Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 215 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.co پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہمارے ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 36 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔

جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔


آج کی بدروحیں

DEMONS TODAY
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
خُداوند کے دِن کی صبح، 23 اکتوبر، 2016
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord's Day Morning, October 23, 2016

’’وہ جھیل کے پار گراسینیوں کے علاقے میں پہنچے۔ جونہی وہ کشتی میں سے اُترا ایک آدمی جس میں بدروح تھی قبرستان سے نکل کر اُس کے پاس آیا‘‘ (مرقس5:1۔2)۔

میں نے کبھی بھی کسی پادری کو گراسینی کے پادری پر منادی کرتے ہوئے نہیں سُنا۔ بلی گراھم Billy Graham اِس پر منادی کیا کرتے تھے – لیکن کبھی بھی گرجا گھر کے ایک پادری کونہیں۔ ایسا اِس قدر کیوں ہے؟ میرے خیال میں یہ اِس لیے ہے کیونکہ کہانی بدروحوں کے بارے میں ہے۔ یہ مسیح اور شیطان کے تضادم کے بارے میں ہے۔ یہ بات گرجا گھر میں کچھ عورتوں کو خوفزدہ کر دیتی ہے۔ ڈیوڈ میورو David Murrow نے اُس بارے میں پوری ایک کتاب لکھی تھی۔ اِس کا نام ہے، کیوں لوگ گرجا گھر جانے سے نفرت کرتے ہیںWhy Men Hate Going to Church (نیلسن بُکسNelson Books، 2005)۔ میری خواہش ہے کہ ہر پادری اُس کتاب کو پڑھے! میورو نشاندہی کرتے ہیں کہ آدمی اور نوجوان لوگ، 18 سے 29 تک کی عمر کے، گرجا جانے والے لوگوں میں سب سے کم ترین ہوتے ہیں (صفحہ18)۔ اُنہوں نے کہا کہ آدمی اور نوجوان بالغ ’’چیلنجز کے مشتاق‘‘ ہوتے ہیں۔ اُن کی کُلیدی اقدار مہم جوئی، خطرہ، جرأت، کشمکش ہوتے ہیں۔ ’’وہ جرأت مند، مہم جو اور یہاں تک کہ خطرناک جانے جانا چاہتے ہیں۔‘‘ دوسری طرف بے شمار عورتیں اور بزرگ بالغ ’’تحفظ کے مشتاق رہنے کا رُجحان‘‘ رکھتے ہیں‘‘ (صفحہ19)۔

مسیح نے خطرناک کام کیے تھے۔ وہ جرأتمند تھا خطرات مول لینے اور تضادم یا تکرار کرنے سے نہیں ڈرتا تھا۔ میرے خیال میں ڈیوڈ میورو صحیح تھے۔ کچھ عورتیں اور کچھ بوڑھے لوگ ویسے نہیں تھے۔ یہ ایک المیہ ہے کہ اُنہوں نے وہ کیفیت اکثر ہمارے گرجا گھروں میں قائم کر رکھی ہے۔ جس کے نتیجے میں شیطان اور بدروحوں پر واعظ ہمارے گرجا گھروں میں نہیں دیے جاتے۔ وہ کسی قسم کی تکرار نہیں چاہتے۔

کوئی تعجب کی بات نہیں کہ اِس قدر زیادہ نوجوان لوگ دھشت گرد بنتے جا رہے ہیں۔ وہ ٹینیسی Tennessee میں اُس بوڑھے 24 سالہ امریکی کی مانند ہیں جنہوں نے ہمارے چار میرینزMarines کو قتل کر دیا۔ یہ آج بار بار رونما ہو رہا ہے۔ وہ نوجوان لوگ کسی بات میں یقین کرنے کی تلاش میں ہیں۔ وہ اپنی زندگیوں میں وجوہات اور مقاصد کو ڈھونڈ رہے ہیں!

