Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 215 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.co پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہمارے ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 36 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔

جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

وہ راہ جو اپنائی نہیں گئی

THE ROAD NOT TAKEN
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
خُداوند کے دِن کی شام، 11 اکتوبر، 2015
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord's Day Evening, October 11, 2015

’’پھر نتیجہ کیا نکلا؟ کیا ہم یہودی دُوسروں سے بہتر ہیں؟ ہر گز نہیں ۔ ہم تو پہلے ہی ثابت کر چُکے ہیں کہ یہودی اور غیر یہودی سب کے سب گناہ کے قابو میں ہیں۔ جیسا کہ پاک کلام میں لکھا ہے، کوئی راستباز نہیں، ایک بھی نہیں، کوئی سمجھدار نہیں، کوئی خدا کا طالب نہیں‘‘ (رومیوں 3:9۔11).

پولوس رسول کہتا ہے کہ ہم مسیحی دوسروں کے مقابلے میں کوئی بہتر نہیں ہیں، ’’جی نہیں، ہرگز نہیں [بالکل بھی نہیں!]: کیونکہ ہم تو پہلے ہی ثابت کر چکے ہیں کہ یہودی اور غیر یہودی سب کے سب گناہ کے قابو میں ہیں‘‘ (رومیوں3:9)۔ وہ بات جاری رکھتے ہوئے کہتا ہے،

’’کوئی راستباز نہیں، ایک بھی نہیں‘‘ (رومیوں 3:10).

’’کوئی سمجھدار نہیں، کوئی خدا کا طالب نہیں‘‘ (رومیوں 3:11 NIV).

’’نہ ہی اُن کی آنکھوں میں خدا کا خوف ہے‘‘ (رومیوں 3:18).

میں 1958 میں ایسٹر کی اِتوار کی صبح مذھبی خدمت میں گیا تھا۔ میں 17 برس کی عمر کا تھا۔ میں مذھبی خدمت میں اِس لیے نہیں گیا تھا کیونکہ میں راستباز تھا! میں راستباز نہیں تھا۔ میں ایک گنہگار تھا! میں نا ہی تو مذھبی خدمت میں اِس لیے گیا تھا کیونکہ میں خُدا کو ڈھونڈ رہا تھا! میں تو دراصل خُدا سے دور بھاگ رہا تھا! میں خود کو اچھا محسوس کرانے کی کوششیں کر رہا تھا! میں نرسری جماعت کے بچوں کی نظم میں اُس لڑکے کی مانند تھا،

چھوٹا جیک ہورنر
کونے میں بیٹھا تھا،
کرسمس کی پیسٹری کھا رہا تھا؛
اُس نے اپنا انگوٹھا اندر گُھسایا
اور ایک آلوچہ باہر نکال لیا،
اور کہا، ’’میں کتنا اچھا لڑکا ہوں!‘‘

یہ بات میری بخوبی تشریح کرتی ہے۔ میں نیک بننے کے ذریعے سے ایک مسیحی ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔ میں نے سوچا ایک مبلغ بننے سے میں نیک بن جاؤں گا – اور میں مسیحی ہو جاؤں گا۔ حقیقت یہ ہے – میں ایک قابلِ رحم گنہگار تھا جس کو انجیل کی بالکل بھی سمجھ نہیں آتی تھی۔ میری آنکھوں کے سامنے خُدا کا کوئی خوف نہیں تھا۔ میں نے سوچا کہ وہ دیکھ پائے گا میں کتنا ’’نیک‘‘ تھا اور بس اتنا ہی کافی تھا! میں خُدا سے کہوں گا، ’’دیکھا میں کتنا نیک لڑکا ہوں!‘‘ اور اِس کے باوجود میرا نہیں خیال میں کبھی بھی بچایا گیا تھا اگر میں نے منادی کرنے کے لیے خود کو حوالے نہ کیا ہوتا – اور پھر ناکام نہ ہوا ہوتا۔ یہ میری ناکامی کی دِلی چُھبن میں تھا کہ مسیح میرے پاس آیا۔ لیکن پھر بھی میں جانتا تھا کہ کہے جانے کی ضرورت تھی۔ اور اگر میں وہ نہیں کہتا، تو کوئی بھی نہیں، یا کم از کم وہ اِس کو بہتر طور سے نہیں کہہ پاتے۔

