Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 215 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.co پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہمارے ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 36 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔

جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔


کیسے چین ایک عالمگیری قوت بنا!

(پیدائش کی کتاب پر واعظ # 88)
HOW CHINA BECAME A WORLD POWER!
(SERMON #88 ON THE BOOK OF GENESIS)
(Urdu)

ڈاکٹر سی۔ ایل۔ کیگن کی جانب سے
by Dr. C. L. Cagan

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
خُداوند کے دِن کی صبح، 7 فروری، 2016
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Morning, February 7, 2016

’’پھر خُدا نے نوح اور اُس کے بیٹوں کو یہ کہہ کر برکت دی کہ پھولو، پھلو اور تعداد میں بڑھو اور زمین کو معمور کرو‘‘ (پیدائش9:1)۔

آج ہمارا گرجہ گھر چینی نیا سال منا رہا ہے۔ چینی نیا سال چینیوں کا سب سے اہم چُھٹی کا دِن ہے۔ یہ مسیح سے دو ہزار سال پہلے شروع ہوا تھا، جب شہنشاہ ہوّانگ شی Emperor Huang Ti نے پہلا کلینڈر متعارف کروایا تھا۔ مغربی کلینڈر کی طرح، چینی کلینڈر ہر سال کو شمار کرتا ہے۔ مگر مغربی کلینڈر کے برعکس، چینی کلینڈر چاند کی گردشوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ مغربی کلینڈر سورج کے گرد زمین کی گردشوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ زمین سورج کے گرد سال میں ایک چکر لگاتی ہے، جو سردی، گرمی، خزاں اور بہار کے موسموں کو پیدا کرتا ہے۔

چینی کلینڈر زمین کے گرد چاند کی گردشوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ چاند زمین کے گرد بالکل درست طور سے سال میں بارہ مرتبہ گردش نہیں کرتا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ہر سال چینی نیا سال مختلف تاریخوں پر منایا جاتا ہے، جیسے یہودی مذھب میں پینتیکوست، اور مسیحی مذھب میں عید پاشکا۔ چینی نئے سال کا آغاز جنوری کے آخر اور فروری کے وسط کے درمیان کہیں بھی نازل ہو سکتا ہے۔ اِس سال چینی نیا سال کل، 8 فروری کو آ رہا ہے۔ روایتاً تہوار کئی دِنوں تک جاری رہتا ہے، اور آج کے دِن نئے سال کو منانا بجا طور پر دُرست ہے۔

ایک مکمل قمری چینی گردش ساٹھ سال لیتی ہے اور یہ بارہ بارہ سالوں کی پانچ گردشوں پر بنتی ہے۔ چینی کلینڈر ہر ایک بارہ سال کا نام ایک ممالیہ، حشراتی یا پرندے – چوہے، بیل، ٹائیگر، خرگوش، اژدھے، سانپ، گھوڑے، بھیڑ، بندر، مُرغ، کُتے اور سؤر پر رکھتا ہے۔ یہ سال (2016 بعد از مسیح) بندر کا سال ہے۔ اِس نئے سال کے تہوار کی اقسام کو اُن ممالک میں منایا جا رہا ہے جو چینیوں سے متاثر رہ چکے ہیں، بشمول کوریہ، کمبوڈیہ، ویت نام، منگولیہ، تھائی لینڈ، انڈونیشیا، ملائیشیا، فلپائین، سنگاپور، تائیوان اور یہاں تک کہ 1873 تک جاپان میں ہر جگہ پر چینی برادریاں، جب جاپانیوں نے مغربی کلینڈر کو اختیار کیا تھا یا چُنا تھا۔

چین دُنیا کی عظیم ترین قوموں میں سے ایک ہے۔ چین میں کسی بھی دوسرے مُلک کے مقابلے میں زیادہ لوگ ہیں – تقریباً 1.4 بلین، ریاست ہائے متحدہ سے چار گُناہ زیادہ۔ چینی بہت بڑی سیاسی، معاشی اور عسکری قوت میں بڑھ چکا ہے۔ امریکہ اور مغرب کے زوال کے ساتھ، چین شاید دُنیا میں برتر ترین مُلک ہو۔

