Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 215 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.co پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہمارے ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 36 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔

جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔


کیا تمہارا دِل خاردار زمین ہے؟

IS YOUR HEART THORNY GROUND?
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
خُداوند کے دِن کی صبح، یکم مئی، 2016
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Morning, May 1, 2016

’’اور بے دینی کے بڑھ جانے کے باعث کئی لوگوں کی محبت ٹھنڈی پڑ جائے گی‘‘ (متی 24:12).

ہمارے گرجہ گھروں کے ساتھ کیا بات غلط ہے اِس کو سمجھنے کے لیے نئے عہد نامے میں یہ ایک کُلیدی آیت ہے۔ اگر آپ کو اِس آیت کی سمجھ نہیں آتی تو آپ نہ ہی تو مسئلے کو سمجھ سکتے ہیں اور نہ ہمارے گرجہ گھر میں مسئلے کے حل کو سمجھ سکتے ہیں۔ یہ ایک ایسی کُلیدی آیت ہے کہ میرا ذہن بار بار، سال ہا سال، دہائی کے بعد دہائی اِس ہی کی طرف واپس جاتا ہے۔ میں نے پہلی مرتبہ اِس آیت کو بلی گراہم Billy Graham سے سُنا تھا۔ جب میں ایک نوبالغ تھا تو تقریباً ہر اِتوار کی دوپہر کو ریڈیو پر اُنہیں منادی کرتے ہوئے سُنا کرتا تھا۔ مسڑ گراھم اکثر اِس آیت کا حوالہ دیا کرتے تھے جب وہ ہمارے زمانے کے خاتمے کی علامات پر منادی کیا کرتے تھے۔ اُن کی آخری واقعی میں اچھی کتاب دُنیا آتشِ گرفتہ World Aflame (ڈبل ڈے Doubleday، 1965) تھی۔ بلی گراھم نے یہ بیان دیا،

     یسوع نے کہا، ’’جوں جوں لاقانویت پھیلے گی، لوگوں کی ایک دوسرے کے لیے محبت ٹھنڈی پڑ جائے گی‘‘ (متی24:12 NEB)۔ لیکن یاد رہے آخری زمانے میں بُرے دِن آئیں گے لوگ خود غرض، زّردوست، شیخی باز، مغرور، بدگو، ماں باپ کے نافرمان، ناشکرے، ناپاک، محبت سے خالی، بے رحم، بدنام کرنے والے، بے ضبط، تُندمزاج، نیکی کے دشمن، دغاباز، بےحیا، گھمنڈی، خُدا کی نسبت عیش و عشرت کو زیادہ پسند کرنے والے ہوں گے۔ وہ دینداروں کی سی وضع تو رکھیں گے لیکن زندگی میں دینداری کا کوئی اثر قبول نہیں کریں گے‘‘ (2تیموتاؤس3:1۔5)… یہ سب کچھ دور تک پھیلی ہوئی منافقت کے ایک ایسے زمانے کی جانب اشارہ کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے جب لوگوں کے ہجوموں کے ہجوم یسوع مسیح کے ساتھ بغیر کسی ذاتی تجربے کےگرجہ گھر میں ہانکے جائیں گے… جھوٹے اُستاد گرجہ گھر میں چُپکے سے گھس جائیں گے… وہ ’برگشتہ ہو جانے والوں‘ کے رہنما ہوں، جس سے زمانے کے خاتمے پر گرجہ گھر یا کلیسیا کی خصوصیت مانا جائے گا (بلی گراھم، ڈی۔ڈی۔ Billy Graham, D.D.، دُنیا آتشِ گرفتہ World Aflame، ڈبل ڈے اور کمپنی Doubleday and Company، 1965، صفحات 220، 221، 219)۔

بعد میں مَیں نے ایک غور طلب بات پڑھی جو مسٹر گراھم نے ڈاکٹر ایم۔ آر۔ ڈیحان Dr. M. R. DeHaan کے بیٹے کو بھیجی تھی۔ جب ڈاکٹر ڈیحان 1965 میں ایک کار کے حادثے میں فوت ہوئے تھے تو مسٹر گراھم نے کہا اُس نے بے شمار خیالات [آئیڈیاز] ڈاکٹر ڈیحان سے اُن کے ریڈیو پروگرام پر سُننے سے حاصل کیے تھے۔ اپنی کتاب زمانوں کی علامات Signs of the Times میں، ڈاکٹر ڈیحان نے کہا،

