Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 215 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.co پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہمارے ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 36 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔

جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔


انجیلی بشارت کے پرچار کی تعلیم سب سے اہم بات ہے

EVANGELISM IS THE MAIN THING
(Urdu)

ڈاکٹر کرھیٹن ایل۔ چعین کی جانب سے
by Dr. Kreighton L. Chan

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
ہفتے کی شام، 6 اگست، 2016
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Saturday Evening, August 6, 2016

’’کیونکہ ہماری خُوشخبری محض الفاظ کے ذریعہ ہی نہیں بلکہ قدرت، پاک رُوح اور پورے یقین کے ساتھ تُم تک پہنچی… خدا کا پیغام تمہارے ذریعہ نہ صرف مکدنیہ اور اخیہ میں پھیلا بلکہ خدا پر تمہارا ایمان ایسا مشہور ہو گیا ہے کہ اب ہمیں اُس کا ذکر کرنے کی ضرورت نہیں رہی‘‘ (1۔تھسلنیکیوں 1:5،8).

ہمارے گرجہ گھر میں انجیلی بشارت کے پرچار کی تعلیم ’’سب سے اہم بات‘‘ ہے۔ جی ہاں، ہمیں گاڑیوں کی نگرانی کرنی پڑتی ہے لیکن یہ اہم بات نہیں ہے۔ جی ہاں ہمیں اِتوار کی رات کو گرجہ گھر کی صفائی کرنی ہوتی ہے لیکن یہ اہم بات نہیں ہے۔ جی ہاں ہمیں اور دوسرے کام کرنے ہوتے ہیں۔ لیکن اہم بات انجیلی بشارت کے پرچار کی تعلیم ہے۔ اہم بات انجیلی بشارت کے پرچار کی تعلیم سے اور زیادہ ناموں کو لے کر آنا ہوتا ہے! کیونکہ انجیلی بشارت کے پرچار کی تعلیم ہی وہ اہم بات ہے جو ہم کر رہے ہیں! اور اِس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ہم اور کیا کرتے ہیں، ہمیں اِس کی بصیرت کبھی بھی نہیں کھونی چاہیے۔ انجیلی بشارت کا پرچار ہمارے گرجہ گھر میں سب سے اہم بات ہے کیونکہ یہی وہ اہم بات ہے جو خُداوند چاہتا ہے کہ ہم کریں! انجیلی بشارت کی تعلیم ہی ہے جو ہم مسیح کے عظیم مقصد کو پورا کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہی ہے جس سے ہم خوشخبری کو پھیلاتے ہیں۔ انجیلی بشارت کے پرچار کی تعلیم ہی تھی جس سے ساری دُںیا میں مسیحیت پھیلی تھی! چین میں اور تیسری دُنیا میں مسیحیت پنپتی جا رہی ہے کیونکہ وہ انجیلی بشارت کے پرچار کی تعلیم دیتے ہیں۔ امریکہ میں مسیحیت مرتی جا رہی ہے کیونکہ گرجہ گھر انجیلی بشارت کے پرچار کی تعلیم نہیں دیتے۔ کسی بھی گرجہ گھر کے لیے انجیلی بشارت کے پرچار کی تعلیم دینا ’’زندگی اور موت‘‘ کا معاملہ ہونا چاہیے۔ ہمارے گرجہ گھر کا مستقبل انجیلی بشارت کے پرچار کی تعلیم پر منحصر کرتا ہے۔

نئے عہد نامے کے تمام صفحات پر انجیلی بشارت کے پرچار کی تعلیم کا اندراج ہے۔ ہم اِس کو اعمال کی کتاب میں دیکھتے ہیں۔ اور ہم اِس کو تھسلنیکیوں کی کلیسیاؤں میں دیکھتے ہیں۔ یہ ایک نوجوان کلیسیا تھی، ایک سال سے بھی کم عمر کی، نوجوان لوگوں پر مشتمل۔ وہ تھسلنیکیوں کے نوجوان لوگ ہمیں انجیلی بشارت کے پرچار کی تعلیم کی اہمیت دکھاتے ہیں۔

1 تھسلنیکیوں میں ہم پڑھتے ہیں کہ کیسے ابتدائی کلیسیا میں انجیلی بشارت کے پرچار کی تعلیم دی جاتی تھی۔ اور کیسے خُداوند نے اِس کو دھماکہ خیز ترقی کے ساتھ برکت دی۔ مہربانی سے کھڑے ہو جائیں اور اپنی بائبل 1تھسلنیکیوں1:4 کے لیے کھولیں۔ یہ سیکوفیلڈ بائبل میں صفحہ 1267 پر موجود ہے۔

میں انجیلی بشارت کے پرچار کی تعلیم کی اہمیت پر بات کررہا ہوں۔ اور کیوں اِس کو ہمارے گرجہ گھر میں سب سے اہم بات ہونا چاہیے۔

پہلے، خوشخبری کی منادی کا ہونا ضروری ہے۔ پولوس رسول نے تھسلنیکیوں کے لوگوں کو لکھا،

’’کیونکہ ہماری خُوشخبری محض الفاظ کے ذریعہ ہی نہیں بلکہ قدرت، پاک رُوح اور پورے یقین کے ساتھ تُم تک پہنچی‘‘ (1۔ تھسلنیکیوں 1:5).