بائبل نے چین میں ایک بہت بڑے روحانی حیاتِ نو کی پیشن گوئی کی تھی۔ مسیح سے سات سو سال پہلے اشعیا نے کہا، ’’دیکھ وہ بہت دور سے آئیں گے: اور کچھ شمال کی جانب سے کچھ مغرب سے؛ اور کچھ آسوان کے علاقے سے‘‘ (اشعیا49:12)۔ وہ پیشن گوئی چین میں مسیحیت کے پھٹ پڑنے سے پوری ہو رہی ہے۔ وہاں پر اب تقریباً 130 ملین مسیحی ہیں۔ ’’آسوان Sinim‘‘ چین کا قدیم نام ہے۔ ڈاکٹر ھنری ایم مورس Dr. Henry M. Morris اور بے شمار دوسرے عالمین نے ’’آسوانSinim‘‘ کو چین کی حیثیت سے شناخت کیا ہے (بائبل کا دفاع کرنے والوں کا مطالعۂ بائبلThe Defender’s Study Bible ؛ اشعیا49:12 پر غور طلب بات)۔ وہ پیشن گوئی آج پوری ہو رہی ہے۔ ریاست ہائے متحدہ، کینیڈا، اور یورپ – سب کو ملا لیں تو اِن کے مقابلے میں چین میں زیادہ لوگ ہر اِتوار کی صبح گرجہ گھر جاتے ہیں! بے شمار نوجوان چینی لوگ ہمارے گرجہ گھر میں آ رہے ہیں۔ اُن میں سے کچھ مسیح پر بھروسہ کر چکے ہیں، اور ہم اُن کے لیے خُدا کا شکر ادا کرتے ہیں!

چین کی ایک طویل تاریخ رہ چکی ہے۔ تہذیب کا آغاز چین میں ہوا، ژیا سلطنت Xia Dynastyکے تحت مسیح سے دو ہزار سال پہلے، دریائے یلو Yellow River کے قریب۔ چینی تہذیب مسیح سے 1,600 سال پہلے، شینگ سلطنت Shang Dynasty میں مضبوط ترین ہو چکی تھی۔

نوح کے سیلاب کے تقریبا دو سو سال بعد چین میں لوگ رہ رہے تھے۔ خُدا نے عظیم سیلاب میں نسل انسانی کو سزا دی۔ دُنیا پانی سے بھر چکی تھی۔ صرف نوح اور اُس کا خاندان ہی کشتی میں بچ پائے تھے۔ پانی پھر اُترتا گیا۔ نوح اور اُس کا خاندان کشتی میں سے باہر آئے۔ مہربانی سے اپنی بائبل پیدائش 9:1 آیت سے کھولیں۔ وہ سیکوفیلڈ بائبل پر صفحہ 16 پر ہے۔ خُدا نے اُن سے کہا، ’’بڑھو، پھلو، اور تعداد میں بڑھو اور دُنیا کو معمور کرو‘‘ (پیدائش9:1)۔

کوئی شاید تعجب کرے، ’’کیا یہ واقعی میں سچ ہے؟ کیا یہ بات چینی تاریخ کے ساتھ بیٹھتی ہے؟ کیسے نسل انسانی آٹھ لوگوں سے شروع ہو کر دو یا تین سو سالوں میں کروڑوں میں بڑھ گئی – کہ لوگوں نے چین، انڈیا، مصر، اور کئی اور جگہوں پر شہر تعمیر کیے؟‘‘ آج کی صبح میں اِن سوالات کے جواب دینا چاہتا ہوں۔

پہلے، سوچیں سیلاب سے پہلے کیا ہوا تھا۔ چھ ہزار سال سے بھی زیادہ پہلے، خُدا نے ہمارے پہلے والدین کو کہا، ’’پھولو پھلو اور تعداد میں بڑھو اور زمین کو معمور کرو‘‘ (پیدائش1:28)۔ خُدا نے اُنہیں بچے پیدا کرنے اور زمین کو معمور کرنے کے لیے کہا۔

آدم اور اُس کی آل اولاد نے زمین کو معمور کیا۔ اُس زمانے میں لوگوں کی عمریں 800 یا 900 سال کی ہوا کرتی تھیں۔ اب کے مقابلے میں اُس وقت ماحول بہترین تھا۔ زمین آبی بُخارات کی ایک چھتری کے ساتھ ڈھکی ہوتی تھی جو خلا سے آنے والی تابکاری سے حفاظت کیا کرتی تھی۔ کوئی بارش نہیں تھی۔ اِس کے بجائے ’’زمین سے کُہر اُٹھتی تھی جو تمام روئے زمین کو سیراب کیا کرتی تھی‘‘ (پیدائش2:6)۔ یہ ایک گرین ہاؤس کی مانند تھا، زندگی بسر کرنے کے لیے ایک خوشگوار جگہ تھی۔ پودے اور جانور نشوونما پاتے تھے۔ ایسے ہی لوگ بھی نشوونما پاتے تھے۔ اُن کی زندگیاں 900 سال یا اِس سے بھی زیادہ ہوا کرتی تھیں۔ بائبل کہتی ہے، ’’آدم پورے نو سو تیس برس تک زندہ رہا اور پھر وہ مر گیا‘‘ (پیدائش5:5)۔

