Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 215 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.co پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہمارے ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 36 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔

جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

تِھسّلُنِیکیوں کے مسیحیوں کو اپنی مثال بنائیں!

MAKE THE THESSALONIAN CHRISTIANS
YOUR EXAMPLE!

(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
خُداوند کی شام، 27 دسمبر، 2015
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord's Day Evening, December 27, 2015

’’پولوس، اور سیلاس اور تیمِتھِیُس کی طرف سے، تِھسّلنِیکے کی کلیسیا کے نام جو خُدا باپ اور خُداوند یسوع مسیح کے نام سے کہلاتی ہے: خُدا ہمارے باپ اور خُداوند یسوع مسیح کی طرف سے فضل اور ایمان تمہیں حاصل ہوتا رہے‘‘(1تھسلُنیکیوں1:1).

مسٹر پرودھوم نے چند لمحے پہلے 1 تِھیسّلنِیکوں کا پہلا باب پڑھا۔ یہ ہمیں ابتدائی کلیسیا کی ایک تصویر پیش کرتا ہے جو تھِیسّلنیکے کے شہر میں تھی۔ پولوس رسول نے مُراسلہ تقریبا 50 بعد از مسیح لکھا۔ یہ پہلا مُراسلہ تھا جو پولوس نے لکھا۔ اُس نے یہ ایک ایسی جماعت کو لکھا تھا جس کو ابھی صرف چند ایک مہینے ہی ہوئے تھے۔ اعمال 17 باب کے مطابق پولوس وہاں پر اُن کے ساتھ تین سبتوں تک رہا تھا۔ اُس کو اُن بے اعتقادے یہودیوں کے ہجوم نے بِلا توقف شہر سے باہر نکال دیا تھا جو پولوس اور سیلاس کے خلاف چِلائے تھے – یہ کہتے ہوئے، ’’یہ آدمی جنہوں نے ساری دُنیا کو اُلٹ پلٹ کر دیا ہے اب [یہاں بھی] آ پہنچے ہیں‘‘ (اعمال17:6)۔ اُنہوں نے کہا کہ یاسُون جو کلیسیا کا رہنما ہے وہ یہ کہنے سے کہ یسوع نامی ایک اور بادشاہ ہے قیصر کا قانون توڑ رہا ہے۔ اُنہوں نے یاسُون اور دوسرے مسیحیوں کو گرفتار کر لیا، پھر اُنہیں جانے دیا۔ باب 3 آیت2 میں، پولوس نے ’’اُنہیں ایمان میں مضبوط کرنے اور حوصلہ بڑھانے کے لیے‘‘ تِیمُتھِیُس کو بھیجنے کا وعدہ کیا (1تھِسلُنیِکیوں3:2)۔

اب ہم 1تھِسلُنیِکیوں کا پہلا باب دیکھیں گے۔ ہم ایک انتہائی غیر معمولی چھوٹی سی مضبوط کلیسیا کو دیکھیں گے، حالانکہ پولوس اُن کے پاس صرف تین ہفتوں کے لیے ہی رہا تھا، اور حالانکہ اُن کی کلیسیا ابھی صرف ایک سال ہی کی ہوئی تھی۔ یہ ایک شاندار کلیسیا تھی، ایک مثالی کلیسیا جس کی پیروی کرنے کی ہمیں اپنی بہترین کوشش کرنی چاہیے۔ پہلے باب میں آٹھ نکات ہیں جن کی ہماری کلیسیا کو ضرور پیروی کرنی چاہیے۔

1۔ پہلی بات، وہ خُدا میں اور مسیح میں تھے۔

’’پولوس اور سیلوانوس [سیلاس] اور تیِمُتھِیُس کی طرف سے تھِسّلُنیکے کی کلیسیا کے نام جو خُدا باپ اور خُداوند یسوع مسیح کے نام سے کہلاتی ہے: خُداوند ہمارے خُدا اور خُداوند یسوع مسیح کی جانب سے فضل اور اطمینان آپ کو حاصل ہوتا رہے‘‘ (1تھِسّلُنیکیوں1:1)۔

