Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 215 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.co پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہمارے ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 36 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔

جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

ابراہام اور اضحاق سے اسباقِ زندگی

(پیدائش کی کتاب پر واعظ # 85)
LIFE LESSONS FROM ABRAHAM AND ISAAC
(SERMON #85 ON THE BOOK OF GENESIS)
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
خُداوند کے دِن کی شام، 29 نومبر، 2015
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord's Day Evening, November 29, 2015

’’تب اُس نے اُن سے کہا، تُم کتنے نادان ہو اور نبیوں کی بتائی ہوئی باتوں کو قبول کرنے میں کس قدر سُست ہو: اور اُس نے موسٰی سے لے کر سارے نبیوں کی باتیں جو اُس کے بارے میں پاک کلام میں درج تھیں اُنہیں سمجھا دیں‘‘ (لوقا 24:25،27)

.

مسیح نے اپنے شاگردوں کو بتایا کہ موسیٰ اور تمام نبّیوں نے اُس کے بارے میں بتایا تھا۔ پرانا عہد نامہ مسیح کی بے شمار تصاویر پیش کرتا ہے۔ وہ یسوع اور خُداوند کے بارے میں لفظی تصاویر ہیں۔ تمام تاریخ میں سب سے عظیم ترین تبلیغ اعمال کی کتاب کے زمانے میں رونما ہوئی تھی – اور نئے عہد نامے کے لکھے جانے سے پہلے ہوئی تھی۔ وہ کیا مُنادی کرتے تھے؟ وہ پرانے عہد نامے میں سے خُدا کے بارے میں اور مسیح کے بارے میں منادی کرتےتھے! کچھ عظیم ترین واعظ جو میں نے زندگی میں کبھی بھی سُنے پرانے عہد نامے میں سے تھے۔ میرے دیرینہ پادری ڈاکٹر ٹموتھی لِن صاحب Dr. Timothy Lin پرانے عہد نامے کے ایک عظیم عالم تھے۔ پچاس برس بعد، میں یرمیاہ 1:10 پر اُن کا واعظ اب تک یاد کر سکتا ہوں، اُن کی دانی ایل 10:13، 20، 21 آیات پر، مُلاکی4:6 آیت پر، اور پیدائش3:21 آیت پر۔ سب سے عظیم ترین واعظوں میں سے ایک جو میں نے زندگی میں کبھی بھی سُنا ڈاکٹر آر۔ جی۔ لی Dr. R. G. Lee کا واعظ ’’معاوضے کا کوئی دِنPayday Someday‘‘ تھا – جو ایزبِل اور اخی اب کی سزا پر ہے – جس کی پرانے عہد نامے کی کتاب 1 سلاطین میں سے منادی کی گئی تھی۔ اور میں کبھی بھی ذاتی طور پر ڈاکٹر ایم۔ آر۔ ڈیحان Dr. M. R. DeHaan کی حزقی ایل37 تا 39 باب پر واعظوں کے ایک سلسلے کی منادی کو سُننا کبھی بھی نہیں بھولوں گا۔ میں نے ڈاکٹر ڈبلیو۔ اے۔ کرسویل Dr. W. A. Criswell کے پانچ گھنٹے کے واعظ کے حصوں کی ریکارڈنگ بھی سُنی تھی، ’’بائبل میں سے لال رسیThe Scarlet Thread Through the Bible،‘‘ جس کی ٹیکساس کے شہر ڈلاس کے عظیم پہلے بپتسمہ دینے والے گرجہ گھر میں 1961 کو نئے سال کی رات تبلیغ کی تھی۔ جب کبھی بھی آپ کے پاس پانچ گھنٹے ہوں تو آپ اُس کے بارے میں ریکارڈنگ www.wacriswell.org پر سُن سکتے ہیں۔ اُس قوت سے بھرپور واعظ کا آدھے سے زیادہ حصہ تمام پرانے عہد نامے کی ایک تفسیر ہے! میں نے لگ بھگ دس سالوں تک تقریباً ہر روز ڈاکٹر جے ورنن میگی Dr. J. Vernon McGee کو بھی سُنا ہے، جب اُنہوں نے ریڈیو پر تمام پرانے عہد نامے پر تعلیم دی تھی۔ خُدا کے اِن عظیم لوگوں سے میں نے پرانے عہد نامے پر بھروسہ کرنا اور اُس سے محبت کرنی سیکھی تھی۔ اور میں نے سیکھا کہ پرانے عہد نامے کے تقریباً ہر صفحے پر یسوع مسیح کے بارے میں نشاندہی یا پیشن گوئی کی گئی ہے۔ کبھی کبھار اُس کی نشاندہی خصوصی الفاظ میں ہے، جیسا کہ، ’’دیکھو ایک کنواری حاملہ ہوگی اور اُس کے ہاں بیٹا پیدا ہو گا اور وہ اُس کا نام عمانوئیل رکھے گی‘‘ (اشعیا7:14)۔ دوسرے عرصوں میں اُس کے بارے میں تصاویر اور تشبیہات کے ذریعے سے بتایا گیا ہے۔ جیسا کہ ہم آج کی صبح دیکھتے ہیں، پرانے عہد نامے میں ایک شخص، جگہ یا چیز جو نئے عہد نامے میں ایک شخص، جگہ یا چیز کی عکاسی کرتی ہو تشبیہہtype کہلاتی ہے۔

پیدائش کا دوسرا باب خُدا باپ کی تشبیہات اور مسیح بیٹے کی تشبیہات میں انتہائی زرخیز یا لبریز ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ اپنی بائبل کو وہاں سے کھولیں۔ یہ سیکوفیلڈ مطالعہ بائبل کے 32 اور 33 صفحات پر ہے۔ مہربانی سے سارے واعظ کے دوران اپنی بائبل وہاں سے کُھلی رکھیں۔

