا13:24)۔

خود اپنے غرور کے خلاف جدوجہد کریں، مسیح کے حوالے کرنے کے لیے خود آپ کے اپنی مایوس کُن ناخوشی۔ خود کو ایک تباہ حال گنہگار کی حیثیت سے دیکھنے کے لیے جدوجہد کریں، جس کا دِل مسیح پر بھروسہ کرنے کے لیے راضی نہیں ہوتا ہے، جس کی غرور وہ سمجھنے کی کوشش کرتا ہے جو کو گناہ سے بھرپور ایک انسان سمجھ ہی نہیں سکتا، جس کی ساری ساری حکمت عملی ہی صرف ’’اور زیادہ سیکھنا‘‘ ہوتی ہے – بجائے اِس کے کہ وہ خود کو جو وہ ہے اُس طرح سے دیکھے – خدا کا ایک مخالف۔ کیا آپ نے کبھی بھی مسیح کے جانب آپ کے روئیے کے بارے میں سوال کا سامنا کیا ہے؟ کیا آپ نے خود میں اقرار کیا ہے کہ آپ اُس کے خلاف ایک باغی ہیں؟ کیا آپ نے خود میں کبھی اقرار کیا کہ آپ محسوس کرتے ہیں آپ جتنا وہ یسوع جانتا ہے اُس کے مقابلے میں زیادہ جانتے ہیں؟ اگر نہیں، تو آپ کبھی بھی حقیقی تبدیلی کا تجربہ نہیں کر سکتے۔ ’’داخل ہونے کی کوشش کریں۔‘‘ خود اپنے ذہن اور دِل کے خلاف جدوجہد کریں، جب تک کہ آپ ایمانداری اور سچائی کے ساتھ کہہ نہ پائیں، ایک پرانے حمدوثنا کے گیت کے الفاظ میں،

میں خود ہمت ہارتا ہوں، اور میں جو کچھ بھی جانتا ہوں،
   مجھے ابھی دھو ڈال، اور میں برف سے زیادہ سفید ہو جاؤں گا۔
(’’برف سے زیادہ سفید Whiter Than Snow‘‘
      شاعر جیمس نکلسن James Nicholson، 1828۔1896)۔

’’تنگ دروازے سے داخل ہونے کی پوری کوشش کرو‘‘ (لوقا13:24)۔

II۔ دوسری بات، کیوں آپ کو شاید کوشش کرتے رہنا چھوڑ دینا چاہیے۔

مجھے معلوم ہے اِس سُن کر کچھ لوگ مشتعل ہو جائیں گے، لیکن سادہ سی حقیقت تو وہیں کلام پاک کے صفحات میں ہے۔ آپ شاید مسیح میں داخل ہونے کی کوشش کو چھوڑ سکتے ہیں کیونکہ آپ ’’خُدا باپ کے ارادے سے پہلے ہی سے چُن لیے گئے ہو‘‘ (1پطرس1:2)۔ کون کہنے کی جرأت کر سکتا ہے کہ کلام پاک میں چنے جانے کی تعلیم نہیں دی گئی ہے؟ چاہے ہم اِس کو سمجھیں یا نہ، یہ ہے اِس میں، بائبل کے صفحات پر، آپ کے چہرے پر گھورتی ہوئیں، ’’خُدا کے چُنے ہوئے لوگوں کو مل گئی، اور باقی سب کے دِل سخت کر دیے گئے‘‘ (رومیوں11:7)۔

اگر یہ بات سچی ہے کہ آپ ’’خُدا باپ کے اِرادے سے پہلے ہی نہیں چُن لیے گئے ہیں‘‘ تب، بیشک، آپ ’’تنگ دروازے سے داخل ہونے کی کوشش نہیں کریں گے۔‘‘ اگر یہ آپ کا معاملہ ہے، تو آپ بیٹھیں گے اور ایک کے بعد دوسرے واعظ کو سُنیں گے خیالات کی کسی گہرائی کے بغیر، اپنی جان کی فکر کیے بغیر، دائمیت کے کسی خیال کے بغیر، دِل کی کسی ناراضی کے بغیر، جب تک ’’جب مالک مکان ایک دفعہ اُٹھ کر دروازہ بند کر دیتا ہے‘‘ (لوقا13:25)۔

’’اور دروازہ بند کر دیا گیا۔ بعد میں باقی کنواریاں بھی آ گئیں، اور کہنے لگیں: اے خُداوند، اے خُداوند، ہمارے لیے دروازہ کھول دے۔ لیکن اُس نے جواب دیا، سچ تو یہ ہے کہ میں تمہیں جانتا ہی نہیں‘‘ (متی25:10۔12)۔

دروازے کے بند کیے جانے سے پہلے، اور آپ کے نصیب میں وہ ’’جھیل جو آگ اور گندھک سے جلتی ہے‘‘ لکھی جا چکی ہے: جو دوسری موت ہوتی ہے‘‘ (مکاشفہ21:8)۔ ابھی ’’اندر داخل‘‘ ہونے کے لیے کوشش کریں، اِس سے پہلے کہ نہایت تاخیر ہو جائے!

