Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 215 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.co پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہمارے ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 36 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔

جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

اِضحاق کی پیدائش اور یسوع کی پیدائش

(پیدائش کی کتاب پر واعظ # 84)
THE BIRTH OF ISAAC AND THE BIRTH OF JESUS
(SERMON #84 ON THE BOOK OF GENESIS)
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
خُداوند کے دِن کی صبح، 29 نومبر، 2015
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord's Day Morning, November 29, 2015

’’ایمان ہی سے ابراہام نے اپنے امتحان کے وقت اِضحاق کو نذر گزرانا اور جسے اُس نے خدا کے وعدوں کو قبول کرنے کے بعد پایا تھا اُسی اِکلوتے بیٹے کو نذر کرنے پر تیار ہو گیا۔ کہ خداوند نے اُس سے کہا تھا کہ اِضحاق ہی سے تیری نسل کا نام جاری رہے گا۔ ابراہام کا بھروسا تھا کہ خدا مُردوں کو زندہ کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔ چنانچہ اُس نے ایک ہستی میں اِضحاق کو پھر سے زندہ پا لیا‘‘ (عبرانیوں 11:17۔19).

ابراہام اپنے بیٹے اضحاق کو نذر گزراننے کے لیے موریاہ کے پہاڑ پر لے گیا۔ ابراہام یقین رکھتا تھا کہ خُدا ایک ’’ہستیfigure‘‘ میں اضحاق کو مُردوں میں سے زندہ کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔ وہ لفظ ’’ہستیfigure‘‘ اہم ہے۔ یونانی لفظ ’’پیرابول parabŏlĕ‘‘ ہے۔ اِس کا مطلب ایک ’’علامت‘‘ یا ’’تشبیہہ‘‘ ہوتا ہے۔ یوں ہم دیکھتے ہیں کہ اضحاق کی قربانی ایک تشبیہہ تھی۔ مگر عبرانیوں کا مصنف ہمیں خصوصی طور پر اُس تشبیہہ کے پورے کیے جانے یا شبیہہ کے بارے میں نہیں بتاتا۔ وہ جاننے کے لیے ہمیں گلِتیوں3:8 (سیکوفیلڈ بائبل میں صفحہ1243) کو کھولنا چاہیے۔ یہاں پر ہم پڑھتے ہیں کہ ’’خُدا نے پہلے ہی سے ابراہام کو یہ خوشخبری سُنا دی‘‘ تھی۔ اِس سے ہم سیکھتے ہیں کہ مسیح کی خوشخبری ایک شبیہہ تھی، جو اضحاق کی قربانی میں ’’علامت‘‘ یا ’’پیرابول parabŏlĕ‘‘ کے پورے کیے جانے میں پیش کی گئی ہے۔

اب میں شبیہہ کی درجہ بندی کے مطالعے کے علم typology کی وضاحت بیان کرنے کے لیے ایک لمحے کو روکوں گا۔ پورٹبل سیمنری The Portable Seminary کہتی ہے، ’’نئے عہد نامے کی شبیہہ کی درجہ بندی کے مطالعے کا علم typology پرانے عہد نامے میں ایک ہستی، واقعے یا چیز کے مابین نئے عہد نامے میں ایک ہستی، واقعے یا چیز کے ساتھ مشہابت کی [ایک] حد کی جانب توجہ مرکوز کرتا ہے‘‘ (صفحہ81)۔ اِس معاملے میں، تشبیہہ اضحاق کی پیدائش اور قربانی ہے – اور شبیہہ (یا تشبیہہ کا پورا ہونا) مسیح کی خوشخبری ہے۔ یہ اُس [ابراہام] کے بیٹے اضحاق کی پیدائش، قربانی اور زندگی کے ذریعے ہی تھا کہ خُداوند نے ’’خُدا نے پہلے ہی سے [وقت سے پہلے] ابراہام کو یہ خوشخبری سُنا دی‘‘ (گلِتیوں3:8)۔ نئی امریکن معیاری بائبل NASV آخری تین الفاظ ’’ایک ہستی میں in a figure‘‘ کا ترجمہ اِس طریقے سے کرتی ہے – ’’ایک شبیہہ کی حیثیت سے۔‘‘ میں نے نئی امریکن معیاری بائبل NASV کا حوالہ صرف آپ پر یہ ظاہر کرنے کے لیے دیا ہے کہ اُس لفظ ’’تشبیہہ type‘‘ کا ترجمہ ’’پیرابول parabŏlĕ‘‘ کی ترجمانی کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے جس کا کنگ جیمس بائبل میں ’’ہستیfigure‘‘ ترجمہ کیا گیا ہے۔