پرانے عہد نامے میں پیدائش22 باب مسیحی تعلیمات پر مشتمل نظریات سے تعلق رکھنے والے عظیم ترین حوالوں میں سے ایک ہے۔ زبور22 اور اشعیا53 باب میں، ہم مسیح کے بارے میں ہمارے گناہ کے لیے دُکھ اُٹھانے کی پیشن گوئی کو پڑھتے ہیں۔ مگر پیدائش22 باب میں وہ واضح طور پر سیکھتے ہیں کہ یسوع مسیح متبدلیاتی قربانی ہے۔ اور ہمیں خُدا باپ اور گناہ میں انسان کی ایک تصویر بھی پیش کی جاتی ہے۔ میں اِس عظیم باب کو بار بار پڑھ چکا ہوں، اور میرے خیال میں ہم محفوظ طور سے کہہ سکتے ہیں کہ

ابراہام کی سچے مسیحی کی تشبیہہ کی حیثیت سے عکاسی کرتا ہے،
ابراہام کی خُدا باپ کی تشبیہہ کی حیثیت سے عکاسی کرتا ہے۔

کہ یہ

اُس کی بیٹے اضحاق کی مسیح کی تشبیہہ کی حیثیت سے عکاسی کرتا ہے،
اور یہ اضحاق کی ایک گمراہ گنہگار کی حیثیت سے بھی عکاسی کرتا ہے۔

یہاں پھر وہ تشبیہات یا تصاویر ہیں۔

I۔ پہلی تصویر، حوالہ مسیحیوں کے آزمائے جانے کی عکاسی کرتا ہے۔

پیدائش22:1، 2، پرنظر ڈالیں،

’’اور اِن باتوں کے بعد یہ دیکھنے میں آیا کہ کچھ عرصہ بعد خدا نے ابراہام کو آزمایا۔ اُس نے اُس سے کہا، ابراہام! اُس نے جواب دیا، دیکھ، میں حاضر ہوں۔ تب خدا نے کہا، اپنے اکلوتے بیٹے اضحاق کو جسے تُو پیار کرتا ہے ساتھ لے کر موریاہ کے علاقہ میں جا اور وہاں کے ایک پہاڑ پر جو میں تجھے بتاؤں گا اُسے سوختنی قربانی کے طور پر نذر کر‘‘ (پیدائش 22:1،2).

وہ لفظ جس کا ترجمہ ’’آزماtempt‘‘ کیا گیا ہے شدید سخت ہے۔ اِس کا ترجمہ نئی امریکن معیاری بائبل NASV میں ’’امتحان لیا گیاtested‘‘ کے طور پر کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر رائری Dr. Ryrie نے کہا، ’’خُدا کسی کو بُرائی کے ساتھ نہیں آزماتا (یہوداہ1:13)، مگر… وہ آزماتا ہے، کوشش کرتا ہے، یا ہم پر ثابت کرتا ہے، جیسا کہ ابراہام کے معاملے میں ہوا تھا‘‘ (رائری کا مطالعہ بائبلRyrie Study Bible؛ پیدائش22:1 پر غور طلب بات)۔ مجھے یاد ہے جب کئی سال پہلے میری شدید طور سے نئی امریکن معیاری بائبل NASV کا بالکل دُرست ترجمہ پیش کرنے اور ڈاکٹر رائری کی بالکل دُرست وضاحت پیش کرنے پر سرزش کی گئی تھی۔ مگر میں تب بھی صحیح تھا اور میں آج کی رات بھی صحیح ہوں، پچاس سال سے زیادہ عرصہ گزرنے کے بعد۔ یہوداہ1:13 ہمیں بتاتی ہے کہ خُدا ہمیں گناہ کے لیے آزمائش میں نہیں ڈالتا۔ مگر پیدائش22:1 ظاہر کرتی ہے کہ خُدا ہمیں ہماری مسیحی زندگی میں آزماتا ہے۔ ابراہام یہاں پر، اُس مسیحی کی ایک تشبیہہ ہے جو آزمایا جاتا ہے جیسا کہ ہم سب کا اِمتحان لیا جاتا ہے۔

سیکوفیلڈ کی غور طلب بات بجا طور سے کہتی ہے، ’’ابراہام کے روحانی تجربے کو چار بہت بڑے بحرانات سے پہچانا جا سکتا ہے، جن میں سے ہر ایک میں کچھ نہ کچھ قدرتی طور پر سب سے پیاری چیز کو ترک کر دینے پر مشتمل ہے۔‘‘ یہ ہیں،

1. ابراہام کو اپنے مُلک اور رشتے داروں کو چھوڑنا پڑا تھا (پیدائش12:1)۔ میں قائل ہو چکا ہوں کہ ابراہام نے کبھی بھی نجات نہیں پائی ہوتی اگر اُس نے اِس وقت خُدا کی فرمانبرداری نہ کی ہوتی۔ بے شمار لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد (خصوصی طور پر نوجوانوں) نے کبھی بھی نجات کا تجربہ نہیں کیا کیونکہ وہ دُنیاوی دوستوں کو کبھی بھی نہیں چھوڑیں گے۔ وہ اُن کے ساتھ چپکے رہتے ہیں – اور یوں وہ کبھی بھی نجات نہیں پاتے۔

2. ابراہام کو اپنے بھتیجے لوط کو چھوڑنا پڑا تھا جو کہ اُس کا انتہائی قریبی اور ایک ممکنہ وارث تھا، پیدائش13:1۔8 .

