Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 215 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.co پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہمارے ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 36 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔

جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔


ہمارا آرام دہ حلقے سے نکلنا –

میری 75 ویں سالگرہ پر ادا کیا گیا ایک واعظ
LEAVING OUR COMFORT ZONE –
A SERMON DELIVERED ON MY 75TH BIRTHDAY
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
خُداوند کے دِن کی صبح، 10 اپریل، 2016
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Morning, April 10, 2016

’’تُم بھی اِسی قسم کے چل چلن کے لیے بُلائے گئے ہو کیونکہ مسیح نے تمہارے لیے دُکھ اُٹھا کر ایک مثال قائم کر دی تاکہ تُم اُس کے نقشِ قدم پر چل سکو‘‘ (1۔ پطرس 2:21).

میں آج کی صبح ’’ہمارے آرام دہ حلقے سے نکلنا – میری 75 ویں سالگرہ پر ادا کیا گیا ایک واعظ‘‘ کے موضوع پر بات کروں گا۔ اگر آپ یسوع کی پیروی بہت اچھی طرح سے کریں تو آپ کم از کم تھوڑی بہت مصیبت اُٹھائیں گے۔ اگر آپ بالکل بھی مصیبت نہیں اُٹھاتے تو اِس کا مطلب ہوتا ہے کہ آپ اچھی طرح سے یسوع کی پیروی نہیں کررہے۔ اور اگر آپ یسوع کی پیروی کریں گے تو وہ آپ کی رہنمائی کے لیے آپ کو آرام دہ حلقے سے باہر لے جائے گا۔ ’’آرام دہ حلقے‘‘ سے میری مُراد وہ جگہ ہے جہاں پر آپ سکون محسوس کرتے ہیں اور کوئی چیلنج نہیں ہوتا۔ وہ شخص جو اپنے آرام دہ حلقے سے نکلنے سے خوفزدہ ہوتا ہے وہ کبھی بھی تبدیل نہیں ہو سکتا اور زندگی کے چیلنجز کا سامنا نہیں کر سکتا۔ ایک شخص کو مسیح میں ایمان لا کر تبدیل ہونے کے لیے پہلی جگہ پر ہی اپنے آرام دہ حلقے سے نکلنا پڑتا ہے۔ مسیح میں ایمان لا کر تبدیل ہو چکنے کے بعد ایک مسیح نئے چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے اپنے آرام دہ حلقے سے نکلے بغیر مضبوطی میں نہیں بڑھ سکتا اور ایک غالب آ جانے والا انسان نہیں بن سکتا۔ یسوع نے کئی مرتبہ اپنے آرام دہ حلقے کو چھوڑا اور ایسا ہی آپ کو اور مجھے کرنا چاہیے۔

I۔ پہلی بات، مسیح نے آسمان میں اپنے گھر کو چھوڑا اور اِس زمین پر چلا آیا۔

وہ دائمیت ہی سے خُدا باپ کے مساوی تھا۔ اِس کے باوجود مسیح نے آسمان کے سکون کو چھوڑا اور زمین کے لیے نیچے اُتر آیا، نسل انسانی کے پاس، جو نہیں جانتی تھی وہ کون تھا۔ بائبل کہتی ہے،

’’وہ دنیا میں تھا … اور دنیا نے اُسے نہ پہچانا۔ وہ اپنے لوگوں میں آیا اور اُس کے اپنوں ہی نے اُسے قبول نہیں کیا‘‘ (یوحنا 1:10، 11).

حمدوثنا کا ایک پُرانا گیت اِس کو بخوبی کہتا ہے،

ہاتھی دانت کے بنے محلوں سے باہر،
   دُشمنوں کی ایک دُنیا میں،
صرف اُس کی عظیم دائمی محبت نے
   میرے نجات دہندہ کو برقرار رکھا۔
(’’ہاتھی دانت کے محلIvory Palaces‘‘ شاعر ھنری بیراکلاھو
      Henry Barraclough، 1891۔1983)۔

ایک دوسرا حمد و ثنا کا پرانا گیت الفاظ کو یسوع کے مُنہ میں سے ادا کراتا ہے،

میرے باپ کے نور کا گھر، جلال کے دائرے میں میرا تخت
    میں نے زمینی رات کے لیے چھوڑ دیا، تنہا اور اُداس آوارہ گردی کرنے کے لیے؛
میں نے چھوڑا، میں نے سب کچھ تیرے لیے چھوڑا، کیا تو نے میرے لیے کچھ چھوڑا؟
    میں نے چھوڑا، میں نے سب کچھ تیرے لیے چھوڑا، کیا تو نے میرے لیے کچھ چھوڑا؟
(’’میں نے اپنی زندگی تیرے لیے بخش دی I Gave My Life for Thee‘‘ شاعر فرانسس آر۔ حیورگال Frances R. Havergal، 1836۔1879)۔