میں آج کی شام آپ سے کہہ سکتا ہوں کہ میں بالاآخر، تین سال بعد، خُدا کے محض فضل کے وسیلے سے، بچا لیا گیا تھا! اُس کے بعد بھی میں نے تبلیغ کرنی جاری رکھی، لیکن اب میں یوں کرتا تھا جیسے قرض خواہ ہوں۔ ’’ہائے فضل کی وجہ سے میں ازراہ مجبوری کتنا بڑا ہر روز ایک قرض خواہ ہوں!‘‘ تب میں نجات پانے کے لیے منادی نہیں کیا کرتا تھا، بلکہ خُدا کو اپنے بیٹے کے خون کے ذریعے سے مجھے بچانے کے لیے اپنی شکرگزاری دکھانے کے لیے منادی کیا کرتا تھا! اِس لیے میرے پاس فخر کرنے کے لیے کوئی بات نہیں تھی۔ میں صرف مسیح کے خون میں فخر کر سکتا تھا جس نے مجھے پاک صاف کیا اور مجھے بچایا۔

جب اگلی رات میں نے ٹیلی ویژن پر صدر ریگنPresident Reagan کے بیٹے کو دیکھا تو مجھے اقرار کرنا ہو گا کہ میرا اُس کی ناک مروڑنے جیسا دِل چاہا۔ حالانکہ، وہ احساس میری نئی طبعیت کی وجہ سے نہیں آیا تھا۔ بعد میں مجھے اُس بیچارے شخص پر بہت افسوس محسوس ہوا۔ وہ اِس قدر بوڑھا اور پُراسرار دکھائی دے رہا تھا، اِس قدر تلملایا ہوا اور ناراض دکھائی دیا۔ اُس میں وہ سب کچھ تھا! اُنہوں نے اُس کے لیے گھوڑے خریدے، اُس کو پرائیوٹ سکولوں میں بھیجا اور اُس کی ہر ایک بات کو بہترین پیش کیا۔ آخر کو، اُس کا باپ ریاست ہائے متحدہ کا صدر تھا! لیکن رون ریگنRon Reagan اپنے باپ سے نفرت کرتا تھا۔ وہ وہی ایک کام کیا جس کا اُس کو پتا تھا کہ اُس کے باپ کو کسی دوسری بات کے مقابلے میں سب سے زیادہ دُکھ ہوگا۔ وہ ایک دہریہ بن گیا۔ یہ بات کئی سالوں تک صدر ریگن کو پریشان کرتی رہی، اور رون یہ بات جانتا تھا۔ اُسے اپنے باپ کے دِل کو کچوکے لگانے میں خوشی ہوتی تھی۔ جب وہ اپنے باپ کی آنکھ میں اُنگلی چبھوتا تھا اور اپنے باپ کی ناک کو مروڑتا تھا تو اُس ایک ترچھی مسکراہٹ سے مسکراتا تھا۔ میں نے گذشتہ ہفتے، رون کو ٹیلی ویژن پر،ایک اشتہار میں دیکھا۔ اُس نے کہا،

میں رون ریگن ہوں، ایک بے شرم دہریہ، اور میں ہماری بے دین حکومت میں مذھبی ہدایات سے چونک جاتا ہوں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ میں آپ سے مذھب سے آزادی Freedom From Religion کی تنظیم کو سہارا دینے کے لیے پوچھ رہا ہوں، جو کہ دہریوں کی سب سے بڑی اور نہایت مؤثر انجمن ہے… جو کہ کلیسیا اور ریاست کو جُدا رکھنے کے لیے کام کر رہی ہے… [تیکھی مسکراہٹ] رون ریگن، دہریت ہمیشہ کے لیے، جو جہنم میں جلنے سے خوفزدہ نہیں ہوتی۔