سیلاس کا دوسرا نام سیلوانوس ہے۔ حالانکہ وہ کافر بُت پرست رہے تھے اب وہ ’’خُدا باپ میں،‘‘ اور ’’خُداوند یسوع مسیح میں‘‘ تھے۔ یہ ہے جو پولوس اِس کلیسیا کے بارے میں کہتا ہے۔ اِس ہی طریقے سے آپ کو کلیسیا میں ’’شمولیت‘‘ کرنی چاہیے۔ یہ گرجہ گھر کی فہرستی دستاویز میں اپنا نام لکھوا دینے سے نہیں ہوتی۔ یہ ’’خُدا میں‘‘ اور ’’مسیح میں‘‘ ہونے سے ہوتی ہے۔ یہ بات ہے جو آپ کو کلیسیا کا ایک حقیقی رُکن بناتی ہے۔ یسوع نے اِس ہی بات کے لیے دُعا مانگی تھی جب اُس نے کہا، ’’کہ وہ سب ایک ہو جائیں جیسے اَے باپ، تو مُجھ میں ہے اور میں تجھ میں‘‘ (یوحنا17:21)۔ آپ کو کلیسیا میں شمولیت کرنے کے لیے یسوع میں شمولیت کرنی چاہیے اور خُدا باپ میں شمولیت کرنی چاہیے! اِس کے علاوہ اور کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔ یا تو آپ ’’مسیح میں’’ ہیں ورنہ آپ مسیح سے ’’باہر‘‘ ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ہم آپ کو مسیح میں آنے کو کہتے ہیں، مسیح میں بھروسہ اور مسیح پر توّکل رکھنے کے لیے کہتے ہیں۔ جب وہ بات رونما ہوتی ہے تو آپ ہماری کلیسیا کے رُکن بن جاتے ہیں۔ ہمارے گرجہ گھر یا کلیسیا میں شمولیت اختیار کرنے کی اور کوئی دوسری راہ نہیں ہے۔ یسوع نے کہا، ’’تمہیں نئے سرے سے جنم لینا چاہیے‘‘ (یوحنا3:7)۔ کلیسیا میں ’’آنا‘‘ ویسا ہی نہیں ہے جیسا ’’خُداوند یسوع مسیح میں‘‘ ہونا ہوتا ہے (1تھسّلُنیکیوں1:1)۔

سچی کلیسیا صرف اُنہی لوگوں نے بنی ہوتی ہے جو ’’خُداوند یسوع مسیح میں‘‘ ہوتی ہے۔ باقی ہر کوئی محض گرجہ گھر میں آ رہا ہوتا ہے مگر حقیقت میں اُس کا حصہ ہوتا نہیں ہے۔ یہ نوح کی کشتی کی مانند ہے۔ نوح نے کشتی کو بنانے میں دہائیاں لگا دیں۔ بے شمار لوگ اِس بہت بڑی کشتی کو دیکھنے کے لیے آئے۔ وہ غالباً اُس کے اِردگرد پھرے بھی ہونگے، اور کچھ تو اندر دیکھنے کے لیے بھی گئے ہونگے اور پھر باہر نکل آئے۔ مگر جب سیلاب آیا تو وہ کشتی ’’میں‘‘ نہیں تھے۔ لہٰذا وہ عظیم سیلاب میں ڈوب گئے۔ یسوع نے کہا، ’’جیسا نوح کے زمانے میں ہوا، ایسا ہی ابنِ آدم کی آمد کے وقت بھی ہوگا‘‘ (متی24:37)۔ جب اِس دُنیا پر خُدا کی سزا نازل ہوگی تو آپ نااُمید ہونگے جب تک کہ آپ ’’خُداوند یسوع مسیح میں‘‘ نہیں ہو جاتے جیسے کہ تھسّلُنیکیوں کی کلیسیا کے لوگ تھے۔

2۔ دوسری بات، اُن کا ہمارے خُداوند یسوع مسیح میں ایمان تھا، محبت اور اُمید تھی۔

آیت 3 پر نظر ڈالیں۔

’’ہم تمہارے ایمان کے کام کو اور تمہاری محنت کو جو محبت کا نتیجہ ہے اور تمہارے صبر کو جو ہمارے خداوند یسوع پر اُمید رکھنے کے باعث تُم میں پیدا ہُوا ہے، اپنے خدا اور باپ کی حضوری میں متواتر یاد رکھتے ہیں‘‘ (1۔ تھسلنیکیوں 1:3).

پولوس رسول کو یاد تھا کہ تھسلنیکے کی کلیسیا میں مسیحیوں نے مسیحی محبت کے نتیجے میں کام کیا تھا۔ اُن کا کام مسیح میں اُن کے ایمان کی پیداوار تھا۔ جو کام اُنہوں نے کیے وہ بھی ’’محبت کے نتیجے‘‘ میں تھے۔ اُن میں صبر یا برداشت بھی تھی جو اُن کی ’’ہمارے خُداوند یسوع مسیح میں اُمید‘‘ سے متاثر ہو کر آئی تھی۔ 1کرنتھیوں13 میں پولوس نے کہا، ’’ایمان، اُمید اور محبت [مسیحی محبت] دائمی ہیں؛ مگر محبت اِن میں افضل ہے‘‘ (1کرنتھیوں13:13)۔