اُن گیتوں نے میرے دِل کو ہلا کر رکھ دیا تھا جب میں ایک نوعمر بالغ تھا۔ میں نے ہانگ کانگ میں ایک مشنری کی حیثیت سے جانے کا پکا اِرادہ بنا لیا تھا۔ میں وہاں کبھی بھی نہیں جا پایا، لیکن خُدا جانتا تھا کہ میں جانے کے لیے راضی تھا اور خود اپنے مُلک کو پیچھے چھوڑ دینے کے لیے تیار تھا۔ میں نے واقعی میں سفید فام لوگوں کے ایک گرجہ گھر کے آرام دہ حلقے کو چھوڑا تھا اور ایک چینی گرجہ گھر میں شمولیت اختیار کی تھی جہاں پر میں ہی واحد اور اکیلا سفید فام لڑکا تھا؛ واحد دوسرا سفید فام شخص میرے سے کئی گُنا عمر میں بڑا تھا۔ یہ کُلی طور پر ایک مختلف ثقافت تھی مگر میں وہیں پر رُکا رہا اور چینی بچوں کو تعلیم دیتا رہا، جمعہ، ہفتہ اور اِتوار کو کئی کئی گھنٹے وہاں لگا دیتا، جبکہ میں پورے گھنٹوں کی ایک نوکری کرتا تھا اور رات میں کالج کی پڑھائی کے لیے محنت و مشقت کرتا تھا۔ خُدا کے فضل سے میں جانتا تھا کہ ایک اچھا مسیحی بننے کے لیے مجھے اپنے آرام دہ حلقے سے باہر نکلنا تھا۔

میں نے چھوڑا، میں نے سب کچھ تیرے لیے چھوڑا، کیا تو نے میرے لیے کچھ چھوڑا؟
    میں نے چھوڑا، میں نے سب کچھ تیرے لیے چھوڑا، کیا تو نے میرے لیے کچھ چھوڑا؟

میں کوئی کامل شخصیت نہیں ہوں، مگر میں آپ سے آج کی صبح کہہ سکتا ہوں کہ میں غالباً بالکل بھی ایک مسیحی نہیں ہوں گا اگر میں نے کافی عرصہ پہلے اُن نوجوان چینی لڑکوں اور لڑکیوں کی مدد کرنے کے لیے اپنا آرام دہ حلقہ نہ چھوڑا ہوتا۔ ’’مسیح نے ہماری خاطر دُکھ اُٹھا کر مثال قائم کر دی تاکہ تم اُس کے نقشِ قدم پر چل سکو‘‘ (1پطرس2:21)۔ کیا آپ اپنے آرام دہ حلقے کو ہمارے گرجہ گھر میں نئے بچوں کو گھر جیسا محسوس کرانے کے لیے چھوڑیں گے؟

II۔ دوسری بات، مسیح دُنیا میں گنہگاروں کو بچانے کے لیے آیا۔

بائبل واضح طور پر کہتی ہے،

’’مسیح یسوع گنہگاروں کو نجات دینے کے لیے دُنیا میں آیا‘‘ (1۔ تیموتاؤس 1:15).

خود یسوع نے کہا،

’’اِبنِ آدم گم شُدہ کو ڈھونڈنے اور بچانے آیا ہے‘‘ (لوقا 19:10).

مسیح نے بشروں کو جیتنے کے لیے شدید محنت کی تھی۔ یہ اُس کی زندگی کا اہم کاروبار تھا۔ اور ہم اپنی زندگی کے اہم مقصد کو بشروں کو جیتنے کے لیے بُلائے گئے ہیں۔ یسوع نے کہا، ’’میرے پیچھے ہو لو، اور میں تمہیں آدمیوں کو پکڑنے والا بنا دوں گا‘‘ (متی4:19)۔ چونکہ مسیح کا اہم کام بشروں کو جیتنا تھا، تو یہ ہمارا بھی اہم کام ہونا چاہیے!