3. ابراہام کو اپنے دوسرے بیٹے اسماعیل کے لیے اپنے منصوبے کو چھوڑنا پڑا تھا، پیدائش17:17، 18 .

4. ابراہام کو اپنے بیٹے کو جسے وہ اپنے دِل کی گہرائیوں سے چاہتا تھا چھوڑنا پڑا تھا، پیدائش22:1، 2 .


’’اور خدا نے کہا، اپنے اکلوتے بیٹے اضحاق کو جسے تُو پیار کرتا ہے ساتھ لے کر موریاہ کے علاقہ میں جا اور وہاں کے ایک پہاڑ پر جو میں تجھے بتاؤں گا اُسے سوختنی قربانی کے طور پر نذر کر‘‘ (پیدائش 22:2).

اضحاق کو چھوڑ دے! اضحاق کو چھوڑ دے! اضحاق کو چھوڑ دے! کیوں، ابراہام نے اپنی تمام زندگی اِس لڑکے کے لیے انتظار کیا تھا! اور خُداوند اب کہتا ہے کہ اُس کو ایک سوختنی قربانی کے طور پر نذر کر دے! وہ اِمتحان تھا! خُداوند آپ سے پوچھتا ہے، ’’تم میرے لیے کیا چھوڑو گے؟‘‘

میں ایک غیر مُلکی مشنری بننا چاہتا تھا۔ اور پھر خُدا اُس راہ پر لے گیا۔ میں نے 1,000 سے زیادہ لوگوں پر مشتمل ایک گرجہ گھر تعمیر کیا، اور پھر خُدا اُس راہ پر لے گیا۔

بیشک راہ سیدھی اور تنگ دکھائی دیتی ہے،
   میں نے سب کچھ بہا لے جانے کا دعویٰ کیا؛
میری تمنائیں، منصوبے اور آرزوئیں،
   راکھ بنی میرے قدموں پر تھیں۔
(’’میں اُس کی ستائش کروں گی I Will Praise Him‘‘ شاعر مسز مارگریٹ جے۔ ھیرس
   Mrs. Margaret J. Harris، 1865۔1919)۔

کیا تمہارا سب کچھ قربانی کی الطار پر پڑا ہے؟
   تمہارے دِل کو کیا روح قابو کرتا ہے؟
تم صرف برکت پا سکتے ہو اور سکون اور پیارا آرام پا سکتے ہو،
   جیسے ہی تم اُس کو اپنا بدن اور جان حوالے کرتے ہو۔
(’’کیا تمہارا سب کچھ الطار پر ہے؟ Is Your All on the Altar?‘‘ شاعر علیشاہ اے۔ ھوفمین Elisha A. Hoffman، 1839۔1929)۔

تاریخ میں تمام کے تمام سچے طور سے عظیم مسیحیوں کو اپنے منصوبے اور اُمیدیں چھوڑنی پڑی تھیں۔ اُن تمام کو خُدا کو خوش کرنے کے لیے قربانیوں میں سے گزرنا پڑا تھا۔

جان کرائیسوسٹام John Chrysostom کو ملکہ یوڈوخسیا Eudoxia نے جلا وطن کیا تھا۔
   مارٹن لوتھرMartin Luther کو کاتھولک چرچ نے برادری سے باہر کر دیا تھا۔
      رچرڈ باکسٹرRichard Baxter کو لندن کے ٹاور میں قید کیا گیا تھا۔
         جان بعنئین John Bunyan کو بارہ سالوں کے لیے قید میں ڈال دیا گیا تھا۔
            جان ویزلی John Wesley کو اینجلیکل چرچ میں سے نکال دیا گیا تھا۔
               جارج وائٹ فیلڈ George Whitefield کو لندن میں ہر گرجہ گھر سے بھگا دیا گیا تھا۔
                  جاناتھن ایڈورڈزJonathan Edwards کو خود اُس کے اپنے چرچ نے گولی مار دی تھی۔
                     سپرجئینSpurgeon کی بپٹسٹ یونین نے مذمت کی تھی۔
                        جے۔ گرےشام میکحن J. Gresham Machen کوپریسبائی ٹیرئین چرچ نے پادری کے فرائض سے محروم کر دیا تھا۔
                           جان آر۔ رائس John R. Rice کو مغربی بپتسمہ دینے والوں نے نکال باہر کیا تھا۔
                              جِم ایلیٹ Jim Elliot کو اُوکا انڈیئنز نے قتل کر دیا تھا۔
                                 رچرڈ وُرمبرانڈRichard Wurmbrand کو 14 سالوں کے لیے قید میں ڈال دیا گیا تھا۔
                                    پولوس رسول کو پیٹا گیا، سنگسار کیا گیا، قید میں ڈالا گیا اور اُس کے سر کو قلم
                                     کر دیا گیا۔

