Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 215 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.co پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہمارے ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 36 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔

جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔


انتہائی شدید دور میں سے گزر کر بادشاہت میں داخل ہونا

ENTERING THE KINGDOM
THROUGH MUCH TRIBULATION
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
خُداوند کے دِن کی صبح، 24 اپریل، 2016
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Morning, April 24, 2016

’’اور جب وہ شہر میں خوشخبری سُنا چکے اور کثرت سے شاگرد بنا چکے، تو وہ دوبارہ لُسترہ، اکُنیم اور انطاکیہ لَوٹ گئے۔ وہ شاگردوں کی حوصلہ افزائی کرتے اور اُنہیں نصیحت دیتے تھے کہ اپنے ایمان پر مضبوطی سے قائم رہو اور کہتے تھے کہ خدا کی بادشاہی میں داخل ہونے کے لیے بہت سی مصیبتوں کا سامنا کرنا لازم ہے‘‘ (اعمال 14:21۔22).

حال ہی میں مَیں نے دو نوجوان لوگوں کو کہتے ہوئے سُنا کہ مجھے 25 سال پہلے جس بہت بڑی تقسیم سے ہمارا گرجہ گھر گُزرا اُس کے بارے میں باتیں کرنے سے رُک جانا چاہیے۔ اُںہوں نے کہا کہ مجھے مستقبل پر بات کرنی چاہیے اور ماضی میں اُن ہولناک باتوں کے بارے میں جن سے ہمارے لوگ گُزرے بات نہیں کرنی چاہیے۔ اب میں ہمیشہ تنقیدوں کو سُنتا ہوں، خصوصی طور پر دوستوں کی جانب سے تنقیدوں کو۔ اور یہ نوجوان لوگ میرے دوست ہیں۔ لیکن وہ بالکل ہی غلط ہیں! مکمل طور پر غلط! درحقیقت میں بجا طور سے اُس ہولناک گرجہ گھر کی تقسیم پر منادی کر ہی نہیں پایا۔ اور خُدا نے مجھ پر ظاہر کیا کہ مجھے اِس پر دوبارہ اور بار بار تبلیغ کرنی چاہیے – جب تک کہ اِس کا پیغام آپ کے دِلوں میں گھر نہ کر جائے اور آپ کی زندگی کو بدل نہ ڈالے! اور تب مجھے اِس کی اِس سے بھی زیادہ منادی کرنی چاہیے! جی ہاں، زیادہ اور زیادہ اور زیادہ – دوبارہ اور بار بار!

کہانی سادہ ہے۔ ماضی میں اُس وقت ہمارے پاس تقریباً 500 سے زیادہ لوگ تھے۔ لیکن ہمارے گرجہ گھر کا ایک مخصوص ’’رہنما‘‘ تھا جو کہتا تھا میں انتہائی منفی تھا۔ اُس نے کہا میں لوگوں سےبہت زیادہ ہی تقاضا کرتا ہوں۔

اُس نے مجھے جابر اور آمِر کہا کیونکہ میں وہ تبلیغ کرتا تھا جس کی منادی مسیح نے کی تھی – ’’جو کوئی اپنی صلیب اُٹھا کرمیرے پیچھے نہیں آتا، وہ میرا شاگرد نہیں ہو سکتا‘‘ (لوقا14:27)۔ اور اِس طرح سے چار سو لوگوں نے ہمارے گرجہ گھر کو چھوڑ دیا، ایک ’’آسان‘‘ زندگی پانے کے لیے۔ اُس کے ساتھ کیا ہوا؟ خوب، وہ ’’سابقہ رہنما‘‘ اُن میں سے تقریباً صرف چودہ یا پندرہ لوگوں کو اپنے اُس ’’آسان‘‘ اِتوار کی – صبح – صرف کم سے گرجہ گھر میں رکھ پایا۔ باقی لوگ ہوا میں تِتر بِتر ہو گئے۔ اُن میں کوئی بھی کبھی بھی فتح یاب مسیحی نہ بن پایا، یا کوئی زیادہ کام خُدا کے لیے کر پایا۔ اُن کی روحانی زندگی خشک ہو گئی، اور وہ خزاں کے پتوں کی مانند اُڑا دیے گئے۔ مسیح نے کہا، ’’جو کوئی ہل پر ہاتھ رکھ کر پیچھے کی طرف دیکھتا ہے وہ خُدا کی بادشاہی کے لائق نہیں‘‘ (لوقا9:62)۔

