Print Sermon

اِس ویب سائٹ کا مقصد ساری دُنیا میں، خصوصی طور پر تیسری دُنیا میں جہاں پر علم الہٰیات کی سیمنریاں یا بائبل سکول اگر کوئی ہیں تو چند ایک ہی ہیں وہاں پر مشنریوں اور پادری صاحبان کے لیے مفت میں واعظوں کے مسوّدے اور واعظوں کی ویڈیوز فراہم کرنا ہے۔

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 46 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کے مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔

جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

راہ، حق اور زندگی

THE WAY, THE TRUTH, AND THE LIFE
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
خُداوند کے دِن کی صبح، 15 نومبر، 2015
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord's Day Morning, November 15, 2015

’’یسوع نے اُن سے کہا، راہ حق اور زندگی میں ہوں: میرے وسیلہ کے بغیر کوئی باپ کے پاس نہیں آتا‘‘ (یوحنا14:6)۔

جب ہم یوحنا کا 13 واں اور 14 واں باب پڑھتے ہیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ شاگرد کس قدر اندھے تھے۔ وہ یسوع کے ساتھ تین سالوں سے تھے اور وہ ابھی تک اندھے تھے۔ اُنہوں نے بیماروں کو شفا دی تھی اور آسیبوں کو نکالا تھا اور وہ پھر بھی اندھے تھے۔ یہ بات ہمیں حیرت میں مبتلا کر دیتی ہے کہ وہ چاروں اناجیل پڑھ سکتے ہیں اور یہ بات نہیں دیکھ سکتے! یسوع نے اُنہیں بار بار بتایا کہ وہ مصلوب ہونے کے لیے جا رہا تھا، اور کہ وہ مرنے جا رہا تھا، اور کہ وہ مُردوں میں سے جی اُٹھنے کے لیے جا رہا تھا۔

’’پھر اُس نے بارہ [شاگردوں] کو اپنے ساتھ لیا اور اُن سے کہا، دیکھو، ہم اوپر یروشلیم کے لیے جا رہے ہیں، اور وہ تمام باتیں جو انبیاء کی معرفت ابِن آدم کے لیے لکھی گئیں وہ پوری ہو جائیں۔ کیونکہ اُس کو غیر یہودیوں کے حوالہ کر دیا جائے گا، اور وہ اُسے ٹھٹھوں میں اُڑائیں گے اور بے عزت کریں گے، اور اُس پر تھوکیں گے: اور وہ اُس کو کوڑوں سےماریں گے، اور قتل کر ڈالیں گے: اور تیسرے دِن وہ دوبارہ جی اُٹھے گا۔ اور اُنہیں اِن میں سے کوئی بھی بات سمجھ میں نہیں آئی: اور یہ باتیں جو کہیں گئیں اور اُن کا مطلب اُن سے پوشیدہ رہا‘‘ (لوقا18:31۔34؛ اِس کے علاوہ دیکھیں متی12:38۔42؛ 16:21۔23؛ 17:22۔23؛ 20:17۔19؛ مرقس10:32۔34)۔

اُس کے شاگردوں نے اُس بنیادی سچائی کو نہیں سمجھا تھا۔ ’’یہ باتیں جو کہیں گئیں اور اُن کا مطلب اُن سے پوشیدہ رہا۔‘‘ اُںہوں نے خوشخبری کو نہیں سمجھا تھا! یہاں پر ہم یسوع کو شاگردوں کے ساتھ آخری کھانا کھاتے ہوئے پاتے ہیں۔ انتہائی اگلے ہی دِن اُس کو مصلوب کیا جانا ہے۔ اِس کے باوجود اُس کے شاگرد خوشخبری کی سب سے زیادہ سادہ سچائیوں سے متعلق اندھے ہیں!