لیکن آدم نے گناہ کیا تھا، اور نسل انسانی پر گناہ اور موت لایا تھا۔ یہ ہی وجہ تھی کہ آدم کے پہلے بیٹے قائین نے اپنے بھائی ہابل کو قتل کر دیا (پیدائش4:8)۔ خُدا نے قائین سے کہا، ’’تو بے چین ہو کر زمین پر مارا مارا پھرتا رہے گا‘‘ (پیدائش4:12)۔ قائین خُدا کی حضوری سے نکل گیا اور عدن کے مشرق میں ’’نود کے علاقے‘‘ میں جا بسا‘‘ (پیدائش4:16)۔ ’’نود کے علاقے‘‘ کا لفظی مطلب ہے ’’آوارہ گردی کی سرزمین۔‘‘ ڈاکٹر ایم۔ آر۔ ڈیحان Dr. M. R. DeHaan نے کہا، ’’روایت بتاتی ہے کہ قائین ہندوستان اور چین اور دوسرے دور دراز کے علاقوں میں نکل گیا‘‘ (نوح کے دِنThe Days of Noah، ژونڈروان Zondervan، 1971، صفحہ33)۔ قائین نے اپنے والدین سے بہت دور ایک شہر تعمیر کیا (دیکھیں پیدائش4:17)

۔

قائین بھاگ چکا تھا۔ ہابل مر چکا تھا۔ آدم اور حوّا کے ہاں سیت نامی ایک اور بیٹا ہوا تھا (پیدائش4:25)۔ اُن کے ہاں ’’اور بیٹے اور بیٹیاں‘‘ پیدا ہوئیں (پیدائش5:4)۔ اپنی زندگی کے 930 برسوں میں، آدم کے ہاں اُن میں سے بے شمار پیدا ہوئے۔ یہودی روایت کے مطابق، آدم اور حوّا کے 56 بچے پیدا ہوئے تھے!

سیت 912 برسوں تک زندہ رہا۔ اُس کے ہاں ’’بیٹے اور بیٹیاں‘‘ پیدا ہوئیں (پیدائش5:13، 14)۔ پیدائش کا پانچواں باب اُس زمانے کے بہت بڑے بڑے لوگوں کی عمریں اور نام پیش کرتا ہے۔ اُن میں سے زیادہ تر 900 سالوں سے زیادہ عمر تک زندہ رہے۔ اُن کے بے شمار بچے پیدا ہوئے۔ زمین نسل انسانی سے معمور ہوتی چلی گئی۔

سیلاب کے زمانے میں بے شمار لاکھوں، یہاں تک کروڑوں لوگ تھے۔ اُنہیں زمین کے بڑے بڑے خِطّوں میں پھیلنا تھا۔ یہ بات سیلاب کی عالمگیری فطرت پر بیٹھتی ہے۔ سیلاب ساری زمین پر چھا گیا تھا کیونکہ لوگوں نے تمام زمین کو ڈھانپا ہوا تھا!

اُنہوں نے گنہگاروں کی حیثیت سے زمین کو بھرا ہوا تھا۔ ’’خُداوند نے دیکھا کہ زمین پر انسان کی بدی بہت بڑھ گئی ہے اور اُن کے خیالات ہمیشہ بدی کی طرف مائل رہتے ہیں‘‘ (پیدائش6:5)۔ ’’اب زمین خُدا کی نظر میں بگڑ چکی تھی اور ظلم و تشدد سے بھری ہوئی تھی‘‘ (پیدائش6:11)۔

خُدا نے نسل انسانی کو سیلاب میں سزا دی۔ زمین پانی کے ساتھ 150 دِنوں تک ڈھکی رہی (پیدائش7:24)۔ صرف نوح اور اُس کا خاندان – آٹھ لوگ – کشتی میں زندہ بچے تھے۔ باقی ڈوب گئے اور جہنم میں گئے۔ سیلاب کا پانی اُترا۔ کشتی آرمینیا میں، کوہِ ارارات پر ٹھہری (پیدائش8:4)۔ جب نوح اور اُس کا خاندان کشتی میں سے باہر نکلے، خُدا نے اُن سے کہا، ’’پھولو پھلو اور تعداد میں بڑھو اور زمین کو معمور کرو‘‘ (پیدائش9:1)۔

یہ وہی حکم تھا جو خُداوند نے آدم اور حوّا کو دیا تھا۔ یہ کرنا آسان تھا۔ لوگ اب بھی صدیوں تک زندہ رہتے تھے – اتنی زیادہ عمریں نہیں تھیں جتنی سیلاب سے پہلے ہوا کرتی تھیں، کیونکہ چھتری نیچے آ چکی تھی۔ لیکن ایک جوڑا اب بھی 20، 30 یا زیادہ بچے پیدا کر سکتا تھا۔

کھڑے ہوں اور ’’ستائش ہو، میری جان، آسمان کے بادشاہPraise, My Soul, the King of Heaven‘‘ گائیں۔