پہلا کام جو ہم کرتے ہیں وہ انجیلی بشارت کے پرچار کی تعلیم کے دوران اُن کے نام حاصل کرتے ہیں۔ پھر ہم اُنہیں فون کرتے ہیں اور گرجہ گھر آنے کے لیے کہتے ہیں۔ لیکن وہ ہمارا حتمی ہدف نہیں ہوتا ہے۔ انجیلی بشارت کے پرچار کی تعلیم میں حتمی ہدف گمراہ لوگوں کو مسیح کے پاس لانا ہوتا ہے۔ مسیح کو ہماری منادی کے مرکز میں جگہ دی جاتی ہے۔ وہ ہماری منادی میں اہم بات بن جاتا ہے۔ اور ہمیں گمراہ لوگوں کے ساتھ خُدا کی موجودگی کے ہونے کے لیے دعا مانگنی چاہیے کہ وہ اُنہیں خوشخبری کو سُننے میں مدد دے۔ ہمیں پاک روح کے لیے دعا مانگنی چاہیے کہ وہ اُنہیں گناہ کی سزایابی میں لائے اور اُنہیں مسیح کی جانب کھینچے۔

’’ہم اُس مسیحِ مصلوب کی منادی کرتے ہیں … اُن کے لیے خواہ وہ یہودی کہلاتے ہوں یا غیر یہودی، مسیح خدا کی قدرت اور اُس کی حکمت ہے‘‘ (1۔ کرنتھیوں 1:23۔24).

انجیلی بشارت کی تعلیم میں، خوشخبری کی منادی ہونی چاہیے۔ اُس کے بعد، ایک زندہ جیتا جاگتا ایمان ہونا چاہیے۔ پولوس نے تھسلنیکیوں کے لوگوں کو خط لکھا،

’’خدا پر تمہارا ایمان ایسا مشہور ہو گیا ہے کہ اب ہمیں اُس کا ذکر کرنے کی ضرورت نہیں رہی‘‘ (1۔ تھسلنیکیوں 1:8).

تھسلنیکیہ میں مسیحیوں کے پاس ’’جیتا جاگتا ایمان‘‘ تھا جس کا دوسرے لوگوں پر شدید اثر پڑا تھا۔ وہ مسلسل گمراہ لوگوں میں انجیلی بشارت کا پرچار کر رہے تھے۔ مسیح میں اُن کا ایمان ساری جگہوں پر پھیل گیا تھا۔ لوگ جاننا چاہتے تھے کہ کس بات نے اِن لوگوں کو اِس قدر مختلف اور خاص بنا ڈالا تھا۔ اُن مسیحیوں میں وہی جوش پایا گیا تھا جو پولوس کے پاس تھا۔ پولوس کی مثال نے اُنہیں متاثر کیا تھا۔ اُس نے مسیح سے محبت کی تھی اور گمراہ جانوں سے پیار کرتا تھا۔ اور وہ انجیلی بشارت کے پرچار کی تعلیم میں جوشیلہ تھا۔ پولوس کی مثال نے گہری شدت کے ساتھ اُن لوگوں کو متاثر کیا تھا۔ پولوس نے کہا،

’’اور تُم ہمارے اور خداوند کے نقشِ قدم پر چلتے رہے‘‘ (1۔ تھسلنیکیوں 1:6).

وہ مسیح بخود کی اور رسول کی مثال کی پیروی کرنے کے وسیلے سے شاگرد بنے تھے۔ اور پولوس کا تاثر اِن مسیحیوں پر محض ایک مثال ہونے کے مقابلے میں کہیں گہرا تھا۔ پولوس نے کہا، ’’جب ہم تمہارے ہاں گئے تو تم نے کس طرح ہمارا اِستقبال کیا‘‘ (1 تھسلنیکیوں1:9)۔ اُنہوں نے وہی جوش پایا تھا جو پولوس کے پاس تھا۔ اور وہ پولوس ہی کی مانند لوگوں کو جیتنے والے بن گئے۔

میں اِس گرجہ گھر میں تقریباً 38 سالوں سے ہوں۔ اور اِن بے شمار سالوں کے دوران میں بشروں کے لیے ڈاکٹر ہائیمرز کے شدید جوش کو دیکھ چکا ہوں۔ میں اِس کوہر ہفتے اُن کی مخلصانہ خوشخبری کی منادی میں اور انجیلی بشارت کے پرچار کی تعلیم پر اُن کے اصرار میں دیکھا چکا ہوں۔ اور اُن کی مثال نے مجھے شدت کے ساتھ متاثر کیا ہے۔ بشروں کے لیے ڈاکٹر ہائیمرز کے جوش سے ہمیں سب کو متاثر ہونا چاہیے!