ہمیں پتا چل چُکا ہے کہ لوگ کلیسیا میں مسیح میں ایمان، محبت اور اُمید کے بغیر آ سکتے ہیں۔ مگر وہ کلیسیا میں زیادہ عرصہ تک رہ نہیں پائیں گے۔ وہ کلیسیا یا گرجہ گھر میں صرف دوست پانے کے لیے آ رہے ہیں۔ وہ گرجہ گھر میں دوسروں کے ساتھ رفاقت اور شُغل سے لطف اندوز ہونے کے لیے آتے ہیں۔ لیکن بعد میں، [آزمائش] کے وقت پسپا ہو جاتے ہیں‘‘ (لوقا8:13)۔ یہ بات اکثر نئے سال کے پہلے حصے کے دوران رونما ہو جاتی ہے۔ اُنہیں نئے سال اور کرسمس کے موقعے پر گرجہ گھر کی دعوتوں کے دوران بہت زیادہ تفریح ملتی ہے۔ مگر پھر جنوری شروع ہو جاتا ہے۔ کچھ تفریح غائب ہو چکی ہوتی ہے۔ اب وہ ویسی ہے مسرت محسوس نہیں کرتے جیسی وہ کرسمس کے موسم میں کرتے تھے۔ اِس طرح سے وہ ’’پسپا ہو جاتے‘‘ ہیں۔ یہ بات ظاہر کرتی ہے کہ وہ گرجہ گھر صرف کھیلوں اور شُغل کے بعد کرتے ہیں۔ اُن کا مسیح کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں ہوتا۔ وہ کبھی بھی ’’خُداوند یسوع مسیح میں‘‘ نہیں ہوتے۔ لہٰذا وہ پسپا ہو جاتے ہیں اور کبھی بھی مسیح میں ایمان لا کر تبدیل نہیں ہوتے۔ وہ کبھی بھی اُن لوگوں کی مانند نہیں بن پاتے جیسے تھسلنیکے کی کلیسیا میں لوگ تھے! میں اُمید کرتا ہوں ایسا آپ کے ساتھ ہو جائے گا!

3۔ تیسری بات، وہ خُدا کے چُنے ہوئے لوگ ہوتے ہیں۔

آیت چار پر نظر ڈالیں۔

’’اَے بھائیو اور خدا کے پیارو! ہمیں معلوم ہے کہ تُم اُس کے چُنے ہُوئے لوگ ہو‘‘ (1۔ تھسلنیکیوں 1:4).

پولوس اُنہیں ’’برادرن‘‘ (بھائی) کہتا ہے کیونکہ وہ خُدا کے ذریعے سے نجات کے لیے چُنے ہوئے ہوتے ہیں۔ پولوس اُن کے چُنے ہوئے ہونے کے بارے میں دوبارہ 2تھسلنیکیوں2:13 میں بتاتا ہے، جہاں پر اُس نے کہا، ’’خُدا نے تمہیں پہلے ہی سے نجات پانے کے لیے چُن لیا ہے۔‘‘ خُدا پہلے ہی سے نجات پانے کے لیے کچھ لوگوں کو چُن لیتا ہے۔ ہم اُس کو نہیں چُنتے۔ وہ ہمیں چُنتا ہے۔ افسیوں میں، پولوس نے کہا، ’’اُس نے ہمیں دُنیا کے بنائے جانے کے بیشتر ہی مسیح میں چُن لیا تھا‘‘ (افسیوں1:4)۔ خُود یسوع نے کہا، ’’تم نے مجھے نہیں چُنا بلکہ میں نے تمہیں چُنا ہے‘‘ (یوحنا15:16)۔

یہ ایک اسرار ہے، ایسا کچھ نہیں ہے جیسے ہمارا قدرتی ذہن مکمل طور سے سمجھ سکے۔ مگر یہ مکمل طور سے سچ ہے۔ ستاون سال پہلے میں منادی کے لیے بُلایا گیا تھا۔ اُس گرجہ گھر میں بے شمار لوگ تھے جو اچھے مسیحی گھرانوں سے آئے تھے۔ مگر اِس کے باوجود کہ وہ اچھے مسیحی گھرانوں سے آئے تھے، وہ کبھی بھی مسیح میں ایمان لا کرتبدیل نہیں ہوئے تھے، اور بالاآخر گرجہ گھر سے پسپائی اختیار کر گئے تھے۔ اُن کی تمام تر برتریوں کے ساتھ، وہ کبھی بھی خُدا کی جانب سے نجات پانے کے لیے چُنے نہیں گئے تھے۔ اِس کے باوجود میں وہیں پر تھا، طلاق کی وجہ سے ایک ٹوٹے ہوئے گھرانے سے ایک بیچارہ لڑکا۔ ناصرف یہ کہ میں پسپا نہیں ہوا – بلکہ میں یہاں پر ہوں، خوشخبری کی منادی کر رہا ہوں، ستاون سال بعد بھی۔ میں اِس بات کی وضاحت کیسے کر سکتا ہوں؟ میں اِس بات کی وضاحت نہیں کر سکتا۔ میں صرف یسوع کا حوالہ دے سکتا ہوں، ’’تم نہیں مجھے نہیں چُنا بلکہ میں نے تمہیں چُنا ہے۔‘‘ اور چونکہ اُس یسوع نے مجھے چُنا ہے، اِس لیے میں بے شمار دُکھوں اور مشکل حالات سے پسپا ہوئے بغیر گزرنے کے قابل بنا تھا! یہ بات تھسلینکے کی کلیسیا میں مسیحیوں کے بارے میں بھی سچی تھی۔ ’’اے بھائیو، ہمیں معلوم ہے کہ تم خُدا کے چُنے ہوئے ہو۔‘‘