ستائش ہو، میری جان، آسمان کے بادشاہ، اُس کے قدموں میں تیری عقیدت لاتے ہیں؛
   بخشا ہوا، شفا پایا ہوا، بحال کیا ہوا، معاف کیا ہوا، کس کو تیری مانند اُس کی ستائش گانی چاہیے؟
اُس کی ستائش ہو! اُس کی ستائش ہو! ابدالاباد بادشاہ کی ستائش ہو۔
   (ستائش ہو، میری جان، آسمان کے بادشاہ Praise, My Soul, the King of Heaven،‘‘ زبور 103 سے؛
      شاعر ھنری ایف۔ لائیٹ Henry F. Lyte، 1793۔1847)۔

آپ تشریف رکھ سکتے ہیں۔

ساری دُنیا میں پھیلنا آسان تھا۔ سیلاب کے بعد موسم سرد ترین ہو گیا تھا۔ سائنسدان اِس زمانے کو ’’برف کا زمانہ Ice Age‘‘ کہتے ہیں۔ پانی کا زیادہ تر حصہ برف کے تہوں میں دب گیا تھا۔ پہاڑ اوپر اُٹھ چکے تھے اور سمندر اُتر چکے تھے۔ ایشیا سے شمالی امریکہ کو پار کرنا آسان تھا۔ روس اور آلاسکا کے درمیان پانی اُتر چکا تھا۔ روس اور آلاسکا کے درمیان زمین کا ایک پُل تھا۔ سائنسدان ظاہر کرچکے ہیں کہ آلاسکا سے لیکر جنوبی امریکہ تک – مقامی لوگ ’’انڈینز‘‘ تھے، جو چین کے لوگوں سے تعلق رکھتے تھے۔

ایک اور وجہ ہے کہ کیوں دو یا تین سو سالوں میں دُنیا کو بھرنا آسان تھا۔ لوگ پہلے ہی سے دُنیا کے جغرافیے کو جانتے تھے۔ سیلاب سے پہلے وہ علاقوں کی ترتیب کو جانتے تھے۔ اُن کے آباؤاِجداد ہندوستان اور چین میں رہ چکے تھے۔ وہ جانتے تھے وہ کہاں پر جا رہے تھے!

دُنیا کو دوبارہ معمور کرنا آسان رہا ہوگا۔ جتنی دیر میں یہ ہونا تھا اُس سے زیادہ دیر لگی تھی۔ کیوں ہوئی تھی میں تھوڑی دیر میں وضاحت کروں۔ لیکن جب لوگ واقعی میں پھیل گئے، اُنہوں نے ڈھیر ساری زمین کو معمور کیا اور یہ اُنہوں نے تیزی سے کیا! نوح کے بیٹے سِم، حام اور یافت تھے (پیدائش10:1)۔ سِم سامی Semitic لوگوں کا جِدامجد بنا، جو قرون وسطیٰ کے لوگ تھے۔ ابراہام سِم کی آل اولاد میں سے تھا۔ اپنے بیٹے اضحاق کے ذریعے سے، ابراہام یہودی لوگوں کا جِدامجد تھا۔ اپنے بیٹے اسمعیل کے ذریعے سے ابراہام عرب کے لوگوں کا جِدامجد تھا۔ دونوں یہودی اور عربی سامی لوگ ہیں۔

یافتJapheth یورپ اور ایشیا کی قوموں کا جِد امجد بنا۔ اُس کے بیٹوں میں سے ایک گومرGomer تھا، جو مغربی یورپ میں بے شمار قوموں کا جِدامجد تھا۔ ایک اور بیٹا میگوگ Magog تھا، جو روسی اور یوکرائینUkraine کے لوگوں کا جدِ امجد تھا۔ یافت کا ایک پوتا تارشیشTarshish جو سپین کے لوگوں کا جدِ امجد تھا۔ چین کے لوگ یافت کی آل اولاد ہیں۔

حام افریقہ کی قوموں کے حامی Hamitic لوگوں کا جدِ امجد تھا۔ حام کے بیٹوں میں سے ایک مزرائیم Mizraim تھا (پیدائش10:6)، جو مصر کا عبرانی نام ہے، افریقہ کا وہ پہلا مُلک جہاں لوگ پہنچےتھے۔

نوح کی آل اولاد نے ایک مختصر سی مدت میں دُنیا کو بھر دیا۔ لیکن یہ سب کچھ یکدم ہی نہیں ہو گیا تھا! شروع میں اُنہوں نے خُدا کو انکار کر دیا تھا۔ جیسا کہ نیا عہد نامہ کہتا ہے، ’’جسمانی [غیرتبدیل شُدہ] نیت خُدا کی مخالفت کرتی ہے‘‘ (رومیوں8:7)۔ گناہ سے بھرپور انسان کی خُدا کے خلاف بغاوت کرنے کی یہ فطرت ہے۔ لوگوں نے پھیلنے اور زمین کو معمور کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ کیا رونما ہوا؟