لیکن دھشت گردی جواب نہیں ہے! نا ہی آج گرجا گھروں میں موجود نرم، زنانہ مسیحیت۔ مگر میں تو آپ کو یسوع کی پیروی کرنے کے لیے کہہ رہا ہوں۔ میں تو آپ کو خُداوند یسوع مسیح کے انقلابی شاگرد بننے کے لیے کہہ رہا ہوں! یہ ایک کشمکش ہے۔ ہم ایک جنگ میں ہیں۔ لیکن یہ جنگ جسمانی جنگ نہیں ہے۔ یہ ایک روحانی جنگ ہے۔ عظیم برطانوی مبلغ ڈاکٹر مارٹن لائیڈ جونز Dr. Martyn Lloyd-Jones (1899۔1981) نے اُس جنگی مُڈبھیڑ کے بارے میں بتایا۔ اُنہوں نے کہا، ’’جیسے ہی ہم مسیحی زندگی میں آتے ہیں تو ہم خُدا کی قوتوں اور جہنم کی قوتوں کے درمیان قوی تضادم کا حصہ بن جاتے ہیں… اِس دُنیا میں ہماری زندگی ایک روحانی جنگ ہے… شیطان کی وجہ سے‘‘ (خُدا میں زندگی Life in God، کراسوے کُتب Crossway Books، صفحات 105، 179)۔ میں اُن کے ساتھ مکمل طور پر متفق ہوں!

یسوع اور اُس آسیب زدہ شخص کی یہ کہانی اہم ہے۔ خُدا نے نئے عہد نامے میں اِس کو تین مختلف جگہوں پر درج کیا – متی میں، مرقس میں اور دوبارہ لوقا میں۔ دھشت گردی اور روحانی جنگ کے اِس دور میں زندگی بسر کرتے ہوئے نوجوان لوگوں کے لیے اِس میں ایک شاندار سبق موجود ہے!

وہ کہانی سادہ سی ہے۔ یسوع ایک چھوٹی سی کشتی میں گلیل کی جھیل کو پار کر کے گیا تھا۔ وہ اُس چھوٹے سے سمندر کے دوسرے کنارے پر آیا تھا گراسینیوں کے علاقے میں۔ میری بیوی اور میں کئی سال پہلے وہاں پر تھے۔ ہم نے خود اپنی آنکھوں سے اُس جگہ کو دیکھا تھا جہاں پر یہ سب کچھ ہوا تھا۔

’’جونہی وہ کشتی میں سے اُترا ایک آدمی جس میں بدروح تھی قبرستان سے نکل کر اُس کے پاس آیا‘‘ (مرقس5:1۔2)۔

اب، میں اِس نوجوان شخص اور یسوع مسیح کے ساتھ اُس کی ملاقات کے بارے میں بے شمار باتیں سامنے پیش کرنے جا رہا ہوں۔

I۔ پہلی بات، یہ نوجوان شخص آسیب زدہ تھا۔

کیا میں بدروحوں کے قبضہ کرنے میں یقین رکھتا ہوں؟ جی ہاں، میں رکھتا ہوں – میں انتہائی یقینی طور پر رکھتا ہوں! بائبل تعلیم دیتی ہے کہ بے شمار بدروحیں ہوتی ہیں۔ پولوس رسول نے اُن کے بارے میں بات کی تھی جب اُس نے کہا،

’’کیونکہ ہمیں خون اور گوشت یعنی انسان سے نہیں بلکہ … شرارت کی روحانی فوجوں سے لڑنا ہے جو آسمانی مقاموں میں ہیں‘‘ (افسیوں6:12)۔

اُس نے اُس آیت میں مختلف بُری روحوں اور بدروحوں کی قسموں کے بارے میں بات کی تھی۔ ڈاکٹر لائیڈ جونز Dr. Lloyd-Jones نے کہا، ’’بُری روحوں کی کثیر تعداد ہے۔ بے شمار ہزاروں بلکہ شاید لاکھوں بُری روحیں ہوتی ہیں‘‘ (مسیحی اتحاد Christian Unity، دی بینر آف ٹُرتھ ٹرسٹ The Banner of Truth Trust، 1980، صفحہ58)۔

آپ کیسے دھشت گردی اور مادیت پرستی اور امریکہ کے گناہوں کی وضاحت کر سکتے ہیں اگر آپ شیطان اور اُس کی بدروحوں میں یقین نہیں رکھتے؟

اور یہ نوجوان شخص آسیب زدہ تھا۔ اُس کو بدروحوں نے قابو میں کیا ہوا تھا۔ میں ذاتی طور پر اُس حالت میں لوگوں کے ساتھ نمٹ چکا ہوں۔ میں جانتا ہوں یہ اُس وقت ہوتا ہے جب ایک نوجوان شخص منشیات لیتا ہے یا کالے جادو اور پُراسرار قوتوں میں شامل ہو جاتا ہے۔