جی ہاں، میں ’’اُن 39‘‘ لوگوں پر منادی کرنے لگا ہوں جنہوں نے اِس عمارت کو بچایا۔ میں اُن چار سو لوگوں پر منادی کرنے جا رہا ہوں جنہوں نے گرجہ گھر کو چھوڑا اور دُنیا میں واپس چلے گئے!جی ہاں، میں کرنے جا رہا ہوں! گرجہ گھر میں پروان چڑھے کچھ باغی بچے اور پرانی غلطیاں دُہرانے والے کہتے ہیں، ’’وہ کینسر میں مبتلا ایک بوڑھا آدمی ہے اوروہ کچھ زیادہ نہیں کہے گا۔‘‘ اِس مغالطے میں مت رہیے گا! میں ابھی مرا نہیں ہوں! اور میں اِتنا ہی آج کی صبح ذرا سی بھی اینٹی نو میئن اِزم antinomianism اور نئی کمزور انجیلی بشارت کی تعلیم کے پرچار سے نفرت کرتا ہوں جتنا چالیس سال پہلے کرتا تھا! جی ہاں، نفرت ہی دُرست لفظ ہے۔ میں اِس سے نفرت کرتا ہوں! نفرت – نفرت! ایک بہت بڑی سی نفرت، کیونکہ مسیح خود اِس سے نفرت کرتا تھا! بائبل کہتی ہے، ’’بُرائی سے نفرت کرو، اور اچھائی سے محبت‘‘ (عاموس5:15)۔

مسیح نے اُن کمزور، اینٹی نومیئن، نئی انجیلی بشارت کی تعلیم کا پرچار کرنے والے سُست، لودیکیہ کے لوگوں سے کہا – یہ ہے جو مسیح کہتا ہے، ’’میں تُجھے اپنے مُنہ سے اُگل دوں گا‘‘ (مکاشفہ3:16)۔ جی ہاں! میں اپنے مُنہ سے باہر تیری اُلٹی کر دوں گا‘‘ (رائری Ryrie، NASV مارجن)۔ میں تیری قے کر دوں گا! میں تیری قے کر دوں گا! میں تیری اُلٹی کر دوں گا، تجھے تھوک دوں گا، اُگل دوں گا – اپنے مُنہ میں سے باہر!‘‘ اُس آیت کے بارے میں ڈاکٹر چارلس سی۔ رائری Dr. Charles C. Ryrie نے کہا، ’’وہ نیم گرم یا غیرجانبدار یا مفاہمانہ… کلیسیا خُداوند سے گِھن کرتی ہے، اور اپنے مقصد کے لیے نقصان کا باعث ہوتی ہے‘‘ (رائری مطالعۂ بائبل Ryrie Study Bible؛ مکاشفہ3:16 پر غور طلب بات)۔

لودیکیہ کے نیم گرم لوگوں کے لیے علاج کیا ہے؟ انجیلی بشارت کی نئی تعلیم کی کاہلی اور بغاوت کے لیے علاج کیا ہے؟ علاج یہیں ہماری تلاوت میں ہی موجود ہے:

’’خدا کی بادشاہی میں داخل ہونے کے لیے ہمیں بہت سی مصیبتوں کا سامنا کرنا لازم ہے‘‘ (اعمال 14:22).

پولوس رسول اور اُس کا معاون برنباس لُسترہ، اکُنیم اور انطاکیہ کے لیے واپس لوٹے۔ وہ وہاں اُن شہروں میں واپس اُن نئے مسیحیوں کو تعلیم دینے کے لیے گئے تھے۔ ڈاکٹر تھامس ھیل Dr. Thomas Hale نے یہ رائے پیش کی۔ اُنہوں نے کہا،

     ایک جگہ پر صرف ایک ہی مرتبہ خوشخبری کی منادی کر دینا کافی نہیں ہوتا ہے۔ اُن نئے ایمانداروں کو تعلیم دینا اور اُنہیں ایمان میں قائم رکھنا بھی ضروری ہوتا ہے۔ اور یہی تھا جو پولوس اور برنباس نے کیا۔ اُنہوں نے [مسیح میں ایمان لا کر تبدیل ہونے والے نئے] لوگوں کو خبردار کیا کہ خُدا کی بادشاہی میں داخل ہونے کے لیے اُنہیں مشکلات کو برداشت کرنا پڑے گا۔ اگر وہ مسیح کی وراثت میں رفیق ہونا چاہتے ہیں تو اُنہیں اُس کے لیے مصیبتیں بھی برداشت کرنی چاہیے (تھامس ھیل، ایم۔ڈی۔ Thomas Hale, M.D.، نئے عہد نامے پر لاگو تبصرہ The Applied New Testament Commentary، چیریعٹ وِکٹر اشاعتی گھر Chariot Victor Publishing، 1997؛ اعمال14:22 پر غور طلب بات)۔