اُس کا باپ دس سالوں سے زیادہ کا عرصہ ہوا مر چکا ہے – لیکن رون اب بھی اُس کی آنکھ میں اُنگلی چبھو رہا ہے – اپنے مُڑے ہوئے چہرے پر ایک ’’تیکھی‘‘ مسکراہٹ کے ساتھ ۔ اِس کے باوجود رون ریگن مجھے ایک نہایت خوش شخص کی مانند دکھائی نہیں دیا۔ اُس کا چہرہ پگھلتا ہوا دکھائی دیتا ہے جیسے اُوسکر وائلڈ Oscar Wilde کی ڈورئین گرے Dorian Grey کی مصوری یا ونسنٹ پرائس Vincent Price کے ساتھ ’’موم کے گھر House of Wax‘‘ میں ایک پگھلتے ہوئے سر کی مانند، جس کی طرح وہ اب مشابہہ ہونا شروع ہو چکا ہے۔ میں رون کے ساتھ ایک تاریک گھر میں تنہا رات گزارنا پسند نہیں کروں گا۔

آج رون ریگن کی مانند ہونا سہل ہے۔ اُس کی مانند بے شمار لوگ ہیں۔ در حقیقت وہ اکثریت ہوتے جا رہے ہیں۔ گذشتہ ہفتے جس لڑکے نے اُوریگون Oregon میں ایک کالج میں اُن لوگوں کو گولی سے قتل کر دیا تھا۔ اُس نے اُن میں سے ہر ایک سے اُس کا مذھب پوچھا تھا۔ اگر اُنہوں نے کہا وہ مسیحی ہیں تو اُس نے اُنہیں سر میں گولی مار دی۔ اگر اُنہوں نے کہا کہ وہ خُدا میں یقین نہیں رکھتے تو اُس نے اُنہیں جانے دیا۔ آج رون ریگن کی مانند بننا آسان سے آسان تر ہوتا جا رہا ہے کیونکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اُس کی مانند سوچتے ہیں۔ یہ ہے جس کو ماہرین عمرانیات ’’کئی علامتوں کے ایک ساتھ ظہور کا مقبول رُجحان bandwagon syndrome‘‘ کہتے ہیں۔ ہر کوئی اِس کو کر رہا ہے – آئیے اُس مقبول رُجحان کو اپنائیں۔ اِس ہی طرح سے سگریٹ نوشی مشہور ہوئی تھی۔ پہلی جنگ عظیم کے دوران مسلح قوتوں نے ہمارے سپاہیوں کو سگریٹ پیش کرنا شروع کیے تھے۔ دوسری جنگ عظیم کے اختتام تک تقریباً ہر کوئی سگریٹ پی رہا تھا۔ جب میں ہائی سکول میں تھا تو وہ سوچتے تھے تم عجیب ہو اگر تم سگریٹ نہیں پیتے۔ آج، جب میں نوجوان لوگوں کو بتاتا ہوں کہ میں نے تقریباً سات سالوں تک سگریٹ نوشی کی تو اُن کی آنکھیں کُھلی رہ جاتی ہیں، جیسا کہ وہ عجیب بات تھی۔ دراصل، یہ نہیں تھی۔ میں نے اُس مقبول رُجحان bandwagon کو اپنا لیا تھا۔ ہر کوئی تو سگریٹ پی رہا تھا، لہٰذا میں بھی ہجوم کے ساتھ ہی چل پڑا۔ میں نے ایک بپتسمہ یافتہ مبلغ بننے کے لیے سگریٹ نوشی بالاآخر چھوڑ دی تھی۔