حام کے بیٹوں میں سے ایک کُشCush تھا، جو نمرود کا باپ تھا (پیدائش10:6۔9)۔ نمرود ایک گھمنڈی اور بدکار شخص تھا۔ اُس نے شینار [جو بعد میں بابلونیا کہلایا] کی سرزمین میں ایک بادشاہت قائم کی جس کی حکومت بابلBabylon سے کیا کرتا تھا۔ نمرود بادشاہ کے ساتھ، لوگوں نے زمین کو معمور کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ اُنہوں نے کہا، ’’آؤ ہم اپنے لیے ایک شہر بسائیں اور اُس میں ایک ایسا بُرج تعمیر کریں جس کی چوٹی آسمان تک جا پہنچے تاکہ ہمارا نام مشہور ہو اور ہم تمام روئے زمین پر تِتر بِتر نہ ہوں‘‘ (پیدائش11:4)۔ وہ پھیلنا نہیں چاہتے تھے۔ وہ ایک شہر تعمیر کرنا چاہتے تھے اور ایک بُرج بنانا چاہتے تھے جو خود اُن کی اپنی شاہانت کو ظاہر کرنے کے لیے قوت کا ایک گڑ ہو

۔

لیکن خُدا نے اُنہیں سزا دی۔ اُس نے اُنہیں بُرج تعمیر کرنے سے روکا۔ اُس وقت تک ہر کوئی ایک ہی زبان بولا کرتا تھا۔ ’’ساری زمین پر ایک ہی زبان اور ایک ہی بولی تھی‘‘ (پیدائش11:1)۔ اور خُدا نے کہا،

’’آؤ ہم نیچے جا کر اُن کی زبان میں اِختلاف پیدا کریں تاکہ وہ ایک دوسرے کی بات ہی نہ سمجھ سکیں۔ لِہذا خُداوند نے اُنہیں وہاں سے تمام روئے زمین پر منتشر کر دیا اور وہ شہر کی تعمیر سے باز آئے۔ اِسی لیے اُس شہر کا نام بابل [لفظ ’بابل‘ کا مطلب ذہنی اُلجھاؤ ہوتا ہے] پڑ گیا کیونکہ وہاں خُدا نے سارے جہاں کی زبان میں اِختلاف [تذبذب] ڈالا تھا۔ وہاں سے خُدا نے اُنہیں تمام روئے زمین پر منتشر کر دیا‘‘ (پیدائش11:7۔9)۔

خُدا نے اُن کی بولی میں ذہنی اُلجھاؤ ڈال دیا۔ لفظ ’’بابل‘‘ کا مطلب ’’تذبذب‘‘ ہوتا ہے۔ لوگ ایک دوسرے کو سمجھ نہیں پاتے تھے۔ ہر شخص صرف اپنی ہی بولی کے گروہ سے بات کر سکتا تھا۔ وہ بُرج کو مکمل نہ کر پائے۔ اُن کا معاشرہ بکھر گیا۔ ہر کوئی علیحدہ ہو گیا اور اُن لوگوں کے ساتھ چلا گیا جن کے ساتھ وہ بات کر سکتے تھے – نزدیکی رشتہ دار۔ اُنہوں نے زمین کو معمور کیا – جب اُنہیں ایسا کرنے کے لیے مجبور کیا گیا۔ بائبل کہتی ہے کہ اُن دِنوں میں ’’زمین کی تقسیم‘‘ ہوئی تھی (پیدائش10:25)۔

یہ سیلاب کے تقریبا 100 سال بعد رونما ہوا تھا۔ نسل اِنسانی ایک لوگ تھی۔ یہ اب بھی ہے! بائبل کہتی ہے خُدا نے ’’آدم کو بنایا اور اُس ایک سے لوگوں کی ہر قوم کو پیدا کیا‘‘ (اعمال17:26)۔ یہ ہی وجہ تھی کہ کوئی بھی شخص کسی بھی عورت سے شادی کرسکتا تھا اور بچے پیدا کر سکتا تھا۔ نسل انسانی کی تمام کا تمام حیاتیاتی تنوع نوح اور اُس کے خاندان میں سمایا ہوا تھا۔ لیکن بابل کے بُرج کے بعد، لوگ چھوٹے چھوٹے زبانوں والے گروہوں میں تقسیم ہو گئے۔ سینکڑوں سالوں تک وہ صرف اپنے ہی گروہ میں شادیاں کرتے رہے۔ جلد ہی لوگوں کا ایک مخصوص گروہ set دوسرے کی مانند نہیں لگتا تھا۔ یہ ہے جہاں سے مختلف نسلیں اور زبانیں اور قوموں وجود میں آئیں۔ کچھ یورپ میں چلے گئے اور اپنی زبانیں وہاں بولنے لگے۔ دوسرے افریقہ میں چلے گئے۔ کچھ چین میں چلے گئے اور ایک دوسرے کے ساتھ چینی زبان بولنے لگے۔