اِرتداد اور سرد مہری کا ذکر اگلے گناہوں کے طور پر کیا گیا۔ ’’کیونکہ بے دینی کے بڑھ جانے کے باعث کئی لوگوں کی محبت ٹھنڈی پڑ جائے گی‘‘ (متی 24:12). انسانی تاریخ میں یا بات کبھی بھی اِس قدر سچی نہیں رہی تھی جس قدر سچی یہ بات آج ہے۔ چند ایک مختصر دہائیوں میں، ہم پیوریٹن آباؤاِجداد کے سادہ سے ایمان سے جُدا ہو چکے ہیں… مسیحیوں میں یہ بات انتہائی المناک طور پر سچی ہے کہ ’’کئی لوگوں کی محبت سرد پڑ جائے گی۔‘‘ کئی لوگوں کی محبت سرد پڑ چکی ہے (ایم۔ آر۔ ڈیحان، ایم۔ ڈی۔ M. R. DeHaan, M. D.، زمانوں کی علاماتSigns of the Times، ژونڈروان اشاعتی گھر Zondervan Publishing House، 1951، صفحہ58)۔

بلی گراھم اور ڈاکٹر ڈیحان کو سُننے کے بعد سے لیکر، میں متی24:12 پر غورو فکر کرتا رہا ہوں۔ وہ الفاظ یسوع مسیح کی طرف سے ہیں، جس نے یہ بات شاگردوں کے سوال ’’تیری آمد اور زمانہ کے خاتمہ کی علامت کیا ہوگی؟‘‘ کے جواب میں کہی تھی۔ اُس سوال کا مسیح کے جواب کا کچھ حصّہ ہماری تلاوت تھی،

’’کیونکہ بے دینی کے بڑھ جانے کے باعث کئی لوگوں کی محبت ٹھنڈی پڑ جائے گی‘‘ (متی 24:12).

I۔ پہلی بات، مسیح نے یہ کب رونما ہونے کے لیے کہا تھا؟

اُس نے کہا تھا یہ ’’[اُس کے] آنے، اور دُنیا کے خاتمہ کی علامت‘‘ کی حیثیت سے رونما ہوگا (متی24:3)۔ بے شمار دوسرے صحائف زمانے کے خاتمے کی اِس علامت کے بارے میں بات کرتے ہیں۔ اِس صفحے (1033) کے نیچے دی گئی سیکوفیلڈ غور طلب بات بجا طور سے کہتی ہے یہ آیت ’’زمانے کے خاتمہ کے لیے ایک مخصوص طرز میں لاگو ہوتی ہے… وہ سب کچھ جس نے زمانے کو مخصوص کر دیا ہے خاتمے پر ناخوشگوار شدت میں اکٹھا ہو جاتا ہے‘‘ (سیکوفیلڈ مطالعۂ بائبل Scofield Study Bible، 1917، صفحہ 1033؛ متی24:3 پر غور طلب بات)۔ میں بے شمار دوسری آیات کی فہرست پیش کر سکتا ہوں، جیسے کہ 2تیموتاؤس3:1۔13؛ یہودہ4، 19؛ مکاشفہ3:14۔22، وغیرہ۔

آپ نوجوان لوگوں کو کوئی اندازہ ہی نہیں ہے کہ کلیسیائیں کس قدر زیادہ برگشتہ یا گمراہ ہو چکی ہیں۔ مگر اپنی زندگی میں یہ بات میں واضح طور سے دیکھتا ہوں۔ میں نے 1969 میں ایک مقامی گرجہ گھر کے حیاتِ نو کو دیکھا۔ مگر اُس وقت سے لیکر، میں نے کسی بھی اور حیات نو کے بارے میں امریکہ اور مغربی دُنیا میں کہیں بھی نہیں سُنا ہے! کسی ایک کے بارے میں بھی نہیں سُنا! اب، اور زیادہ سے زیادہ، ہم ہمارے گرجہ گھروں میں متی 24:12 کی دُکھی کر دینے والی تصویر دیکھتے ہیں،

’’اور چونکہ بے دینی کے بڑھ جانے کے باعث کئی لوگوں کی محبت ٹھنڈی پڑ جائے گی‘‘ (متی 24:12).