لیکن آسیبیت کا ایک کم ترین درجہ ہوتا ہے جو ہر اُس شخص کی سوچوں کو جو مسیح میں ایمان لا کر تبدیل نہیں ہوا ہوتا ہے قابو میں کرتا ہے۔ پولوس رسول نے اُس بدروحی کے بارے میں یوں بات کی تھی ’’جس کی روح نافرمان لوگوں میں تاثیر کرتی ہے‘‘ (افسیوں2:2)۔ ایک وقت تھا جب خود میرا اپنا ذہن بدروحوں کے ذریعے سے اندھا کیا گیا تھا۔ یہ ہر اُس شخص کے بارے میں سچ ہے جو مسیح میں ایمان لا کر تبدیل نہیں ہوا ہوتا خُداوند یسوع مسیح کے وسیلے سے مخلصی نہیں پائی ہوتی۔ ہم سب کے سب مسیح کے ہمیں نجات دینے سے پہلے اور ہمارے دوبارہ نیا جنم لینے سے پہلے اُس حالت اور کیفیت میں ہوتے ہیں۔ حقیقی طور پر مسیح میں ایمان لا کر تبدیل ہونے والے لوگوں کا شیطان کی قوت سے ہمیشہ چُھٹکارہ ہوتا ہے!

یسوع صلیب پر آپ کے گناہ کا کفارہ ادا کرنے کے لیے قربان ہوا۔ اُس نے آپ کے ذہن اور دِل کو تمام گناہ سے پاک صاف کرنے کے لیے اپنا خون بہایا۔ وہ جسمانی طور پر مُردوں میں سے زندہ آپ کو زںدگی بخشنے – اور آپ کو شیطانی آسیبیت سے چھٹکارہ دلانے کے لیے ہوا! عظیم مبلغ اور حمدوثنا کے گیت نگار چارلس ویزلی Charles Wesley (1707 – 1788) نے اِس بات کو بخوبی لکھا،

وہ تنسیخ شُدہ گناہ کی قوت کو توڑتا ہے،
   وہ قیدی کو آزادی دیتا ہے؛
اُس کا خون غلیظ ترین کو پاک صاف کر دیتا ہے؛
   اُس کا خون میرے لیے فائدہ مند ہے!
(’’اوہ ہزار زبانوں کے لیے O For a Thousand Tongues‘‘ شاعر چارلس ویزلی
      Charles Wesley، 1707۔1788)۔

مسیح گناہ کی ’’قوت کو توڑتا‘‘ ہے! وہ ’’قیدی کو آزادی دلاتا ہے۔‘‘ اُس نے وہ ایک صبح میرے لیے کیا جب میں بیس برس کا تھا – اور وہ یہ آپ کے لیے بھی کر سکتا ہے! آج کی صبح یہاں پر سینکڑوں لوگ ہیں جو آپ کو بتا سکتے ہیں کہ مسیح نے اُنہیں گناہ سے اور آسیبوں سے آزاد کرایا۔ اگر آپ یسوع کے وسیلے سے نجات پا چکے ہیں، تو ابھی کھڑے ہو جائیں! – آپ تشریف رکھ سکتے ہیں۔ مسیح کے لیے بھی وہ کر سکتا ہے جو اُس نے اُن میں سے ہر ایک کے لیے کیا!

II۔ دوسری بات، یہ شخص تنہا تھا۔

بائبل کہتی ہے کہ وہ کسی ’’گھر میں نہیں بلکہ قبر میں رہا‘‘ تھا (لوقا8:27)۔ میری بیوی اور میں اُس جگہ پر گئے تھے۔ ہم نے پہاڑی کے پہلو میں اُن قبروں کو دیکھا تھا۔ وہ وہیں پر تھیں – پہاڑی کی چٹان میں سوراخ، جہاں پر مُردہ جسموں کو دفنایا جاتا تھا۔ بائبل کہتی ہے،

’’اور وہ دِن رات قبروں اور پہاڑوں میں برابر چیختا چلّاتا رہتا تھا اور اپنے آپ کو پتھروں سے زخمی کر لیتا تھا‘‘ (مرقس 5:5).