اِس عمل نے مختصر سا وقت ہی لیا تھا۔ زبانوں کے لیے گروہ ساری کی ساری دُنیا میں پھیل گئے تھے۔ یافت کی آل اولاد یورپ، انڈیا اور چین اور بالاآخر امریکی براعظم میں چلی گئی۔ حال کی آل اولاد افریقہ چلی گئی۔ سِم کی آل اولاد نے قرون وسطیٰ کو معمور کیا۔

جہاں کہیں بھی وہ گئے اُنہوں نے سیلاب کو یاد رکھا۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ساری کی ساری دُنیا میں قبیلوں کے پاس سیلاب کے بارے میں قصّے کہانیاں تھیں۔ شمال مغرب کے اصلی امریکی باشندے ایک شخص کے بارے میں بتاتے ہیں جس نے ایک کشتی تعمیر کی تھی۔ فجی کے جزیروںFiji Islands کے لوگوں کے پاس سیلاب کے بارے میں ایک قِصّہ ہے۔

جہاں کہیں پر بھی گئے لوگوں کے پاس ایک خُدا میں اعتقاد تھا۔ اُنہوں نے یہ بات نوح اور اُس کے بیٹوں سے سیکھی تھی۔ شمالی امریکہ کے قبیلے ایک ایسے خُدا میں یقین رکھتے تھے جس کو اُنہوں نے عظیم روح کہا۔ پروٹو انڈین یورپین بولی میں، جس نے یورپ اور انڈیا کی زبانوں کی رہنمائی کی، ہم ’’دیویس پیٹرDyeus-Pater‘‘ کا سُنتے ہیں، جو ’’خُدا باپ‘‘، آسمان میں خُدا باپ ہے۔ ’’دیویس پیٹرDyeus-Pater‘‘ ہی سے یونانی خُدا زیوسZeus اور رومی خُدا جیوپیٹرJupiter کے نام نکلے ہیں۔

منگول لوگ ٹینگری Tengri میں یقین رکھتے تھے، جو خُدا باپ سے اخذ کیا گیا ایک عظیم آسمانی خُدا تھا۔ قدیم چینی لوگ ایک خُدا میں یقین رکھتے تھے۔ ڈاکٹر جیمس لیگی Dr. James Legge (1815۔1897) آکسفورڈ یونیورسٹی میں چینی زبان اور ادب کے پروفیسر تھے۔ اپنی کتاب چین کے مذاھب The Religions of China (چارلس سکرائیبنر کے بیٹے Charles Scribner’s Sons، 1881) میں، ڈاکٹر لیگی نے ظاہر کیا کہ چین کا اصلی مذھب ایک خُدا میں یقین کرنا تھا، جس کو وہ شینگ چیShang Ti (آسمان کا بادشاہ King of Heaven) کہتے تھے۔ مسیح سے دو ہزار سال پہلے، کنفوشیئیز اور بُدھا کی پیدائش سے بھی کئی صدیاں پہلے، چینی لوگ ایک خُدا کی پرستش کیا کرتے تھے – خُدا جو باپ تھا، آسمان کا بادشاہ۔

چین کا اصلی مذھب بُدھ مت نہیں تھا۔ بُدھا چینی نہیں تھا! وہ انڈیا میں رہتا تھا۔ بُدھ مت چین میں انڈیا سے آیا تھا۔ چین کا اصلی مذھب توحیدmonotheism تھا، ایک خُدا میں ایمان – شینگ چی، آسمان کا بادشاہ۔ بعد میں، توہم پرستیاں اور غلطیوں کا اضافہ ہوا۔ لیکن شینگ چی، آسمان کا بادشاہ، چین کا اصلی خُدا تھا! ’’ستائش ہو، میری جان، آسمان کے بادشاہ۔‘‘ کھڑے ہوں اور اِس کو گائیں!

ستائش ہو، میری جان، آسمان کے بادشاہ، اُس کے قدموں میں تیری عقیدت لاتے ہیں؛
   بخشا ہوا، شفا پایا ہوا، بحال کیا ہوا، معاف کیا ہوا، کس کو تیری مانند اُس کی ستائش گانی چاہیے؟
اُس کی ستائش ہو! اُس کی ستائش ہو! ابدالاباد بادشاہ کی ستائش ہو۔

آپ تشریف رکھ سکتے ہیں۔

کیوں چینی لوگ سچے خُدا سے دور ہو گئے تھے؟ کیونکہ وہ گنہگار تھے۔ دُنیا کے تمام لوگ گنہگار ہیں۔ ہر ایک سرزمین میں قدیم لوگ گنہگار تھے۔ وہ ’’خُدا کے خلاف بغاوت‘‘ پر تھے (رومیوں8:7)۔ وہ خُدا کو نہیں چاہتے تھے۔ لہٰذا اُنہوں نے توہم پرستیوں اور بُتوں اور جھوٹے مذاھب کو ایجاد کیا۔ بائبل کہتی ہے،