آئیے مجھے ایک اور بات کہہ لینے دیجیے۔ اگر آپ چُنیدہ میں سے ایک نہیں ہو، تو ایسا کچھ نہیں ہے جو ہم آپ کو نجات دلانے کے لیے کر پائیں۔ اِس کے علاوہ، آپ بھی ایسا کچھ نہیں کر سکتے کہ خود کو بچا سکیں! یہ ہی وجہ ہے کچھ لوگ خوشخبری کی منادی کو کئی کئی سالوں تک نجات پائے بغیر سُن سکتے ہیں۔ اُن کے پاس سُننے کے لیے کان نہیں ہوتے یا یسوع پر بھروسہ کرنے کے لیے دِل نہیں ہوتا۔ وہ اِس بات کو کبھی بھی ’’سمجھ نہیں پاتے۔‘‘ فلپ چعین Philip Chan نے کہا اُس کا ذہن چکروں میں گردش کرتا رہا یہ جاننے کی کوشش کرنے کے لیے کہ نجات کیسے پائی جائے۔ پھر ایک اِتوار کی صبح، خُداوند نے اُس کے دِل کو کھولا اور اُس نے یسوع پر بھروسہ کیا۔ مگر وہ جو چُنیدہ نہیں ہوتے کبھی بھی اُس قسم کا ایک لمحہ بھی نہیں پاتے۔ اُن کے ذہن چکروں میں اِس تمام کو جاننے کی کوشش میں گردش کرتے رہتے ہیں – جب تک کہ وہ بالاآخر مر نہیں جاتے اور جہنم کے شعلوں میں غرق نہیں ہو جاتے۔ چُنا جانا کوئی انتخاب نہیں ہوتا جو آپ کر پائیں۔ چُنا جانا ’’خُدا کا‘‘ ہوتا ہے جیسے کہ آیت 4 کہتی ہے،

4۔ چوتھی بات، اُن تک خوشخبری ناصرف الفاظ سیکھنے کے ذریعے سے بلکہ قدرت میں بھی پہنچی تھی۔

 

مہربانی سے آیت5 پر نظر ڈالیں۔

’’کیونکہ ہماری خُوشخبری محض الفاظ کے ذریعہ ہی نہیں بلکہ قدرت، پاک رُوح اور پورے یقین کے ساتھ تُم تک پہنچی۔ تُم جانتے ہوکہ ہم تمہاری خاطر تمہارے درمیان کس طرح زندگی گزارتے رہے ہیں‘‘ (1۔ تھسلنیکیوں 1:5).

پولوس یہاں پر اِس کو ’’ہماری خوشخبری‘‘ کہتا ہے کیونکہ اِس کی منادی اُس کے اور سیلاس کے اور اُس کے ساتھیوں کے ذریعے سے ہوئی تھی۔ کہیں اور وہ اِس کو ’’خُدا کی خوشخبری‘‘ کہتا ہے (رومیوں1:1) اور ’’مسیح کی خوشخبری‘‘ بھی کہتا ہے (1تھسلنیکیوں3:2)۔

تھسلنیکے میں خوشخبری قدرت کے ساتھ پہنچی تھی۔ 1 کرنتھیوں میں پولوس نے کہا،

’’میرا پیغام اور میری منادی دونوں دانائی کے پُراثر الفاظ سے خالی تھے لیکن اُن سے پاک رُوح کی قّوت ثابت ہوتی تھی‘‘ (1۔ کرنتھیوں 2:4).

ڈاکٹر مارٹن لائیڈ جونز Dr. Martyn Lloyd-Jones نے کہا، ’’رسول… انسانی تحفوں یا طریقوں یا اختراحات پر انحصار نہیں کرتے تھے۔ یہ ’پاک روح اور قوت کو ثابت‘ کرتے تھے‘‘ (مسیح میں تلاش نہ کی جا سکنے والی زرخیزی Unsearchable Riches in Christ، صفحہ56)۔