بعد میں، جب میں کالج میں تھا، تو میرا بعن Ben نامی ایک انتہائی قریبی دوست تھا۔ ہم نے اکٹھے بے شمار کام کیے۔ یہاں تک کہ جب میں نے گولڈن گیٹ سیمنری سے گریجوایشن کی تو میں اپنی ماں کو بھی اوپر سان فرانسسکو میں لے آیا۔ ہم ایک دوسرے کو خط لکھا کرتے۔ ہم واقعی میں اچھے دوست تھے۔ لیکن اُس نے ایک نفسیات دان بننے کا فیصلہ کیا۔ جب وہ اپنی ڈگری کی راہ میں محنت کر رہا تھا تو وہ آہستہ آہستہ، تھوڑا تھوڑا کر کے مجھے پیچھے چھوڑتا چلا گیا۔ میں آزاد خیال سیمنری میں دوسروں کے ساتھ اُس مقبول رجحان bandwagon میں نہیں پڑا۔ لیکن بعنBen اُن دُنیاوی نفسیات دانوں کے ساتھ جن کے ساتھ وہ مطالعہ کیا کرتا تھا مقبول رُجحان میں پڑ گیا۔ آج میں تقریباً ویسا ہی ہوں جیسا 40 سال پہلے ہوا کرتا تھا، کیونکہ میں ہجوم کے ساتھ نہیں چل پڑا تھا۔ لیکن بعنBen دُنیاوی لوگوں کے ساتھ چل پڑا تھا۔ آج میں ایک بپتسمہ یافتہ مبلغ ہوں اور بعن Ben ایک دہریہ ہے۔ اُس نے جب چند سال پیشتر میں نے اُس کو فون کیا تو مجھ سے بات تک کرنا گوارا نہیں کیا۔ میں نے کبھی بھی اُس کے ساتھ بحث نہیں کی تھی، لیکن اُس کو بس مذید اور میری آواز سُننے کی خواہش نہیں۔ اِس بات نے مجھے رابرٹ فراسٹ Robert Frost کی چھوٹی سی نظم ’’وہ راہ جو اپنائی نہ گئی The Road Not Taken‘‘ کے بارے میں سوچنے پر مجبور کر دیا۔

دو سڑکیں ایک پیلے جنگل میں سے نکلتی تھیں،
اور افسوس میں دونوں پر سفر نہ کر پایا
اور میں کافی مدت تک ایک مسافر رہا
اور ایک سڑک پر جتنی دیر تک دیکھ پاتا دیکھتا
وہاں تک جہاں وہ جڑی بوٹیوں میں مُڑ جاتی تھی…

میں ایک آہ کے ساتھ یہ بات بتاتا ہوں
کہیں یوں ہی زمانے اور زمانے بیتے؛
دو سڑکیں ایک جنگل میں سے نکلتی تھیں، اور میں –
نے جس پر کم سفر ہوا تھا اُس کو اپنا لیا،
اور اِس نے سب کچھ پلٹ کر رکھ دیا۔

بعنBen مقبول رُجحان bandwagon پر چل پڑا اور آسان راہ پر چل نکلا۔ ڈاکٹر اے۔ ڈبلیو۔ ٹوزر Dr. A. W. Tozer نے کہا، ’’خود اپنے بارے میں سوچنے کے مقابلے میں عیاش عوام کے مزے کی پیروی کرنا آسان تر ہے‘‘ (خُدا انسان کو بتاتا ہے جو پرواہ کرتا ہے God Tells the Man Who Cares)۔ ’’میں نے کم سفر کیا ہوا راستہ اپنایا، اور اِس نے سب کچھ پلٹ کر رکھ دیا۔‘‘

یسوع نے کہا، ’’بے دینی کے بڑھ جانے کے باعث کئی لوگوں کی محبت ٹھنڈی پڑ جائے گی۔ لیکن جو کوئی آخر تک برداشت کرے گا نجات پائے گا‘‘ (متی24:12، 13)۔ وہ جو تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں کہتے ہیں کہ ہماری تہذیب اور طرز زندگی اختتام کو پہنچ رہی ہے۔ میرے خیال میں وہ صحیح ہیں۔ اور اِس طرح سے میں ایک تضادی بن گیا، ایک ایسا شخص جس کی ایک متضاد رائے ہوتی ہے، چیزوں کے بارے میں ایک مختلف نظریہ ہوتا ہے۔ آزاد خیال کہتے تھے میں ایک ڈھیٹ، ضدی، اڑیل، سرکش شخص تھا۔ لیکن میں نے خود کو کم مسافت والی راہ کو اپنائے ہوئے دیکھا تھا۔ اُنہوں نے مجھے کہا کہ میں سب کچھ کھو دوں گا اگر میں ’’مقبول رجحان‘‘ پر اُن کے ساتھ ساتھ نہ چلا۔ میں نے بائبل کا دفاع کیا، جب اُنہوں نے اِس کے خلاف باتیں کی۔ میں نے تنقید نگاروں کو جواب دیا جب تک کہ ایک پروفیسر نے کہا نہیں، ’’اگر تم نہ رُکے تو تم کبھی بھی مغربی بپتسمہ یافتہ کلیسیا کے پادری نہیں بن پاؤ گے۔‘‘ میں نے کہا، ’’میں ویسا بننا بھی نہیں چاہتا اگر اِس کی یہی قیمت چکانی ہے!‘‘ جب میں نے وہ کہا، اور اُس پر یقین کیا تومیں آزاد تھا – کسی کا بھی غلام نہ بننے کے لیے آزاد ماسوائے یسوع کے، کسی ادارے کا پابند نہیں، صرف خُدا کے کلام کا ایک اسیر جیسے لوتھرLuther تھا۔