رسولوں میں سے ہر ایک کو ماسوائے یوحنا کے قتل کیا گیا تھا۔ اُنہوں نے مسیح کا انکار کرنے کے بجائے ہولناک موت مرنا قبول کیا۔ ابتدائی مسیحیوں کو کلوزیم [اکھاڑے] میں پھینکا جاتا تھا جہاں پر شیروں اور ریچھوں کے ذریعے سے اُنہیں تالیاں بجاتے کافروں کے بہت بڑے بڑے ہجوموں کے سامنے چیر پھاڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کروایا جاتا تھا۔ اِتحادیوں کے جرمنی کو آزادی دلانے سے چند ایک ہی دِن پہلے نازیوں نے ڈائیٹرِچ بونہوئیفر Dietrich Bonhoeffer کو پیانو کی تار کے ساتھ پھانسی دی تھی۔ ڈاکٹر مارٹن لائیڈ جونز Dr. Martyn Lloyd-Jones کو بلّی گراہم کی ’’فیصلہ سازیت‘‘ کی تحریک کی حمایت نہ کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور برادری سے باہر نکال دیا گیا۔ ڈاکٹر ھیرالڈ لِنڈسل Dr. Harold Lindsell پر ’’بائبل کے لیے جنگ The Battle for the Bible‘‘ لکھنے کی وجہ سے جو سیمنریوں میں آزاد خیالی کا پردہ فاش کر رہی تھی حملہ کیا گیا اور برادری سے باہر نکال دیا گیا۔ ڈاکٹر بِل پاول Dr. Bill Powell جلا وطنی میں تنہا مر گئے، وہ مغربی بپٹسٹ سیمنریوں میں بائبل پر حملوں کو منظر عام پر لائے تھے۔

ابراہام نے خُدا کا اُسے اُس کا بیٹا اضحاق دینے سے پہلے 100 سالوں تک انتظار کیا تھا۔ پھر خُدا نے اُس کا اِمتحان لیا تھا اُسے یہ کہہ کر کہ اپنے بیٹے کو جیسے وہ پیار کرتا ہے لے جا اور قتل کر ڈال، اور موریاہ کے پہاڑ پر اُسے ایک سوختنی قربانی کی حیثیت سے نذر کر۔ ہر اچھا مسیحی کچھ نہ کچھ جو اُسے پیارا ہوتا ہے کھوتا ہے ورنہ وہ اُس اِمتحان میں کامیاب نہیں ہوتا جس میں خُدا اُسے ڈالتا ہے۔ ہر اچھا مسیحی جانتا ہے مسز ھیرس Mrs. Harris کا کیا مطلب تھا جب اُنہوں نے وہ الفاظ تحریر کیے،

بیشک راہ سیدھی اور تنگ دکھائی دیتی ہے،
   میں نے سب کچھ بہا لے جانے کا دعویٰ کیا؛
میری تمنائیں، منصوبے اور آرزوئیں،
   راکھ بنی میرے قدموں پر تھیں۔

وہ سب جانتے ہیں مسٹر ہوفمین کا کیا مطلب تھا جب اُنہوں نے وہ چُبھتا ہوا سوال پوچھا تھا،

کیا تمہارا سب کچھ قربانی کی الطار پر پڑا ہے؟
   تمہارے دِل کو کیا روح قابو کرتا ہے؟
تم صرف برکت پا سکتے ہو اور سکون اور پیارا آرام پا سکتے ہو،
   جیسے ہی تم اُس کو اپنا بدن اور جان حوالے کرتے ہو۔

II۔ دوسری تصویر، ابراہام خُدا باپ کی عکاسی کرتا ہے۔

بیشک شاید ایک تشبیہہ نہ ہو، ابراہام یقینی طور پر خُدا باپ کی عکاسی کرتا ہے جس نے اپنے اکلوتے بیٹے کو دُکھ اُٹھانے اور صلیب پر مرنے کے لیے نیچے بھیجا۔ یقینی طور پر پیدائش22:2 ہمیں خُدا باپ کے دِل کی تصویر پیش کرتی ہے۔ وہ اپنے بیٹے کو لیتا ہے جس سے وہ محبت کرتا ہے، کوہ کلوری کے لیے، جو کہ اُسی تنگ پہاڑی سلسلے میں ہے جس میں موریاہ کا پہاڑ ہے اور وہاں پر اُس کو نسل انسانی کے گناہوں کا کفارہ ادا کرنے کے لیے نذر کرتا ہے۔

پیدائش22:9 کے دوسرے حصے پر نظر ڈالیں۔ ابراہام نے ’’اپنے بیٹے اضحاق کو رسی سے باندھ کر قربان گاہ پر لکڑیوں کے اوپر رکھ دیا۔‘‘ صفحے کے نیچلے حصے پر سیکوفیلڈ کی غور طلب بات کہتی ہے، ’’ابراہام، باپ [خُدا] کی تشبیہہ ہے، جس نے ’خود اپنے بیٹے کو بچائے رکھنے کی بجائے اُسے ہم سب کے لیے قربان کر دیا‘ [رومیوں8:32]۔‘‘ کیا ہم یوحنا3:16 اکثر مرتبہ سُن نہیں چکے کہ ہم اُس کے بارے میں اب مذید اور سوچتے ہی نہیں؟

’’کیونکہ خدا نے دنیا سے اِس قدر محبت کی کہ اپنا اکلوتا بیٹا بخش دیا …‘‘ (یوحنا 3:16).

یوحنا3:16 کے بارے میں سوچیں جب آپ پیدائش22:2 پردوبارہ نظر ڈالیں گے،

’’اپنے اکلوتے بیٹے اضحاق کو جسے تُو پیار کرتا ہے ساتھ لے… اُسے سوختنی قربانی کے طور پر نذر کر‘‘ (پیدائش 22:2).