آیت 23 پر اپنے تبصرے میں، ڈاکٹر ھیل نے نشاندہی کی کہ وہ تمام لوگ جن کو پولوس اور برنباس نے تعلیم دی تھی نئے مسیحی تھے۔ اُنہوں نے کہا یہاں تک کہ اُن کلیسیاؤں میں ’’بزرگان‘‘ ’’خود نئے ایمانداروں میں سے تھے‘‘ (ibid.، آیت23)۔ پولوس اور برنباس نے اِن نئے نویلے مسیحیوں کو تعلیم دی تھی کہ ’’خدا کی بادشاہی میں داخل ہونے کے لیے ہمیں بہت سی مصیبتوں کا سامنا کرنا لازم ہے‘‘ (اعمال 14:22). میتھیو ھنریMathew Henry کا تبصرہ کہتا ہے، ’’نا صرف اُنہیں ہی چاہیے، بلکہ ہمیں بھی چاہیے: اِس بات کو شمار کر دیا جانا چاہیے کہ وہ تمام لوگ جو آسمان میں جائیں گے اُنہیں بہت زیادہ مصیبتوں اور اذیتوں کی توقع رکھنی چاہیے… کوئی سوچے گا یہ تو اُن کے لیے دھلا دینے والی بات ہوگی، اور اُنہیں خستہ حال کر دے گی۔ جی نہیں… یہ اُںہیں مُستحکم ہونے میں مدد دے گی، اور اُنہیں مسیح کے لیے قائم کر دے گی… ’وہ تمام جو مسیح یسوع میں دیندار زندگی بسر کریں گے اذیتیں برداشت [کریں گے]‘… وہ تمام جو مسیح کے شاگرد ہونا چاہتے ہیں اپنی صلیب اُٹھانی چاہیے‘‘ (تمام بائبل پر میتھیو ھنری کا تبصرہMathew Henry’s Commentary on the Whole Bible؛ اعمال14:22 پر غور طلب بات)۔

یسوع، میں نے اپنی صلیب اُٹھا لی ہے، سب کچھ چھوڑنے اور تیری پیروی کرنے کے لیے؛
   مفلس، حقیر جانا گیا، اکیلا چھوڑا گیا، اب سے تجھ پر ہی میرا آسرا ہے:
ہر مہربان آرزو مر چکی ہے، وہ تمام جس کی میں نے کوشش کی اور اُمید کی اور جانا۔
   اِس کے باوجود میری حالت کتنی مالدار ہے، خُدا اور آسمان ابھی تک میرے اپنے ہیں!
(’’یسوع، میں نے اپنی صلیب اُٹھا لی ہے Jesus, I My Cross Have Taken‘‘
      شاعر ھنری ایف۔ لائٹ Henry F. Lyte، 1793۔1847)۔

’’خدا کی بادشاہی میں داخل ہونے کے لیے ہمیں بہت سی مصیبتوں کا سامنا کرنا لازم ہے‘‘ (اعمال 14:22).

I۔ پہلی بات، مسیح میں ایمان لا کر تبدیل ہونے کی بہت سی مصیبتیں۔

تلاوت اِس کے بارے میں بتاتی ہے، ’’خدا کی بادشاہی میں داخل ہونے کے لیے ہمیں بہت سی مصیبتوں کا سامنا کرنا لازم ہے.‘‘ وہ یونانی لفظ جس نے بہت سے مصیبتوں tribulation‘‘ کا ترجمہ کیا ’’تھلِپسسthlipsis‘‘ ہے۔ اِس کا مطلب ہوتا ہے ’’دباؤ، ذہنی اذیت، بوجھل، اِنتشار انگیز‘‘ (Strong)۔ بائبل میں مسیح پر ایمان لا کر تبدیل ہونے والے اُن عظیم مثالی لوگوں کے بارے میں سوچیں۔ یعقوب کی تبدیلی اُن میں سے ایک ہے۔

’’یعقوب اکیلا رہ گیا اور ایک آدمی پوپھٹنے تک اُس سے کُشتی لڑتا رہا۔ جب اُس آدمی نے دیکھا کہ وہ یعقوب پر غالب نہیں آسکتا تو اُس نے یعقوب کی ران کے جوڑ کو ایسا چھُوا کہ اُس آدمی سے کُشتی لڑتے لڑتے اُس کی نس چڑھ گئی‘‘ (پیدائش 32:24، 25).