یہ ہے ہمارے زمانے میں بپٹسٹ اور دوسرے انجیلی بشارت کا پرچار کرنے والے گرجہ گھروں کی حالت۔ یہ ہی وہ واحد قسم کے گرجہ گھر ہیں جن میں آپ کبھی گئے یا جن کے بارے میں آپ نے اپنی مختصر سی زندگی میں سُنا۔ جب تک آپ ماضی کے حیاتِ انواع کے بارے میں نہیں پڑھ لیتے تب تک آپ کو اندازہ ہی نہیں ہو سکتا کہ ہمارے گرجہ گھر آج کس قدر ہولناک اور مرتد ہو چکے ہیں! آپ شاید سوچیں میں عجیب و غریب بات کر رہا ہوتا ہوں جب میں ایک بہتر قسم کے گرجہ گھر کے بارے میں بولتا ہوں، کیونکہ آپ نے کبھی بھی دیکھا ہی نہیں، ایک کسی ایک کے بارے میں اپنی مختصر سی زندگی میں سُنا ہی نہیں۔ ڈاکٹر کینتھ کونولی Dr. Kenneth Connolly، جنہوں نے ہمارے گرجہ گھر میں بات کی تھی اُنہوں نے کہا کہ آپ ایک ایسی نسل میں زندگی بسر کر رہے ہیں جس نے کبھی بھی حیات نو کو نہیں دیکھا – کم از کم مغربی دُنیا میں کہیں بھی نہیں!

’’اور کیونکہ بے دینی کے بڑھ جانے کے باعث کئی لوگوں کی محبت ٹھنڈی پڑ جائے گی‘‘ (متی 24:12).

II۔ دوسری بات، مسیح نے کیوں کہا یہ رونما ہو گا؟

تلاوت کے پہلے لفظ ’’اور‘‘ پر غور کریں۔ اور کیونکہ بے دینی کے بڑھ جانے کے باعث کئی لوگوں کی محبت ٹھنڈی پڑ جائے گی۔‘‘ آیات 10 سے لیکر 12 تک ’’اور‘‘ کے تسلسل پر غور کریں۔ ’’اور… بہت سے لوگ عداوت رکھیں گے۔‘‘ (آیت10)۔ ’’اور بہت سے جھوٹے نبی اُٹھ کھڑے ہونگے‘‘ (آیت11)۔ ’’اور بہت سوں کو دھوکہ دیں گے‘‘ (آیت11)۔ اور کیونکہ بے دینی بڑھ جائے گی‘‘ (آیت12)۔ ’’اور‘‘ کا یہ تسلسل اِن باتوں کے ساتھ ختم ہوتا ہے جو یہ پیدا کرتی ہیں – یہ باتیں جنم دیتی ہیں ’’کئی لوگوں کی محبت سرد پڑ جائے گی۔‘‘ اُن تمام ’’اوروں‘‘ کا حتمی نتیجہ کلیسیائیں یا گرجہ گھر ہیں جہاں پر ’’کئی لوگوں کی محبت [’’زیادہ تر‘‘ NIV] سرد پڑ جائے گی۔‘‘ گرجہ گھر تقسیم ہوتے ہیں اور گرجہ گھر آیت 10 کے بارے میں لڑتے ہیں، جس کے بعد جھوٹے مبلغین آتے ہیں جو لوگوں کو دھوکہ دیں گے [’’گمراہ کریں‘‘ NASV] گے، جس کے بعد گرجہ گھروں میں بے دینی [آنومیہ anomia؛ ’’لاقانونیتlawlessness‘‘ NASV] ایک ایسی کلیسیا پیدا کر چکی ہوگی، جو سرد لوگوں سے بھری ہوگی جن میں کوئی ’’آگاپیوagapeo‘‘ کوئی مسیحی محبت نہیں ہوگی – مسیح کے لیے کوئی محبت نہیں ہوگی، اور گرجہ گھر میں دوسرے لوگوں کے لیے کوئی محبت نہیں ہوگی! یہ ہے جو آپ پا چکے ہونگے! لفظ ’’اور‘‘ کا وہ سلسلہ ہم پر ظاہر کرتا ہے کیوں ہم میں ’’انجیلی بشارت کے پرچار کرنے کی ایک انتہائی بہت بڑی بربادیGreat Evangelical Disaster‘‘ آ چکی ہے (ڈاکٹر فرانسس شیفر کی کتاب کا عنوان استعمال کرتے ہوئے!)۔ گرجہ گھروں کی لڑائیوں (آیت10)، جھوٹے مبلغین جو موقع تاڑ کر اُٹھ کھڑے ہوتے ہیں (آیت11)، اور اخلاقی طور پر گِرے ہوئے اور مسیح میں ایمان نہ لائے ہوئے اراکین کی ایک بہت بڑی تعداد کے درمیان کثیر لاقانونیت کی وجہ سے بپٹسٹ اور ایونجیلیکل [انجیلی بشارت کا پرچار کرنے والے] گرجہ گھر ایک بربادی ہیں، جو سرد کلیسیائیں پیدا کرتے ہیں جن میں مسیح کے لیے کوئی محبت نہیں ہوتی اور ایک دوسرے کے لیے کوئی محبت نہیں ہوتی!

