Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 215 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.co پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہمارے ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 36 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔

جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

آگ پر منطق!

LOGIC ON FIRE!
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
خُداوند کے دِن کی صبح، 11 اکتوبر، 2015
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord's Day Morning, October 11, 2015

’’یہ وہ لوگ ہیں جو بڑی مصیبت میں سے نکل کر آئے ہیں اور اُنہوں نے اپنے جامے برّہ کے خون میں دھو کر سفید کیے ہیں‘‘ (مکاشفہ7:14)۔

ڈاکٹر ڈبلیو۔ اے۔ کرسویل Dr. W. A. Criswell ٹیکساس کے شہر ڈلاس کے پہلے بپٹسٹ گرجہ گھر کے عظیم اور بہت قوت بخش پادری صاحب تھے۔ اُنہوں نے وہاں پر تقریباً ساٹھ سالوں تک منادی کی تھی۔ اَسّی برس کی عمر میں مغربی بپٹسٹ کنونشن کے اِس سفید باریش بزرگ نے امریکہ اور مغرب کی تباہی کی پیشن گوئی کی تھی۔ اور ڈاکٹر کرسویل نے کہا،

ہم اخلاقی خودمختیاریوں کو چھوڑ چکے ہیں… حکومت اور سیاست دان قتل کو درگزر کرتے ہیں، جھوٹ اور چوری جواز کے قابل ہوتے ہیں… [ہمارے کالجوں میں] پروفیسرز جنسی تعلقات کی آزادی کو ذاتی آزادی کے اِظہار کی حیثیت سے درست قرار دیتے ہیں۔ واعظ گاہوں میں مذھبی خادم، اَن گنت تعداد میں خُدا کے کلام پر [حملوں کو] تدریسی آزادی کی حیثیت سے معاف کر دیتے ہیں؛ ہم ایسا خود اپنی [مغربی بپٹسٹ] سیمنریوں اور یونیورسٹیوں میں کرتے ہیں۔ غلاظت، تشدد اور بدکاری کو گانوں، ڈراموں، ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر قبول کیا جاتا ہے۔ یہ نسل اور آنے والی نسل مادہ پرستانہ لذتّیت اور لطف اندوزی کی تلاش میں غرق ہو جائیں گے… ساری کی ساری [مغربی] دُنیا 125,000 فی دِن کی شرع سے غیر مسیحی ہوتی جا رہی ہے (ڈبلیو۔ اے۔ کرسویل، پی ایچ۔ ڈی۔ W. A. Criswell, Ph.D.، بائبل کے عظیم عقائد، جلد8 Great Doctrines of the Bible, Volume 8، ژونڈروان پبلیشنگ ہاؤس Zondervan Publishing House، 1989، صفحات148، 147)۔

جب سے ڈاکٹر کرسویل نے وہ اُداس رپورٹ پیش کی مغربی بپتسمہ دینے والے لوگ مر رہے ہیں۔ اب ہر سال اُن کی تعداد کم ہوتی جا رہی ہے۔ گذشتہ سال ہی تنہا 200,000 مغربی بپتسمہ دینے والے لوگ اپنے گرجہ گھروں کو کبھی واپس نہ لوٹنے کے لیے چھوڑ کر جا چکے ہیں۔ ہر سال صرف اِس ہی مُلک میں 1,000 سے زیادہ مغربی بپٹسٹ گرجہ گھر اپنے دروازوں کو ہمیشہ کے لیے بند کر رہے ہیں۔ گذشتہ سال مغربی بپتسمہ دینے والوں کو دُنیا کے مشن کے میدانوں میں سے تقریباً 800 کے قریب غیر ملکی مشنریوں کو گھر بُلانا پڑا۔ مذھبی مشنوں میں چندے کی تعداد اِس حد تک گر چکی ہے کہ وہ اُنہیں اب مذید اور سہارا نہیں دے سکتی۔ اور ہمارے خودمختیار بپٹسٹ گرجہ گھر بھی کوئی اتنا خاص نہیں کر رہے ہیں۔ خدا کے اجتماع Assembly of God کے پادری صاحبان نے مجھے بتایا کہ اُن کا فرقہ مشکلوں سے ہی گزارا کر رہا ہے۔ اور یہاں تک کہ یہ بات باقی دوسرے تمام فرقوں میں اِس سے بدتر ہے۔ میرے ہاتھوں میں دو کتابیں ہیں جو کہانی بتاتی ہیں۔ ایک کہلاتی ہے، انجیلی بشارت کی وہ عظیم معاشی گِراوٹ: 6 باتیں جو امریکہ کے گرجہ گھروں کو نیست کر دیں گی The Great Evangelical Recession: 6 Factors That Will Crash the American Church (جان ایس۔ ڈِکرسن John S. Dickerson، بیکر بُکس، 2013)۔ دوسری کتاب کا عنوان ہے، آنے والے انجیلی بشارت کے بحران The Coming Evangelical Crisis (جان ایچ۔ آرمنگسٹرانگ John H. Armstrong، جنرل ایڈیٹر، موڈی پریس، 1996)۔ ہر کتاب جو میں نے پڑھی اور ہر آرٹیکل جو میں نے دیکھا، اُس حقیقت کی جانب نشاندہی کرتے ہیں کہ ہمارے انجیلی بشارت کے گرجہ گھر گہری مصیبت میں ہیں۔ گرجہ گھر میں پرورش پائے ہوئے نوجوان لوگ چھوڑ رہے ہیں اور گرجہ گھر دُنیا میں سے نوجوان لوگوں کے دِل جیتنے کے لیے قابل نہیں ہیں۔ جان ڈِکرسن نے کہا، ’’ہم نئے شاگرد بنانے میں ناکام ہو رہے ہیں۔ ہمارے موجودہ شاگرد اپنی طرزِ زندگی میں عام طور پر تخلیقی نہیں ہیں یا اپنی سوچ میں بدلاؤ نہیں رکھتے‘‘ (ibid.، صفحہ107, 108)۔ پھر وہ مسئلے کو دُرست کرنے کے لیے باتوں کی ایک تعداد کا مشورہ دینا شروع ہو گئے۔ میں اُن سب کو آزما چکا ہوں اور میں جانتا ہوں کہ وہ کام میں نہیں آتی۔ کیوں؟ کیونکہ وہ مسئلے کی جڑ تک نہیں پہنچتیں۔