وہ شخص جس نے یعقوب سے کشتی لڑی تھی خُدا کا بیٹا تھا، اور یعقوب نے کہا، ’’میں نے خُدا کو روبرہ دیکھا تو بھی میری جان سلامت رہی۔ اور جب وہ فنی ایل سے چلا تو سورج نکل چکا تھا اور وہ اپنی ران کی وجہ سے [لنگڑا کر چل رہا تھا،NASV]‘‘ (پیدائش32:30، 31)۔ اپنی باقی کی عمر یعقوب لنگڑا کر چلتا رہا کیونکہ وہ اپنے مسیح میں ایمان لا کر تبدیل ہونے والی رات کو زخمی ہوا تھا، جب اُس کا نام یعقوب سے اسرائیل میں بدل گیا تھا ’’جس کا مطلب ہوتا ہے ’یہ خُدا کے ساتھ لڑتا ہے‘‘‘ (رائری مطالعہ بائبل Ryrie Study Bible)۔ ماضی میں خود اپنے مسیح میں ایمان لا کر تبدیل ہونے کے بارے میں سوچیں۔ کیا آپ خُدا کے ساتھ نہیں لڑے تھے؟ کیا آپ کے مسیح پر بھروسہ کرنے سے پہلے کوئی جدوجہد نہیں ہوئی تھی؟

پھر پولوس کی مسیح میں ایمان لانے کی تبدیلی پر غور کریں۔ اُس کا مسیح کے ساتھ سامنا ہوا تھا جس نے کہا، ’’تیرے لیے ستانا مشکل ہوتا جا رہا ہے [تو مجھے کیوں ستا رہا ہے]‘‘ اعمال9:5)۔ ڈاکٹر ھنری ایم۔ مورس Dr. Henry M. Morris نے کہا وہ ’’ایک اڑیل جانور کی مانند پیش آ رہا تھا، جو اپنی لگام میں چُبھن کے باعث درد کے خلاف بغاوت کر رہا تھا‘‘ (دفاع کرنے والوں کا مطالعۂ بائبل The Defender’s Study Bible)۔ ’’اور اُس نے کپکپاتے ہوئے اور حیرت سے کہا، خُداوند، تو کیا چاہتا ہے کہ میں کروں؟‘‘ (اعمال9:6)۔ پھر پولوس نے اپنے مسیح میں ایمان لا کر تبدیل ہونے سے پیشتر تین دِن اندھے پن اور روزہ رکھنے میں گزارے (اعمال9:17)۔

پھر مسیحی تاریخ کے بہت بڑے بڑے لوگوں کے مسیح میں ایمان لا کر تبدیل ہونے کے بارے میں پڑھیں – آگسٹینAugustine کے بارے میں، لوتھرLuther، بنعینBunyan، وائٹ فیلڈWhitefield، ویزلیWesley، سپرجیئنSpurgeon کے بارے میں پڑھیں۔ وہ سب کے سب گناہ کے بوجھ سے دبے اور شدید گہری پریشانی میں بہت بڑی مصیبتوں، ذہنی اذیت، بوجھل پن اور اِنتشار انگیزی میں سے گزرے تھے – اُن کے نجات دہندہ پر ایمان لانے سے پہلے۔ کیا آپ سوچتے ہیں آپ کم از کم دباؤ کے کچھ احساس، ذہنی اذیت، اور آپ کے گناہ کے لیے بوجھ کے بغیر واقعی میں مسیح میں ایمان لا کر تبدیل ہو سکتے ہیں؟ آپ ایک غلط فیصلہ کر سکتے ہیں۔ لیکن کوئی بھی شخص گناہ کی سزایابی کے بغیر سچے طور پر مسیح میں ایمان لا کر تبدیل نہیں ہوتا۔ شیطان کچھ لوگوں سے کہتا ہے کہ وہ کمزور ہوتے ہیں اگر وہ آنسو بہاتے ہیں۔ اِس لیے وہ ’’مردانہ پن‘‘ میں سزایابی کی مزاحمت کرتے ہیں۔ وہ مردانہ پن نہیں ہوتا! وہ ایک احمق کی خودسری ہوتی ہے – جو خُدا کے روح کی مزاحمت کر رہا ہوتا ہے! مسیح سے مزاحمت کر رہا ہوتا ہے جو اُس کو بچانے کے لیے صلیب پر مرا تھا۔ کیا آپ نے کبھی اپنے گناہوں کے لیے آنسو بہائے؟ ’’آپ مجھ سے ایسا کبھی بھی نہیں کروا پائیں گے،‘‘ وہ کہتا ہے۔ ’’آپ مجھے کمزور نہیں بنا پائیں گے۔ میں کوئی ذرا ذرا سی بات پر رونے والا شخص نہیں ہوں!‘‘ وہ شیخی مارتا ہے۔ میں کہتا ہوں آپ ابلیس کے مقابلے میں کوئی بہتر نہیں ہیں – جو خُدائے قادر مطلق کے سامنے جُھکنے سے انکار کرتے ہیں۔ ایک شخص جو اپنے گناہوں کے لیے آنسو بہانے سے خوفزدہ ہوتا ہے دِل سے بزدل ہوتا ہے۔ یعنی کہ وہ ’’he-man‘‘ نہیں ہوتا۔ یعنی کہ وہ ’’macho-man‘‘ نہیں ہوتا۔ وہ ایک روندھو بزدل ہوتا ہے جو خُدائے قادرِ مطلق کے سامنے اپنے گناہوں کا اعتراف کرنے سے خوفزدہ ہوتا ہے!