بے شمار نوجوان خواتین خود کو تیز دھار بلیڈوں کے ساتھ زخمی کر ڈالتی ہیں۔ اور وہ سمجھا نہیں سکتیں وہ کیوں ایسا کرتی ہیں۔ میں نے ایک نوعمر لڑکی کو ٹیلی ویژن پر دیکھا، جس نے اُسی طرح سے اپنے ہاتھوں کو بار بار زخمی کیا ہوا تھا۔ اُس انٹرویو کرنے والی نے اُس سے پوچھا تھا کیوں اُس نے ایسا کیا۔ اُس لڑکی نے کہا، ’’میں نہیں جانتی۔ ایسا کرنے کے لیے میں نے مجبور کیے جانے کو محسوس کیا تھا۔ میں روک نہیں پائی تھی۔‘‘ جس کی اُس نوجوان عورت کو ضرورت ہے وہ یسوع مسیح ہے! مسیح اُس شیطانی اسیری کو توڑ سکتا ہے!

اور ہماری تلاوت میں یہ شخص تنہا تھا! بدروحوں نے اُس کو اُس کے خاندان سے دور اُس تنہا جگہ میں پہنچا دیا تھا، جہاں یسوع اُس سے ملا تھا۔ آج امریکہ اور مغرب میں نوجوان لوگوں کے لیے تنہائی کے مقابلے میں کوئی بھی شدید بڑا مسئلہ نہیں ہے۔ تنہائی! بے شمار مسائل جن کا تجربہ نوجوان لوگ کرتے ہیں اُن کی جڑیں تنہائی میں ہوتی ہیں۔ بیٹلز Beatles گروہ نے تو یہاں تک کہ ایک مشہور گیت اِس کے بارے میں بنا ڈالا تھا، ’’سارے کے سارے تنہا لوگ، کہاں سے یہ سب چلے آتے ہیں؟‘‘ (’’Eleanor Rigby‘‘)۔

فلپ سلیٹرPhilip Slater نے تنہائی کا تعاقب: امریکی تہذیب ختم ہونے کے حد پر The Pursuit of Loneliness: American Culture at the Breaking Point، بیکن پریس Beacon Press، 2006 ایڈیشن) نامی ایک کتاب لکھی۔ تنہائی کے تعاقب میں، مصنف نے تنہائی کو ’’ٹیکنالوجی کے ساتھ قومی نشہ‘‘ سے جوڑا ہے۔ مسٹر سلیٹر نے کہا، ’’گاڑی نے، مثال کے طور پر، امریکہ میں سماجی زندگی کو تباہ کرنے کے لیے کسی اور چیز کے مقابلے میں زیادہ کام کیا ہے۔ اِس نے … اُنہیں اِدھر اُدھر بکھیر دیا ہے تاکہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ اجنبی بن جائیں‘‘ (صفحات126، 127)۔

نوجوان لوگ اپنی گاڑی لیتے ہیں اور سانتا باربرا یا برکلے میں کالج میں جانے کے لیے نکل پڑتے ہیں۔ یہ اِس قدر زیادہ آسان ہو گیا ہے، لیکن وہ اپنے سارے دوستوں کو کھو دیتے ہیں، غالباً ہمیشہ کے لیے۔ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ کالج کی عمر کے نوجوان لوگ اِس قدر زیادہ تنہا ہوتے ہیں۔ آپ کہتے ہیں، ’’ہم مِلتے رہیں گے۔‘‘ آپ کا مطلب ہوتا ہے ہم ایک دوسرے کے ساتھ ایس ایم ایس کر سکتے ہیں۔ کیا یہ بات آپ کو ’’رابطے میں‘‘ رکھتی ہے؟ جی نہیں – اِس میں ایک موبائل فون کے ذریعے سے کوئی بھی حقیقی ’’ملنا‘‘ نہیں ہوتا۔

گوئٹے مالا Guatemala میں میری بیوی کی دادی ماں اتنی ہی ہوشیار تھیں جتنی کہ سمجھ بوجھ رکھنے والی ایک ماہرِ عمرانیات۔ اُس کے بیٹوں نے اُس کے گھر میں ٹیلی فون لگوانے کی کوشش کی۔ اُس نے کہا، ’’جی نہیں۔ اگر میرے پاس فون آ گیا، تو تم مجھے ملنے کے لیے کبھی بھی نہیں آؤ گے۔‘‘ جب میں نوجوان لوگوں کو چلتے پھرتے ہوئے موبائل فون کے ساتھ چپکا ہوا دیکھتا ہوں تو مجھے یہ بات نہایت افسردہ کر دیتی ہے۔ ایک مشین اکثر حقیقی دوستوں کی جگہ لے لیتی ہے۔