میں اُمید کرتا ہوں کہ میں نے آپ کی توجہ نہیں ہٹائی ہو گی کیونکہ مطالعہ کرنے کے لیے یہ واقعی میں ایک انتہائی شاندار اور دلچسپ موضوع ہے – مسیح کی پیدائش اور قربانی کا اضحاق کی پیدائش اور قربانی کے ساتھ موازنہ! خُداوند یسوع کی شبیہہ اور اضحاق کی تشبیہہ کا مطالعہ کرنا حقیقت میں آنکھیں کھول دینے والی بات ہے! میں یہاں پر ڈاکٹر جے ورنن میگی Dr. J. Vernon McGee (بائبل میں سے Thru the Bible، جلد اوّل، تھامس نیلسن Thomas Nelson، 1983) اور ڈاکٹر ایم۔ آر۔ ڈیحان Dr. M. R. DeHaan (پیدائش میں مسیح کی تصویری عکاسی Portraits of Christ in Genesis، ژونڈروان اشاعت گھر Zondervan Publishing House، 1966) کی غور طلب باتوں پر نہایت شدت سے اِنحصار کر رہا ہوں۔

1. پہلی بات، دونوں اضحاق کی پیدائش اور مسیح کی پیدائش کی پیشنگوئی اُن کے پیدا ہونے سے پہلے کر دی گئی تھی۔

خُداوند نے ابراہام کو ایک بیٹا دینے کا وعدہ کیا تھا جب خُداوند نے اُسے کُسدیوں کے اُور میں بُلایا تھا۔ یہ بات اضحاق کے پیدا ہونے سے تقریباً 25 سال پہلے ہوئی تھی۔ وہ تشبیہہ تھی۔

یسوع کی آمد کی پیشن گوئی بھی اُس کے پیدا ہونے سے پہلے کر دی گئی تھی۔ خُداوند نے اسرائیل کی قوم سے کہا،

’’دیکھو ایک کنواری حاملہ ہوگی اور اُس کے ہاں بیٹا پیدا ہوگا‘‘ (اشعیا 7:14).

یہ ایک شبیہہ تھی، تشبیہہ کا پورا کیا جانا۔

2. دوسری بات، دونوں ہی معاملوں میں وعدے اور اُس کے پورے کیے جانے کے درمیان وقت کا ایک طویل عرصہ تھا۔

اُس وقت سے لے کر جب خُدا نے اِس کا وعدہ کیا تھا اور اضحاق کی پیدائش تک تقریباً 25 سالوں کا عرصہ تھا۔ مسیح کی پیدائش کی پیشن گوئی اُس کے پیدا ہونے سے سینکڑوں برس قبل کر دی گئی تھی۔ لہٰذا، دوبارہ، یہاں پر تشبیہہ اور ایک شبیہہ ہے، ایک وعدہ اور اُس کا پورا کیا جانا ہے۔

3. تیسری بات، اضحاق کا نام اور یسوع کا نام دونوں ہی کی اُن کے پیدا ہونے سے پہلے پیشن گوئی کر دی گئی تھی۔

خُداوند نے ابراہام سے کہا، ’’تو اُس کا نام اضحاق رکھنا‘‘ (پیدائش17:19)۔ خُداوند کا فرشتہ یوسف پر نازل ہوا اور کہا، ’’وہ ایک بیٹے کو جنم دے گی اور تو اُس کا نام یسوع رکھنا: کیونکہ وہی اپنے لوگوں کو اُن کے گناہوں سے نجات دے گا‘‘ (متی1:21)۔ لہٰذا، دوبارہ، یہاں پر اضحاق (تشبیہہ) اور یسوع (شبیہہ) کے درمیان ایک مماثلت ہے۔

4. چوتھی بات، دونوں ہی کی ماؤں کے لیے اُن کی پیدائش کا اعلان ناممکن دکھائی دیتا تھا۔

جب اضحاق پیدا ہوا تھا تو سارہ کی عمر نوّے برس اور ابراہام کی عمر ایک سو سال تھی۔ جب سارہ کو بتایا گیا تھا کہ اُس کے رحم میں ایک بیٹا ہوا تو وہ ’’خود پر ہنسی‘‘ تھی – اور شک کیا تھا کہ اِس قسم کی بات ہو جائے گی۔