’’خدا کی بادشاہی میں داخل ہونے کے لیے ہمیں بہت سی مصیبتوں کا سامنا کرنا لازم ہے‘‘ (اعمال 14:22).

II۔ دوسری بات، تقدیس و تحریم کی بہت سی مصیبتیں۔

نا صرف مسیح میں ایمان لا کر تبدیل ہونے کے وقت ہی بہت سی مصیبتیں ہوتی ہیں – ایک پُختہ مسیحی بننے کے لیے بھی بہت سی مصیبتیں ہوتی ہیں۔ پولوس رسول نے کہا،

’’مصیبت سے صبر پیدا ہوتا ہے۔ اور صبر سے مُستقل مزاجی اور مُستقل مزاجی سے اُمید پیدا ہوتی ہے۔ ایسی اُمید ہمیں مایوس نہیں کرتی کیونکہ جو پاک روح ہمیں بخشا گیا ہے اُس کے وسیلہ سے خدا کی محبت ہمارے دلوں میں ڈالی گئی ہے‘‘ (رومیوں 5:3۔5).

میں مسیح کے خون پر جان میک آرتھر John MacArthur کے ساتھ متفق نہیں ہوتا ہوں۔ وہ اُس اہم موضوع پر شدید غلطی پر ہیں! لیکن رومیوں5:3۔5 پر اُن کے تبصرے میں وہ بالکل دُرست ہیں۔ اُنہوں نے کہا، ’’بہت سی مصیبتیں، دباؤ کے لیے ایک لفظ کا استعمال، بالکل اُس شکنجے کی مانند جو انگوروں یا زیتونوں میں سے رس نچوڑتا ہے۔ یہاں پر وہ زندگی بسر کرنے کے عام دباؤ نہیں ہوتے، بلکہ وہ ناگزیر مشکلات ہوتی ہیں جو مسیح کی پیروکاروں پر آتی ہیں… ایسی دشواریاں زرخیز روحانی فوائد پیدا کرتی ہیں… صبر، یہ لفظ برداشت کی نشاندہی کرتا ہے، ہار مانے بغیر شدید وزن اور دباؤ کے نیچے رہنے کی صلاحیت… جو وہ مشکلات پیدا کرتی ہیں اُن کی وجہ سے مسیحی بہت سی مصیبتوں میں جلال پاتے ہیں‘‘ (میک آرتھر مطالعۂ بائبل The MacArthur Study Bible

ہم بہت سی مصیبتوں، دباؤ اور آزمائشوں اور صدموں سے گزر کر مضبوط مسیحی بنتے ہیں۔ جب میں نے اُن دو نوجوان لوگوں کو کہتے سُنا مجھے اولیواس Olivas والی تقسیم پر بات نہیں کرنی چاہیے، میں جان گیا یہ شیطان کی آواز تھی جو اُن کے ذہنوں میں ڈالی گئی تھی۔ میں جانتا تھا وہ بالکل غلطی پر تھی۔ اور اِس بات نے اُس ہولناک آزمائش کے بارے میں جس میں سے ہمارے وفادار لوگ اِس گرجہ گھر کو بچانے کے لیے گزرے پہلے کے مقابلے میں اور زیادہ منادی کرنے کے لیے میرا اِرادہ اور پختہ کر دیا۔ آپ کیسے کبھی بھی ایک پختہ مسیحی بننے کے لیے اُمید کر سکتے ہیں اگر آپ خُود اُن آزمائشوں میں سے گزرنے سے انکار کر دیتے ہیں؟ ہم اُن لوگوں کو جنہوں نے ہمارے گرجہ گھر کو بچایا ’’اُن 39‘‘ کہتے ہیں۔ تقریباً 39 لوگوں نے مصائب برداشت کیے تاکہ آپ یہ عمدہ گرجہ گھر کی عمارت کو پا سکیں۔ اُنہوں نے آپ کے لیے اپنی زندگیاں قربان کر دیں۔ آپ اُن کے بارے میں مجھے بات نہ کرنے کا کہنے کی جرأت کیسے کر سکتے ہیں؟ آپ کی ہمت کیسے ہوئی! آپ نے کبھی بھی خُدا کے لیے کوئی قربانی نہیں دی! کوئی تعجب کی بات نہیں خُدا آپ کو حقیقی نہیں لگتا ہے! کوئی تعجب کی بات نہیں آپ اپنے بارے میں بُرا محسوس کرتے ہیں، اور اپنا جوش اور ایمان کھو چکے ہیں! آپ کو ’’اُن 39‘‘ ہی کی مانند ایک اچھا مسیحی بننے کے لیے بہت سی مصیبتوں میں سے گزرنا ہوگا۔ آپ کون سی مصیبتوں میں سے گزر چکے ہیں؟ کوئی بھی نہیں! آپ اِس بات کا فائدہ اُٹھاتے ہیں کہ آپ کے لیے ہر ایک چیز مہیا ہو جاتی ہے! اگر آپ آزمائشوں اور صلیب کو برداشت کرنے اور قربانیوں میں سے گزرنے سے انکار کرتے ہیں تو آپ کبھی بھی مسز سلازار Mrs. Salazar، یا کارلا بیباؤٹ Carla Bebout، ڈاکٹر کیگن Dr. Cagan، یا بعن گریفیتھ Ben Griffith، یا ایبل پرودھوم Abel Prudhomme، یا مسٹر سُنگ Mr. Song، یا مسز ہائیمرز کی مانند ایک پختہ مسیحی نہیں بن سکتے۔ آپ کبھی بھی ایک اچھے مسیحی نہیں بن سکتے اگر آپ یسوع مسیح کے لیے اپنی زندگی کو قربان کرنے کے لیے انکار کرتے ہیں!