’’اور کیونکہ بے دینی کے بڑھ جانے کے باعث کئی لوگوں کی محبت ٹھنڈی پڑ جائے گی‘‘ (متی 24:12).

III۔ تیسری بات، وہ کئی لوگ کون ہیں جو سرد پڑ جاتے ہیں؟

وہ ’’کئی لوگ‘‘ وہ لوگ ہیں جو مسیح میں ایمان نہیں لائے ہوئے ہیں یعنی غیرنجات یافتہ لوگ، یا جو شدید طور سے اخلاقی طور پر گِرے ہوئے ہیں، جو اِس حقیقت سے ثابت ہوتی ہے کہ اِس زمانے کی لاقانونیت والی روح اُن کی محبت اور اُن کے جوش کا دَم گُھوٹ دیتی ہے۔ اُن کی ’’سرد مہری بڑھ جاتی‘‘ ہے کیونکہ دُنیا کی روح کسی بھی جوشیلی محبت پر جس کا شاید اُنہوں نے اظہار کیا ہوتا ہے سبقت لے جاتی ہے۔

بیج بونے والے کی تمثیل اِس بات کو واضح کر دیتی ہے کہ کیوں وہ ’’کئی لوگ‘‘ ’’سرد مہر‘‘ بن جاتے ہیں۔ بیج بونے والے کی تمثیل چار طرح کے لوگوں کو پیش کرتی ہے، اور کیسے ہر گروہ خوشخبری کی منادی پر ردعمل کرتا ہے۔ تمثیل میں چار قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ پہلے تین قسم کے لوگ حقیقی مسیحی نہیں ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر جے۔ ورنن میگی Dr. J. Vernon McGee نے کہا، ’’یہ [پہلی] تین قسموں کی زمین تین قسم کے ایمانداروں کو ظاہر نہیں کرتی ہے – اور سرے سے ایماندار ہیں ہی نہیں! اُںہوں نے صرف کلام کو سُنا ہے اور صرف اُس کو پانے کا اِقرار کیا ہے‘‘ (جے۔ ورنن میگی، ٹی ایچ۔ ڈی۔ J. Vernon McGee, Th.D.، بائبل میں سے Thru the Bible، جلد چہارم، متی 13:22 پر غور طلب بات)۔ لہٰذا، صرف چوتھی قسم کے لوگ ہی واقعی میں نجات پائے ہوئے لوگ ہیں۔ باقی کے تمام گمراہ یا گمشدہ لوگ ہیں۔

تمثیل میں وہ ’’بیج‘‘ خُدا کا کلام ہے۔ ڈاکٹر میگی نے کہا، ’’غور کریں بیج کہاں پر گِرتا ہے۔ یہ چار قسم کی زمینوں پر گِرتا ہے – اور بیج میں سے تین چوتھائی اُگتا ہی نہیں – وہ مر جاتا ہے۔ بیج میں کوئی خرابی نہیں تھی، مگر مسئلہ زمین کے ساتھ تھا۔‘‘ وہ جہاں پر بیج سڑک کے کنارے پر گِرتا ہے، وہ لوگ ہیں کلام کو سُنتے ہیں اور ابلیس ایک دم سے اِس کو فوراً اُن میں سے نکال لے جاتا ہے۔ یہ اُن لوگوں کو ظاہر کرتے ہیں جو گرجہ گھر میں چند ایک مرتبہ آتے ہیں مگر یہ اُنہیں بالکل بھی نہیں بدلتا۔ دوسری قسم کے وہ لوگ ہیں جہاں کلام پتھریلی زمین پر گِرتا ہے، جو کلام کو قبول کرتے ہوئے تو دکھائی دیتے ہیں مگر جیسے ہی وہ مسائل اور اذیتوں کے اِمتحان میں پڑتے ہیں تو اُسی وقت پسپا ہو جاتے ہیں۔ تیسری قسم کے وہ لوگ ہیں جو کانٹوں کے درمیان بیج کو پاتے ہیں۔ وہ کلام کو سُنتے ہیں اور مسیح میں ایمان لا کر تبدیل ہوتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ لوقا8:14 کو سُنیں،

’’اور جھاڑیوں میں گرنے والے بیج سے مُراد وہ لوگ ہیں جو کلام کو سُنتے تو ہیں لیکن رفتہ رفتہ زندگی کی فکروں، دولت اور عیش و عشرت میں پھنس جاتے ہیں اور اُن کا پھل پک نہیں پاتا‘‘ (لوقا 8:14).