جب جبرائیل فرشتے نے کنواری مریم کو بتایا تھا کہ یسوع نامی ایک بیٹے کو جنم دے گی، تو مریم نے کہا، ’’یہ کیسے ہو سکتا ہے میں تو کنواری [مرد سے واقف تک نہیں] ہوں؟‘‘ (لوقا1:34)۔

اور دونوں ہی معاملات میں، خواتین کو بتایا گیا کہ خُداوند کے لیے کوئی بھی کام مشکل نہیں ہوتا۔ سارہ کو فرشتے نے کہا، ’’کیا خُداوند کے لیے کوئی کام مشکل ہے؟‘‘ (پیدائش18:14)۔ مریم کو فرشتے نے کہا، ’’خُداوند کے لیے کچھ بھی ناممکن نہیں‘‘ (لوقا1:37)۔

دونوں تشبیہہ اور شبیہہ میں، دونوں معاملات میں، اُن کی ماؤں کے لیے اُن کے بیٹوں کی فوق الفطرت پیدائش کا اعلان ناممکن دکھائی دیتا تھا، سارہ جو اضحاق کی ماں تھی اور مریم جو یسوع کی ماں تھی۔

5. پانچویں بات، دونوں پیدائشیں خُداوند ہی کے مقرر کردہ وقت پر واقع ہوئی تھیں۔

پیدائش21:2 میں ہمیں بتایا گیا ہے، ’’سارہ حاملہ ہوئی اور ابراہام کے لیے اُس کے بڑھاپے میں ٹھیک خُداوند کے مقررہ وقت پر اُس کے ہاں بیٹا ہوا [’ٹھیک اُسی وقت‘ جس کا خُدا نے اُس سے وعدہ کیا تھا، نئی امریکن بائبل NIV]،‘‘ پیدائش21:2۔

گلِتیوں4:4 میں، پولوس نے کہا، ’’جب وقت پورا ہو گیا تو خُداوند نے اپنے بیٹے کو بھیجا، جو عورت سے پیدا ہوا اور شریعت کے ماتحت پیدا ہوا‘‘ (گلِتیوں4:4)۔

اضحاق ’’مقررہ وقت‘‘ پر پیدا ہوا تھا۔ یسوع ’’جب وقت پورا ہوگیا‘‘ تو پیدا ہوا تھا۔ دونوں ہی تشبیہہtype (اضحاق) کی پیدائش اور شبیہہ antitype (یسوع) کی پیدائش خُداوند کے مقررہ وقت پر ہوئی تھیں۔

6. چھٹی بات، اضحاق کی پیدائش اور یسوع کی پیدائش دونوں ہی معجزے تھے۔

ڈاکٹر میگی Dr. McGee نے کہا، ’’دونوں ہی جنم معجزانہ تھے۔ اضحاق کی پیدائش ایک معجزانہ پیدائش تھی اور یقینی طور پر خُداوند یسوع کی پیدائش بھی معجزانہ تھی‘‘ (ibid.)۔ ڈاکٹر ڈیحان Dr. DeHaan نے کہا کہ ’’اضحاق کی معجزانہ پیدائش کنواری پیدائش میں کُل ایمان اور یسوع مسیح کی ایک شاندار تشبیہہ تھی… پھر اضحاق، مسیح کی تشبیہہ کی حیثیت سے، پہلی اور اولین ہستی ہے، ایک سایہ ہے، اور خُداوند یسوع مسیح کے کنواری پیدائش کی ایک پیشن گوئی ہے… ابراہام کے بیٹے، اضحاق کی پیدائش ایک معجزہ تھی کیونکہ جب اضحاق پیدا ہوا تھا تب ابراہام ایک سو برس کی عمر میں مکمل طور سے نامرد تھا، اور سارہ نوّے برس کی عمر میں مکمل طور سے بانجھ تھی۔ مگر خُداوند نے ابراہام اور سارہ سے ایک بیٹے کا اور ایک بیج کا جو ساری دُنیا کے لیے ایک برکت بنے گا وعدہ کیا ہوا تھا… ہمیں بتایا جاتا ہے کہ دونوں ابراہام اور سارہ بوڑھے اور بڑھاپے میں لاغر تھے اور سارہ ایک بیٹے کے وعدے پر ہنسی تھی۔ تب خُداوند نے جواب دیا،

’’کیا خداوند کے لیے کوئی کام مشکل ہے؟ میں اگلے برس معینہ وقت پر تیرے پاس پھر آؤں گا اور سارہ کے ہاں بیٹا ہوگا۔‘‘ (پیدائش 18:14).