کون جائے گا اور اُس مہربان چرواہے کی مدد کرے گا،
   آوارہ گردی کرتے ہوؤں کو ڈھونڈنے میں اُس کی مدد کریں؟
کوئی کھوئے ہوؤں کو ریوڑ میں لائے گا،
   جہاں پر وہ ٹھنڈ سے پناہ پا لیں گے؟
اُنہیں اندر لے کر آئیں، اُنہیں اندر لے کر آئیں،
   اُنہیں گناہ کے میدانوں میں سے اندر لے کر آئیں؛
اُنہیں اندر لے کر آئیں، اُنہیں اندر لے کر آئیں،
   آوارہ گردی کرتے ہوؤں کو یسوع کے پاس لائیں۔
(’’اُنہیں اندر لے کر آئیںBring Them In‘‘ شاعر ایلیکسزینہ تھامس
      Alexcenah Thomas، 19ویں صدی)۔

غور کریں کہ یہاں گیت میں ایک بھی لفظ کتابچوں کو تقسیم کرنے کے بارے میں نہیں ہے! غور کریں کہ یہاں پر ایک بھی لفظ ناموں اور فون نمبروں کو لانے کے بارے میں نہیں ہے! ایک بھی لفظ! حمدوثنا کے گیت کا مرکزی موضوع دوسرے بند میں ہے، ’’کون کھوئے ہوؤں کو ریوڑ میں لائے گا، جہاؓں وہ ٹھنڈ سے پناہ پا لیں گے؟‘‘ بشروں کو جیتنا آپ سے تقاضا کرتا ہے کہ اپنے آرام دہ حلقے کو چھوڑ دیں اور واقعی میں ایک نئے بچے کی زندگی میں کوئی فرق لائیں! کیا آپ یہ کریں گے؟ ایک نئے بچے کو اندر لانے میں مدد کرنے کے لیے اور ہمارے گرجہ گھر کے خاندان کا حصہ بنانے کے لیے خود کو اپنے دوستوں سے دور کر لینا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ مگر یہ ہی ہے جو یسوع آپ سے چاہتا ہے۔ اپنے آرام دہ حلقے سے باہر نکل آئیں اور یہ کام کریں – جیسے یسوع نے کیا! گرجہ گھر کی ’’مشنری‘‘ کبھی بھی کسی کو ٹھہرنے کے لیے نہیں لاتی۔ آپ کو اُن کے ساتھ گُھل مِل جانا ہوتا ہے اور اُنہیں گرجہ گھر کے خاندان میں لانا ہوتا ہے!