ڈاکٹر جے۔ ورنن میگی Dr. J. Vernon McGee نے کہا، ’’آخری تین گھنٹوں کے دوران، وہ صلیب ایک الطار بن گئی تھی جس پر خُدا کا برّہ جو جہاں کے گناہ اُٹھا لے جاتا ہے کو نذر کیا گیا تھا۔ صلیب پر لین دین کا وہ عمل باپ اور بیٹے کے درمیان تھا… وہ تصویر یہاں ویسی ہی ہے: یہ تنہا ابراہام اور اضحاق ہے‘‘ (بائبل میں سے Thru the Bible، جلد اوّل، صفحہ 91)۔

ڈاکٹر ایم۔ آر۔ ڈیحانDr. M. R. DeHaan نے کہا، ’’اذیت کے اُن آخری گھنٹوں کے دوران [خُدا] باپ اور اُس کے بیٹے یسوع مسیح کے دوران جو کچھ ہوا ہم اُس کو کبھی بھی سمجھنے کے قابل نہیں ہو پائیں گے۔ یہ باپ اور بیٹے کے درمیان لین دین کا معاملہ تھا۔ کوئی انسانی آنکھ اُس نظارے کو دیکھ نہ پائی تھی [کیونکہ تمام زمین پر تاریکی چھا گئی تھی]… جب اختتامی بحران آیا اور حتمی قربانی دی جا چکی، خُدا [نے تاریکی بھیج دی]… جب تک کہ بالاآخر اُس قطعی حتمی اذیت زدہ [صلیب پر یسوع کی] چیخ میں عروج نہ آ گیا، ’اے میرے خُدا، اے میرے خُدا، تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا؟‘‘‘ (ایم۔ آر۔ ڈیحان، ایم۔ ڈی۔ پیدائش میں مسیح کی مصوری Portraits of Christ in Genesis، ژونڈروان اشاعتی گھر Zondervan Publishing House، 1966، صفحہ137)۔

یقینی طور پر اضحاق کی آنیوالی موت سے ابراہام کا دِل ٹوٹا تھا۔ اور، بالکل ایسے ہی یقینی طور پر، خُدا کا دِل بھی ٹوٹا تھا جب اُس نے اپنا مُنہ موڑ لیا تھا اور اپنے بیٹے یسوع کو اُس کے لیے تاریکی میں چیختا ہوا چھوڑ دیا تھا، ’’کیونکہ خُدا نے دُنیا سے اِس قدر محبت کی کہ اپنا اِکلوتا بیٹا بخش دیا‘‘ – آپ کو اور مجھے گناہ اور جہنم سے نجات دلانے کے لیے۔ یقینی طور پر خُدا نے صلیب پر چلاتی ہوئی اپنے بیٹے کی آواز سُنی تھی، ’’اے میرے خُدا، اے میرے خُدا، تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا؟‘‘ یقینی طور پر خُدا باپ کے آنسو بہہ اُٹھے تھے جب اُس نے اپنا مُنہ موڑا تھا جس وقت یسوع نے اُس صلیب پر تنہا ہمارے گناہ برداشت کیے!

III۔ تیسری تصویر، اضحاق یسوع کی عکاسی کرتا ہے۔

سیکوفیلڈ کی غور طلب بات کہتی ہے، ’’اضحاق، ’موت تک فرمانبردار رہنے والی‘، مسیح کی تشبیہہ ہے (فلپیوں2:5۔8)۔‘‘

’’اُس نے اِنسانی شکل میں ظاہر ہو کر، اپنے آپ کو فروتن کردیا اور مَوت بلکہ صلیبی مَوت تک فرمانبردار رہا‘‘ (فلپیوں 2:8).

آیت 6 پر نظر ڈالیں،

’’ابراہام نے سوختنی قربانی کی لکڑیاں لیں اور اُنہیں اپنے بیٹے اِضحاق پر لاد دیا‘‘ (پیدائش 22:6).

یہ مسیح کا اپنی صلیب اُٹھانے کی عکاسی کرتی ہے

’’اور وہ [یسوع] اپنی صلیب اُٹھا کر کھوپڑی کے مقام کی طرف روانہ ہُوا جسے عبرانی زبان میں گُلگُتا کہتے ہیں: وہاں اُنہوں نے اُسے مصلوب کیا‘‘ (یوحنا 19:17،18).

اب آیت 7 اور 8 پر نظر ڈالیں،

’’اور اِضحاق اپنے باپ ابراہام سے کہنے لگا، ابا: ابراہام نے جواب دیا، ہاں میرے بیٹے؟ اِضحاق نے کہا، آگ اور لکڑیاں یہاں ہیں لیکن سوختنی قربانی کے لیے برّہ کہاں ہے؟ اور ابراہام نے جواب دیا، اَے میرے بیٹے، خدا آپ ہی سوختنی قربانی کے لیے برّہ مہیا کرے گا۔ اور وہ دونوں ساتھ ساتھ چلتے گئے‘‘ (پیدائش 22:7،8).

اضحاق کہتا ہے، ’’آگ اور لکڑیاں یہاں ہیں لیکن سوختنی قربانی کے لیے برّہ کہاں ہے؟‘‘ ابراہام کہتا ہے، ’’اے میرے بیٹے، خُدا آپ ہی سوختنی قربانی کے لیے برّہ مہیا کرے گا۔‘‘ اب آیت 9 پر نظر ڈالیں،

’’جب وہ اُس مقام پر پہنچے جو خدا نے اُسے بتایا تھا تو ابراہام نے وہاں قربان گاہ بنائی اور اُس پر لکڑیاں چُن دیں۔ پھر اُس نے اپنے بیٹے اضحاق کو رسّی سے باندھ کر قربان گاہ پر لکڑیوں کے اوپر رکھ دیا‘‘ (پیدائش 22:9).

یہ یسوع کی عکاسی کرتی ہے، جیسا کہ اشعیا ہمیں بتاتا ہے،

’’وہ برّہ کی طرح ذبح کرنے کے لیے لے جایا گیا، اور جس طرح ایک بھیڑ اپنے بال کترنے والوں کے سامنے خاموش رہتی ہے، اُسی طرح اُس نے بھی اپنا مُنہ نہ کھولا‘‘ اشعیا 53:7).