اور یہ ایسا ہی ہوا تھا۔ جب خُدا ابراہام اور سارہ پر بحالی شباب کا معجزہ ادا کر چکا تو اُس نے اپنا وعدہ پورا کیا۔ یہ خُدا کے لیے کوئی مشکل کام نہ تھا۔

’’اور خداوند جیسا کہ اُس نے کہا تھا سارہ پر مہربان ہُوا اور خداوند نے سارہ کے ساتھ جو وعدہ کیا تھا اُسے پُورا کیا۔ سارہ حاملہ ہُوئی اور ابراہام کے لیے اُس کے بڑھاپے میں ٹھیک خدا کے مقررہ وقت پر اُس کے ہاں بیٹا ہُوا‘‘ (پیدائش 21:1،2).

(ایم۔ آر۔ ڈیحان، ایم۔ ڈی۔ ibid.، صفحہ 126)

۔

اضحاق کی پیدائش اور یسوع کی پیدائش دونوں ہی معجزے تھے، تشبیہہ اور شبیہہ۔

7. ساتویں بات، دونوں اضحاق اور یسوع اپنے اپنے باپ کے لیے خوشی کا سبب تھے۔

پیدائش21:3 کہتی ہے، ’’ابراہام نے اپنے اُس بیٹے کا نام جو سارہ سے پیدا ہوا تھا اضحاق رکھا۔‘‘ ’’اضحاقIsaac‘‘ نام کا مطلب ہنسی یا قہقہہ ہوتا ہے۔ سارہ اُس کی پیدائش کی تشہیر پر بے اعتقادی سے ہنسی تھی۔ اور ابراہام اپنے بیٹے کی پیدائش پر خوشی کے لیے ہنسا تھا۔ وہ اِس قدر خوشی سے ہنسا تھا کہ اُس نے بچے کا نام ’’قہقہہ‘‘ رکھا۔ یہ ہے جو اضحاق کے نام کا مطلب ہوتا ہے!

اِس ہی طرح، جب یسوع کا بپتسمہ ہوا تھا تو خُداوند نے کہا، ’’یہ میرا پیارا بیٹا ہے جس سے میں بہت خوش ہوں‘‘ (متی3:17)۔ دونوں بیٹے، اضحاق اور یسوع، اپنے اپنے باپ کے لیے خوشی کا باعث تھے!

8. آٹھویں بات، دونوں ہی بیٹے اپنے اپنے باپ کے موت تک وفادار رہے تھے۔

آج کی شب میں آپ کو اضحاق کے بارے میں بتاؤں گا جو موریاہ کے پہاڑ پر قتل کیے جانے کے لیے اپنے باپ کے پیچھے جا رہا تھا، موت تک ابراہام کا وفادار تھا۔ ڈاکٹر میگی نے کہا، ’’یہ بات اضحاق کے بارے میں سچی تھی، اور یقینی طور سے یہ بات خُداوند یسوع مسیح کے بارے میں بھی سچی تھی۔ یہاں اضحاق کی پیدائش اور زندگی میں یسوع کی پیدائش اور زندگی کی ایک شاندار تصویر ہے‘‘ (میگی McGee، ibid.)۔

’’اور وہ اُس مقام پر پہنچے جو خدا نے اُسے بتایا تھا تو ابراہام نے وہاں قربان گاہ بنائی اور اُس پر لکڑیاں چُن دیں۔ پھر اُس نے اپنے بیٹے اِضحاق کو رسی سے باندھ کر قربان گاہ پر لکڑیوں کے اوپر رکھ دیا۔ تب اُس نے ہاتھ میں چھُری لی تاکہ اپنے بیٹے کو ذبح کرے‘‘ (پیدائش 22:9،10).