قدیم رومی دُنیا میں زندگی انتہائی مختلف تھی۔ زیادہ تر لوگ انتہائی نو عمری ہی میں مر جاتے تھے اور تقریبا ہر کوئی ہی بدنصیبی اور مایوسی محسوس کرتا تھا۔ لیکن تھسلنیکیوں کے مسیحی فاتحانہ زندگی بسر کرتے تھے۔ اُںہوں نے اپنی ہولناک حالت سے شکست نہیں کھائی تھی۔ پولوس رسول نے لکھا،

’’تُم نے کلام کو ایسی خُوشی کے ساتھ قبول کیا جو پاک رُوح کی بخشش ہے‘‘ (1۔ تھسلنیکیوں 1:6).

تھسلنیکیوں نے شدید اذیتوں کو برداشت کیا تھا، یہاں تک کہ ایک اوسط رومی شخص نے جو برداشت کیا اُس کے مقابلے میں کہیں زیادہ۔ کیونکہ رومی دُنیا مسیحیوں سے نفرت کرتی تھی۔ اُن کو دھشتناک طور سے اذیت دی جاتی تھی۔ اور بے شمار جو مسیح میں اپنے ایمان کے لیے مرے شہید بن گئے۔ اِس کے باوجود یہ لوگ شدید خوشی کے ساتھ لبریز تھے۔ اور اُن کی زندگی مکمل طور سے بدل چکی تھیں۔ وہ مسیح اُن کے لیے کیا کچھ کر سکتا تھا اُس کی گمراہ لوگوں کے لیے ایک بہت بڑی مثال تھے۔ روم میں، بت ہر طرف ہوا کرتے تھے۔ یہاں تک کہ رومی شہنشاہ نے خود کو ایک خُدا کی حیثیت سے پرستش کروانے کے لیے بڑھاوا دیا تھا۔ لیکن تھسلنیکیوں کے مسیحی مختلف تھے۔ اُںہوں نے اِن بتوں کی پرستش کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ وہ ’’کس طرح بتوں کی پرستش چھوڑ کر زندہ اور سچے خُدا کی عبادت کرنے کے لیے اُس کی طرف رجوع ہوئے‘‘ (1 تھسلنیکیوں1:9)۔ اور گمراہ لوگوں نے یہ دیکھا تھا! وہ مسیح کے بارے میں اور زیادہ جاننا چاہتے تھے۔ وہ اُسی خُوشی کو پانا چاہتے تھے جو اِن مسیحیوں کے پاس تھی۔ گمراہ لوگ تھسلنیکیوں کے مسیحیوں کی مثال کی پیروی کرنا چاہتے تھے۔ وہ زندہ اور سچے خُدا کو جاننا چاہتے تھے جس نے اُن مسیحیوں کو اِس قدر زیادہ خوشی بخشی تھی۔ لوگوں نے اِن مسیحیوں کے ایمان کو دیکھا۔ تھسلنیکیوں کے تاثر نے پولوس کی منادی کو پُراثر کر دیا تھا۔ جب لوگ دیکھتے ہیں کہ آپ مسیح کے لیے جوشیلے ہیں تو وہ اُس کے بارے میں مذید اور جاننا چاہیں گے!

مسیح میں قوت سے بھرپور اور جیتا جاگتا ایمان گمراہ گنہگاروں کو ہمارے گرجہ گھر کی جانب کھینچے گا اور اُنہیں یہیں پر رکھے گا۔ ہمارے پاس اور زیادہ جوش ہوگا کہ ناموں کو لانے کے لیے کالج کے کیمپسوں کے لیے باہر جا پائیں۔ ہم انجیلی بشارت کے پرچار کی تعلیم میں اور زیادہ وقت صرف کر پائیں گے اور ہم زیادہ ناموں کو اِکھٹا کر کے لا پائیں گے۔ ہم اپنے ہم جماعتوں اور دوستوں کو لائیں گے۔ ہمیں گمراہ لوگوں کو اور بہتر طور پر جاننے کی اور زیادہ خواہش ہو جائے گی۔ اور مسلسل اُنہیں کے بارے میں سوچتے رہیں گے اور اُن کی دیکھ بھال کرتے رہیں گے۔ ہم اُن کے لیے زیادہ شدت کے ساتھ مؤثر انداز میں دعا مانگنے کے قابل ہو جائیں گے۔