’’تنگ دروازے سے داخل ہونے کی پوری کوشش کرو‘‘ (لوقا13:24)۔

III۔ تیسری بات، کیسے جدوجہد کرتے رہنا آپ کو مسیح میں داخل ہونے کے لیے تیار کرتا ہے۔

پیوریٹن تھامس ھوکر Thomas Hooker کو دوسرے لفظوں میں کرنے کے لیے، ’’اگر آپ جدوجہد کرنا جاری رکھتے ہیں تو آپ نجات پا لیں گے۔‘‘ یسوع نے کہا، ’’خُدا کی بادشاہی کی شدت سے مخالفت ہوتی رہی ہے اور زورآور اُس پر قابض ہوتے رہے ہیں‘‘ (متی11:12)۔ صرف شدت کے ساتھ ثابت قدم رہنے والے اِس میں کُچلے جاتے ہیں‘‘ (سیکوفیلڈ مطالعۂ بائبل The Scofield Study Bible؛ متی11:12 پر غور طلب بات)۔ جیسا کہ تھامس ھوکہ نے اِس کو تحریر کیا، ’’اگر آپ جدوجہد کرتے رہنا جاری رکھتے ہیں تو آپ نجات پا لیں گے۔‘‘ دوسری طرف، اگر آپ جدوجہد کرتے رہنا جاری نہیں رکھتے، تو آپ نجات نہیں پائیں گے!

ایک مبلغ نے کچھ کہا تھا جس کے بارے میں سوچنا فائدہ مند ہے۔ اُنہوں نے کہا، ’’آپ کی جدوجہد کو ناکام ہونا چاہیے! ناکام ہونے میں فائدہ ہے۔‘‘ اُن کا کیا مطلب تھا؟ یہ ایک گہرا نکتہ ہے، اور کئی کئی دِنوں تو سوچنے والی بات ہے! ’’فائدہ ناکام ہونے میں ہے۔‘‘ دیکھا آپ نے، جب آپ اپنے تمام دِل اور اپنی تمام جان کے ساتھ جدوجہد کرتے ہیں – اور ناکام ہوتے ہیں – تو یہ شاید آپ کو لے آئے، آخر کار، خود آپ کی اپنی ذات کے خاتمے پر۔ آپ تب شاید یوناہ کے ساتھ کہہ پائیں،

’’جب میری زندگی بیقرار تھی تو میں نے اے خُداند تجھے یاد کیا‘‘ (یوناہ2:7)۔

جب آپ کی جان بیقرار ہوتی ہے جدوجہد کرنے کے بھاری بوجھ تلے تو آپ کو شاید معلوم پڑے گا کہ یسوع سارا وقت سچا تھا، جب اُس نے وہ شاندار الفاظ کہے تھے جن کو آپ نے اتنے عرصے تک نظر انداز کیا،

’’اے محنت کشو اور بوجھ سے دبے لوگو، میرے پاس آؤ اور میں تمہیں آرام بخشوں گا‘‘ (متی11:28)۔

ڈاکٹر ہائیمرز، مہربانی سے آئیں اور عبادت کا اختتام کریں۔


اگر اس واعظ نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز آپ سے سُننا پسند کریں گے۔ جب ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں تو اُنہیں بتائیں جس ملک سے آپ لکھ رہے ہیں ورنہ وہ آپ کی ای۔میل کا جواب نہیں دیں گے۔ اگر اِن واعظوں نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز کو ایک ای میل بھیجیں اور اُنہیں بتائیں، لیکن ہمیشہ اُس مُلک کا نام شامل کریں جہاں سے آپ لکھ رہے ہیں۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای میل ہے rlhymersjr@sbcglobal.net (‏click here) ۔ آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو کسی بھی زبان میں لکھ سکتے ہیں، لیکن اگر آپ انگریزی میں لکھ سکتے ہیں تو انگریزی میں لکھیں۔ اگر آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو بذریعہ خط لکھنا چاہتے ہیں تو اُن کا ایڈرس ہے P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015.۔ آپ اُنہیں اِس نمبر (818)352-0452 پر ٹیلی فون بھی کر سکتے ہیں۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہائیمرز کے واعظ www.sermonsfortheworld.com
یا پر پڑھ سکتے ہیں ۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

یہ مسوّدۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے ہمارے گرجہ گھر سے ویڈیو پر دوسرے تمام واعظ اور ویڈیو پیغامات حق
اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

واعظ سے پہلے دعا ڈاکٹر کرھیٹن ایل چعین Dr. Kreighton L. Chan نے کی تھی.
واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بینجیمن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith نے گایا تھا:
’’ناقابلِ معافی گناہThe Unpardonable Sin‘‘ (مصنف انجان؛
’’O Set Ye Open Unto Me‘‘ کی طرز پر گایا گیا)۔

لُبِ لُباب

جِدوجہد کرنے کا فائدہ

THE BENEFIT OF STRIVING

ایک واعظ جسے ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز نے تحریر کیا
اور جس کی منادی مسٹر نوح سُونگ کے ذریعے سے کی گئی

’’تنگ دروازے سے داخل ہونے کی پوری کوشش کرو: کیونکہ میں تم سے کہتا ہوں کہ بہت سے لوگ اندر جانے کی کوشش کریں گے لیکن جا نہ سکیں گے‘‘ (لوقا13:24)۔

(لوقا13:26)

I.   پہلی بات، آپ کو کس کے خلاف جدوجہد کرنی چاہیے، لوقا9:42؛
افسیوں2:2؛ 2کرنتھیوں4:4؛ لوقا8:12؛ رومیوں8:7؛ 2تیموتاؤس3:5؛
یوحنا3:7، 9 .

II.  دوسری بات، آپ کو کیوں شاید جدوجہد کرنا چھوڑ دینا چاہیے، 1پطرس1:2؛
رومیوں11:7؛ لوقا13:25؛ متی25:10۔12؛ مکاشفہ21:8 .

III. تیسری بات، جدوجہد کرنا کیسے آپ کو مسیح میں داخل ہونے کے لیے تیار کرتا ہے،
متی11:12؛ یوناہ2:7؛ متی11:28 .