یسوع رات کے کھانے کے بعد اُن کے پاؤں دھو رہا ہے۔ پطرس اُس سے کہتا ہے، ’’تو میرے پاؤں ہرگز نہیں دھونے پائے گا۔‘‘ یسوع کہتا ہے، ’’اگر میں تجھے نہ دھوؤں تو تُو میرا شاگرد نہیں رہ سکتا۔’’ پطرس کہتا ہے، ’’خُداوند، صرف میرے پاؤں ہی نہیں ہاتھ اور سر بھی دھو دے‘‘ (یوحنا13:8، 9)۔ اُنہوں نےانکساری و عاجزی کی ضرورت کو نہیں سمجھا تھا (13:14۔17)۔ پھر یہوداہ دوسرے شاگروں میں سے باہر جاتا ہے اور یسوع کو دھوکہ دیتا ہے (13:30)۔ پھر پطرس کہتا ہے، ’’اے خُداوند، تو کہاں جا رہا ہے؟‘‘ (یوحنا13:36)۔ یسوع پطرس سے کہتا ہے وہ اُس کے ساتھ ابھی نہیں جا سکتا لیکن وہ بعد میں جائے گا (یوحنا13:36)۔ پطرس کو کوئی اندازہ نہیں تھا کہ یسوع آسمان میں واپس جانے کے بارے میں بات کر رہا تھا۔ لیکن پطرس بِنا سوچے سمجھے فوراً کہتا ہے، ’’میں تیری خاطر اپنی جان نثار کر دوں گا‘‘ (یوحنا13:37)۔ یسوع نے کہا، ’’اِس سے پہلے کہ مُرغ بانگ دے تو تین بار میرا انکار کر چکا ہوگا‘‘ (یوحنا13:38)۔ پھر یسوع نے کہا، ’’میں تمہارے لیے جگہ تیار کرنے وہاں جا رہا ہوں‘‘ (یوحنا14:2)۔ اُنہیں کوئی اندازہ نہیں تھا کہ وہ واپس آسمان میں جانے کے بارے میں بات کر رہا تھا۔ توما فوراً سوچے بغیر کہتا ہے، ’’اے خُداوند، ہمیں راستے کا کیا پتا، ہم تو یہ بھی نہیں جانتے کہ تو کہاں جا رہا ہے؟‘‘ (یوحنا14:5)۔ جیسا کہ میں نے کہا، یسوع کے شاگرد اِن انتہائی سادہ سی سچائیوں کے متعلق مکمل طور پر اندھے تھے۔ یوحنا 3:3 پر سیکوفیلڈ بائبل کی غور طلب بات اُن کے مکمل اندھے پن کے بارے میں وضاحت کرتی ہے،

خُدا کی بادشاہت کو ’’دیکھنے‘‘ یا اُس میں ’’داخل ہونے کے لیے‘‘ نئے جنم کی ضرورت فطرتِ انسان کی ذہنی قوت کی قلت میں سے پنپتی ہے۔ چاہے کتنا ہی نعمتوں والا، یا اخلاق والا یا نفیس انسان ہو، فطرتاً انسان روحانی سچائیوں سے مکمل طور پر اندھا ہوتا ہے اور بادشاہت میں داخل ہونے کے لیے بیکار ہوتا ہے؛ کیونکہ وہ نا ہی تو وہ سمجھ سکتا ہے نا فرمانبرداری کر سکتا ہے اور نا ہی خُداوند کو خوش کر سکتا ہے۔

میں اُس بیان کے ساتھ مکمل طور سے متفق ہوں۔ مسیح میں ایمان نہ لایا ہوا شخص ’’گناہوں اور قصوروں میں مُردہ‘‘ ہوتا ہے (افسیوں2:1)۔ جیسا کہ سیکوفیلڈ بائبل کی غور طلب بات نے کہا، ’’فطرتاً انسان روحانی سچائیوں سے مکمل طور پر اندھا ہوتا۔‘‘ اور ایسی ہی حالت یسوع کے مصلوب کیے جانے سے ایک رات پہلے اُس وقت شاگردوں کی بھی تھی۔ اُنہوں نے تین سالوں تک یسوع کی پیروی کی تھی مگر روحانی طور پر وہ ابھی بھی مُردہ لوگ ہی تھے! کیونکہ

’’جس میں خدا کا پاک رُوح نہیں وہ خدا کی باتیں قبول نہیں کرتا کیونکہ وہ اُس کے نزدیک بے وقوفی کی باتیں ہیں اور نہ ہی اُنہیں سمجھ سکتا ہے کیونکہ وہ صرف پاک رُوح کے ذریعہ سمجھی جا سکتی ہے‘‘ (1۔ کرنتھیوں 2:14).