میں نے آپ کو اپنے گرجہ گھر کی ایک تصویر پیش کی تھی جب یہ صرف 7 برس کا تھا۔ بہت سے لوگ تقریباً 1,200 لوگوں کو دیکھ کر حیران رہ گئے تھے۔ ہم ایک شخص (مجھ سے) شروع ہو کر صرف سات برسوں میں 1,200 ہوگئے تھے! ہم ہفتے کا سارا دِن ملاقاتیوں کو لانے میں لگا دیتے۔ میری بیوی صبح 10:00 بجے سے لیکر رات کے 10:00 بجے تک فون پر رہتیں – ہر ہفتے کے روز! پھر میں اُن کے لیے کچھ تلی ہوئی مرغی لے کر آتا اور کوئی نہ کوئی اُنہیں گھر چھوڑ آتا۔ پھر وہ مذید دو اور گھنٹے بیٹھتیں اور واعظ کا ہسپانوی میں ترجمہ کرتیں۔ واحد وہ ہی اکیلی یہ سارا کام نہیں کر رہی تھیں۔ بے شمار لوگ کر رہے تھے۔ لیکن اِس سب سے کام نہیں بنا۔ گرجہ گھر بکھر گیا۔ کیوں؟ دو وجوہات کی بِنا پر۔ پہلی، ماضی میں اُس وقت، ہم ’’فیصلہ ساز‘‘ لوگ تھے۔ ہم نے اُنہیں بلی گراہم Billy Graham کا کتابچہ ’’خُدا کے ساتھ امن کے لیے اقدامات‘‘ دیا۔ ہم نے اُنہیں کتابچے کے اختتام پر ’’گنہگار کی دعا‘‘ پڑھنے کے لیے دی۔ یہ ہی سب کچھ تھا۔ چند ایک لوگ مسیح میں ایمان لا کر تبدیل ہوئے تھے، جیسا کہ جوڈتھ کیگن، ڈاکٹر چعین، ملیسا سینڈرز، اور مسز سلازار۔ مگر باقیوں میں سے انتہائی چند ایک نے مسیح میں نجات کا تجربہ کیا۔ دوسری وجہ تھی کیونکہ ہماری قیادت بُری تھی۔ ’’رہنما‘‘ سُست رہنا چاہتے تھے اور توقع کرتے تھے کہ لوگ بغیر کسی مدد کے آ جائیں۔ میں کبھی کبھار یہ مسئلہ اب بھی دیکھتا ہوں۔ ہمارے نوجوان لوگوں میں سے کچھ لوگ، نئے بچوں کی زندگیوں میں گُھلے مِلے بغیر ہی دعا مانگنا چاہتے ہیں۔ وہ بات چیت کرنے کے لیے پرانے دوستوں کے ایک چھوٹے سے گروہ کو بنانا چاہتے ہیں – جبکہ وہ نئے لوگوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ وہ اپنے چھوٹے سے دائرے میں ایک نئے شخص کو لانا نہیں چاہتے ہیں۔ میں اُس میں اور گذشتہ رات میں نے جو تصویر آپ کو دی اُن میں سُسست رہنماؤں نے جو کیا اُس کے درمیان کوئی فرق نہیں دیکھتا! اِس سے کام نہیں بنتا! آپ حیات نو کے لیے دعا مانگ سکتے ہیں جب تک کہ کیلیمنجارو کے پہاڑ Mount Kilimanjaro پر سے ساری برف غائب نہیں ہو جاتی – لیکن یہاں کوئی بھی حیات نو نہیں ہوگا – کوئی بھی نہیں ہوگا! اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ہم کس قدر شدید دعا مانگتے ہیں۔ اگر ہر کوئی خود کے لیے ہی راہ دیکھتا رہتا ہے – اور کوئی بھی یسوع کے پیچھے چلنے کے لیے تیار نہیں ہوتا ہے – تو یہاں کوئی بھی حیات نو نہیں آئے گا۔ برین ایچ ایڈورڈز نے کہا، ’’جن لوگوں کو خُدا حیات نو میں استعمال کرتا ہے ہمیشہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو… جن کو نافرمان ہونے کا خوف ہوتا ہے‘‘ (حیات نو: خُدا سے لبریز لوگ Revival: A People Saturated With God، ایونجیلیکل پریس Evangelical Press، 1991، صفحہ65)۔ ’’مسیحیوں [کے ساتھ شروع ہوتے ہوئے] بغیر گہری، غیر آرام دہ اور گناہ کی عاجزی سے بھرپور سزایابی کے کوئی حیات نو نہیں ہوتا،‘‘ اُنہوں نے کہا۔ ہمیں نوجوان مسیحیوں کو یسوع کی مثال کی پیروی کرتے ہوئے دیکھنا چاہیے، ’’یسوع نے ایک بشر کی حیثیت سے زندگی گزارنے کے دِنوں میں پکار پکار کر اور آنسو بہا بہا کر خُدا سے التجائیں اور دعائیں کیں جو اُسے موت سے بچا سکتا تھا اور اُس کی خُدا ترسی کی وجہ سے اُس کی سُنی گئی‘‘ (عبرانیوں5:7)۔ لیکن آپ نئے لوگوں کے لیے دعا نہیں مانگ سکتے اگر آپ کو اُن کے نام بھی ہی نہیں معلوم! آپ کو اپنے آرام دہ حلقے کو چھوڑنا ہوگا اور اُن کی زندگیوں میں گُھل مِل جانا ہوگا۔

’’مسیح نے تمہارے لیے دُکھ اُٹھا کر ایک مثال قائم کر دی تاکہ تُم اُس کے نقشِ قدم پر چل سکو‘‘ (1۔پطرس 2:21).

یسوع ہمیشہ نئے لوگوں کے ساتھ گُھل مِل جاتا تھا۔ اُس کی مثال کی پیروی کریں!

III۔ تیسری بات، مسیح کُلی طور پر سپرد کر دینے اور مکمل فرمانبرداری کا تقاضا کرتا ہے۔

یسوع نے کہا، ’’تم میں سے جو کوئی اپنا سب کچھ چھوڑ نہ دے میرا شاگرد نہیں ہو سکتا‘‘ (لوقا14:33)۔ اُس آیت کے بارے میں ڈاکٹر جان آر۔ رائس نے کہا، ’’آپ شاید اُس [یسوع] کے لیے مصیبتیں اُٹھائے بغیر، اُس کے لیے چیزیں چھوڑے بغیر خُدا کے ایک بچے ہوں۔ مگر آپ یسوع کے شاگرد نہیں ہو سکتے… آپ اُس کے نقش قدم پر نہیں چل سکتے، آپ سچے طور سے اُس کے پیچھے نہیں ہو سکتے، ماسوائے سب کچھ چھوڑ کر اور اُس کے [ساتھ] پھاٹک سے نکل کر جانے سے‘‘ (ایک اچھا مسیحی ہونے کے لیے کیا قیمت چکانی پڑتی ہےWhat It Costs to Be a Good Christian، صفحہ66)۔