لیکن آپ کو آج کی شام باقی کی کہانی سُننے کے لیے واپس آنا پڑے گا۔

پیدائش کے 21ویں اور 22 ویں باب میں، ہمارے پاس اضحاق کی پیدائش اور زندگی میں ہمارے نجات دہندہ یسوع، جو مسیح کہلاتا ہے کی پیدائش اور زندگی کے بارے میں ایک شاندار نمونہ ہے۔

اب، یہاں اِس واقعے کے کچھ اِطلاق ہیں۔

1. پہلا، اضحاق آنیوالے نجات دہندہ، یسوع کی ایک واضح انبیانہ تصویر ہے۔ مُردوں میں سے جی اُٹھے مسیح نے کہا،

’’تُم کتنے نادان ہو اور نبّیوں کی بتائی ہوئی باتوں کو قبول کرنے میں کس قدر سُست ہو… اور اُس نے موسٰی سے لے کر سارے نبیوں کی باتیں جو اُس کے بارے میں پاک کلام میں درج تھیں اُنہیں سمجھا دیں‘‘ (لوقا 24:25،27).

دوبارہ، مسیح نے کہا، ’’جب میں تمہارے ساتھ تھا تو میں نے تمہیں یہ باتیں بتائی تھیں کہ موسیٰ کی توریت، نبیوں کی کتابوں اور زبور میں میرے بارے میں جو کچھ لکھا ہوا ہے اُس کا پورا ہونا ضروری ہے۔ تب اُس نے اُن کا ذہن کھولا کہ پاک کلام کو سمجھ سکیں‘‘ (لوقا24:44، 45)۔
     مسیح نے کہا موسیٰ نے اُس کے بارے میں بات کی تھی۔ یہ بات پیدائش کے 22ویں باب میں خصوصی طور سے سچی ہے، جہاں پر اضحاق مسیح کی اِس قدر زیادہ ایک واضح تشبیہہ ہے۔ ڈاکٹر میگی نے کہا، ’’یہ باب زبور 22 اور اشعیا 53 باب کے ساتھ مماثلت رکھتا ہے۔ جب اِن عظیم سچائیوں کو پہلی مرتبہ میں نے [پیدائش22 میں] دیکھا جو مسیح کی صلیب کی منظر کشی کرتی ہیں تو یہ سانس کے رُک جانے والی بات تھی۔ ناصرف اضحاق کی پیدائش میں، بلکہ… اضحاق کی قربانی میں بھی، یہاں ہمارے خُداوند کی زندگی کے ساتھ ایک عجیب [اور شاندار] مماثلت ہے‘‘ (میگی، ibid.، صفحہ90)۔
     پرانے عہد نامے میں مسیح کی شبیہات کا مطالعہ ہمیں اُس [یسوع] کے بارے میں آگاہی کا ایک بہت وسیع شعور بخشتا ہے۔ ہم یہ دیکھنا شروع کرتے ہیں کہ یسوع مسیح ہی تمام بائبل کا مرکزی موضوع ہے – دونوں پرانے عہد نامے اور نئے عہد نامے میں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ مسیح کی خوشخبری سے زیادہ اہم کوئی دوسرا موضوع ہے ہی نہیں۔ میں خواہش کرتا ہوں کہ کاش دورِ حاضرہ کے بے شمار مبلغین یہ بات دیکھ پائیں، کیوںکہ آج کے زمانے میں وہ شاذ و نادر ہی خوشخبری پر مکمل واعظ کی تبلیغ کرتے ہیں۔ اِس کے باوجود پولوس رسول، جو تمام زمانوں کا عظیم مبلغ ہے کہہ پایا، ’’میں نے فیصلہ کیا ہوا تھا کہ جب تک تمہارے درمیان رہوں گا مسیح یعنی مسیح مصلوب کی منادی کے سوا کسی اور بات پر زور نہ دوں گا‘‘ (1کرنتھیوں2:2)۔ جب پرانے اور نئے عہد نامے میں ہم پڑھتے ہیں تو ہمارے گناہوں کے لیے صلیب پر مسیح کی موت کی وہ عظیم سچائیاں وہ مرکزی باتیں ہونی چاہئیں جن کے بارے میں ہمیں سوچنا چاہیے – کیونکہ مسیح کی خوشخبری ہی تمام بائبل کا اہم ترین موضوع ہے!