اُںہوں نے کہا میں تباہ ہو جاؤں گا۔ لیکن وہ غلطی پر تھے۔ ایک سو ہزار لوگ ہر ہفتے میرے واعظ پڑھتے ہیں – انٹر نیٹ پر 32 زبانوں میں۔ اب جب کہ میں 74 برس کا ہو چکا ہوں اُنہوں نے کہنا شروع کر دیا ہے، ’’شاید آخر کو ہائیمرز صحیح ہی تھا۔‘‘ اور میرے مر جانے کے بعد وہ سب میرے بارے میں اچھا بولیں گے۔

میں نے ایک تضادی ہونے سے شروع نہیں کیا تھا۔ میں نے ایک مشنری ہونے سے شروع کیا تھا، ایک مبلغ، اِس کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔ لیکن وہ مجھے بتاتے رہے مجھے وہ باتیں کہنی تھیں جن پر میں یقین نہیں کرتا تھا اور جن باتوں پر میں یقین کرتا تھا وہ غلط تھیں۔ اُنہوں نے کہا، ’’تم اِس قدر اختیار کے ساتھ بات کرنے والے کون ہوتے ہو؟ تم ایک بکھرے ہوئے گھرانے سے آئے ہو! تمہارے والدین کی طلاق ہو چکی ہے۔ تمہاری پشت پناہی کرنے والا کوئی نہیں ہے! تمہارے پاس کوئی پیسہ نہیں ہے! صورت حال کے خلاف، کسی بہت بڑی شخصیت کی مانند، ایسے بولنے کا تمہارا کیا حق بنتا ہے؟ بیٹھ جاؤ اور چُپ رہو، رابرٹ ہائیمرز!‘‘

جب میں نیچے نہیں بیٹھا اور چُپ نہیں ہوا، اُنہوں نے میرے خلاف بُہتان لگائے اور میرے بارے میں جھوٹ بولے۔ میں نے تنہا محسوس کیا۔ میں نے محسوس کیا میں جاری نہیں رہ پاؤں گا۔ لیکن یسوع نے سرگوشی کی، ’’تم صحیح راہ پر ہو وہ راہ جس کو باقی لوگوں نے نہیں اپنایا، لیکن یہ ہی دُرست راہ ہے۔ ہمت مت ہارو۔ جاری رہو۔‘‘ تب میں سمجھا داؤد کا کیا مطلب تھا جب اُس نے کہا،

’’خداوند میری روشنی اور میری نجات ہے۔ مجھے کس کا ڈر ہے؟ خداوند میری زندگی کا قلعہ ہے۔ مجھے کس کی ہیبت ہے؟ جب بدکار مجھے کھا ڈالنے کے لیے مجھ پر چڑھ آئیں گے، جب میرے دشمن اور میرے مخالف مجھ پر حملہ کریں گے، تو وہ ٹھوکر کھا کر گر پڑیں گے۔ خواہ میرے ماں باپ مجھے ترک کردیں، تو بھی خداوند مجھے قبول فرمائے گا۔ اَے خداوند! مجھے اپنی راہ بتا، اور مجھ پر ظلم ڈھانے والوں کے سبب سے مجھے راہِ راست پر چلا۔ مجھے میرے مخالفوں کی مرضی پر نہ چھوڑ، کیونکہ جھوٹے گواہ اور تشدد بھڑکانے والے، میرے خلاف اُٹھے ہیں۔ مجھے اب بھی اِس بات کا یقین ہے کہ میں زندوں کی زمین پر خداوند کے احسان کو دیکھ لوں گا۔ خداوند کا انتظار کر، مضبوط ہو اور حوصلہ رکھ اور خداوند کی آس رکھ‘‘ (زبور 27:1۔2،10۔14).