کیا آپ نے ’’ہرHer‘‘ نامی اُس فلم کے بارے میں سُنا ہے؟ میں اُس کی تائید نہیں کرتا – یہ فلم ایک تنہا شخص کے بارے میں ہے جو دراصل اپنے کمپیوٹر کی محبت میں گرفتار ہو جاتا ہے، جس کو وہ ’’سمینتھا Samantha‘‘ کہتا ہے۔ میں نے اِسے نہیں دیکھا۔ اِس میں کچھ نمایاں جنسی مناظر ہیں۔ لیکن بے شمار نوجوان فطین لوگوں نے اِس کو دیکھا – ایک مشین کی محبت میں گرفتار ایک لڑکا! اِس کے بارے میں وِکیپیڈیا Wikipedia کے آرٹیکل کے لیے یہاں پر کلک کرنے کے ذریعے سے آپ اِس فلم کے بارے میں پڑھ سکتے ہیں۔ میں تائید نہیں کرتا کہ آپ اِس کو دیکھیں۔

میں یقین کرتا ہوں کہ امریکی اور یورپی تہذیب کی اِس تنہائی کو نوجوان لوگوں کو غلام بنانے اور اُنہیں تباہ کرنے کے لیے شیطان کے ذریعے سے استعمال کیا جاتا ہے۔ وہ نوجوان شخص جس نے چار میرینز Marines کو قتل کیا ’’کمپیوٹر‘‘ نامی ایک مشین کے ساتھ ISIS کے ذریعے سے جُڑا ہوا تھا۔ وہ واقعی میں تنہا تھا! جس آدمی کا سامنا یسوع نے کیا تھا وہ قبروں میں تنہا تھا۔ اُس کو بدروحوں کے ذریعے سے قابو میں کیا گیا تھا! خدا ہماری مدد کرے!

میں آپ کو اپنے موبائل فون سے اور اپنے کمپیوٹر سے چھٹکارہ پانے کے لیے نہیں کہہ رہا ہوں۔ لیکن میں کہہ رہا ہوں، ’’اِس مشینوں کو خود پر قابو مت کرنے دیجیے! کمپیوٹر سے اتنے کچھ عرصے کے لیے تو اُٹھ جائیں کہ کچھ حقیقی دوست بنا لیں! کمپیوٹر سے کچھ اتنے عرصے کے لیے تو اُٹھ جائیں کہ کچھ دیرپا دوستوں کو بنا لیں – اِس گرجا گھر میں!‘‘ قبرستان میں اُس شخص کے بارے میں ایک گیت کو سُنیں،

گھر اور دوستوں سے شیطانی روح نے اُسے دور کردیا،
   مزاروں میں اُس نے بدنصیبی میں بسیرا کیا؛
اُس نے اپنے آپ کو تنہا کرلیا جیسے ہی بدروحوں کی قوتوں نے اُس پر قبضہ کیا،
   پھر یسوع آیا اور اُس نے اسیر کو آزادی دلائی۔
جب یسوع آتا ہے تو آزمانے والے کی قوت ٹوٹ جاتی ہے؛
   جب یسوع آتا ہے تو آنسو پونچھے جاتے ہیں۔
وہ رنج و الم لے لیتا ہے اور زندگی کو جلال کے ساتھ بھر دیتا ہے،
   کیونکہ سب کچھ بدل جاتا ہے جب یسوع رہنے کے لیے آتا ہے۔
(’’پھر یسوع آتا ہےThen Jesus Came‘‘ شاعر اُوسولڈ جے۔ سمتھ، 1889۔1986؛
موسیقی ترتیب دی ہومر روڈیہورHomer Rodeheaver، 1880۔1955؛ نے)۔

نوجوان لوگو، میں آپ کو گرجا گھر میں آنے کے لیے مجبور کر رہا ہوں۔ یہاں پر اِتوار کی صبح اور اِتوار کی شام کو موجود ہوں۔ ہمارے ساتھ یہاں پر ہفتے کی شام کو بھی موجود ہوں! میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں – ہم آپ کے دوست بن جائیں گے! میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں – آپ تنہا محسوس نہیں کریں گے اگر آپ ہمارے ساتھ آتے ہیں! آمین!