تھسلنیکے کے لوگ اپنی بائبلیں کھولے ہوئے، غور طلب باتیں لکھتے ہوئے نہیں آئے تھے! انجیلی بشارت کے پرچار کی منادی کرنے کے لیے یہ طریقہ نہیں ہے۔ یہ انجیلی بشارت کے پرچار کے لیے ایک رکاوٹ ہے۔ اِس ہی طرح سے اوورہیڈ پروجیکٹرز [سر کے اوپر سے فلمیں دکھانے والی مشینیں] ہیں۔ ایسے ہی جدید تراجم ہیں۔ میں چاہوں گا کہ وہ اپنی پنسلیں پھینک دیں، اپنے سر کے اوپر سے دکھائی جانے والی فلموں یا تحاریروں کی مشینیوں کو بند کر دیں اور شاندار پُرانی کنگ جیمس بائبل میں سے مسح کے ساتھ منادی کریں۔ ہمیں پاک روح پر انحصار کرنے کی ضرورت ہے نا کہ دورِ حاضرہ کی تدابیروں کی! تھسلنیکے میں اِن لوگوں کو پاک روح کی قدرت میں منادی کی گئی تھی اور تب وہ مضبوطی کے ساتھ مسیح میں ایمان لا کر تبدیل ہوئے تھے۔ میں آپ کو مسیح میں ایمان لا کر کیسے تبدیل ہونا ہے اِس بات کی تعلیم نہیں دے سکتا۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ہم تسلسل کے ساتھ خُدا کی موجودگی کے لیے، پاک روح کی حقیقت کے لیے دعا مانگتے ہیں۔ صرف وہ ہی آپ پر یہ سچائیاں کھول سکتا ہے اور آپ کو مسیح کی جانب کھینچ سکتا ہے۔ یہ لوگ پاک روح کی منادی کی وجہ سے مسیح میں ایمان لا کر تبدیل ہوئے تھے، ناکہ مٹی جیسی خشک بائبل کی تعلیم دینے سے جو ہم آج کل اپنی زیادہ تر واعظ گاہوں سے سُنتے ہیں! یہاں کلام کا ایک قحط پڑا ہوا ہے کیونکہ ہماری منادی میں خُدا کے پاک روح کی قوت نہیں ہے، جیسی اُن لوگوں کے پاس تھی۔

5۔ پانچویں بات، اُنہوں نے اذیّتوں میں سے گزرنے کے ذریعے سے پولوس اور سیلاس کی مثال کی پیروی کی تھی۔

مہربانی سے آیت6 پر نظر ڈالیں۔

’’اور سخت مصیبت کے باوجود تُم ہمارے اور خداوند کے نقشِ قدم پر چلتے رہے اور تُم نے کلام کو ایسی خُوشی کے ساتھ قبول کیا جو پاک رُوح کی بخشش ہے‘‘ (1۔ تھسلنیکیوں 1:6).

وہ پولوس اور سیلاس اور مسیح کے پیروکار ( یا نقل کرنے والے) بن گئے – ’’سخت مصیبتوں‘‘ (یا شدید دُکھوں) کے باوجود۔ اور اُن کے دُکھوں میں اُنہوں نے خوشی پائی جو اُنہیں پاک روح سے ملی تھی۔ پطرس رسول نے کہا،

’’عزیزو! مصیبت کی آگ جو تُم میں بھڑک اُٹھی ہے وہ تمہاری آزمائش کے لیے ہے۔ اِس کی وجہ سے تعجب نہ کرو کہ تمہارے ساتھ کوئی انوکھی بات ہو رہی ہے۔ بلکہ خُوشی کے ساتھ مسیح کے دُکھوں میں شریک ہوتے جاؤ تاکہ جب اُس کے جلال کے ظاہر ہونے کا وقت آئے تو تُم اور بھی خُوش و خُرّم ہو سکو‘‘ (1۔ پطرس 4:12۔13).

ڈاکٹر تھامس ھیل Dr. Thomas Hale نے کہا، ’’نئے عہد نامے کے مطابق، مسیح کی خاطر اذیّتوں کو برداشت کرنے ایک خوشی سے بھرپور استحقاق یا نعمت ہے (اعمال5:41؛ 1پطرس4:13)۔ وہ کلیسیا یا گرجہ گھر جو خوشی کے ساتھ تکلیفوں کو برداشت کرتا ہے ایک مضبوط کلیسیا [بنتا] ہے، اور اُس کی گواہی قوت سے بھرپور ہوتی ہے‘‘ (تھامس ھیل، ایم۔ ڈی۔ Thomas Hale, M.D.، نئے عہد نامے پر اِطلاق شُدہ تبصرہ The Applied New Testament Commentary، کنگزوے پبلیکیشنزKingsway Publications، 197؛ 1تھسلنیکیوں1:6 پر تبصرہ)۔

ہمارے گرجہ گھر ایک ہولناک گرجہ گھر کی تقسیم میں سے گزرنے کی وجہ سے مضبوط بنا تھا۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ہمارے پاس ’’پاک روح میں مسرت‘‘ اِس قدر زیادہ ہے۔ وہ مبلغین جو ہمارے پاس آتے ہیں وہ ہماری خوشی کی بھرپوری پر حیران ہوتے ہیں! ہمیں وہ راہ مصیبتوں کی آگ میں سے گزرنے کی وجہ سے ملی تھی، جیسے تھسلنیکے کی کلیسیا کو ملی تھی!