یوں، زبور 27 میری زندگی کی کہانی بن گیا، میری ’’زندگی کا زبور۔‘‘

میں وہ نہیں بنا جو میں آج کی رات ہوں کیونکہ مجھ میں کوئی خوبی تھی۔ کوئی وقت تھا جب میری نظروں میں خُدا کا کوئی خوف نہیں تھا۔ کوئی وقت تھا جب میں خُدا کو تلاش نہیں کرتا تھا۔ کوئی وقت تھا جب مجھ میں راستبازی نہیں تھی، کوئی حقیقی ایمان نہیں تھا، کوئی اُمید نہیں تھی۔ کوئی وقت تھا جب میں اسرائیل کی دولتِ مشترکہ سے ایک اجنبی تھا، وعدہ کے عہدوں سے ایک اجنبی تھا، ’’کسی اُمید کے بغیر اور دُنیا میں خُدا کے بغیر‘‘ (افسیوں2:12)۔ لیکن یسوع میں مجھے خود کے پاس بُلایا۔ اُس نےمیری آنکھوں کو کھولا۔ اُس نے میرے زخموں میں تیل اور مے اُنڈیلی۔ اُس نے مجھے اوپر اُٹھایا، ’’کیونکہ [مجھے] ایمان کے وسیلہ سے فضل ہی سے نجات ملی اور یہ [میری] کوششوں کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ یہ خُدا کی بخشش تھی‘‘ (افسیوں2:8)۔

پھر واقعی میں بُرا دور آیا۔ میں اب تنہا تھا، گھر سے دور، آزاد خیال سیمنری میں۔ رات کو نہایت دیر ہو چکی تھی۔ میں ایک آغاز کے ساتھ جاگا تھا۔ ایک اندرونی آواز نے کہا، ’’اکلوتے میں قبول کیا۔‘‘ ’’کیا؟‘‘ میں نے کہا، ’’تم چہیتے میں قبول کیے جاتے ہو۔‘‘ اپنی آنکھیں ملتے ہوئے نیند کو بھگاتے ہوئے، میں نے اپنی کونکورڈینس concordance کو کھولا اور لفظ ’’قبول کیا accepted‘‘ کو تلاش کیا۔ وہ وہاں پر تھا، افسیوں1:6 میں، ’’اُس نے ہمیں اپنے چہیتے بیٹے کے وسیلہ سے مفت عنایت فرمایا۔‘‘ اجتماعی خواب گاہ میں خاموشی تھی۔ کوئی آواز نہیں تھی۔ میں رات میں باہر چل پڑا۔ سمندر کی جانب سے ہوا سرسراتی ہوئی آئی اور میری ہڈیوں تک میں سردی کی لہر دوڑ گئی۔ سرسراتی، سرسراتی، سرسراتی ہوا – ہوا میرے چہرے پر پڑی اور میرے بالوں میں سے گزری۔ اور ہوا میں خُدا نے مجھ سےکہا، ’’تم اِس رات کو کبھی بھی نہیں بھول پاؤ گے۔ اب سے کئی سالوں بعد تم اِس کو یاد رکھو گے، اور تم یاد رکھو گے میں نےتمہیں بتایا تھا کہ تمہارا اصل کام تب شروع ہوگا، جب تم بوڑھے ہو جاؤ گے۔ اپنے بستر پر واپس چلے جاؤ۔ اب تم میرے لیے بات کرو گے۔ تب تم خوف سے بھرپور نہیں ہوؤ گے۔ میں تمہارے ساتھ ہوؤں گا۔ اب بستر پر واپس چلے جاؤ۔‘‘ کیا وہ منادی کے لیے میری بُلاہٹ تھی؟ جی نہیں، یہ ایک بُلاہٹ کے مقابلے میں ایک پیشن گوئی زیادہ تھی۔ وہ واحد ’’بُلاہٹ‘‘ جو مجھے ہوئی تھی یہ جاننا تھا کہ اگر میں نے اِس کی بات نہیں کی تو یہ کہی نہیں جائے گی۔ اور اِس کے کہے جانے کی اشد ضرورت تھی – اور دوسرے اِس کو کہنے سے خوفزدہ تھے، لہٰذا اگر میں اِس کو نہیں کہتا تو کوئی بھی نہیں کہتا، یا کم از کم وہ اِس کو اچھے طور سے نہ کہتے۔ میں نے نبی کی مانند محسوس کیا جب اُس نے کہا،