ڈاکٹر رائس میرے ہیروز میں سے ایک ہیں۔ میں اُن کے بارے میں اُس وقت تک کچھ نہیں جان پایا تھا جب تک کہ میں سیمنری میں گریجوایٹ سکول تک نہ پہنچ گیا۔ آزاد خیال سیمنری میں وہ لوگ ڈاکٹر رائس سے نفرت کرتے تھے – جی ہاں، وہ واقعی میں اُن سے نفرت کرتے تھے! میں نے سوچا وہ ضرور پاگل کر دیتے ہوں گے – اصل میں پُراسرار ہونگے – جو کچھ اُن مغربی بپٹسٹ پروفیسروں نے کہا۔ پھر کسی نے مجھے ڈاکٹر رابرٹ ایل۔ سُومنر Dr. Robert L. Sumner کی تحریر کردہ ڈاکٹر رائس کی’’خُدا کی جانب سے بھیجا ہوا انسانMan Sent From God‘‘ نامی سوانح حیات پیش کی۔ ایک شام کو میں اُسے پڑھنے کے لیے بیٹھ گیا۔ میں ساری رات جاگتا رہا اور جلد سے لیکر جلد تک وہ ساری کتاب پڑھ ڈالی! ڈاکٹر رائس نے بالکل وہی کیا تھا جو اُنہوں نے کہا۔ اُنہوں نے واقعی میں سب کچھ چھوڑا اور یسوع کے ساتھ پھاٹک سے باہر چلے گئے۔ خُدا نے اُنہیں ہزاروں لوگوں کو نجات دلانے کے لیے استعمال کیا کیونکہ اُنہوں نے اپنے آرام دہ حلقے یعنی تسکین بخشنے والے حلقے کو خیر آباد کہا تھا۔

سیمنری میں میرے تیسرے سال میں، مجھے جماعت کے بعد ڈاکٹر گرین نے بُلوایا، جو تبلیغ کے پروفیسر تھے۔ اُنہوں نے مجھے اُن پروفیسروں کو دُرست کرنے پر خبردار کیا جو بائبل پر حملہ کرتے تھے۔ اُنہوں نے کہا، ’’ہائیمرز، تم ایک اچھے مبلغ ہو۔ تمہیں ایک عمدہ گرجہ گھر مل جائے گا اور ایک اچھی زندگی بسر ہوگی، مگر تم پریشانی کھڑی کرنے والے کی حیثیت سے بُری شہرت حاصل کر رہے ہو۔ اگر تم پریشانیاں کھڑی کرنے سے باز نہیں آئے تو تمہیں کبھی بھی کوئی گرجہ گھر نہیں ملے گا۔‘‘ میں نے کہا، ’’اگر یہ ہی قیمت چکانی پڑتی ہے تو مجھے ایک بھی نہیں چاہیے!‘‘

اُنہوں نے میری شہرت یا ساکھ کو تباہ کرنے اور مجھ پر تہمت دھرنے کے لیے قوانین کے مطابق ہر گندی چال کو استعمال کیا۔ مگر میں نے خود اپنا گرجہ گھر مارین کاؤنٹی میں شروع کر دیا – اور اُس میں سے چالیس گرجہ گھر اور بن گئے – ساری دُنیا میں! یہ اِس لیے ہوا کیونکہ میں نے اپنے آرام دہ حلقے کو چھوڑا تھا!