مجھے ہی مثال کے طور پر لے لیں۔ ایک نوبالغ کی حیثیت سے میں ایک پکا ہوا پھل تھا، چُنے جانے کے لیے تیار۔ میں گرجہ گھرمیں ہونا چاہتا تھا۔ میں ایک منقسم گھرانے سے تھا۔ میں اپنے والدین کے ساتھ نہیں رہا تھا۔ میں واقعی میں گرجہ گھر کا حصہ بننا چاہتا تھا۔ لیکن کیلیفورنیا کے ہونٹینگٹن پارک کے سفید (Caucasian) گرجہ گھر والوں نے مجھے نہیں لیا! کیوں؟ وہاں پر بے شمار وجوہات تھیں – عبادات کو اوسط عمر کی ذہنی نیت کی تسکین پانے والی خواتین کے لیے مرتب کیا جاتا تھا نا کہ ایک گمشدہ نوبالغ کے لیے۔ گرجہ گھر میں لوگوں کو مجھ سے کوئی دلچسپی نہیں تھی، یہاں تک کہ پادری صاحب کو بھی کوئی زیادہ دلچسپی نہیں تھی۔ آخر کو، میں تو ایک نوبالغ تھا جس کے پاس کوئی پیسے نہیں تھے اور جس کا تعلق ایک بُرے گھر کے ماحول سے تھا۔ پھر، اِس کے علاوہ، وہاں تبلیغ تھی۔ جب میں وہاں پر تھا تو میرے تین پادری صاحب تھے۔ میں نے اُن کو سُننے کی بہت کوشش کی تھی لیکن میری زندگی کے لیے میں جو کچھ اُنہوں نے اپنے واعظوں میں کہا کوئی بھی بات یاد نہیں رکھ پایا! پہلے دو میں سے تو کوئی بھی بات نہیں۔ اور آخری والے میں سے کوئی خاص اہم بات نہیں۔ اُن کے واعظ صرف مجھ سے ہمکلام نہیں ہوتے تھے۔ وہ مجھے متاثر نہیں کرتے تھے۔ وہ مجھے للکارتے نہیں تھے۔ وہ مجھے میرے گناہ کے لیے سزایاب قرار نہیں دیتے تھے۔