خُداوند کا کلام ’’اٹک جاتا‘‘ ہے – اِس زندگی کی فکروں اور دولت اور عیش و عشرت کے ساتھ ’’اٹک جاتا‘‘ ہے، اور کوئی پھل کامل نہیں ہو پاتا‘‘ (یا پختہ نہیں ہو پاتا)؛ لوقا8:14۔ ڈاکٹر میک آرتھر، حالانکہ یسوع کے خون کے بارے میں غلط ہیں، لوقا8:14 پر دُرست ہیں۔ اُنہوں نے کہا، ’’یہ دوغلی ذہنیت والے لوگ عارضی [دُنیاوی] چیزوں کے ساتھ بھسم ہو جاتے ہیں – گناہ سے بھرپور عیش و عشرت، چاہتیں اور خواہشات، تمنائیں، کیرئیر، گھربار، گاڑیاں، عزت و وقار، تعلقات، شہرت – اِن میں سے تمام کی تمام خوشخبری کے بیج کو اٹکا دیتی ہیں لہٰذا وہ پھل پکا ہی نہیں پاتے… یہ پہلے سے ہی قبضے میں آیا وہ دُنیاوی دِل ہے، ’اِس زندگی کی فکروں اور دولت اور عیش و عشرت کے ذریعے سے اٹکا ہوا‘‘‘ (میک آرتھر کا نئے عہد نامے پر تبصرہThe MacArthur New Testament Commentary؛لوقا8:14 پر غور طلب بات)۔

یہ دیکھنا آسان ہے پہلی قسم کے لوگ کون ہیں۔ ’’شیطان فوراً آتا ہے اُن کے دِلوں میں بویا ہوا کلام کا بیج نکال کر لے جاتا ہے‘‘ (مرقس4:15)۔ وہ چند ایک واعظ سُنتے ہیں، اور ہم پھر کبھی بھی اُنہیں دوبارہ نہیں دیکھتے۔ یہ دیکھنا بھی نہایت آسان ہے کہ دوسری قسم کے لوگ کون ہیں۔ وہ نجات یافتہ دکھائی دیتے ہین، مگر ’’وہ کچھ دِنوں تک ہی قائم رہتے ہیں اور بعد میں، جب اُن پر اِس کلام کی وجہ سے [مصیبت] یا ایذا برپا ہوتی ہے تو وہ فوراً گِر جاتے [’برگشتہ ہو جاتے،‘ NIV] ہیں،‘‘ مرقس4:17 .