’’اگرچہ وہ خُدا کے بارے میں جانتے تھے لیکن اُنہوں نے اُس کی تمجید اور شکرگزاری نہ کی جس کے وہ لائق تھا۔ بلکہ اُن کے خیالات فضول ثابت ہوئے اور اُن کے ناسمجھ دِلوں پر اندھیرا چھا گیا۔ وہ عقلمند ہونے کا دعویٰ کرتے تھے لیکن بیوقوف نکلے۔ اور غیر فانی خُدا کے جلال کو فانی انسان اور پرندوں، چوپایوں اور کیڑے مکوڑوں کی صورت میں بدل ڈالا‘‘ (رومیوں1:21۔23)۔

یہ ساری کی ساری انسانیت کے ساتھ ہوا تھا۔ یہ مصر میں رونما ہوا، بابل میں، یورپ میں، انڈیا میں اور یہ چین میں رونما ہوا۔ یہ ہے جہاں سے دُنیا کے جھوٹے مذاھب نکلے ہیں۔ گنا سے بھرپور انسان نے سچائی کو ٹھکرایا اور ہر قسم کی جھوٹی باتوں کو اپنا لیا۔ نور مدھم پڑتا گیا۔ تاریکی چھا گئی۔ انسان کے ساتھ کوئی اُمید باقی نہ رہی تھی۔

یہ خُدا تھا جس نے ہاتھ آگے بڑھایا۔ خُدا نے کُسدیوں کے اُوور نامی گناہ سے بھرپور شہر پر نیچے نگاہ ڈالی۔ وہاں اُس نے ابراہام نامی ایک شخص سے کہا، ’’خود کو اپنے ملک سے باہر نکال… اور میں تجھے ایک بہت بڑی قوم بناؤں گا، اور میں تجھے برکت دوں… اور تو ایک برکت ٹھہرے گا… اور تجھ میں زمین کے سارے خاندان برکت پائیں گے‘‘ (پیدائش12:1۔3)۔ خُدا نے اُس سے کہا، ’’تیرے لیے میرے پاس بُلاہٹ ہے۔‘‘ ابراہام نے سچے خُدا میں یقین کیا۔ وہ یہودی لوگوں کا باپ بنا، جو زمین پر خُدا کے چُنیدہ لوگ ہیں۔

خُدا نے بائبل ہمیں پیش کرنے کے لیے یہودی لوگوں کو چُنا۔ اور خُدا نے مریم نامی ایک یہودی لڑکی سے اپنے بیٹے یسوع کو پیدا ہونے کے لیے بھیجا۔ وہاں اسرائیل میں یسوع سن بلوغت تک پہنچا۔ وہاں اسرائیل میں وہ ہمارے گناہ کا کفارہ ادا کرنے کے لیے صلیب پر قربان ہوا۔ اُس نے ہمارے گناہوں کو دھو ڈالنے کے لیے اپنے خون کو پیش کیا۔ ہمیں زندگی بخشنے کے لیے وہ مُردوں میں سے جی اُٹھا۔ یسوع تمام نسل انسانی کے لیے قربان ہوا تھا – صرف یہودیوں ہی کے لیے نہیں، بلکہ چین کے لوگوں اور ساری دُنیا کے لیے قربان ہوا تھا! مسیح ’’ہمارے گناہوں کا کفارہ ہے… بلکہ ساری دُنیا کے گناہوں کا کفارہ ہے‘‘ (1یوحنا2:2)۔ تمام انسانیت کے لیے مسیحیت ہی واحد سچا مذھب ہے۔ یہ ’’امریکیوں کا مذھب‘‘ نہیں ہے۔ زیادہ تر امریکی حقیقی مسیحی نہیں ہوتے ہیں۔ مسیح کسی ایک قوم یا تہذیب کے لیے ہے۔ دُنیا کے ہر ملک میں مسیحی ہیں کیونکہ مسیح ’’ساری دُنیا کے گناہوں کے لیے‘‘ قربان ہوا تھا – چینیوں کے لیے، کوریائی لوگوں کے لیے، ہسپانوی لوگوں کے لیے، افریقی لوگوں کے لیے – اور آپ کے لیے! چین سے اور ساری دُنیا سے لوگ یسوع پر بھروسہ کرتے ہیں۔ یسوع آپ سے کہتا ہے، ’’میرے پاس آؤ‘‘ (متی11:28)۔ یسوع کے پاس آئیں۔ اُس پر بھروسہ کریں۔