یہاں ہی ہے جہاں پر ہمارے مسئلے کی جڑ پنہاں ہے – تبلیغ میں! جب تک ہماری تبلیغ تبدیل نہیں ہوتی کوئی امید بر نہیں آتی – کوئی بھی نہیں – ہمارے گرجہ گھروں کے لیے! میں نے حال ہی میں فروری 2014 کے بینر آف ٹرٹھ Banner of Truth میگزین میں جان جے۔ میورے John J. Murray کا لکھا ہوا ایک آرٹیکل پڑھا۔ اُنہوں نے ’’اُس حالت پر جس سے ہمیں نجات کی ضرورت ہے‘‘ سات نکات پیش کیے۔ میں اُن کی پیش کیے گئے تمام نکات سے متفق ہوں لیکن میں اُس ترتیب سے متفق نہیں ہوں جو اُنہوں نے اُن میں دی۔ اُنہوں نے ’’قوت سے بھرپور تبلیغ‘‘ کو ساتویں بات کی حیثیت سے پیش کیا جس کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ میں متفق نہیں ہوں۔ میرے خیال میں یہ پہلی بات ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ہمیں ’’قوت سے بھرپور تبلیغ کی قلت‘‘ سے نکلنے کی ضرورت ہے۔ اُنہوں نے کہا، ’’آج تبلیغ مشہور نہیں ہے۔‘‘ کیوں نہیں؟ کیونکہ یہ اُکتا دینے والی ہوتی ہے۔ یہ اتنی ہی سادہ سی بات ہے! اُنہوں نے کہا، ’’خُدا کے کلام کو سُننے کا قحط پڑا ہوا ہے۔‘‘ کیوں سُننے کا قحط پڑا ہوا ہے؟ کیونکہ تبلیغ اُکتا دینے والی ہوتی ہے۔ یہ اتنی ہی سادہ سی بات ہے۔ لیکن کیوں آج کل کی تبلیغ اُکتا دینے والی ہوتی ہے؟ اِس کی سات وجوہات ہیں۔

پہلی وجہ، زیادہ تر مبلغان کو کبھی بھی ’’تبلیغ کے لیے بُلایا‘‘ ہی نہیں گیا ہوتا۔ ہم تو یہاں تک کہ اب مذید اور کبھی بھی کہتے ہی نہیں کہ ’’یہ تبلیغ کے لیے بُلایا‘‘ گیا تھا۔ اور بے شمار مبلغین تو یہاں تک کہ مسیح میں ایمان لا کر تبدیل بھی نہیں ہوتے۔ اُن پر کوئی بوجھ، کوئی خوف، کوئی مسح، گمشدہ لوگوں کے لیے کوئی ہمدردی نہیں ہوتی۔ اُن میں سے زیادہ تر کو تو تدریس اور تبلیغ میں فرق بھی نہیں معلوم! ڈاکٹر ٹموتھی لِن Dr. Timothy Lin کئی سالوں تک میرے پادری صاحب رہے تھے۔ اُنہوں نے کہا کہ یہ رائے ایک سیمنری کے پروفیسر نے دی تھی، ڈاکٹر لِن نے کہا، ’’ایک سیمنری کے پروفیسر کی حیثیت سے، وہ یہاں تک کہ تدریس اور تبلیغ کے درمیان فرق نہیں بتا سکتا۔ کیا پھر اُس کے شاگرد تبلیغ کر پائیں گے؟ اِس بات کا جواب ایک واضح ’نہیں‘‘ ہے‘‘ (کلیسیا کی نشوونما کا راز The Secret of Church Growth، صفحہ 20)۔

جان میک آرتھر John MacArthur کو سُنیں۔ کیا وہ تبلیغ کر رہے ہیں؟ جان پائپر John Piper کو سُنیں۔ کیا وہ تبلیغ کر رہے ہیں؟ ڈیوڈ یرمیاہ David Jeremiah کو سُنیں یا پال چیپل Paul Chappell یا بِل ہائبلز Bill Hybels یا رِک وارِن Rick Warren یا چارلس سٹینلی Charles Stanley کو سُنیں۔ کیا وہ تبلیغ کر رہے ہیں؟ کیا وہ یہ بات بھی جانتے ہیں کہ تبلیغ ہے کیا؟ اُن میں سے کچھ اچھے لوگ ہیں۔ جی ہاں، وہ اچھے لوگ ہیں، لیکن میرا نہیں خیال کہ وہ جانتے ہوں کہ حقیقی تبلیغ کیا ہوتی ہے۔ ڈاکٹر مارٹن لائیڈ جونز Dr. Martyn Lloyd-Jones نے کہا، ’’تبلیغ کیا ہے؟ آگ پر منطق! تبلیغ وہ علم الہٰی ہے جو اُس آدمی کی وساطت سے آ رہا ہوتا ہے جس کو آگ لگی ہوتی ہے‘‘ (تبلیغ اور مبلغین Preaching and Preachers، صفحہ 97)۔ کیا وہ لوگ جن کا میں نے تزکرہ کیا اُن کو آگ لگی ہوئی ہے؟ کیا اُنہوں نے کبھی بھی ایک ایسے مبلغ کو سُنا بھی ہوگا جو دھکتا ہے؟ اُس قسم کا واحد شخص جو ریڈیو پر تھا ایک ایسا شخص ہے جو تقریباً 30 سال ہوئے وفات پا چکا ہے! جس کی تبلیغ آج کے اُولیور بی۔ گرین Oliver B. Greene کی مانند ہوتی ہے؟ جی ہاں، ’’تبلیغ وہ علم الہٰی ہے جو اُس آدمی کی وساطت سے آ رہا ہوتا ہے جس کو آگ لگی ہوتی ہے‘‘ – لوتھر Luther جیسا ایک شخص، وائٹ فیلڈ جیسا ایک شخص، حوول ھیرسHowell Harris جیسا ایک شخص، جیسے ڈانی ایل رولیند Daniel Rowland، جیسے ڈبلیو۔ پی۔ نیکھولسن W. P. Nicholson، جیسے ڈاکٹر جان سُنگ Dr. John Sung، جیسے سپرجیئن Spurgeon، جیسے میکائین McCheyne، جیسے جان سینِک John Cennick یا جان ناکس John Knox۔