جب تک یسوع مُردوں میں سے جی نہیں اُٹھا اور عیدِ پاشکا کے اِتوار کی رات اُن کے پاس نہیں آیا شاگرد ایک مسیح میں ایمان نہ لائی ہوئی حالت میں روحانی طور سے مُردہ ہی رہے تھے! کوئی کہتا ہے، ’’یہ بات کہاں کہی گئی ہے؟‘‘ ہم اِرتداد کے اِن دِنوں میں مسیح میں ایمان لا کر تبدیل ہونے کے بارے میں کس قدر اندھے ہو چکے ہیں! یہ بات چاروں اناجیل کے آخر میں کہی گئی تھی! (دیکھیں یوحنا20:19۔22؛ لوقا24:36۔45؛ وغیرہ)۔ یہ بات مجھے بھونچکا کر دیتی ہے کہ آخری ایام میں بے شمار مبلغین کو ایک ایسی سادہ سی بات نہیں معلوم! کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ وہ خوشخبری کے بارے میں اب مذید اور منادی نہیں کرتے! میں شاذونادر ہی کبھی ایسے مبلغین کو سُنتا ہوں جو اب خوشخبری کی منادی کرتے ہیں! ہم اُںہیں سُنا کرتے تھے۔ لیکن ہم اب اُنہیں نہیں سُنتے، کم از کم امریکہ میں تو نہیں! مجھے یوں دکھائی دیتا ہے کہ بے شمار مبلغین اتنے ہی اندھے ہیں جتنا کہ توما رسول تھا جس نے کہا، ’’جب تک میں کیلوں کے سوراخ اُس کے ہاتھوں میں دیکھ کر اپنی اُنگلی اُن میں نہ ڈال لوں اور اپنے ہاتھ سے اُس کی پسلی نہ چھو لوں تب تک یقین نہ کروں گا‘‘ (یوحنا20:25)۔ توما بالکل ویسا ہی ہو گیا تھا جیسے کے باقی سارے رہے تھے۔ وہ ایک بے اعتقادہ تھا، ایک غیرنجات یافتہ انسان، ایک گمراہ انسان۔ اور یہ یہی گمراہ انسان توما تھا جس نے یسوع سے پوچھا تھا، ’’اے خُداوند ہم نہیں جانتے [تو کہاں جا رہا ہے] اور ہم راہ کیسے جان سکتے ہیں؟‘‘ (یوحنا14:5)۔

یسوع توما اور باقی شاگردوں سے ناراض نہیں ہے۔ توما نے آسمان [جنت] کے بارے میں پوچھا تھا اور وہاں کیسے جایا جائے۔ یسوع نے اُسے یہ کہہ کر جواب دیا تھا،

’’راہ حق اور زندگی میں ہوں: میرے وسیلہ کے بغیر کوئی باپ کے پاس نہیں آتا‘‘ (یوحنا14:6)۔

اِس میں سے باقی میں رابرٹ میورے میخائین Robert Murray McCheyne (1813۔1843) سے اخذ کر رہا ہوں، جو سکاٹ لینڈ کے ایک عظیم مبلغ ہیں اور جنہوں نے صرف 29 برس کی عمر میں اپنے مرنے سے پہلے، اپنے گرجہ گھر میں خُدا کا بھیجا ہوا حیاتِ نو دیکھا تھا۔ رابرٹ میخائین نے کہا، ’’[یوحنا14:6] سے تعلق رکھتے ہوئے جو کہ انجیلی نجات کی ایک مکمل وضاحت کی حیثیت سے، آئیے اِس کے مختلف حصّوں کو دیکھیں۔‘‘

I۔ پہلی بات، مسیح خُدا کے پاس جانے کی راہ ہے۔

یسوع خود آسمان [بہشت] میں جانے کی راہ ہے۔ یہ آرٹیکل [’’دا the‘‘] ’’میں راہ ہوں I am the way‘‘ اِسم صفت ہے۔ ناصرف یسوع ہمیں خُدا کی راہ دکھاتا ہے – وہ ہی خُدا کی راہ ہے۔ اور کوئی دوسری راہ نہیں ہے! صرف یسوع ہی آپ کو خُدا کی جانب لے جا سکتا ہے!