مگر ’’پتھریلی زمین‘‘ والے لوگ کونسے ہیں یہ بتانے کے لیے بہت دیر لگ جاتی ہے۔ ہمارے دورِ حاضرہ کے بپٹسٹ گرجہ گھروں (یہاں تک کہ ہمارے اپنے) میں ہم اُنہیں ایمان کا اقرار کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ بے شمار مرتبہ یہاں تک کہ یہ ایک ایسا اقرار ہوتا ہے جس میں جِدوجہد اور آنسو شامل ہوتے ہیں۔ وہ بچوں کی حیثیت سے یا نو بالغوں کی حیثیت سے سیکھتے ہیں، کہ اُنہیں مسیح کے پاس جانے سے پہلے ایک جدوجہد میں سے گزرنا پڑے گا۔ وہ کہیں گے کہ اُن کے پاس ایک نیا دِل ہے اور مسیح کی خدمت کرنے کے لیے ایک نئی خواہش ہے۔ وہ کئی مرتبہ مجھے بیوقوف بنا چکے ہیں۔ وہ اِس قدر مخلص دکھائی دیتے ہیں۔ وہ عظیم مسیحیوں کی مانند لگتے ہیں۔ وہ اُس وقت تک ہوتا ہے جب تک وہ نوجوان بالغ نہیں ہو جاتے۔ یہ صرف اُسی وقت ہوتا ہے جب اُن کی گواہی میں دڑاریں نمودار ہونا شروع ہوتی ہیں۔ اُن کو اُن کے والدین کی جانب سے پیسے دیے جاتے ہیں۔ اُنہیں بِنا کرائے کے اُن کے والدین کے گھر میں رہنے کے لیے ایک کمرہ دیا جاتا ہے۔ وہ خرچے کے لیے پیسے دیے جاتے ہیں۔ مگر پھر وہ کالج کی تعلیم مکمل کر لیتے ہیں۔ اب وہ نوکری حاصل کر سکتے ہیں، اور اگر وہ گریجوایٹ سکول میں پڑھنے کے لیے جاتے ہیں تو وہ قرض بھی حاصل کر سکتے ہیں۔ اب وہ ’’آزاد‘‘ ہونے کے اِمکان کو دیکھتے ہیں – جیسا کہ وہ اِس کو کہتے ہیں۔ یہ صرف اِسی وقت ہوتا ہے کہ اُن کی گواہی میں دڑاروں کا پتا لگنا شروع ہوتا ہے۔ اِس سے پہلے اُنہوں نے کبھی بھی کسی ایسی بات کے بارے میں یقین کرنے یا اُس کو کرنے کا سوچا ہی نہیں ہوتا جو اُن کے آباؤاِجداد نے یا اُن کے پادری صاحبان نے منظور نہ کی ہو۔ بہت دیر بعد گرجہ گھر کے رہنما دیکھ پاتے ہیں کہ وہ غلط جا رہے ہیں۔ اُنہیں روکنا ممکن نہیں ہو پاتا کیونکہ اب اُنہیں ہماری مدد کی ضرورت نہیں ہوتی۔ آہستہ آہستہ وہ مسیح کے لیے اپنے جوش اور اپنی محبت کو اُکھاڑ پھینکتے ہیں اور وہ [خود کو] اِس زندگی کے معاملات کے ساتھ اُلجھا لیتے ہیں‘‘ (2تیموتاؤس2:4)۔ اگر گرجہ گھر کے رہنما اُنہیں تحفظ کے لیے واپس لانے کی کوشش کریں تو وہ ناراض ہو جاتے ہیں اور تلخ ہو جاتے ہیں۔ پھر شیطان اپنی جگہ بناتا ہے اور اُنہیں سرگوشی کرنا شروع کرتا ہے، ’’اُن کی مت سُنو! اُنہیں کیا پتا ہے؟‘‘ اور یوں، بالاآخر، وہ ابلیس اور دُنیا کی بانہوں میں کھینچے چلے جاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں، ’’میں نے گرجہ گھر کو نہیں چھوڑا‘‘ – جیسا کہ گرجہ گھر کو چھوڑنا واحد گناہ تھا! مگر اُن کے دِل مسیح کو پہلے ہی چھوڑ رہے ہوتے ہیں!

عُزیّاہ صرف سولہ برس کی عمر کا تھا جب ہم پہلی مرتبہ بائبل میں اُس کا سامنا کرتے ہیں۔ جب وہ نوجوان تھا ’’اُس نے وہی کیا جو خُدا کی نظر میں دُرست تھا‘‘ (2تواریخ26:4)۔ زکریاہ نبی اُس کا نگہبان تھا۔ ’’اور جب تک وہ خُداوند کا طالب رہا خُدا نے اُسے کامیابی بخشی‘‘ (2تواریخ26:5)۔ اور ہمیں بتایا گیا، ’’اُس کی شاندرانہ طور پر مدد کی گئی جب تک کہ وہ طاقتور نہ ہو گیا۔‘‘ لیکن پھر، ’’جب وہ زور آور ہو گیا تو اُس کا غرور اُس کے زوال کا باعث ہوا – اُس کا دِل اِس قدر مغرور ہو چکا تھا کہ وہ خُداوند اپنے خُدا کا وفادار نہ رہا‘‘ (2تواریخ26:16 KJV، NASV)۔ جب وہ زورآور ہوگیا تو اُس کا دِل اِس قدر مغرور ہو گیا کہ وہ گمراہ ہو گیا! اور خُداوند نے عُزیّاہ کو تکلیف میں مبتلا کیا اور ’’مرتے دم تک کوڑھی رہا‘‘ (2تواریخ26:21)۔