’’اَے خداوند، … میں دِن بھر ہنسی کا باعث بنتا ہُوں، ہر کوئی میرا مذاق اُڑاتا ہے۔ جب کبھی میں بولتا ہُوں، میں زور سے پُکارتا ہُوں اور تشدد اور تباہی کا اعلان کرتا ہُوں کیونکہ خداوند کا کلام دِن بھر میرے لیے تذلیل اور ملامت کا باعث ہوتا ہے تب میں نے کہا، میں اُس کا ذکر نہ کروں گا نہ اُس کے نام سے پھر کبھی بولوں گا، تو اُس کا کلام میرے دل میں آگ کی طرح دہکتا ہے، گویا میری ہڈیوں میں آگ بند کی گئی ہو۔ جسے میں ضبط کرتے کرتے تھک گیا ہوں، اور مجھ سے رہا نہیں جاتا‘‘ (یرمیاہ 20:7۔9).

دوبارہ اور دوبارہ، گزرتے ہوئے سالوں کے دوران، میں سوچا کرتا، ’’اُس کے بارے میں بات نہ کروں (وہ جو کچھ بھی تھا)۔ اِس کو بھول جاؤ۔ دوسروں کو بات کرنے دو۔ تم نے بہت کام کر لیے۔‘‘ اور پھر خُداوند سرگوشی کرتا ہے، ’’وہ سب ٹھیک ہے۔ تمہیں اِس کو کرنے کی ضرورت نہیں – لیکن یاد رکھو، اگر تم اِس کو کہو گے نہیں تو کوئی بھی نہیں کہے گا، یا کم از کم وہ اِس کو اچھے طور سے نہیں کہیں گے۔‘‘ جیسا کہ ایک دورِ حاضرہ کا ترجمہ اِس کو لکھتا ہے،

’’لیکن اگر میں کہوں، میں اُس کا ذکر نہ کروں گا نہ اُس کے نام سے پھر کبھی بولوں گا، تو اُس کا کلام میرے دل میں آگ کی طرح دہکتا ہے، گویا میری ہڈیوں میں آگ بند کی گئی ہو۔ جسے میں ضبط کرتے کرتے تھک گیا۔ بِلاشُبہ مجھ سے رہا نہیں جاتا‘‘ یرمیاہ 20:9 NIV).

منادی کے لیے یہ میری بُلاہٹ ہے۔ کوئی بھی ٹمٹماتی روشنیاں نہیں تھیں، کوئی گرج نہیں تھی، کوئی جذبہ نہیں تھا – صرف یہ ہی تھا، ’’اگر تم اِس کو کہو گے نہیں تو کوئی بھی نہیں کہے گا، یا کم از کم وہ اِس کو اچھے طور سے نہیں کہیں گے۔‘‘ جب سے میں ایک نو بالغ تھا – وہ سادہ سی سوچ منادی کرنے کے لیے میری بُلاہٹ تھی – یہاں تک کہ میرے بچائے جانے سے بھی پہلے – یہاں تک کہ آج کی رات تک، جب اِس واعظ کی منادی کرنے کی میری کوئی خواہش نہیں تھی اور کوئی تصور نہیں تھا کہ کہاں سے شروع کروں۔ رون ریگن پر غصے کی ایک لپک کے ساتھ صرف شروع کیا اور صدر کی عزت کو دفاع کرنے کا خیال آیا – میں نے خُدا سے کہا، ’’میں اِس میں سے کیسے ایک واعظ بنا سکتا ہوں؟‘‘ اور خُدا نے سرگوشی کی، ’’صرف لکھنا شروع کر دے اور میں تجھے بتاتا جاؤں گا کیا کہنا ہے۔‘‘