جب میں بارہ برس کی عمر کا تھا تو ہماری ماں ہمیں ایریزونا کے شہر فینیکس سے کینیڈا کے شہر ٹورنٹو گاڑی میں لے کر گئیں۔ جب ہم شیکاگو کے علاقے میں پہنچے تو اُنہوں نے ایک پولیس والے سے کونسی شاہراہ پر جانا ہے اِس بارے میں پوچھا۔ اُس نے اُنہیں بتایا کہ یو ٹرن لے کر واپس جائیں۔ اُس نے کہا وہ راستہ ہے۔ ہم اُس راستے پر ایک گھنٹہ یا کچھ گاڑی چلاتے رہے، مگر میں نے سڑک کے کنارے کے ساتھ ساتھ چیزوں پر غور کرنا شروع کر دیا جو میں پہلے دیکھ چکا تھا۔ میں نے کہا، ’’امّی میرے خیال میں ہم واپس اُسی راستے پر جا رہے ہیں جس سے آئے تھے۔‘‘ اُنہوں نے شاہراہ کے کنارے سے گاڑی اُتار کر روک لی اور ایک ٹیکسی وہاں پر کھڑی ہوئی تھی۔ امّی نے کہا، ’’ہم شیکاگو کے مشرق کی جانب ٹورنٹو کے لیے جا رہے ہیں۔ کیا ہم دُرست سڑک پر ہیں؟‘‘ ٹیکسی ڈرائیور کے مُنہ کی ایک جانب سگریٹ لٹک رہی تھی۔ اُس نے کہا، محترمہ، آپ کو کسی نے اُلّو بنایا ہے! آپ کو اُس راستے پر جانا چاہیے!‘‘ اُس نے اُس جانب اشارہ کیا جہاں ہم پہلے ہی جا چکے تھے۔ لہٰذا ہم مُڑ کر گھومے اور واپس چل دیے، اُسی راستے پر جس سے ہم پہلی مرتبہ جا رہے تھے! پولیس والے نے ہمیں غلط سمت میں ڈال دیا تھا! ہم تمام غلط راستے پر جا رہے ہیں جب تک یسوع ہمارے پاس نہیں آتا۔ قدیم دُنیا میں کہا جاتا تھا، ’’تمام راستے روم کی جانب جاتے ہیں۔‘‘ آج کی دُنیا میں ہم کہہ سکتے ہیں، ’’تمام راستے جہنم کی جانب جاتے ہیں۔‘‘ تنہا یسوع ہی خُدا کی جانب ’’وہ راہ‘‘ ہے!

رابرٹ میخائین نے کہا، یسوع نے آدم کے بیچارے بیٹوں پر ترس کھایا جو خُدا کی جنت کے لیے راہ ڈھونڈنے کی بیکار جِدوجہد کر رہے ہیں اور اُس نے جنت کو چھوڑا اور آسمان میں باپ کی جانب جانے والی راہ کو کھولنے کے لیے نیچے آیا۔ اُس نے یہ کیسے کیا؟… وہ ہماری جگہ پر انسان بنا۔ اُس نے صلیب پر ہمارے گناہ اُٹھائے۔ اب بدترین قصوروار گنہگار اُس کے خون میں تر بدن کے ذریعے داخل ہو سکتا ہے اور خُدا کی جنت کو ڈھونڈ سکتا ہے اور ہمیشہ کی زندگی جی سکتا ہے۔ یسوع کے پاس جلد سے آئیں، شک مت کریں؛ کیونکہ یسوع کہتا ہے، ’میں ہی وہ راہ ہوں۔‘‘‘

یہ وہ ’’گنہگار کی دعا‘‘ پڑھنے سے نہیں ہوتا کہ آپ باپ کے پاس آ جاتے ہیں۔ یہ ایک بہتر زندگی بسر کرنے سے نہیں ہوتا۔ یہ چند ایک گناہ چھوڑ دینے سے نہیں ہوتا۔ یہ یہاں تک کہ یسوع کے بارے میں باتوں پر یقین کرنے کے وسیلے سے بھی نہیں ہوتا۔

رابرٹ میخائین نے کہا، ’’اور اب میرے دوستو، کیا باپ کے پاس آنے کی آپ کی راہ یہی ہے؟ مسیح کہتا ہے، ’راہ میں ہوں… میرے وسیلہ کے بغیر کوئی باپ کے پاس نہیں جا سکتا۔‘ تب، اگر آپ اپنے راستے سے آنے کی کوشش جاری رکھتے ہیں – چاہے وہ راہ مذھبی سُدھار کی خود اصلاح کی راہ یا اُمیدیں ہوں کہ خُدا سخت نہیں ہوگا – اگر آپ کو خبردار نہیں کیا جائے گا، تو آپ کو فیصلے کے روز معلوم ہوگا کہ آپ جہنم کی آگ میں گریں گے۔‘‘