ڈاکٹر میگی نے نشاندہی کی کہ اضحاق تقریباً 33 برس کی عمر کا تھا۔ اُنہیں اُس ہندسے کا پیدائش میں تمام واقعے کا احتیاط کے ساتھ مطالعہ کرنے سے پتا چلا۔ اضحاق نے فرمانبرداری کے ساتھ اپنے باپ کو اُس کے ہاتھ باندھنے دیے اور لکڑیوں پر لٹانے دیا۔ اب آیت10 پر نظر ڈالیں،

’’اور تب اُس نے ہاتھ میں چُھری لی تاکہ اپنے بیٹے کو ذبح کرے‘‘ (پیدائش 22:10).

حالانکہ ابراہام سمجھ نہیں پایا تھا کہ وہ کیا کر رہا تھا، وہ کافی عرصہ پہلے ہی خُدا اُسے جو کرنے کے لیے کہتا تھا اُس کی فرمانبرداری کرنا سیکھ چکا تھا۔ اور یہ کرنے سے، وہ اِمتحان میں کامیاب ہو گیا تھا۔ آیت12 پر نظر ڈالیں،

’’اور اس نے کہا، اِس لڑکے پر ہاتھ نہ چلا اور اُسے کچھ نہ کر۔ اب میں جان گیا کہ تُو ایک خدا ترس اِنسان ہے کیونکہ تُو نے مجھ سے اپنے بیٹے بلکہ اکلوتے بیٹے کو بھی دریغ نہ کیا‘‘ (پیدائش 22:12).

ڈاکٹر میگی نے کہا، ’’خُدا نے ابراہام کا اِمتحان لیا تھا۔ میں یقین کرتا ہوں کہ کسی بھی شخص کو خُدا بُلاتا ہے… کسی بھی شخص کو جسے خُدا استعمال کرتا ہے اُس کا اِمتحان لیا جاتا ہے… ہمارے ایمان کو مضبوط کرنے کے لیے، ہمیں قائم کرنے کے لیے، اور ہمیں اُس [خُدا] کی خدمت کے قابل بنانے کے لیے‘‘ (ibid.، پیدائش22:12 پر غور طلب بات)۔ مسز ھیری کے حمدوثنا کے گیت کو دوبارہ سُنیں،

بیشک راہ سیدھی اور تنگ دکھائی دیتی ہے،
   میں نے سب کچھ بہا لے جانے کا دعویٰ کیا؛
میری تمنائیں، منصوبے اور آرزوئیں،
   راکھ بنی میرے قدموں پر تھیں۔

مگر وہ جاری رہتی ہیں،

تب خُداوند کی آگ الطار پر سے
   میرے دِل میں شعلے بھڑکا دیتی ہے؛
میں کبھی بھی اُس خُدا کی ستائش کرنے سے باز نہیں آؤں گی،
   جلال ہو، اُس خُدا کے نام کو جلال ہو!
میں اُس کی ستائش کروں گی! میں اُس کی ستائش کروں گی!
   گنہگاروں کے لیے ذبح کیے گئے برّے کی ستائش کرو؛
اے تمام لوگو، اُس [خُدا] کو جلال دو،
   کیونکہ اُس کا خون ہر دھبہ کے داغ کو مٹا سکتا ہے۔

میرے خیال میں وہ اُن کی گواہی تھی۔ جس سب کا اُنہوں نے دعویٰ کیا سب بہہ گیا۔ اُن کی تمنائیں، منصوبے اور آرزوئیں راکھ بنی اُن کی قدموں میں تھی۔ ’’تب‘‘ – اوہ، وہ اچھا ہے! ’’تب میرے دِل کے الطار پر خُدا کی آگ شعلے بھڑکاتی ہے؛ میں کبھی بھی اُس کی ستائش کرنے سے باز نہیں آؤں گا! جلال ہو، اُس خُدا کے نام کو جلال ہو!‘‘ جیسا کہ مسز ھوفمین نے اِس کو لکھا، ’’تم صرف برکت پا سکتے ہو اور سکون اور پیارا آرام پا سکتے ہو جیسے ہی تم اُس کو اپنا بدن اور جان حوالے کرتے ہو۔‘‘

اب اُن وفادار لوگوں کے بارے میں سوچیں جنہوں نے ہمارے گرجہ گھر کو مالی تباہی سے نجات دلائی تھی۔ اُن میں سے ہر ایک کو اُس اِمتحان میں کامیاب ہونا پڑا تھا جس سے خُدا نے اُنہیں آزمایا تھا۔ دوسرے گرجہ گھر کی اِس تقسیم پر بھاگ گئے تھے۔ مگر وفادار لوگ ٹھہر گئے تھے، حالانکہ رُکنے اور اِمتحان میں کامیاب ہونےکے لیے اُنہیں ایک بہت بڑی قیمت چکانی پڑی تھی۔ مجھے یاد ہے مسز سلازار Mrs. Salazar کو کیا قیمت چکانی پڑی۔ مجھے یاد ہے مسٹر پرودھوم Mr. Prodhomme کو کیا قیمت چکانی پڑی۔ میں جانتا ہوں میری بیوی کو کیا قیمت چکانی پڑی، ڈاکٹر چعین Dr. Chan، ڈاکٹر کیگن Dr. Cagan، مسز کیگن، مسز بیباؤٹ Mrs. Bebout اور دوسرے تمام لوگوں کو کیا قیمت چکانی پڑی۔ وہ کہہ سکتے ہیں، ’’ جس سب کا میں نے دعویٰ کیا سب بہہ گیا۔ میری تمنائیں، منصوبے اور آرزوئیں راکھ بنی میرے قدموں میں تھیں۔‘‘ یہ تھا جو باپ ابراہام کے ساتھ رونما ہوا تھا، جب اُس نے خود زندگی سے بھی پیارے بیٹے کو جس سے وہ محبت کرتا ہے ذبح کرنے کے لیے چُھری اپنے ہاتھوں میں اُٹھائی! اُس کی تمام تمنائیں، منصوبے اور آرزوئیں راکھ بنی اُس کے قدموں میں تھیں! اور ایسے ہی ہے کہ اُس نے اور دوسرے تمام لوگوں نے اِمتحان میں کامیابی حاصل کی تھی۔ کیا آپ تعجب کرتے ہیں کیوں مسز سلازار اِس قدر مقدس ہیں؟ اُن کی تمام تمنائیں، منصوبے اور آرزوئیں راکھ بنی اُن کے قدموں میں تھیں!