اِنسان خود اپنے طور پر خُدا کو کبھی بھی نہیں پا سکتا۔ بائبل کہتی ہے، ’’کیا تو جستجو کر کے خُدا کے اِسرار کو جان سکتا ہے؟‘‘ (ایوب11:7)۔ درحقیقت، کوئی بھی خُدا کو جاننا نہیں چاہتا۔ بائبل کہتی ہے، ’’کوئی خُدا کا طالب نہیں ہے‘‘ (رومیوں3:11)۔ یہ خُدا ہے جو ہم گنہگاروں کو بچانے کے لیے پہنچتا ہے۔

دُنیا کے تخلیق کیے جانے سے پہلے، خُدا نے زمین پر کچھ لوگوں کو مخلصی دلانے کا منصوبہ بنایا تھا۔ یہ ہمیشہ سے ہی خُدا کا منصوبہ تھا کہ گنہگاروں کے واسطے قربان ہونے کے لیے اپنے بیٹے یسوع کو بھیجے۔ بائبل یسوع کے بارے میں بتاتی ہے، ’’بنائے عالم سے ذبح کیا ہوا برّہ‘‘ (مکاشفہ13:8)۔ یہ تھا ہر جگہ پر اپنے لوگوں کے لیے خُدا کا منصوبہ۔ یسوع ہر اُس کے لیے جس کو وہ بچاتا ہے قربان ہوا تھا۔

بائبل کہتی ہے، ’’خُدا ہمارے لیے اپنی محبت یوں ظاہر کرتا ہے کہ جب ہم گنہگار ہی تھے تو مسیح نے ہماری خاطر اپنی جان قربان کر دی‘‘ (رومیوں5:8)۔ بائبل کہتی ہے، ’’محبت یہ نہیں کہ ہم نے اُس خُدا سے محبت کی [ہم نہیں کرتے] بلکہ یہ ہے کہ اُس نے ہم سے محبت کی اور اپنے بیٹے کو بھیجا تاکہ وہ ہمارے گناہوں کا کفارہ [تسلی کے لیے ادائیگی] ہو‘‘ (1یوحنا4:10)۔ خُدا آپ سے اِس قدر زیادہ محبت کرتا ہے کہ اُس نے اپنے بیٹے یسوع کو آپ کے گناہ کی ادائیگی کی خاطر صلیب پر قربان ہونے کے لیے بھیجا۔ یسوع نے آپ کے گناہوں کو دھو ڈالنے کے لیے اپنا خون بہایا۔ میں دعا مانگتا ہوں کہ آپ جلد ہی یسوع پر بھروسہ کریں۔

کھڑے ہو جائیں اور اِسے دوبارہ گائیں – ’’ستائش ہو، میری جان، آسمان کے بادشاہ۔‘‘

ستائش ہو، میری جان، آسمان کے بادشاہ، اُس کے قدموں میں تیری عقیدت لاتے ہیں؛
   بخشا ہوا، شفا پایا ہوا، بحال کیا ہوا، معاف کیا ہوا، کس کو تیری مانند اُس کی ستائش گانی چاہیے؟
اُس کی ستائش ہو! اُس کی ستائش ہو! ابدالاباد بادشاہ کی ستائش ہو۔

آمین۔

اگر اِس واعظ نے آپ کو برکت بخشی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز آپ سے سُننا چاہیں گے۔ جب آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں تو آپ اُنہیں ضرور بتائیں کہ آپ کس مُلک سے لکھ رہے ہیں ورنہ وہ آپ کی ای میل کو جواب نہیں دیں گے۔ اگر اِن واعظوں نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز کو ایک ای میل لکھیں اور اُنہیں بتائیں، لیکن ہمیشہ جس ملک سے آپ لکھ رہے ہیں اُس کا نام شامل کریں۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای میل ہے rlhymersjr@sbcglobal.net (click here) ۔ آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو کسی بھی زبان میں لکھ سکتے ہیں، لیکن اگر آپ انگریزی میں لکھ سکتے ہیں تو انگریزی میں لکھیں۔ اگر آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو بذریعہ خط لکھنا چاہتے ہیں تو اُن کا ایڈرس ہے P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015.۔ آپ اُنہیں اِس نمبر (818)352-0452 پر ٹیلی فون بھی کر سکتے ہیں۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہائیمرز کے واعظ www.sermonsfortheworld.com
یا پر پڑھ سکتے ہیں ۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

یہ مسودۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے تمام ویڈیو پیغامات حق اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے
جا سکتے ہیں۔

واعظ سے پہلے تلاوت مسٹر ایبل پرودھوم Mr. Abel Prudhomme نے کی تھی: رومیوں1:21۔23 .
واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بنجیمن کنکیتھ گریفتھMr. Benjamin Kincaid Griffith نے گایا تھا:
’’یسوع حکمرانی کرے گا Jesus Shall Reign‘‘ (شاعر ڈاکٹر آئزک واٹز Dr. Isaac Watts، 1674۔1748)۔