آپ کو مسیح کے پاس آنے کے وسیلے سے باپ کے پاس آنا چاہیے۔ بچنے کے لیے اور کوئی دوسری راہ نہیں ہے، کیوں راہ صرف ایک ہی ہے ’’خُدا اور انسان کے درمیان ایک صُلح کرانے والا، یعنی مسیح یسوع جو انسان ہے‘‘ (1تیموتاؤس2:5)۔

II۔ دوسری بات، مسیح حق یعنی وہ سچائی ہے۔

’’یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ایک غیر تبدیل شُدہ انسان وہ سچائی جانتا ہے۔ کوئی شک نہیں کہ بے شمار سچائیاں ہوتی ہیں جو ایک غیر تبدیل شُدہ انسان جانتا ہے۔ اُس کو ریاضی کی سچائیاں شاید معلوم ہوں – وہ شاید بے شمار عام سچائیوں کو جانتا ہو؛ لیکن اِس کے باوجود یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ایک مسیح میں ایمان لا کر مذہب تبدیل نہ کیا ہوا انسان وہ سچائی جانتا ہے، کیونکہ مسیح ہی تو وہ سچائی ہے‘‘ – رابرٹ میورے میخائین نے کہا۔

میرے دو ماموں تھے جو دونوں ہی بہت زیادہ پڑھتے تھے۔ ماضی میں جنگ عظیم دوئم میں، ٹیلی ویژن کے آنے سے پہلے، بے شمار لوگ بہت زیادہ پڑھا کرتے تھے۔ اُس زمانے میں لوگوں کے لیے کتابیں پڑھنا انتہائی عام بات تھی۔ مگر یہ دونوں ماموں دوسروں کے مقابلے میں زیادہ پڑھا کرتے تھے، یہاں تک کہ اب کے مقابلے میں جب ماضی میں کتابیں پڑھنا زیادہ عام بات تھی۔

اُن میں سے ایک ماموں کا نام پورٹرPorter تھا – رابرٹ پورٹر عیلیٹ Robert Porter Elliott۔ لیکن ہر کوئی اُن کو اُن کے درمیانے نام پورٹر سے مخاطب کرتا تھا۔ ماموں پورٹر کے ہاتھوں میں ہر وقت ایک کتاب ہوتی تھی۔ وہ فوج میں رہ چکے تھے، لیکن اب وہ ایک میکنک تھے، جو سانتا مونیکا میں ایک بریک شاپ [گاڑیوں کی ورکشاپ] میں کام کرتے تھے۔ وہ ہمیشہ پڑھا کرتے تھے۔ دوپہر کے کھانے کے وقت، کام کے بعد، یہاں تک کہ جب وہ ٹیلی ویژن دیکھتے تھے، وہ ایک کتاب پڑھ رہے ہوتے تھے۔ وہ ٹی۔وی پر ایک نظر ڈالتے اور پھر نیچے کتاب پر جو وہ پڑھ رہے ہوتے تھے نظر ڈالتے۔ وہ قتل، پُراسرار، اگاتھا کرسٹی جیسی کتابیں پڑھا کرتے تھے۔ لیکن اُن کی پسندیدہ کتابیں سائنس اور سائنس فیکشن کے بارے میں ہوا کرتی تھیں۔ اُن کے پاس واقعی میں سائنس اور سائنس فیکش پر سینکڑوں کتابیں تھیں۔ وہ حقیقی سائنس کے بارے میں بہت کچھ جانتے تھے، اور حتٰی کہ سائنس فیکشن کے بارے میں زیادہ جانتے تھے۔ وہ ڈارون کے ارتقاء میں بہت زیادہ یقین رکھنے والے انسان تھے۔ وہ اِس موضوع پر گھنٹوں بات کر سکتے تھے۔