عُزیّاہ کی زندگی خُداوند کے ذریعے سے ہمارے لیے ایک مثال کے طور پر پیش کی گئی ہے۔ وہ اُس نوجوان آدمی یا عورت کی ایک تصویر ہے جو اپنے دِلوں میں خُدا کے کلام کا دم نکالنے کے لیے کانٹوں کو اُگنے دیتے ہیں۔ اور فکروں کے ساتھ گُھٹ جاتے ہیں، ضرورت کے مقابلے میں زیادہ پیسوں کی آرزو کے ساتھ، اور جان کو تباہ کر دینے والی اُلجھنوں کے ساتھ جیسے کینسر، جو آہستہ آہستہ جسم کو مارتا ہے گُھٹ جاتے ہیں، اِس طرح سے یہ کانٹے آہستگی سے مگر یقینی طور پر اُن لوگوں کی جانوں کو جو اُنہیں ایسا کرنے کی اِجازت دیتے ہیں دَم گُھوٹنے دیتے ہیں۔ کیا آپ کی محبت سرد پڑ چکی ہے؟ کیا آپ دُنیاوی بن رہے ہیں؟ کیا آپ باغی بن رہے ہیں؟ کیا آپ جہاں پہلے کہیں تھے اُس کے مقابلے میں اب ایک بدترین جگہ پر ہیں؟ اوہ، اپنی دُنیاداری سے مُنہ موڑیں۔ اپنی بغاوت سے مُنہ موڑیں۔ واپس مُڑیں۔ توبہ کریں۔ ایسے ہی کیوں جیا جائے جیسے کہ آپ ہیں جب کہ آپ اب بھی مسیح میں سکون پا سکتے ہیں – اگر آپ اپنی بغاوت اور تکبر سے مُنہ موڑتے ہیں اور اُس یسوع کے قدموں میں گِرتے ہیں، جو آپ کو نجات دلانے کے لیے قربان ہو گیا؟

’’اور کیونکہ بے دینی کے بڑھ جانے کے باعث کئی لوگوں کی محبت ٹھنڈی پڑ جائے گی‘‘ (متی 24:12).

بیج بونے والے کی تمثیل پیش کی گئی ہے – ’’خود اپنا جائزہ لینے کے لیے کہ یہ دریافت کر پائیں آپ کس گروہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ اگر آپ پہلے تین گروہوں میں سے کسی ایک سے تعلق رکھتے ہیں تو آپ کو مسیح میں ایمان لا کر تبدیل ہو جانا چاہیے‘‘ – یا کم از کم، ’’جو تعلیم تو نے پائی اور سُنی تھی اُس پرقائم رہ اور توبہ کر‘‘ (مکاشفہ3:3)۔ انتہائی کم ترین طور پر توبہ کریں اور مسیح کو اپنی زندگی دوبارہ وقف کریں، اِس سے پہلے کہ آپ واقعی میں ایک ’’پتھریلی زمین‘‘ والی ہستی بن جائیں! (ولیم ھینڈریکسن، ٹی ایچ۔ڈی۔ William Hendriksen, Th.D.، لوقا کی انجیل The Gospel of Luke، بیکر کُتب گھر Baker Book House، 1978، صفحہ429؛ لوقا8:14 پر غور طلب بات)۔

آپ کو کہنا چاہیے، ’’ہائے خُداوندا، میں اپنے غرور اور بغاوت سے مُنہ موڑتا ہوں! اوہ خُداوند، مجھے مسیح کے خون کے ساتھ واقعی میں پاک صاف کر دے!‘‘ اے خُدایا، مجھ میں ایک پاک صاف دِل پیدا کر دے‘‘ (زبور51:10)۔

مہربانی سے کھڑیں ہوں اور اپنے گیتوں کے ورق پر سے حمدوثنا کا گیت نمبر4 گائیں۔


’’مجھے اپنا دِل دے دو، بالا سے باپ کہتا ہے،
   ہمارے پیار سے زیادہ قیمتی اُس کے لیے کوئی تحفہ نہیں ہے؛
دھیمے سے وہ سرگوشی کرتا ہے، جہاں کہیں بھی تم ہو،
   شکریے کے ساتھ مجھ پر بھروسہ کرو، اور مجھے اپنا دِل دے دو۔‘‘
’’مجھے اپنا دِل دے دو، مجھے اپنا دِل دے دو،‘‘
   دھیمی سرگوشی کو سُنو، جہاں کہیں بھی تم ہو:
اِس تاریک دُنیا سے وہ تمہیں اُٹھا لے جائے گا؛
   اِس قدر نرمی سے وہ بولتا ہے، ’’مجھے اپنا دِل دے دو۔‘‘

’’مجھے اپنا دِل دے دو،‘‘ لوگوں کا نجات دہندہ کہتا ہے،
   بار بار رحم میں بُلاتا ہے؛
’’گناہ سے ابھی مُنہ موڑ لو، اور بدی سے الگ ہو جاؤ،
   کیا میں تمہارے لیے قربان نہیں ہوا؟ مجھے اپنا دِل دے دو۔‘‘
’’مجھے اپنا دِل دے دو، مجھے اپنا دِل دے دو،‘‘
   دھیمی سرگوشی کو سُنو، جہاں کہیں بھی تم ہو:
اِس تاریک دُنیا سے وہ تمہیں اُٹھا لے جائے گا؛
   اِس قدر نرمی سے وہ بولتا ہے، ’’مجھے اپنا دِل دے دو۔‘‘