ایک مضبوط مسیحی بننے کے لیے آزمائشوں میں سے گزرنا ہی واحد راہ ہے۔ خالی بائبل کا مطالعہ ہی مضبوط مسیحی نہیں پیدا کرتا۔ مصیبتوں میں سے گزرنا ہی وہ بات ہے جو ہمیں مضبوط بناتی ہے۔ اِس کے علاوہ کوئی اور دوسری راہ نہیں ہے! انطاکیہ میں نئے مسیحیوں کو پولوس رسول نے بتایا، ’’ہمیں خُدا کی بادشاہت میں داخل ہونے کے لیے بہت زیادہ مصائب [بے شمار مشکلوں] میں سے گزرنا چاہیے‘‘ (اعمال14:22)۔ مشکلیں، دباؤ اور مصائب نا صرف مضبوط مسیحی پیدا کرتے ہیں – بلکہ یہ گندم سے بھوسے کو بھی الگ کر دیتے ہیں۔ کیونکہ جب چھوٹا سا بھی دباؤ پڑتا ہے تو وہ جو مسیح میں ایمان نہیں لائے ہوئے ہوتے ہیں گرجہ گھر کو چھوڑ دیتے ہیں اور دُنیاداری میں واپس چلے جاتے ہیں – جیسا کہ ہم اکثر دیکھ چکے ہیں۔ مگر وہ جو آزمائشوں میں سے گزرتے ہیں عظیم مسیحی بنتے ہیں، جیسے مسز سلازار Mrs. Salazar، مسٹر پرودھوم Mr. Prudhomme، مسز بیباؤٹ Mrs. Bebout، ڈاکٹر کیگنDr. Cagan، مسٹر گریفتھ Mr. Griffith، خود میری اپنی بیوی، ڈاکٹر چعین Dr. Chan، اور ہمارے گرجہ گھر میں دوسرے بے شمار لوگ – تمام کے تمام ’’وہ 39‘‘ لوگ جنہوں نے ہمارے گرجہ گھر کو اُس بہت بڑی گرجہ گھر کی تقسیم سے بچایا جس کو ہم نے برداشت کیا۔ اگر آپ اُن کی مانند بننا چاہتے ہیں، تو آپ کو بھی کچھ نہ کچھ مشکلوں میں سے گزرنا چاہیے! خُدا مشکلوں کو مضبوط مسیحی بنانے کے لیے استعمال کرتا ہے! حمدوثنا کا ایک پرانا عظیم گیت اِس بات کو بخوبی کہتا ہے،

جب شدید آزمائیشوں کے راستے سے تو گزرے گا،
میرا فضل مکمل طور پر تیری ڈھال ہوگا؛
کہ شعلے تجھے نقصان نہیں پہنچائیں؛ میں نے واحد تدبیر کی ہے
تیری گندگی کو ہڑپنے کے لیے، اور تیرے سونے کو کُندن بننے کے لیے۔‘‘
   (’’کیسی مضبوط ایک بنیاد How Firm a Foundation،‘‘
      شاعر جارج کیتھ George Keith، 1638۔1716؛
      حمدوثنا کے گیتوں کی ریِپون کی سلیکشن میں
         ’’K‘‘ “K” in Rippon’s Selection of Hymns، 1787)۔

میں جانتا ہوں کہ یہ بات خود میری اپنی زندگی میں سچی ہے۔ وہ آزمائشیں اور تکلیفیں جو ایک پادری بننے کے لیے میں نے سہیں میری حقیقی سیمنری تھیں۔ یہ آزمائشوں ہی میں سے گزرنے سے ہوا تھا کہ میں نے ایک پادری بننا سیکھا! میں خُدا کا صلیب کی درسگاہ کے لیے شکریہ ادا کرتا ہوں جو ہمارے شاندار گرجہ گھر میں تمام عظیم مسیحیوں کو بنانے میں معاون رہی!

6۔ چھٹی بات، وہ دوسرے مسیحیوں کے لیے مثال بنے۔

آیت 7 پر نظر ڈالیں،

’’اِس کا نتیجہ یہ ہُوا کہ تُم مکدنیہ اور اخیہ کے علاقوں کے سارے مومنین کے لیے نمونہ بن گئے‘‘ (1۔ تھسلنیکیوں 1:7).

ڈاکٹر تھامس ھیل نے کہا،

چونکہ اِن تھسلنیکے کے مسیحیوں نے اِس قدر خوشی کے ساتھ اذیتوں کو برداشت کیا تھا اور اِس قدر ایمانداری کے ساتھ مسیح کی پیروی کی تھی کہ وہ یونان کے شمالی صوبے میکدونیہ میں بسنے والے دوسرے تمام [مسیحیوں] کے لیے ایک مثال، ایک نمونہ [نمائش پیش کرنے والے] بن گئے تھے۔ آئیے تھسلنیکیوں کے اِن مسیحیوں کو ہمارے لیے بھی ایک نمونہ بن لینے دیجیے! تب…. ہم بھی دوسرے کے لیے ایک مثال بن پائیں گے (ibid.؛ 1تھسلنیکیوں1:7)۔

7۔ ساتویں بات، وہ بشروں کو جیتنے والے لوگ تھے۔

آیت 8 پر نظر ڈالیں،

’’خدا کا پیغام تمہارے ذریعہ نہ صرف مکدنیہ اور اخیہ میں پھیلا بلکہ خدا پر تمہارا ایمان ایسا مشہور ہو گیا ہے کہ اب ہمیں اُس کا ذکر کرنے کی ضرورت نہیں رہی‘‘ (1۔ تھسلنیکیوں 1:8).