آپ میں سے کچھ نے اُس واعظ کو پسند نہیں کیا تھا جس کی اگلی ہی رات میری زندگی کے بارے میں ڈاکٹر کیگن نے منادی کی تھی۔ آپ میں سے کچھ نے سوچا تھا وہ انتہائی منفی واعظ تھا۔ ’’کون ہے جو اُس تمام میں سے گزرنا چاہے گا؟‘‘ آپ نے سوچا تھا۔ بہت خوب، میں آپ کو بتاتا ہوں، اگر میں اُس تمام میں سے نہ گزرا ہوتا تو آج کی صبح کوئی بھی گرجہ گھر کی عمارت نہ ہوتی! اگر میں اُس تمام میں سے نہ گزرا ہوتا تو آپ یہاں ہوتے بھی نہ! آپ ’’گرجہ گھر میں پرورش پائے بچے‘‘ یہاں نہ ہوتے! آپ یہاں تک کہ وجود ہی نہ رکھتے اگر میں اُس تمام میں سے نہ گزرا ہوتا! میں نے آپ کے والدین کی مسیح کے لیے رہنمائی کی تھی۔ میں نے اُس کی شادیاں کرائی تھیں۔ میں نے اُن کی نگہبانی گرجہ گھر کی ایک جہنمی تقسیم میں سے کرائی تھی۔ آپ گرجہ گھر میں پروان چڑھے بچے تو یہاں تک کہ زندہ بھی نہ ہوتے اگر میں اُس تمام درد اور تکلیف میں سے نہ گزرا ہوتا!

گرجہ گھر میں پرورش پائے بچوں میں سے صرف ایک بچے نے مجھے میری 75 ویں سالگرہ پر سالگرہ کا کارڈ بھیجا! ’’اُن 39‘‘ میں سے تمام کے تمام لوگوں نے مجھے کارڈز اور شکریہ کے رقعے بھیجے۔ لیکن صرف ایک ہی گرجہ گھر میں پروان چڑھے بچے نے مجھے کارڈ بھیجا۔ وہ ایک بچہ ہے جو ہمارے گرجہ گھر پیدا ہوا اور بچایا گیا تھا، اور صرف اُسی نے، گرجہ گھرمیں پروان چڑھے تمام بچوں میں سے، مجھے سالگرہ کا ایک کارڈ بھیجا۔ اور صرف اُسی نے میرے دِل کو خوشی پہنچانے کے لیے اِن الفاظ کو لکھا،