میری ایک خوبصورت چینی لڑکی دوست تھی جب میں وہاں سیمنری میں تھا۔ وہ سب سے پہلی لڑکی دوست تھی جس سے میں نے کبھی دوستی کی تھی، کیونکہ میں نے ایک راہب کی سی زندگی بسر کی تھی جب اُن تمام سالوں کے دوران میں کالج میں تھا۔ اُس کی والدہ کو ایک خط جو میں نے اُس کو لکھا تھا مل گیا اور اُنہوں نے اُس لڑکی کو گھر سے نکال دیا کیونکہ میں ایک سفید فام تھا۔ میں نے ڈاکٹر ٹموتھی لِن Dr. Timothy Lin کو بُلایا اور اُنہوں نے اُس کو گھر بھیجنے کے لیے کسی کو روانہ کیا۔ مگر ڈاکٹر لِن نے مجھے بتایا میں تقریباً دو سالوں تک کے لیے واپس نہیں آ سکتا تھا۔ میں اب بھی چینی گرجہ گھر کا ہی رُکن تھا، مگر میں اِس کے باوجود واپس نہیں آ سکتا تھا۔ میں وہاں پر کئی سالوں تک اِس واقعہ کے بعد بھی ممبر رہا۔ چند ایک سال بعد ڈاکٹر لِن نے مجھے ہر سال وہاں پر انجیلی بشارت کے پرچار کے اِجلاسوں میں منادی کرنے کے لیے کہنا شروع کر دیا۔ اُس کے بعد بھی، جب وہ نوّے برس کی دہائی میں تھے، میں ڈاکٹر لِن کا قریبی دوست بن گیا۔ میں نے واعظ میں اِس سے پہلے اُس لڑکی کے بارے میں کبھی بھی نہیں بتایا، صرف کبھی کبھار ذاتی بات چیت کے دوران۔ یہ بتانا اب ٹھیک ہے کیونکہ چالیس سالوں سے زیادہ کا عرصہ بیت چکا ہے۔ وہاں پر میں تنہا تھا، اوپر سان فرانسسکو کے قریب، اُس ہولناک، سرد، آزاد خیال سیمنری میں۔ میں رات میں سڑکوں پر پیدل چلا کرتا – تنہا۔ میں نے کوئی بُرا کام نہیں کیا تھا! کچھ بھی بُرا نہیں کیا تھا! وہ صرف ایک پیار سا خط تھا جو میں اُس لڑکی کو لکھا تھا جو مجھے پسند کرتی تھی، وہ بھی اُس کے گاڑی چلا کے مجھے سیمنری میں ملنے کے لیے آنے کے بعد۔ میں نے اُس لڑکی سے دوبارہ پھر چالیس سال کا عرصہ گزر جانے کے بعد تک بات چیت نہیں کی۔ تب وہ مسکرائی تھی اور کہا، ’’یہ ٹھیک ہے، بوب،‘‘ جس نے اِس بارے میں مجھے بہتر محسوس کرایا۔ مگر میں وہاں تھا مِل کی وادی Mill Valley میں، اُن تنہا، تاریک سڑکوں پر۔ میں نے اپنے پیچھے لاس اینجلز میں لڑکی کو اور اپنے سارے دوستوں کو کھو دیا تھا۔ میں کُچلا جا چکا تھا۔ میں رات میں ایک مُردہ شخص کی مانند تنہا پیدل چلا کرتا تھا۔ شاعر رابرٹ فراسٹ Robert Frost نے کہا،

میں اُس رات کے ساتھ واقف رہ چکا ہوں۔
میں بارش میں باہر پیدل چلا تھا – اور واپس بار میں آیا تھا۔
میں شہر کی روشنی سے بھی کہیں دور پیدل ہی نکل گیا تھا۔

میں نے نیچے شہر کے تنگ ترین راستے پر نظر دوڑائی۔
میں چوکیدار کے پاس سے اُس کی دُھن میں گزر گیا تھا
اور اپنی نظروں کو نا چاہتے ہوئے بھی بتانے کے لیے گِرا لیا تھا۔

میں ساکت کھڑا ہو گیا اور پیروں کے قدموں کی آواز کو تھام دیا
جب دور کہیں ایک چیخ نے خلل پیدا کیا
جو ایک دوسری سڑک سے گھروں کے اوپر سے آئی تھی،

مگر مجھے واپس بُلانے کے لیے یا خُدا حافظ کہنے کے لیے نہیں؛
اور اِس سے بھی مذید آگے ایک غیر زمینی بُلندی پر،
آسمان کے خلاف ایک جگمگاتے گھڑیال نے

اعلان کیا کہ وقت نہ ہی تو غلط اور نہ ہی دُرست تھا۔
میں اُس رات کے ساتھ واقف رہ چکا ہوں۔
   (’’رات کے ساتھ واقفیت Acquainted With the Night‘‘ شاعر رابرٹ فراسٹ
      Robert Frost، 1874۔1963)۔

ایک رات کو میں اپنے کمرے میں سمندر میں بہہ کر آئی ہوئی ایک لکڑی کو واپس لے کر آیا۔ میں نے اُس کو سیمنری کے قریب ساحل سمندر سے اُٹھایا تھا۔ میں نے اُس کو اپنے گھر کے آفس کی شیلف میں رکھا ہوا ہے کہ مجھے اُس سرد تنہا وقت کی یاد دلاتی رہے جب میں نے دوبارہ اپنے آرام دہ حلقے یعنی آرام دہ حلقے کو چھوڑا تھا۔ وہ میری زندگی میں ایک بہت بڑا رُخ پلٹ دینے والا مقام تھا، جب میں نے اُس آرام دہ پرانی طرز زندگی کو چھوڑا اور یسوع مسیح کے لیے ایک مضبوط ترین انسان بن گیا!

’’تُم بھی اِسی قسم کے چل چلن کے لیے بُلائے گئے ہو کیونکہ مسیح نے تمہارے لیے دُکھ اُٹھا کر ایک مثال قائم کر دی تاکہ تُم اُس کے نقشِ قدم پر چل سکو‘‘ (1۔ پطرس 2:21).