اُنہوں نے اپنے اِردگرد ہر جگہ پر خوشخبری کو ’’پھیلایا‘‘۔ اُنہوں نے لوگوں کے دِل جیتے اور اُنہیں کلیسیا میں شامل کیا۔ وہ مشن کا ذہن بنا کر لوگوں کا دِل جیت کر چلنے والے لوگ تھے۔ ویسے ایک بات کرتا چلوں، اِیسا کرنے کے لیے اُنہیں سالہا سال بائبل کا مطالعہ کرنے کی ضرورت نہیں پڑی تھی۔ ڈاکٹر ھیل نے کہا، ’’یاد رکھیں جب پولوس نے یہ خط لکھا تو یہ کلیسیا ایک سال سے بھی کم عمر کی تھی۔ یہ ایک چھوٹی سی اذیت زدہ کلیسیا تھی۔ اِس کے باوجود اُن کا ایمان ہر جگہ پر مشہور ہو گیا تھا‘‘ (ibid.؛ 1تھسلُنیکیوں1:8 پر غور طلب بات)۔

تیزی سے ایک مضبوط مسیحی بننے کا ایک بہتری ذریعہ جلدی سے بلکہ بلکل ابھی سے ہی لوگوں کا دِل جیتنے والا بننا ہوتا ہے! وہ جو انجیلی بشارت کا پرچار کرنے سے نام لے کر آتے ہیں جلدی مضبوط مسیحی بنتے ہیں۔ مگر وہ جو محض گرجہ گھر آتے ہیں کبھی بھی بالغ مسیحی بنتے ہوئے دکھائی نہیں دیتے۔ آپ میں سے کچھ لوگوں کو اِس بارے میں سوچنے کی ضرورت ہے! کیا یہ آپ کا مسئلہ ہے؟ میں نے کبھی بھی واقعی میں کسی ایسے مضبوط مسیحی کو نہیں دیکھا جو بشروں کو جیتنے والا نہیں تھا – وہ جو گمراہ لوگوں کی کلیسیا میں شامل ہونے اور نجات پانے کے لیے مدد کرتا ہے۔ اگر آپ انجیلی بشارت کا پرچار کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتے، تو میں یقین کرتا ہوں آپ کبھی بھی مضبوط مسیحی نہیں بن پائیں گے۔ مذھبی خدمت سرانجام دیتے دیتے مجھے 57 سے بھی زیادہ سال گزر چکے ہیں اور یہ ہی میری رائے ہے۔

8۔ آٹھویں بات، وہ یہ تمام کچھ اِس لیے کر پائے کیونکہ وہ مسیح کے لیے ایک حقیقی تبدیلی کا تجربہ کر چکے تھے۔

مہربانی سے آیت 9 اور 10 پر نظر ڈالیں،

’’کیونکہ لوگ خُود کہتے ہیں کہ جب ہم تمہارے یہاں گئے تو تُم نے کس طرح ہمارا استقبال کیا اور کس طرح بتوں کی پرستِش چھوڑ کر زندہ اور سچے خدا کی عبادت کرنے کے لیے اُس کی طرف رجوع ہُوئے۔ اور اُس کے بیٹے یسوع کے آسمان سے آنے کے منتظر ہو جسے اُس نے مُردوں میں سے زندہ کیا اور جو ہمیں آنے والے غضب سے بچاتا ہے‘‘ (1۔ تھسلنیکیوں 1:9۔10).

وہ بُت پرستی کو چھوڑ کر خُدا کی طرف رجوع ہوئے تھے ایک زندہ اور سچے خُدا کی خدمت کرنے کے لیے۔ مسیح میں ایمان لا کر تبدیل ہوئے ہونے کے لیے، آپ کو اپنی زندگی میں گناہوں سے مُنہ موڑنا چاہیے۔ مگر یہ ہی سب کچھ نہیں ہے۔ آپ کو اپنے گناہ سے مُنہ موڑ کر مسیح کی جانب ہونا چاہیے کیونکہ یسوع نے کہا، ’’کوئی بھی میرے وسیلہ کے بغیر باپ کے پاس نہیں جاتا‘‘ (یوحنا14:6)۔ اگر آپ ایک خودغرضانہ اور گناہ سے بھرپور زندگی سے مسیح کی طرف مُنہ موڑنے کے لیے انکار کرتے ہیں تو آپ کبھی بھی نجات نہیں پائیں گے، یہاں تک کہ اگر آپ ساری زندگی بھی اِس گرجہ گھر میں حاضری دیتے رہیں! آپ کو بدلنا چاہیے اور اُس یسوع کے پاک خون کے وسیلے سے اپنے گناہ سے پاک صاف ہونے کے لیے یسوع پر بھروسہ کرنا چاہیے! تب آپ کی اُمید تنہا مسیح میں ہوگی، اور آپ اُمید اور خوشی کے ساتھ مسیح کی آمد ثانی کے لیے منتظر رہ پائیں گے!