آپ محض بائبل کا مطالعہ ہی کر لینے سے ایک عظیم مسیحی نہیں بن جاتے۔ آپ خُدا کے لیے اپنی تمناؤں، منصوبوں اور خواہشات کی قربانی دینے کے ذریعے سے ایک عظیم مسیحی بنتے ہیں! آپ ایک عظیم مسیحی اُسی طرح سے بنتے ہیں جیسے ابراہام بنا تھا! دوسری کوئی راہ نہیں ہے! مہربانی سے کھڑے ہو جائیں اور حمدوثنا کا گیت نمبر4 ’’یسوع، میں نے اپنی صلیب اُٹھا لی ہے Jesus, I My Cross Have Taken‘‘ گائیں،

یسوع، میں نے اپنی صلیب اُٹھا لی ہے، سب کچھ چھوڑنے اور تیری پیروی کرنے کے لیے؛
   مفلس، حقیر جانا گیا، اکیلا چھوڑا گیا، اب سے تجھ پر ہی میرا آسرا ہے:
ہر مہربان آرزو مر چکی ہے، وہ تمام جس کی میں نے کوشش کی اور اُمید کی اور جانا؛
   اِس کے باوجود میری حالت کتنی مالدار ہے، خُدا اور آسمان ابھی تک میرے اپنے ہیں!

دُنیا کو مجھے حقیر جاننے دو اور مجھے چھوڑ دینے دو، اُنہوں نے میرے نجات دہندہ کو بھی چھوڑ دیا تھا؛
   انسانی دِل اور چہرے مجھے دھوکہ دیتے ہیں؛ لوگوں کی مانند تیرا چہرہ جھوٹا نہیں ہے؛
اورجبکہ تو مجھ پر مسکرا رہا ہے، حکمت، محبت اور قوت کے خُدا،
   دشمن شاید نفرت کریں، اور دوست شاید مجھ سے اجتناب کریں؛ اپنا چہرہ دکھا اور تمام پُر نور ہے۔

لوگ شاید مجھے پریشان کریں اور مایوس کریں، یہ مجھے صرف تیرے سینے کی طرف ہی کھینچے گا؛
   زندگی شدید دشواریوں کے ساتھ شاید مجھے دبا دے، آسمان میرے لیے گداز اور میٹھی نیند لائے گا۔
مجھے نقصان پہنچانے کے لیے یہ ماتم کرنے والی بات نہیں ہے، جبکہ تیرا پیار میرے لیے موجود ہے؛
   اور وہ مجھے راغب کرنے کے لیے خوشی میں نہیں تھے، وہ خوشی تیرے ساتھ کس قدر خالص تھی۔

فضل سے جلال تک تم جلد پہنچے، ایمان سے لیس، اور دعا میں پرواز سے؛
   تمہارے سامنے آسمان کے دائمی دِن تھے، خُدا کا اپنا ہاتھ وہاں تمہاری رہنمائی کرے گا۔
جلد ہی تمہاری زمینی مشن ختم ہو جائے،تمہارے مسافرت کے دِن جلدی سے گزر جائیں گے،
   اُمید پُرمسرت نتیجے میں بدل جائے گی، نظارے کے لیے ایمان اور ستائش کے لیے دعا۔
(’’یسوع، میں نے اپنی صلیب اُٹھا لی ہے Jesus, I My Cross Have Taken‘‘ شاعر ھنری ایف۔ لائٹ
   Henry F. Lyte، 1793۔1847)۔

آپ تشریف رکھ سکتے ہیں۔

آخاہ، میں سے اِس طرح سے واعظ کا بالکل بھی منصوبہ نہیں بنایا تھا! میں نے واعظ لکھنے سے پہلے ایک خوبصورت خلاصہ لکھا تھا۔ اِس نے میرا جمعے کا سارا دِن لے لیا تھا۔ آخر میں، میرا پیار خاکہ ’’بہہ گیا اور میرے قدموں میں راکھ بنا پڑا تھا!‘‘ آئیے اِسے برقرار کریں! اِس کے باوجود میں یقین کرتا ہوں کہ یہ ابراہام اور اضحاق کا پیغام پیش کرتا ہے، غالباً اگر میرے اپنے واعظ کے خوبصورت خاکہ کی پیروی کے مقابلے میں بہتر طریقے سے!