دوسری کہانیں بھی ہیں جو میں آپ کو بتا سکتا ہوں۔ جب آپ 75 برس کی عمر کے ہونگے تو آپ بے شمار باتوں کو یاد کر سکتے ہیں؛ ہر صورت حال کے لیے تقریباً ایک کہانی۔ میں آپ کو اُس وقت کے بارے میں بتا سکتا ہوں جب ایک چینی مُناد مجھ پر چِلایا تھا، اور میں نے کئی ملین ڈالرز کو کھو دیا تھا۔ سچی کہانی! میں آپ کو اُس رات کے بارے میں بتا سکتا ہوں جب میں اپنے آفس سے نیچے ہالی ووڈ کتابوں کے سٹور میں نیچے آیا اور گوئٹے مالا سے آئی ہوئی ایک قابل دید خوبصورت لڑکی کو دیکھا – اور انتہائی اُسی رات جب میں اُس لڑکی کو لے کر باہر ایک پیالا کافی کا پینے کے لیے گیا۔ حالانکہ وہ انتہائی کم انگریزی بولتی تھی، اور میں ہسپانوی میں چند ایک الفاظ بول پایا، اور وہ میرے سے 22 سال چھوٹی تھی – میں نے اپنے آرام دہ حلقے کو چھوڑا اور اُس سے میرے ساتھ شادی کرنے کے بارے میں پوچھا – پہلی ہی رات نہیں، بلکہ بعد میں اُس سے میں نے میرے ساتھ شادی کرنے کے بارے میں پوچھا تھا اور اُس نے کہا ’’نہیں‘‘ – پہلی مرتبہ جب میں نے اُس سے پوچھا۔ بعد میں اُس نے ’’ہاں‘‘ کہہ دی اور میں نے سکون کی ایک سانس بھری! ہم چونتیس سالوں سے شادی شُدہ ہیں۔ میں خوش ہوں کہ میں نے علیانہ کے لیے اپنے آرام دہ حلقے کو چھوڑا، جو میری شاندار بیوی ہیں!

یا میں آپ کو بتا سکتا ہوں میں نے کیسے ایک دوسرے گرجہ گھر کا آغاز کیا – اِس گرجہ گھر کا – اپنے اپارٹمنٹ میں، جو اُس وقت ویسٹ ووڈ اور وِلشائر بولیوارڈ Westwood and Wilshire Blvds. کے جنوب مغربی کونے پر واقع تھا۔ اور میں آپ کو بتا سکتا ہوں کیسے وہ چھوٹا سا گرجہ گھر صرف سات سالوں میں 1,200 لوگوں پر مشتمل ہو گیا۔ اور پھر ہم نے اُن میں سے زیادہ تر کو کھو دیا۔ مگر اِس مرتبہ ہم اِس کو دُرست طریقے سے کریں گے! آپ کو ایک دوسرے واعظ کا اُن باقی کہانیوں کو سُننے کے لیے انتظار کرنا پڑے گا۔ آج کی صبح یہ کہنا ہی کافی ہے کہ ’’میں اُس رات کے ساتھ واقف رہ چکا ہوں۔‘‘ اور اگر آپ مجھ سے ناراض ہوتے ہیں، اور میں آپ کو کھو دیتا ہوں، تومیں اِس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کروں گا کہ کوئی بھی مجھے روتا ہوا نہ دیکھ پائے، کیونکہ میں نے ہمیشہ آپ جیسے دوست کو کھونے سے نفرت کی ہے!

’’تُم بھی اِسی قسم کے چل چلن کے لیے بُلائے گئے ہو کیونکہ مسیح نے تمہارے لیے دُکھ اُٹھا کر ایک مثال قائم کر دی تاکہ تُم اُس کے نقشِ قدم پر چل سکو‘‘ (1۔ پطرس 2:21).

یسوع ایک مضبوط انسان تھا، مگر وہ اکثر گنہگاروں پر رویا کرتا۔ مہربانی سے اپنے گیتوں کے ورق پر سے وہ آخری گیت گائیں۔

بیشک راہ سیدھی اور تنگ دکھائی دیتی ہے،
   میں نے سب کچھ بہا لے جانے کا دعویٰ کیا؛
میری تمنائیں، منصوبے اور آرزوئیں،
   راکھ بنی میرے قدموں پر تھیں۔

تب خُداوند کی آگ الطار پر سے
   میرے دِل میں شعلے بھڑکا دیتی ہے؛
میں کبھی بھی اُس خُدا کی ستائش کرنے سے باز نہیں آؤں گی،
   جلال ہو، اُس خُدا کے نام کو جلال ہو!