پیارے ڈاکٹر ہائیمرز،

75ویں سالگرہ مبارک ہو۔ خُدا آْپ کو آپ کی تمام ایماندارنہ خدمات اور یسوع کے لیے مذہبی خدمات سرانجام دینے پر برکت عنایت فرمائے! میں خُدا کا آپ جیسے ایک پادری صاحب کے لیے شکرگزار ہوں! یسوع کے لیے جینے اور حالات کے ساتھ پیوستہ رہنے کے لیے شکریہ۔ آپ کی زندگی یسوع کے لیے ایک شاندار گواہی ہے! ایک ایماندار مسیحی مثال ہونے کے لیے شکریہ۔ یسوع کی وجہ سے آپ کی زندگی ایک شاندار زندگی ہے کیونکہ آپ کی زندگی بے شمار دوسرے لوگوں کو چھوتی ہے۔ ’’آپ ثابت قدم رہیں، اور خُداوند کی خدمت میں ہمیشہ سرگرم رہیں۔‘‘ ڈاکٹر ہائیمرز، آپ مجھے اُس آیت کی یاد دلاتے ہیں، اور یہ میری دعا ہے کہ یہ گرجہ گھر تیز رفتاری سے آگے بڑھے گا اور اِس گرجہ گھر کے لیے آپ کے تخیل کو بڑھانے کے لیے جدوجہد کرے گا اور یسوع کے لیے اِس کو آتشِ گرفتہ کر دے گا! خُدا آپ کو برکت دے اور سلامت رکھے، یسوع کے نام میں، (اور اُس نے اپنے نام کے دستخط کیے)۔ اپنے نام کے نیچے اُس نے 1یوحنا2:17 تحریر کی،

’’دُنیا اور اُس کی خواہش، دونوں ختم ہو جائیں گی لیکن جو خدا کی مرضی پر چلتا ہے وہ ہمیشہ تک باقی رہتا ہے‘‘


میں باقی کے آپ تمام بچوں سے ناراض نہیں ہوں۔ بالکل بھی نہیں ہوں۔ میں صرف آپ کی جانوں کے لیے خوفزدہ ہوں۔ میں صرف آپ کے لیے دعا مانگ رہا ہوں، کبھی کبھار تو ساری ساری رات۔ میں آپ کے لیے ڈرتا ہوں کیونکہ میں جانتا ہوں،

’’خدا کی بادشاہی میں داخل ہونے کے لیے ہمیں بہت سی مصیبتوں کا سامنا کرنا لازم ہے‘‘ (اعمال 14:22).

میں جانتا ہوں کہ اگر آپ ’’اُن39‘‘ کو عزیز نہیں رکھتے – اگر آپ اُن سے محبت نہیں کرتے اور اُن کی خود سے قربانی دینے کی مثال کی پیروی نہیں کرتے – تو آپ کبھی بھی میرے خوابوں اور تصورات کے اُس عظیم گرجہ گھر کا حصہ نہیں ہو سکتے۔ ایک شخص جو اپنی گردن کو اکڑا کر چلتا ہے اور کہتا ہے، ’’میں یہ کبھی بھی نہیں کروں گا،‘‘ وہ شخص ہوتا ہے جو خُدا کی بادشاہت میں داخل نہ ہونے کے خطرے میں ہوتا ہے۔ بائبل کہتی ہے، ’’وہ شخص جو بار بار متنبہ کیے جانے پر بھی سرکشی کرتا ہے وہ ناگہاں تباہ کیا جائے گا۔ اُس کا کوئی چارہ نہ ہوگا‘‘ (اِمثال29:1)۔ یسوع نے کہا،

’’پس یاد کر کہ تُو کتنی بلندی سے گرا ہے۔ توبہ کر اور پہلے کی طرح کام کر۔ اگر تُو توبہ نہ کرے گا تو میں تیرے پاس آکر تیرے چراغدان کو اُس کی جگہ سے ہٹا دُوں گا‘‘ (مکاشفہ 2:5).

مہربانی سے کھڑے ہو جائیں اور حمدوثنا کا گیت نمبر3 اپنے گیتوں کے ورق میں سے گائیں۔

سبھی کچھ یسوع کے لیے! سبھی کچھ یسوع کے لیے! میری ہستی کی پہنچ میں تمام فدیے؛
   میرے تمام خیالات اور الفاظ اور اعمال، میرے تمام دِن اور میرے تمام اوقات۔
سبھی کچھ یسوع کے لیے! سبھی کچھ یسوع کے لیے! میرے تمام دِن اور میرے تمام اوقات؛
سبھی کچھ یسوع کے لیے! سبھی کچھ یسوع کے لیے! میرے تمام دِن اور میرے تمام اوقات؛

میرے ہاتھوں کو اُس کی پیشکش کو ادا کر لینے دو، میرے قدموں کو اُس کی راہوں میں دوڑ لینے دو؛
   میری آنکھوں کو صرف یسوع کو دیکھ لینے دو، میرے ہونٹوں کو اُس [یسوع] کی ستائش کر لینے دو؛
سبھی کچھ یسوع کے لیے! سبھی کچھ یسوع کے لیے! میرے ہونٹوں کو اُس [یسوع] کی ستائش کر لینے دو۔
   سبھی کچھ یسوع کے لیے! سبھی کچھ یسوع کے لیے! میرے ہونٹوں کو اُس [یسوع] کی ستائش کر لینے دو۔