ڈاکٹر ڈیحان نے کہا، ’’یہاں پر شبیہہ کی درجہ بندی کے مطالعے کا علم typology تبدیل ہو جاتا ہے اور ہمیں دوہری شبیہہ کی ایک مثال ملتی ہے۔ اضحاق مسیح کی ایک تشبیہہ ہو سکتا ہے صرف اِسی حد تک اِس سے آگے نہیں، کیونکہ اضحاق خود [ایک گنہگار تھا جسے] ایک متبادل کی ضرورت تھی جس کو اُس کی بجائے ذبح کیا جانا چاہیے تھا۔ اور یوں تصویر اضحاق میں مسیح کی ایک تصویر کی حیثیت سے تبدیل ہو کر اضحاق کے متبادل کے طور پر ایک مینڈھے میں بدل جاتی ہے‘‘ (ibid.، صفحہ 141)۔ اب آیت 13 پر نظر ڈالیں،

’’اور ابرہام نے نگاہ اُٹھائی اور اُس نے وہاں ایک مینڈھا دیکھا جس کے سینگ جھاڑیوں میں پھنسے ہُوئے تھے۔ اُس نے جاکر اُس مینڈھے کو پکڑا اور اُسے اپنے بیٹے کی بجائے سوختنی قربانی کے طور پر چڑھایا‘‘ (پیدائش 22:13).

جملے پر غور کریں، ’’اُس کے بیٹے کی بجائے [یا جگہ پر]۔‘‘ یہ مسیح کی گنہگاروں کی جگہ پر متبدلیاتی موت کی ایک تصویر ہے۔ وہ مینڈھا جو اضحاق کی جگہ پر قربان کیا گیا یسوع کی ایک مکمل تصویر ہے جسے آپ کی جگہ پر قربان کیا گیا، صلیب پر آپ کے گناہوں کی ادائیگی کے لیے، یسوع، ’’خود ہی اپنے بدن پر ہمارے گناہوں کا بوجھ لیے ہوئے صلیب پر چڑھ گیا،‘‘ 1پطرس2:24 .

میں آپ سے یسوع پر بھروسہ کرنے کے لیے کہہ رہا ہوں۔ جس لمحے آپ اُس پر بھروسہ کرتے ہیں تو صلیب پر اُس کی موت آپ کے گناہ کا مکمل کفارہ ادا کرتی ہے۔ اور صلیب پر جو خون اُس نے بہایا آپ کو تمام گناہ سے پاک صاف کر دے گا – جس لمحے آپ اُس پر اپنے تمام دِل سے بھروسہ کرتے ہیں۔ صرف اُس پر بھروسہ کریں۔ صرف اُسی پر بھروسہ کریں۔ ابھی صرف اُسی پر بھروسہ کریں۔ وہ آپ کو نجات دے گا۔ وہ آپ کو نجات دے گا۔ وہ آپ کو ابھی نجات دے گا۔ آمین۔

اگر اِس واعظ نے آپ کو برکت بخشی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز آپ سے سُننا چاہیں گے۔ جب آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں تو آپ اُنہیں ضرور بتائیں کہ آپ کس مُلک سے لکھ رہے ہیں ورنہ وہ آپ کی ای میل کو جواب نہیں دیں گے۔ اگر اِن واعظوں نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز کو ایک ای میل لکھیں اور اُنہیں بتائیں، لیکن ہمیشہ جس ملک سے آپ لکھ رہے ہیں اُس کا نام شامل کریں۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای میل ہے rlhymersjr@sbcglobal.net (click here) ۔ آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو کسی بھی زبان میں لکھ سکتے ہیں، لیکن اگر آپ انگریزی میں لکھ سکتے ہیں تو انگریزی میں لکھیں۔ اگر آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو بذریعہ خط لکھنا چاہتے ہیں تو اُن کا ایڈرس ہے P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015.۔ آپ اُنہیں اِس نمبر (818)352-0452 پر ٹیلی فون بھی کر سکتے ہیں۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہائیمرز کے واعظ www.sermonsfortheworld.com
یا پر پڑھ سکتے ہیں ۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

یہ مسودۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے تمام ویڈیو پیغامات حق اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے
جا سکتے ہیں۔

واعظ سے پہلے تلاوت مسٹر ایبل پرودھوم Mr. Abel Prudhomme نے کی تھی: پیدائش22:1۔14 .
واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بنجامن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith نے گایا تھا:
       ’’کیا تمہارا سب کچھ الطار پر ہے؟ Is Your All on the Altar?‘‘ (شاعر علیشاہ اے۔ ھوفمین Elisha A. Hoffman، 1839۔1929)۔

لُبِ لُباب

ابراہام اور اضحاق سے اسباقِ زندگی

(پیدائش کی کتاب پر واعظ # 85)
LIFE LESSONS FROM ABRAHAM AND ISAAC
(SERMON #85 ON THE BOOK OF GENESIS)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

’’تب اُس نے اُن سے کہا، تُم کتنے نادان ہو اور نبیوں کی بتائی ہوئی باتوں کو قبول کرنے میں کس قدر سُست ہو: اور اُس نے موسٰی سے لے کر سارے نبیوں کی باتیں جو اُس کے بارے میں پاک کلام میں درج تھیں اُنہیں سمجھا دیں‘‘ (لوقا 24:25،27).

(اشعیا7:14)

I.    پہلی تصویر، حوالہ مسیحیوں کے آزمائے جانے کی عکاسی کرتا ہے،
 پیدائش22:1، 2؛ یہوداہ 1:13؛ پیدائش12:1؛ 13:1۔8؛ 17:17، 18؛ 22:1، 2 .

II.   دوسری تصویر، ابراہام خُدا باپ کی عکاسی کرتا ہے، پیدائش22:9؛
 رومیوں8:32؛ یوحنا3:16؛ پیدائش22:2 .

III.  تیسری تصویر، اضحاق یسوع کی عکاسی کرتا ہے، فلپیوں2:8؛ پیدائش22:6؛
یوحنا19:17، 18؛ پیدائش22:7، 8، 9؛ اشعیا53:7؛ پیدائش22:10، 12، 13؛
1پطرس2:24 .