میں اُس کی ستائش کروں گی! میں اُس کی ستائش کروں گی!
   گنہگاروں کے لیے ذبح کیے گئے برّے کی ستائش کرو؛
اے تمام لوگو، اُس [خُدا] کو جلال دو،
   کیونکہ اُس کا خون ہر دھبہ کے داغ کو مٹا سکتا ہے۔
(’’میں اُس کی ستائش کروں گی I Will Praise Him‘‘ شاعر مسز مارگریٹ جے۔ ھیرس
      Mrs. Margaret J. Harris، 1865۔1919)۔

یسوع نے آپ کو تمام گناہ سے پاک صاف کرنے کے لیے صلیب پر اپنا خون بہایا۔ آپ کو دائمی زندگی بخشنے کے لیے وہ جسمانی طور پر مُردوں میں سے جی اُٹھا۔ وہ اب آسمان میں خُدا کے داہنے ہاتھ پر بیٹھا ہے۔ میں دعا مانگتا ہوں کہ اِس صبح آپ یسوع پر بھروسہ کریں گے اور اُس کے وسیلے سے گناہ اور عدالت سے نجات پائیں گے! ڈاکٹر کیگن Dr. Cagan اور جان کیگنJohn Cagan ابھی کمرے کی پچھلی جانب جائیں گے۔ اگر آپ ہمارے ساتھ یسوع پر بھروسہ کرنے کے بارے میں بات چیت کرنا چاہتے ہیں تو مہربانی سے اجتماع گاہ کی پچھلی جانب جانے کے لیے اُن کی پیروی کریں۔ آمین۔

اگر اِس واعظ نے آپ کو برکت بخشی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز آپ سے سُننا چاہیں گے۔ جب آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں تو آپ اُنہیں ضرور بتائیں کہ آپ کس مُلک سے لکھ رہے ہیں ورنہ وہ آپ کی ای میل کو جواب نہیں دیں گے۔ اگر اِن واعظوں نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز کو ایک ای میل لکھیں اور اُنہیں بتائیں، لیکن ہمیشہ جس ملک سے آپ لکھ رہے ہیں اُس کا نام شامل کریں۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای میل ہے rlhymersjr@sbcglobal.net (click here) ۔ آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو کسی بھی زبان میں لکھ سکتے ہیں، لیکن اگر آپ انگریزی میں لکھ سکتے ہیں تو انگریزی میں لکھیں۔ اگر آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو بذریعہ خط لکھنا چاہتے ہیں تو اُن کا ایڈرس ہے P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015.۔ آپ اُنہیں اِس نمبر (818)352-0452 پر ٹیلی فون بھی کر سکتے ہیں۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہائیمرز کے واعظ www.sermonsfortheworld.com
یا پر پڑھ سکتے ہیں ۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

یہ مسودۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے تمام ویڈیو پیغامات حق اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے
جا سکتے ہیں۔

واعظ سے پہلے تلاوت مسٹر ایبل پرودھوم Mr. Abel Prudhomme نے کی تھی: ڈاکٹر ہائیمرز کا پسندیدہ زبور، زبور27:1۔14 .
واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بنجیمن کنکیتھ گریفتھMr. Benjamin Kincaid Griffith نے گایا تھا:
’’اگر مجھے دُنیا مل جاتی If I Gained the World‘‘
(شاعرہ عانہ اولینڈر Anna Olander، 1861۔1939)۔

لُبِ لُباب

ہمارے آرام دہ حلقے سے نکلنا –

میری 75 ویں سالگرہ پر ادا کیا گیا ایک واعظ
LEAVING OUR COMFORT ZONE –
A SERMON DELIVERED ON MY 75TH BIRTHDAY

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

’’تُم بھی اِسی قسم کے چل چلن کے لیے بُلائے گئے ہو کیونکہ مسیح نے تمہارے لیے دُکھ اُٹھا کر ایک مثال قائم کر دی تاکہ تُم اُس کے نقشِ قدم پر چل سکو‘‘ (1۔ پطرس 2:21).

    پہلی بات، مسیح نے آسمان میں اپنے گھر کو چھوڑا اور اِس زمین پر چلا آیا، یوحنا1:10، 11 .

II۔   دوسری بات، مسیح دُنیا میں گنہگاروں کو بچانے کے لیے آیا،
1تیموتاؤس1:15؛ لوقا19:10؛ متی4:19؛ عبرانیوں5:7 .

III۔  تیسری بات، مسیح کُلی طور پر سپرد کر دینے اور مکمل فرمانبرداری کا تقاضا کرتا ہے، لوقا14:33 .