جیسا کہ ہر دوسرے واعظ کے ساتھ ہوتا ہے، مجھے آپ سے التجا کرنی چاہیے کہ یسوع کی جانب مُڑیں۔ وہ وہاں ہے، زندہ اور ٹھیک ٹھاک، خُدا کے تخت کے ساتھ بیٹھا ہوا۔ یہ محض فرض کی وجہ سے نہیں ہے، بلکہ خوشی کے ساتھ ہے کہ میں آپ سے اُس کے پاس آنے کے لیے پوچھ رہا ہوں۔ اُس نے میرے گناہ معاف کیے ہیں – اور میں جانتا ہوں کہ وہ آپ کے بھی گناہ بخش دے گا۔ اُس نے آپ کی جگہ پر مصلوب ہونے کے لیے خود کو پیش کر دیا، آپ کی جان کو فیصلے اور جہنم کی قید سے رہائی دلانے کے لیے۔ اُس نے آپ کو تمام گناہ سے پاک صاف کرنے کے لیے اپنا خون اُنڈیل ڈالا، اور اپنی راستبازی میں آپ کو لبادہ بخشا۔

یسوع! وہ نام جو ہمارے خوفوں کو لُبھاتا ہے،
   جو ہمارے غموں کو ختم ہونے کا حکم دیتا ہے؛
جو گنہگاروں کے کانوں میں موسیقی ہے،
   جو زندگی، صحت اور سکون ہے۔

وہ تنسیخ شُدہ گناہ کی قوت کو توڑتا ہے،
   وہ قیدی کو آزادی دیتا ہے؛
اُس کا خون غلیظ ترین کو پاک صاف کر دیتا ہے؛
   اُس کا خون میرے لیے فائدہ مند ہے!
(’’اوہ ہزار زبانوں کے لیے O For a Thousand Tongues‘‘ شاعر چارلس ویزلی
      Charles Wesley، 1707۔1788)۔

ڈاکٹر چعین Dr. Chan، مہربانی سے دعا میں ہماری رہنمائی فرمائیں! آمین۔

اگر اِس واعظ نے آپ کو برکت بخشی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز آپ سے سُننا چاہیں گے۔ جب آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں تو آپ اُنہیں ضرور بتائیں کہ آپ کس مُلک سے لکھ رہے ہیں ورنہ وہ آپ کی ای میل کو جواب نہیں دیں گے۔ اگر اِن واعظوں نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز کو ایک ای میل لکھیں اور اُنہیں بتائیں، لیکن ہمیشہ جس ملک سے آپ لکھ رہے ہیں اُس کا نام شامل کریں۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای میل ہے rlhymersjr@sbcglobal.net (click here) ۔ آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو کسی بھی زبان میں لکھ سکتے ہیں، لیکن اگر آپ انگریزی میں لکھ سکتے ہیں تو انگریزی میں لکھیں۔ اگر آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو بذریعہ خط لکھنا چاہتے ہیں تو اُن کا ایڈرس ہے P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015.۔ آپ اُنہیں اِس نمبر (818)352-0452 پر ٹیلی فون بھی کر سکتے ہیں۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہائیمرز کے واعظ www.sermonsfortheworld.com
یا پر پڑھ سکتے ہیں ۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

یہ مسودۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے تمام ویڈیو پیغامات حق اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے
جا سکتے ہیں۔

واعظ سے پہلے تلاوت مسٹر ایبل پرودھوم Mr. Abel Prudhomme نے کی تھی: رومیوں3:9۔18 .
واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بنجامن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith نے گایا تھا:
’’یسوع مجھ سے بھی محبت کرتا ہے Jesus Loves Even Me‘‘
(شاعر فلپ پی۔ بلِس Philip P. Bliss، 1838۔1876)۔