اِتوار کی ایک صبح اُن کو اپنے گرجہ گھر کی جانب آتا ہوا دیکھنا انتہائی حیرانی کی بات تھی۔ وہ کمرے کے سب سے پیچھے انتہائی خاموشی سے بیٹھ گئے اور مجھے منادی کرتا ہوا سُنتے رہے۔ بعد میں مَیں نے اُن کے آنے کا شکریہ ادا کیا۔ اُنہوں نے کہا کہ میرا واعظ انتہائی دلچسپ تھا۔ اُس کے بعد وہ ہر اِتوار کو آئے۔ آخر کار، کئی ہفتوں کے بعد، میں نے اُن سے مسیحی بننے کے بارے میں بات کی۔ اُنہوں نے نہایت احتیاط کے ساتھ میری بات سُنی، اور میں اُنہیں مسیح پر بھروسہ کرنے کے لیے اُن کی رہنمائی کر پایا تھا۔ میں مشکل سے اِس بات پر یقین کر پایا! وہ ہمیشہ سے ہی اِس قدر سرد فطین انسان رہے تھے کہ میں اُن سے ایک بچے کی حیثیت سے بات کرنے میں خوفزدہ تھا۔ وہ ہمفری بوگارٹ Humphrey Bogart جیسے کچھ لگتے تھے جنہوں نے موٹے شیشوں والی پڑھنے کی عینک پہنی تھی۔ لیکن مسیح میں ایمان لا کر تبدیل ہو چکنے کے بعد وہ مسکرائے اور ہمارے نوجوان لوگوں سے ایک مکمل طور سے مختلف ہستی کی مانند بات چیت کی۔ پھر اُنہوں نے مجھ سے مسیحی کتابیں مانگنا شروع کیں۔ میں نے اُنہیں اِرتقاء کے خلاف ایک کتاب دی، جو ایک موٹی، بڑی سی کتاب تھی۔ اُںہوں نے اُس کو شوق سے پڑھا۔ اگلے اِتوار اُنہوں نے مجھ سے اور کتابیں مانگیں۔ میں نے اُنہیں تقریبا چالیس یا پچاس کتابیں سے لاد دی۔ اُنہوں نے وہ ساری کی ساری پڑھیں، اور یہاں تک کہ اُن میں سے کچھ کو دو تین مرتبہ پڑھا۔ اُنہوں نے کبھی بھی کوئی دوسری قتل یا اسرار یا سائنس فیکشن کے کتاب دوبارہ نہیں پڑھی۔ میں نے اُنہیں بپتسمہ دیا اور وہ ہمارے گرجہ گھر ایک ایمان سے بھرپوری رُکن بنے۔ مسز سیلی کُک Mrs. Sally Cook کو ماموں پورٹر بہت اچھی طرح سے یاد ہیں۔ پھر وہ اچانک دِل کا دورہ پڑنے سے وفات پا گئے۔

رابرٹ پورٹر عیلیٹ کے ساتھ کیا رونما ہوا تھا؟ اُنہوں نے کیوں سائنس فیکشن اور اِرتقاء سے مُنہ موڑ لیا تھا؟ یہ سادہ سی بات تھی – اُنہوں نے خُداوند یسوع مسیح کو ڈھونڈ لیا تھا! اُنہیں مذید اور فیکشن کی ضرورت ہی نہیں رہی تھی۔ اُنہوں نے وہ سچائی ڈھونڈ لی تھی – یسوع، جس نے کہا، ’’راہ، حق اور زندگی میں ہوں۔‘‘ جب میں آسمان میں پہنچوں گا تو ماموں پورٹر اُن پہلے لوگوں میں سے ایک ہونگے جنہیں میں ڈھونڈوں گا! وہ یسوع کے وسیلے سے بچائے گئے تھے جو تمام سچائی کی کُنجی ہے!

دوسرے انکل میری امی کے بڑے بھائی لائیڈ وی۔ فلاور، جونیئر تھے۔ وہ دوسری جنگ عظیم میں ریاست ہائے متحدہ کی بحری فوج میں رہ چکے تھے۔ پورٹر ہی کی طرح، ماموں لائیڈ بہت زیادہ پڑھنے والے ایک انسان تھے۔ وہ خصوصی طور پر نہایت تخمینی اور باطنی قسم کے فلسفے metaphysics اور مشرقی مذھب پر کتابوں میں دلچسپی رکھتے تھے۔ اُن کے پاس وہ جہاں کہیں بھی جاتے اُس قسم کی ایک کتاب ہمیشہ ہوا کرتی تھی۔ وہ اَرضی مناظر بنانے والے ایک مالی تھے مگر اُن کے پاس ہمیشہ قدیم مصری علامتوں والی زبان یا اہراموں کے بارے میں ایک کتاب ہوا کرتی تھی یا اُن کے ساتھ مشرقی مذھب پر کوئی کتاب ہوا کرتی تھی۔ وہ میرے دوست تھے، اور میں گھنٹوں اُن کی قدیم اہراموں اور مشرقی مذھب کے بارے میں باتیں سُنا کرتا تھا۔ حالانکہ میں نے کوشش کی کہ وہ بائبل پڑھ لیں، اُنہوں نے کبھی بھی سرے سے کوئی دلچسپی ظاہر نہیں کی۔ وہ بھی اچانک دِل کا دورہ پڑنے سے وفات پا گئے تھے۔ مگر ماموں پورٹر کے برعکس، ماموں لائیڈ مسیح کے بغیر ہی مر گئے۔ وہ اکثر مجھے بتایا کرتے تھے کہ وہ سچائی کو ڈھونڈتے پھر رہے تھے۔ مگر وہ اِس کو کبھی بھی تلاش نہ کر پائے۔ وہ یسوع کو کبھی بھی تلاش نہ کر پائے، جو تمام سچائی کا اوتار ہے! افسوس کے ساتھ، جب میں آسمان میں پہنچوں گا تو میں ماموں لائیڈ کو نہیں ڈھونڈوں گا – کیونکہ میں جانتا ہوں وہ وہاں پر ہونگے یا نہیں، کیونکہ یسوع نے کہا، ’’میں راہ… ہوں… میرے وسیلہ کے بغیر کوئی باپ کے پاس نہیں جا سکتا‘‘ (یوحنا14:6)۔ ماموں لائیڈ جہنم میں ہیں۔