2. دوسرا، ابراہام کا اِمتحان، جب خُداوند نے اُسے اضحاق کی قربانی کا بتایا، تو یہ بات اُن اِمتحانات کی ایک واضح تصویر ہے جس میں خُداوند ہر مسیحی کو ڈالتا ہے۔ میں اِس بارے میں مذید اور باتیں آج کی رات اپنے واعظ ’’ابراہام اور اضحاق سے اِسباق زندگی Life Lessons from Abraham and Isaac‘‘ میں بتاؤں گا۔ آپ کا اِمتحان لیا جائے گا۔ آپ خُدا کے لیے کیا چھوڑنے پر رضا مند ہونگے؟ آپ اُسے [خُدا کو] خوش کرنے کے لیے اپنی زندگی میں کس بات کی قربانی دیں گے؟ عظیم مشنری سی۔ ٹی۔ سٹڈ C. T. Studd (1860۔1931) نے کہا،

صرف ایک ہی زندگی،
   جلد ہی یہ گزر جائے گی؛
صرف جو مسیح کے لیے کیا ہے
   باقی رہ جائے گا
      (سی۔ ٹی۔ سٹڈ C. T. Studd)۔

3. تیسرا اطلاق، خُداوند نے دونوں اضحاق اور یسوع کی پیدائشوں کے بارے میں اُن کے پیدا ہونے سے بہت پہلے ہی وعدہ کیا تھا۔ اُن کے والدین کو جواب کے لیے ایک طویل عرصہ انتظار کرنا پڑا تھا۔ ایسا ہی سچے حیاتِ نو میں پاک روح کے نزول کے ساتھ ہوتا ہے۔ ہم اکثر کلیسیا کی تاریخ میں پڑھتے ہیں کہ کیسے اُن لوگوں کو جنہوں نے حیاتِ نو کے لیے دعائیں مانگی ہوتی ہیں عموماً جواب ملنے سے پہلے انتظار اور انتظار کرنا پڑا تھا۔ اِس کے لیے دعا مانگنا مت چھوڑیں، اِس سے کوئی فرق نہیں پڑتا آپ کو کتنی طویل مدت تک دعا مانگنی پڑے۔ دوسرے شاید ہم پر ہمت نہ ہارنے کی وجہ سے ہنسیں۔ مگر جب خُداوند بالاآخر حیاتِ نو کی قوت نیچے بھیجے گا، تو ہم خوشی کے ساتھ ایسے ہی ہنسیں گے جیسے ابراہام ہنسا تھا – 100 برس کی عمر میں، جب خُداوند نے بالاآخر اُس کی دعاؤں کا جواب بخشا تھا اور اُس کو وعدہ کیا ہوا بیٹا عنایت کیا تھا! یسوع نے کہا، ’’کیا آسمانی باپ اُنہیں پاک روح افراط سے عطا نہ فرمائے گا جو اُس سے مانگتے ہیں؟‘‘ (لوقا11:13)۔ ’’پس کیا خُدا اپنے چُنے ہوئے لوگوں کا انصاف کرنے میں دیر کرے گا جو دِن رات اُس سے فریاد کرتے ہیں؟‘‘ (لوقا18:7)۔

4. چوتھا اِطلاق، تمام کی تمام تیاریاں جو ہم دیکھ چکے ہیں – خُدا کا ابراہام کے پاس اضحاق کو بھیجنا، یسوع کے آنے کے لیے راہ تیار کرنا ہے – اُس کے لیے صلیب پر ہمارے گناہوں کی ادائیگی کے لیے مرنا – ہمیں گناہ سے پاک صاف کرنے کے لیے اپنا خون بہانا – ہمیں زندگی بخشنے کے لیے جسمانی طور پر جی اُٹھنا – وہ تمام تیاریاں ظاہر کرتی ہیں کہ خُدا کے لیے آپ کو آپ کے گناہ سے نجات دلانا کس قدر اہم تھا۔ اور چونکہ خُداوند کے لیے یہ اِس قدر اہم تھا تو آپ کے لیے بھی یہ اِسی قدر اہم ہونا چاہیے۔ یسوع میں داخل ہونے کی کوشش کریں۔ اُس کے پاس آنے اور اُس میں بھروسہ رکھنے کی کوشش کریں۔ جس لمحے آپ اُس پر بھروسہ کریں گے یسوع اُسی لمحے آپ کے تمام گناہوں کو معاف کر دے گا اور آپ کو نجات دے گا کیونکہ وہ آپ جیسے ہی ایک کھوئے ہوئے گمراہ شخص کو ڈھونڈنے اور نجات دلانے کے لیے آیا! یسوع پر بھروسہ کریں اور اُس کا خون آپ کو تمام گناہ سے پاک صاف کر دے گا!