جب سے میری آنکھیں یسوع پر مرکوز ہیں، میں اِردگرد کے تمام نظارے کھو چکا ہوں؛
   میری روح کا تصور اِس قدر پابازنجیر ہے، مصلوب ہوئے کی جانب دیکھ رہا ہے۔
سبھی کچھ یسوع کے لیے! سبھی کچھ یسوع کے لیے! مصلوب ہوئے کی جانب دیکھ رہا ہے؛
   سبھی کچھ یسوع کے لیے! سبھی کچھ یسوع کے لیے! مصلوب ہوئے کی جانب دیکھ رہا ہے؛
(’’سبھی کچھ یسوع کے لیےAll For Jesus‘‘ شاعر میری ڈی۔ جیمسMary D. James، 1810۔1883)۔

آپ کے گناہوں کی ادائیگی کے لیے مسیح صلیب پر قربان ہوا۔ آپ کو تمام گناہ سے پاک صاف کرنے کے لیے اُس نے اپنا خون بہایا۔ آپ کو دائمی زندگی بخشنے کے لیے وہ مُردوں میں سے جی اُٹھا۔ وہ اوپر آسمان میں خُدا باپ کے داھنے ہاتھ پر بیٹھا ہوا ہے۔ جب آپ گناہ سے مُنہ موڑتے اور یسوع پر بھروسہ کرتے ہیں تو وہ آپ کو فوراً نجات دیتا ہے۔ اگر آپ یسوع کے وسیلے سے نجات پانے کے بارے میں ہمارے سے گفتگو کرنا چاہتے ہوں تو مہربانی سے ڈاکٹر کیگن کی ابھی اجتماع گاہ کی پچھلی جانب پیروی کریں۔ آمین۔

اگر اِس واعظ نے آپ کو برکت بخشی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز آپ سے سُننا چاہیں گے۔ جب آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں تو آپ اُنہیں ضرور بتائیں کہ آپ کس مُلک سے لکھ رہے ہیں ورنہ وہ آپ کی ای میل کو جواب نہیں دیں گے۔ اگر اِن واعظوں نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز کو ایک ای میل لکھیں اور اُنہیں بتائیں، لیکن ہمیشہ جس ملک سے آپ لکھ رہے ہیں اُس کا نام شامل کریں۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای میل ہے rlhymersjr@sbcglobal.net (click here) ۔ آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو کسی بھی زبان میں لکھ سکتے ہیں، لیکن اگر آپ انگریزی میں لکھ سکتے ہیں تو انگریزی میں لکھیں۔ اگر آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو بذریعہ خط لکھنا چاہتے ہیں تو اُن کا ایڈرس ہے P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015.۔ آپ اُنہیں اِس نمبر (818)352-0452 پر ٹیلی فون بھی کر سکتے ہیں۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہائیمرز کے واعظ www.sermonsfortheworld.com
یا پر پڑھ سکتے ہیں ۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

یہ مسودۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے تمام ویڈیو پیغامات حق اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے
جا سکتے ہیں۔

واعظ سے پہلے دُعّا مسٹر ایبل پرودھوم Mr. Abel Prudhomme نے کی تھی: اعمال 14:19۔23 .
واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بنجامن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith نے گایا تھا: ’’یسوع کے لیے جی رہا ہوں Living For Jesus‘‘
(شاعر تھامس او۔ چِشحولم Thomas O. Chisholm، 1866۔1960)۔

لُبِ لُباب

انتہائی شدید دور میں سے گزر کر بادشاہت میں داخل ہونا

ENTERING THE KINGDOM
THROUGH MUCH TRIBULATION

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

’’اور جب وہ شہر میں خوشخبری سُنا چکے اور کثرت سے شاگرد بنا چکے، تو وہ دوبارہ لُسترہ، اکُنیم اور انطاکیہ لَوٹ گئے۔ وہ شاگردوں کی حوصلہ افزائی کرتے اور اُنہیں نصیحت دیتے تھے کہ اپنے ایمان پر مضبوطی سے قائم رہو اور کہتے تھے کہ خدا کی بادشاہی میں داخل ہونے کے لیے بہت سی مصیبتوں کا سامنا کرنا لازم ہے‘‘ (اعمال 14:21۔22).

(لوقا 14:27؛ 9:62؛ عاموس 5:15؛ مکاشفہ 3:16).

   پہلی بات، میسح میں ایمان لا کر تبدیل ہونے کی بہت سی مصیبتیں، پیدائش 32:24، 25، 30، 31؛ اعمال 9:5، 6، 17۔

II۔   دوسری بات، تقدیس و تحریم کی بہت سی مصیبتیں، رومیوں 5:3۔5؛ 1۔ یوحنا 2:17؛ امثال 29:1؛ مکاشفہ 2:5۔