میرے ماموؤں میں سے کونسا والا آپ کی مانند ہے؟ کیا آپ پورٹر کی مانند ہیں، جنہوں نے یسوع میں سچائی کو پا لیا تھا؟ یا آپ لائیڈ کی مانند ہیں جنہوں نے کبھی بھی نجات دہندہ کو نہیں پایا؟

III۔ تیسری بات، مسیح وہ زندگی ہے۔

رابرٹ میخائین نے کہا، ’’دونوں کلام پاک اور تجربہ ایک جیسی گواہی دیتے ہیں کہ ہم فطری طور سے گناہوں اور قصوروں میں مُردہ ہیں… سچ، وہ جو گناہوں میں مُردہ ہوتے ہیں وہ نہیں جانتے کہ وہ مُردہ ہیں۔ اِس کے باوجود اگر پاک روح آپ کو آپ کی گناہ سے بھرپور مُردہ فطرت کی سزایابی میں لاتا ہے، تو آپ اِس کو جان جائیں گے… آیا آپ نے خُدا کے تمام احکامات کو برقرار رکھنے کی کبھی بھی کوشش کی تھی، آیا آپ نے کبھی بھی گناہ سے بھرپور باتوں کو نہ سوچنے کی کوشش کی تھی، آیا آپ نے اپنے دِل کو گناہ اور حرص و طمع سے دور رکھنے کی کبھی بھی کوشش کی تھی – اگر آپ کبھی بھی یہ کوشش کر چکے ہیں تو کیا آپ کو یہ ناممکن نہیں لگا؟ یہ جیسے مُردے کو زندہ کرنے کی کوشش کرنے کی مانند تھا! اوہ، کس قدر سادہ سی بات ہے کہ آپ مُردہ ہیں – آپ نے نئے سرے سے جنم نہیں لیا! آپ کو دوبارہ سے جنم لینا چاہیے۔ آپ کو مسیح کے ساتھ جُڑنا چاہیے، کیونکہ مسیح ہی وہ زندگی ہے۔‘‘

کیا آپ کی جان ایک مُرجھائی ہوئی شاخ کی مانند ہے – جو خشک، بے پھل کی اور مُردہ ہوتی ہے؟ یسوع کے پاس آئیں! اُس پر بھروسہ کریں۔ اُس کے خون کے وسیلہ سے دُھل کر پاک صاف ہوں۔ اُس کے مُردوں میں سے جی اُٹھنے کے وسیلہ سے زندہ کیے جائیں۔ تب آپ جان پائیں گے کہ مسیح میں آپ کی زندگی ہے! آپ پولوس رسول کے ساتھ کہنے کے قابل ہو جائیں، ’’جو زندگی میں اب گزار رہا ہوں وہ خُدا کے بیٹے پر ایمان لانے کی وجہ سے گزار رہا ہوں جس نے مجھ سے محبت کی اور میرے لیے جان دے دی‘‘ (گلِتیوں2:20 نئی کنگ جیمس بائبل NKJV)۔ یسوع نے کہا،

’’راہ حق اور زندگی میں ہوں: میرے وسیلہ کے بغیر کوئی باپ کے پاس نہیں آتا‘‘ (یوحنا14:6)۔