آمین! ڈاکٹر چعین Dr. Chan، مہربانی سے دعا میں ہماری رہنمائی کریں۔

اگر اِس واعظ نے آپ کو برکت بخشی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز آپ سے سُننا چاہیں گے۔ جب آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں تو آپ اُنہیں ضرور بتائیں کہ آپ کس مُلک سے لکھ رہے ہیں ورنہ وہ آپ کی ای میل کو جواب نہیں دیں گے۔ اگر اِن واعظوں نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز کو ایک ای میل لکھیں اور اُنہیں بتائیں، لیکن ہمیشہ جس ملک سے آپ لکھ رہے ہیں اُس کا نام شامل کریں۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای میل ہے rlhymersjr@sbcglobal.net (click here) ۔ آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو کسی بھی زبان میں لکھ سکتے ہیں، لیکن اگر آپ انگریزی میں لکھ سکتے ہیں تو انگریزی میں لکھیں۔ اگر آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو بذریعہ خط لکھنا چاہتے ہیں تو اُن کا ایڈرس ہے P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015.۔ آپ اُنہیں اِس نمبر (818)352-0452 پر ٹیلی فون بھی کر سکتے ہیں۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہائیمرز کے واعظ www.sermonsfortheworld.com
یا پر پڑھ سکتے ہیں ۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

یہ مسودۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے تمام ویڈیو پیغامات حق اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے
جا سکتے ہیں۔

واعظ سے پہلے تلاوت مسٹر ایبل پرودھوم Mr. Abel Prudhomme نے کی تھی: عبرانیوں11:17۔19 .
واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بنجامن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith نے گایا تھا:
’’نا ہی چاندی نا ہی سونا Nor Silver Nor Gold‘‘
(شاعر جیمس ایم۔ گرے James M. Gray، 1851۔1935)۔

لُبِ لُباب

اِضحاق کی پیدائش اور یسوع کی پیدائش

(پیدائش کی کتاب پر واعظ # 84)
THE BIRTH OF ISAAC AND THE BIRTH OF JESUS
(SERMON #84 ON THE BOOK OF GENESIS)
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

’’ایمان ہی سے ابراہام نے اپنے امتحان کے وقت اِضحاق کو نذر گزرانا اور جسے اُس نے خدا کے وعدوں کو قبول کرنے کے بعد پایا تھا اُسی اِکلوتے بیٹے کو نذر کرنے پر تیار ہو گیا۔ کہ خداوند نے اُس سے کہا تھا کہ اِضحاق ہی سے تیری نسل کا نام جاری رہے گا۔ ابراہام کا بھروسا تھا کہ خدا مُردوں کو زندہ کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔ چنانچہ اُس نے ایک ہستی میں اِضحاق کو پھر سے زندہ پا لیا‘‘ (عبرانیوں 11:17۔19).

(گلِتیوں3:8)

1.   پہلی بات، دونوں اضحاق کی پیدائش اور مسیح کی پیدائش کی پیشنگوئی اُن کے پیدا ہونے سے پہلے کر دی گئی تھی، اشعیا7:14 .

2.   دوسری بات، دونوں ہی معاملوں میں وعدے اور اُس کے پورے کیے جانے کے درمیان وقت کا ایک طویل عرصہ تھا۔

3.   تیسری بات، اضحاق کا نام اور یسوع کا نام دونوں ہی کی اُن کے پیدا ہونے سے پہلے پیشن گوئی کر دی گئی تھی، پیدائش17:19؛ متی1:21 .

4.   چوتھی بات، دونوں ہی کی ماؤں کے لیے اُن کی پیدائش کا اعلان ناممکن دکھائی دیتا تھا، لوقا1:34؛ پیدائش18:14؛ لوقا1:37 .

5.   پانچویں بات، دونوں پیدائشیں خُداوند ہی کے مقرر کردہ وقت پر واقع ہوئی تھیں، پیدائش 21:2؛ گلِتیوں4:4 .

6.   چھٹی بات، اضحاق کی پیدائش اور یسوع کی پیدائش دونوں ہی معجزے تھے، پیدائش18:14؛ 21:1، 2 .

7.   ساتویں بات، دونوں اضحاق اور یسوع اپنے اپنے باپ کے لیے خوشی کا سبب تھے، پیدائش21:3؛ متی3:17 .

8.   آٹھویں بات، دونوں ہی بیٹے اپنے اپنے باپ کے موت تک وفادار رہے تھے، پیدائش22:9، 10 .

(لوقا24:25، 27، 44، 45؛ 1کرنتھیوں2:2؛ لوقا11:13؛ 18:7)