III۔ تیسری بات، یہ نوجوان شخص یسوع سے خوفزدہ تھا۔

بائبل کہتی ہے کہ وہ

’’زور زور سے چلانے لگا، اَے یسوع، خدا تعالٰی کے بیٹے، تجھے مجھ سے کیا مطلب؟ تجھے خدا کی قسم مجھے عذاب میں نہ ڈال‘‘ (مرقس 5:7).

اُس نے یسوع سے خوف محسوس کیا تھا۔ وہ بات، بھی، نوجوان لوگوں میں آج عام ہو چکی ہے۔ یسوع اور یہ گرجا گھر آپ کی مدد کر سکتا ہے، لیکن آپ شاید خوفزدہ ہوتے ہیں! آپ شاید وابستگی کے بارے میں خوفزدہ ہوتے ہیں۔ آپ شاید ہر ہفتے کے ہر اختتام پر ہمارے ساتھ گرجا گھر میں چند ایک گھنٹے صرف کرنے کے لیے خوفزدہ ہوتے ہیں۔ میں صرف اتنا ہی کہہ سکتا ہوں کہ یہ بات مجھے افسردہ کر دیتی ہے۔ میں جانتا ہوں کہ آپ کے خوف شیطان کی طرف سے آتے ہیں۔ وہ ایسا کیوں کرتا ہے؟ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ وہ آپ کو کھو دے گا اگر آپ ہمارے ساتھ آئیں گے اور یسوع کے پاس جائیں گے۔

جب میں 19 برس کی عمر کا تھا تو رات میں تنہا لاس اینجلز کی سڑکوں پر پیدل چلا کرتا تھا۔ میرے ہائی سکول کے دوست چُھٹ چکے تھے۔ میں تنہا اور انتہائی تنہا تھا۔ ہفتے والے دِن کی ایک رات کو میں اُولیورا کی سڑک Olvera Street کے پاس سے گزرا۔ میں چائنہ ٹاؤن میں سے گزرا۔ میں دائیں جانب یعل کی سڑک Yale Street پر مُڑا۔ اُس سڑک کے اختتام کے قریب میں نے ایک گرجا گھر دیکھا۔ وہ بپتسمہ دینے والا ایک چینی گرجا گھر تھا۔ میں نے دروازے پر دستک دی لورنا لم Lorna Lum نامی ایک نوجوان خاتون نے دروازہ کھولا اور مجھ سے بات چیت کی۔ اُنہوں نے مجھے وہاں پر اگلے دِن آنے کے لیے مدعو کیا، جو کہ اِتوار تھا۔ میں وہاں پر اگلے دِن چلا گیا۔ اور میں وہاں بعد میں کئی سالوں تک جاتا رہا۔ یسوع نے مجھے نجات دی تھی جب میں وہاں پر تھا۔ میں نے وہاں پر حقیقی دیرپا دوست بنائے؛ لورنا اور مرفی لم Murphy Lum جیسے دوست۔

ہمارے سے خوفزدہ مت ہوں! یسوع سے خوفزدہ مت ہوں! ہمارے ساتھ آئیں اور ہم آپ کے ساتھ اچھائی کریں گے! ہمارے پاس واپس آئیں اور، میں آپ کے ساتھ وعدہ کرتا ہوں، یہ آپ کی زندگی کو بہتری کے لیے بدل ڈالے گا۔ اگرآپ ہمارے پاس دوبارہ اگلے ہفتے آتے ہیں – اور یسوع کے پاس بھی آتے ہیں – تو آپ خوش ہو جائیں گے آپ نے اب سے ہزار سال مذید اور کر لیے ہیں!

یسوع نے گراسینی کے اُس آدمی میں سے بدروحوں کو نکالا تھا۔ یسوع نے اُس کو نجات دلائی تھی! جی ہاں، اُس نے یسوع مسیح کے وسیلے سے نجات پائی تھی!