وہ یہ کیسے کہہ پایا ہوگا؟ کیونکہ یہ سچ ہے۔ صرف مسیح ہی خُدا کا اِکلوتا بیٹا ہے۔ واحد صرف وہ ہی ہے جو صلیب پر ہمارے گناہوں کا کفارہ ادا کرنے کے لیے مرا تھا۔ واحد صرف وہ ہی ہے جو مُردوں میں سے جسمانی طور پر جی اُٹھا تھا۔ اِسی لیے ’’[اُس کے] وسیلہ کے بغیر کوئی باپ کے پاس نہیں آتا۔‘‘ میں دعا مانگتا ہوں کہ آج کی صبح آپ یسوع پر بھروسہ کریں گے اور اُس کے قیمتی خون کے وسیلے سے تمام گناہ سے دُھل کر پاک صاف ہو جائیں گے!

’’رنج و الم کا انسان،‘‘ کیا ہی نام ہے
   خُدا کے بیٹے کے لیے جو آیا تھا
تباہ حال خستہ گنہگاروں کو بچانے کے لیے!
   ھیلیلویاہ! کیسا ایک نجات دہندہ!

بے عزتی اور بیہودہ مذاق کو برداشت کرتے ہوئے،
   میری جگہ پر سزا پا کر وہ کھڑا تھا؛
اپنے خون سے میری معافی کو مہر لگائی؛
   ھیلیلویاہ! کیسا نجات دہندہ ہے!
(’’ ھیلیلویاہ! کیسا ایک نجات دہندہ! Hallelujah, What a Saviour! ‘‘ شاعر فلپ پی۔ بِلس Philip P. Bliss، 1838۔1876)۔

ڈاکٹر چعین Dr. Chan، مہربانی سے دعا میں ہماری رہنمائی کریں۔

اگر اِس واعظ نے آپ کو برکت بخشی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز آپ سے سُننا چاہیں گے۔ جب آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں تو آپ اُنہیں ضرور بتائیں کہ آپ کس مُلک سے لکھ رہے ہیں ورنہ وہ آپ کی ای میل کو جواب نہیں دیں گے۔ اگر اِن واعظوں نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز کو ایک ای میل لکھیں اور اُنہیں بتائیں، لیکن ہمیشہ جس ملک سے آپ لکھ رہے ہیں اُس کا نام شامل کریں۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای میل ہے rlhymersjr@sbcglobal.net (click here) ۔ آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو کسی بھی زبان میں لکھ سکتے ہیں، لیکن اگر آپ انگریزی میں لکھ سکتے ہیں تو انگریزی میں لکھیں۔ اگر آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو بذریعہ خط لکھنا چاہتے ہیں تو اُن کا ایڈرس ہے P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015.۔ آپ اُنہیں اِس نمبر (818)352-0452 پر ٹیلی فون بھی کر سکتے ہیں۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہائیمرز کے واعظ www.sermonsfortheworld.com
یا پر پڑھ سکتے ہیں ۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

یہ مسودۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے تمام ویڈیو پیغامات حق اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے
جا سکتے ہیں۔

واعظ سے پہلے تلاوت مسٹر ایبل پرودھوم Mr. Abel Prudhomme نے کی تھی: یوحنا14:1۔6 .
واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بنجامن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith نے گایا تھا:
’’میرے تمام گناہ کے لیے For All My Sin‘‘
(شاعر نارمن کلیٹن Norman Clayton، 1943)۔

لُبِ لُباب

راہ، حق اور زندگی

THE WAY, THE TRUTH, AND THE LIFE

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

’’یسوع نے اُن سے کہا، راہ حق اور زندگی میں ہوں: میرے وسیلہ کے بغیر کوئی باپ کے پاس نہیں آتا‘‘ (یوحنا14:6)۔

(لوقا18:31۔34؛ یوحنا13:8، 9، 14۔17، 30، 36، 37، 38؛
یوحنا14:2، 5؛ افسیوں2:1؛ 1کرنتھیوں2:14؛
یوحنا20:19۔22؛ لوقا24:36۔45؛ یوحنا20:25؛ 14:5)

I.     پہلی بات، مسیح ہی خُدا کے لیے وہ راہ ہے، یوحنا14:6الف؛ 1 تیموتاؤس2:5 .

II.    دوسری بات، مسیح ہی وہ سچائی ہے، یوحنا14:6 ب.

III.   تیسری بات، مسیح ہی وہ زندگی ہے، یوحنا14:6 ج؛ گلیتیوں2:20 .