میں دعا مانگتا ہوں کہ آپ اِس واعظ کی چھپی ہوئی نقل اپنے ساتھ گھر لے جائیں گے اور اُس کو پڑھیں گے – ایک مرتبہ نہیں، بلکہ کئی مرتبہ! میں کس قدر دعا مانگتا ہوں کہ آپ تھسلُنیکے کی کلیسیا کے اُن لوگوں کی مانند عظیم مسیحی بن جائیں! آمین۔ ڈاکٹر چعینDr. Chan، مہربانی سے دعا میں ہماری رہنمائی فرمائیں۔

اگر اِس واعظ نے آپ کو برکت بخشی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز آپ سے سُننا چاہیں گے۔ جب آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں تو آپ اُنہیں ضرور بتائیں کہ آپ کس مُلک سے لکھ رہے ہیں ورنہ وہ آپ کی ای میل کو جواب نہیں دیں گے۔ اگر اِن واعظوں نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز کو ایک ای میل لکھیں اور اُنہیں بتائیں، لیکن ہمیشہ جس ملک سے آپ لکھ رہے ہیں اُس کا نام شامل کریں۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای میل ہے rlhymersjr@sbcglobal.net (click here) ۔ آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو کسی بھی زبان میں لکھ سکتے ہیں، لیکن اگر آپ انگریزی میں لکھ سکتے ہیں تو انگریزی میں لکھیں۔ اگر آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو بذریعہ خط لکھنا چاہتے ہیں تو اُن کا ایڈرس ہے P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015.۔ آپ اُنہیں اِس نمبر (818)352-0452 پر ٹیلی فون بھی کر سکتے ہیں۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہائیمرز کے واعظ www.sermonsfortheworld.com
یا پر پڑھ سکتے ہیں ۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

یہ مسودۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے تمام ویڈیو پیغامات حق اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے
جا سکتے ہیں۔

واعظ سے پہلے تلاوت مسٹر ایبل پرودھومMr. Abel Prudhomme نے کی تھی. 1تھسلُنیکیوں1:1۔10 .
واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بنجامن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith
          نے گایا تھا: ’’یسوع کے لیے جی رہے ہیں Living for Jesus‘‘ (شاعر تھامس او۔ چشولم Thomas O. Chisholm، 1866۔1960)۔

لُبِ لُباب

تِھسّلُنِیکیوں کے مسیحیوں کو اپنی مثال بنائیں!

MAKE THE THESSALONIAN CHRISTIANS
YOUR EXAMPLE!

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

’’پولوس، اور سیلاس اور تیمِتھِیُس کی طرف سے، تِھسّلنِیکے کی کلیسیا کے نام جو خُدا باپ اور خُداوند یسوع مسیح کے نام سے کہلاتی ہے: خُدا ہمارے باپ اور خُداوند یسوع مسیح کی طرف سے فضل اور ایمان تمہیں حاصل ہوتا رہے‘‘ (1تھسلُنیکیوں1:1).

(اعمال17:6؛ 1تھسلُنیکیوں3:2)

1۔ پہلی بات، وہ لوگ خُدا اور مسیح میں تھے، 1تھسلُنیکیوں1:1؛
یوحنا17:21؛ 3:7؛ متی24:37 .

2۔ دوسری بات، اُن کی ہمارے خُداوند یسوع مسیح میں ایمان، محبت اور اُمید تھی،
1تھسلُنیکیوں1:3؛ 1تھسلُنیکیوں13:13؛ لوقا8:13 .

3۔ تیسری بات، وہ خُدا کے چُنیدہ لوگ تھے، 1تھسلُنیکیوں1:4؛
2تھسلُنیکیوں2:13؛ افسیوں1:4؛ یوحنا15:16 .

4۔ چوتھی بات، اُن تک خوشخبری ناصرف الفاظ سیکھنے کے ذریعے سے
بلکہ قدرت میں بھی پہنچی تھی، 1تھسلُنیکیوں1:5؛ رومیوں1:1؛
1تھسلُنیکیوں3:2؛ 1کرنتھیوں2:4 .

5۔ پانچویں بات، اُنہوں نے اذیّتوں میں سے گزرنے کے ذریعے سے پولوس اور سیلاس کی مثال کی پیروی کی تھی، 1تھسلُنیکیوں1:6؛ 1پطرس4:12۔13؛
اعمال14:22 .

6۔ چھٹی بات، وہ دوسرے مسیحیوں کے لیے مثال بنے، 1تھسلُنیکیوں1:7 .

7۔ ساتویں بات، وہ بشروں کو جیتنے والے لوگ تھے، 1تھسلُنیکیوں1:8 .

8۔ آٹھویں بات، وہ یہ تمام کچھ اِس لیے کر پائے کیونکہ وہ مسیح کے لیے ایک حقیقی تبدیلی کا تجربہ کر چکے تھے، 1تھسلُنیکیوں1:9۔10؛ یوحنا14:6 .