اِس لیے آج لوگوں نے نجات دہندہ کو قابل سمجھا ہے،
   وہ جنون، جنسی لذت اور گناہ کو فتح نہیں کر سکے؛
اُن کے ٹوٹے ہوئے دِلوں نے اُنہیں تنہا اور اُداس چھوڑ دیا ہے،
   پھر یسوع اُنہی میں بسا اور اُنہیں آزاد کیا۔
جب یسوع آتا ہے تو آزمانے والے کی قوت ٹوٹ جاتی ہے؛
   جب یسوع آتا ہے تو آنسو پونچھے جاتے ہیں۔
وہ رنج و الم لے لیتا ہے اور زندگی کو جلال کے ساتھ بھر دیتا ہے،
   کیونکہ سب کچھ بدل جاتا ہے جب یسوع رہنے کے لیے آتا ہے۔

مسیح آپ کو شیطان سے آزادی دلا سکتا ہے! مسیح آپ کو زندگی اور قوت بخش سکتا ہے! مسیح آپ کی زندگی بدل سکتا ہے! ہمیں یسوع مسیح کی جانب جانے والی راہ کو دکھانے کے لیے ایک موقع دیں! واپس آئیں اور ہم آپ کو وہ راہ دکھائیں گے! کوئی شاید کہتا ہے، ’’میں شیطان یا بدروحوں میں یقین نہیں رکھتا۔‘‘ یہ بات صحیح ہے۔ کوئی وقت تھا جب میں نے بھی اُن میں یقین نہیں کیا تھا۔ لیکن یہ کوئی سب سے اہم بات نہیں ہے۔ سب سے زیادہ اہم بات یہ جاننا ہے کہ یسوع آپ سے محبت کرتا ہے، اور یہ محسوس کرنا کہ ہم بھی آپ سے محبت کرتے ہیں! یہ دیرپا دوست بنانے کی جگہ ہے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں پر آپ سے پیار کیا جائے گا اور آپ کو قبول کیا جائے گا! اپنا ایمان یسوع میں رکھیں، جو خُدا کا اِکلوتا بیٹا ہے اور وہ آپ کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اور دائمی طور پر گناہ کے کفارے سے صلیب پر اپنی قربانی کے وسیلے سے نجات دے گا۔ آمین!


اگر اس واعظ نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز آپ سے سُننا پسند کریں گے۔ جب ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں تو اُنہیں بتائیں جس ملک سے آپ لکھ رہے ہیں ورنہ وہ آپ کی ای۔میل کا جواب نہیں دیں گے۔ اگر اِن واعظوں نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز کو ایک ای میل بھیجیں اور اُنہیں بتائیں، لیکن ہمیشہ اُس مُلک کا نام شامل کریں جہاں سے آپ لکھ رہے ہیں۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای میل ہے rlhymersjr@sbcglobal.net (‏click here) ۔ آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو کسی بھی زبان میں لکھ سکتے ہیں، لیکن اگر آپ انگریزی میں لکھ سکتے ہیں تو انگریزی میں لکھیں۔ اگر آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو بذریعہ خط لکھنا چاہتے ہیں تو اُن کا ایڈرس ہے P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015.۔ آپ اُنہیں اِس نمبر (818)352-0452 پر ٹیلی فون بھی کر سکتے ہیں۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہائیمرز کے واعظ www.sermonsfortheworld.com
یا پر پڑھ سکتے ہیں ۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

یہ مسوّدۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے ہمارے گرجہ گھر سے ویڈیو پر دوسرے تمام واعظ اور ویڈیو پیغامات حق
اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

واعظ سے پہلے کلام پاک کی تلاوت مسٹر ایبل پردھوم Mr. Abel Prudhomme نے کی تھی: متی8:28۔34۔
واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بینجیمن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith
نے گایا تھا: ’’پھر یسوع آتا ہے Then Jesus Came ‘‘
( شاعر ہومر روڈیہور Homer Rodeheaver ، 1880۔1955؛ پادری سے ترمیم کیا گیا).

لُبِ لُباب

آج کی بدروحیں

DEMONS TODAY

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

’’وہ جھیل کے پار گراسینیوں کے علاقے میں پہنچے۔ جونہی وہ کشتی میں سے اُترا ایک آدمی جس میں بدروح تھی قبرستان سے نکل کر اُس کے پاس آیا‘‘ (مرقس5:1۔2)۔

I.    پہلی بات، یہ نوجوان شخص آسیب زدہ تھا، افسیوں6:12؛ 2:2 .

II.   دوسری بات، یہ نوجوان شخص تنہا تھا، لوقا8:27؛ مرقس5:5 .

III.  تیسری بات، یہ نوجوان شخص یسوع سے خوفزدہ تھا، مرقس5:7 .