’’مجھے اپنا دِل دے دو،‘‘ الہٰی روح کہتا ہے؛
   جو کچھ بھی تمہارے پاس ہے، مجھے رکھنے کے لیے چھوڑ دو؛
زیادہ بہتات میں فضل تمہیں بخشنے کے لیے میرا ہی ہے،
   مکمل طور پر خود کو حوالے کرو اور مجھے اپنا دِل دے دو۔‘‘
’’مجھے اپنا دِل دے دو، مجھے اپنا دِل دے دو،‘‘
   دھیمی سرگوشی کو سُنو، جہاں کہیں بھی تم ہو:
اِس تاریک دُنیا سے وہ تمہیں اُٹھا لے جائے گا؛
   اِس قدر نرمی سے وہ بولتا ہے، ’’مجھے اپنا دِل دے دو۔‘‘
(’’مجھے اپنا دِل دے دو Give Me Thy Heart‘‘ شاعر علیزہ ای۔ حیویٹ
      Eliza E. Hewitt، 1851۔1920)۔

اگر آپ نے ابھی تک نجات نہیں پائی ہے، تو میں آپ سے التجا کرتا ہوں کہ اپنے گناہ سے مُنہ موڑ لیں اور یسوع پر بھروسہ کریں۔ وہ آپ کے گناہ کی ادائیگی کے لیے صلیب پر قربان ہوا۔ وہ آپ کو دائمی زندگی بخشنے کے لیے مُردوں میں سے زندہ ہوا۔ میں دعا مانگتا ہوں کہ آپ اُس یسوع پر بھروسہ کریں گے اور اُس کے لیے زندگی گزاریں گے۔ آمین۔

اگر اِس واعظ نے آپ کو برکت بخشی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز آپ سے سُننا چاہیں گے۔ جب آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں تو آپ اُنہیں ضرور بتائیں کہ آپ کس مُلک سے لکھ رہے ہیں ورنہ وہ آپ کی ای میل کو جواب نہیں دیں گے۔ اگر اِن واعظوں نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز کو ایک ای میل لکھیں اور اُنہیں بتائیں، لیکن ہمیشہ جس ملک سے آپ لکھ رہے ہیں اُس کا نام شامل کریں۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای میل ہے rlhymersjr@sbcglobal.net (click here) ۔ آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو کسی بھی زبان میں لکھ سکتے ہیں، لیکن اگر آپ انگریزی میں لکھ سکتے ہیں تو انگریزی میں لکھیں۔ اگر آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو بذریعہ خط لکھنا چاہتے ہیں تو اُن کا ایڈرس ہے P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015.۔ آپ اُنہیں اِس نمبر (818)352-0452 پر ٹیلی فون بھی کر سکتے ہیں۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہائیمرز کے واعظ www.sermonsfortheworld.com
یا پر پڑھ سکتے ہیں ۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

یہ مسودۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے تمام ویڈیو پیغامات حق اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے
جا سکتے ہیں۔

واعظ سے پہلے کلامِ پاک کی تلاوت مسٹر ایبل پرودھوم Mr. Abel Prudhomme نے کی تھی: مرقس4:13۔20 .
واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بنجیمن کنکیتھ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith نے گایا تھا:
’’میری زندگی لے لے اور اِسے ہو جانے دےTake My Life and Let It Be‘‘
(شاعر فرانسس آر۔ حیورگال Frances R. Havergal، 1836۔1879)۔

لُبِ لُباب

کیا تمہارا دِل خاردار زمین ہے؟

IS YOUR HEART THORNY GROUND?

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

’’اور بے دینی کے بڑھ جانے کے باعث کئی لوگوں کی محبت ٹھنڈی پڑ جائے گی‘‘ (متی 24:12).

(2تیموتاؤس3:1۔5)

I.    پہلی بات، میسح کب کہتا ہے یہ رونما ہوگا؟ متی24:3 .

II.   دوسری بات، مسیح کیوں کہتا ہے یہ رونما ہوگا؟
متی24:10، 11، 12 .

III.  تیسری بات، وہ بے شمار لوگ کون ہیں جو سرد پڑ جاتے ہیں؟ لوقا8:14؛
یہودہ1:8؛ مرقس4:15، 17؛ 2تیموتاؤس2:4؛
2تواریخ26:4، 5، 16، 21؛ زبور51:10؛ مکاشفہ3:3 .