بھائیوں، بہنوں اور دوستو، ہمیں اور زیادہ انجیلی بشارت کی پرچار کی تعلیم دینی چاہیے۔ انجیلی بشارت کا پرچار ہی اہم بات ہے۔ تو آئیے پھر اِس بات کو یقینی بنائیں کہ اِس کو ہی مرکزی بات بنائیں! ہمارے پاس مسیح ہے اور خوشخبری کا پیغام ہے۔ آئیے تھسلنیکیوں کے مسیحیوں کی مانند ہو جائیں! آئیے انجیلی بشارت کے پرچار کی تعلیم کو اپنا اہم ہدف بنائیں جیسے یہ اُن کے لیے تھا! آئیے ہمارے اِردگرد گمراہ لوگوں کے لیے چمکتی روشنیاں بن جائیں۔ اور کاش خُداوند ہمیں وہ جوش بخشے کہ انجیلی بشارت کے پرچار کی تعلیم میں اور ناموں کو حاصل کر پائیں!

پولوس نے تھسلنیکیوں کے لوگوں کی کامیابی کے لیے خُدا کو تمام جلال بخشا تھا۔ کیونکہ اُن کی کامیابی کی وجہ خُدا کی طرف سے تھی۔ یہ خُدا تھا جس نے اُنہیں کامیابی بخشی تھی۔ خُداوند نے اِس بات کو یقینی بنایا تھا کہ وہ جن کو اُس نے نجات کے لیے چُنا انجیلی بشارت کے پرچار کی تعلیم کے ذریعے سے اُس میں لائیں جائیں۔ یہ خُدا ہی ہے جو اُس منادی میں طاقت لایا تھا جس نے اُن کی مسیح میں ایمان لا کر تبدیل ہونے میں رہنمائی کی تھی۔ یہ خُدا ہی تھا جس نے پولوس کے بشروں کو جیتنے میں ایک مثال بننے کے لیے مدد کی تھی۔ یہ خُداوند ہی تھا جس نے تھسلنیکیوں کے لوگوں میں پولوس کی مانند بننے کی خواہش پیدا کی تھی۔ یہ خُداوند ہی تھا جس نے اُنہیں ایک جیتا جاگتا ایمان بخشا تھا۔ اور یہ خُداوند ہی تھا جس نے اُن کی انجیلی بشارت کے پرچار کی تعلیم کو مؤثر بنایا تھا۔

آئیے دعا مانگیں کہ خُداوند ہمارے ذریعے سے ہماری انجیلی بشارت کے پرچار کی تعلیم میں اور زیادہ کام کرے تاکہ ہم ایک عظیم گرجہ گھر کی تعمیر کر پائیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ میں آپ کو مذید اور ناموں کو لانے کے لیے کہہ رہا ہوں۔ ذاتی طور پر کی گئی انجیلی بشارت کے پرچار کی تعلیم کے ذریعے سے ناموں کو لے کر آئیں۔ اور زیادہ ناموں کو لائیں جب آپ ہمارے ساتھ انجیلی بشارت کے پرچار کی تعلیم کے لیے ذاتی طور پر جائیں۔ زیادہ نام اور فون نمبرز اور زیادہ مسیح میں ایمان لا کر لوگوں کی تبدیلیوں کا باعث بنیں گے۔ یہی طریقہ اور زیادہ لوگوں کو نئی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں اضافہ کرنے کے لیے ہے! آمین۔


اگر اس واعظ نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز آپ سے سُننا پسند کریں گے۔ جب ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں تو اُنہیں بتائیں جس ملک سے آپ لکھ رہے ہیں ورنہ وہ آپ کی ای۔میل کا جواب نہیں دیں گے۔ اگر اِن واعظوں نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز کو ایک ای میل بھیجیں اور اُنہیں بتائیں، لیکن ہمیشہ اُس مُلک کا نام شامل کریں جہاں سے آپ لکھ رہے ہیں۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای میل ہے rlhymersjr@sbcglobal.net (‏click here) ۔ آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو کسی بھی زبان میں لکھ سکتے ہیں، لیکن اگر آپ انگریزی میں لکھ سکتے ہیں تو انگریزی میں لکھیں۔ اگر آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو بذریعہ خط لکھنا چاہتے ہیں تو اُن کا ایڈرس ہے P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015.۔ آپ اُنہیں اِس نمبر (818)352-0452 پر ٹیلی فون بھی کر سکتے ہیں۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہائیمرز کے واعظ www.sermonsfortheworld.com
یا پر پڑھ سکتے ہیں ۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

یہ مسوّدۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے ہمارے گرجہ گھر سے ویڈیو پر دوسرے تمام واعظ اور ویڈیو پیغامات حق
اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