اُسی بینر آف ٹرٹھ میگزین میں جان ناکس پر ایک آرٹیکل تھا (صفحات29، 30)۔ آرٹیکل نے کہا ناکس ’’قوت کے ساتھ‘‘ منادی کرتا ہے۔ ’’واعظ آسمان سے گرتی ہوئی بجلی کی سی قوت کے ساتھ ادا کیا گیا تھا۔‘‘ آرٹیکل کا اختتام یہ کہتے ہوئے ہوا، ’’اگر اِن دِنوں میں کلیسیا ایک دوسرا مذھبی سُدھار دیکھنا چاہتی ہے تو ایسے آتش فشاں مبلغین کی ایک نئی نسل ہونی چاہیے… جیسے پرانے دور کے ناکس تھے، اُنہیں خُدا کی تمام مشاورت کی بشارت دینی چاہیے [چاہے] وہ مشہور ہے یا نہیں، بغیر تُتلائے اور ہکلائے۔‘‘ سپرجیئن نے کہا، ’’جان ناکس کی خوشخبری میری خوشخبری ہے؛ وہ جو سکاٹ لینڈ میں سے گرجی اُسے انگلستان میں دوبارہ گرجنا چاہیے‘‘ (سوانح حیات، جلد اوّل Autobiography, Vol. 1، صفحہ162)۔

اِن لوگوں سے دور ہو جائیں ہمیں اپنے زنانہ لمس اور نرم و گداز الفاظ کے ساتھ خمار میں مبتلا کر دیتے ہیں! وہ ہمیں اُکتا ڈالتے ہیں! وہ ہمیں موت کی حد تک اُکتا ڈالتے ہیں! کوئی تعجب نہیں کہ ہمارے نوجوان لوگ اُنہیں سُننے سے نفرت کرتے ہیں! ’’تبلیغ وہ علم الہٰی ہے جو اُس آدمی کی وساطت سے آ رہا ہوتا ہے جس کو آگ لگی ہوتی ہے!‘‘ وہ کس سے خوفزدہ ہیں؟ ابھی سوچیں! اُنہیں کسی نہ کسی سے تو خوفزدہ ہونا چاہیے! وہ کون ہے؟ میں آپ کو بتایا ہوں کہ دورِ حاضرہ کے یہ مبلغین کس سے خوفزدہ ہیں۔ یہ اُن جسمانی لذت کی نیت رکھنے والی اوسط عمر کی خواتین سے خوفزدہ ہیں جو اُن کے گرجہ گھروں کو چلا رہی ہیں۔ وہ اُن کو کیسے چلا رہی ہیں؟ ’’اگر تم اِس طرح سے تبلیغ کرو گے تو ہم واپس نہیں آئیں گی!‘‘ میں جانتا ہوں یہ بات کیسے کارگر ثابت ہوتی ہے! اُنہوں نے اِس کی یہاں کوشش کی تھی! میں نے اُسی طرح سے ہی منادی جاری رکھی تھی جس طرح سے میں ہمیشہ کرتا ہوں – جب تک کہ میں نے اُنہیں شکست نہیں دے دی! جان ناکس بلڈی میری Bloody Mary سے خوفزدہ نہیں تھا – اور ہمیں بھی جسمانی نیت کی خواہش رکھنے والی آرگن بجانے والی خاتون سے یا سنڈے سکول کی سُپرینٹنڈنٹ جسمانی نیت کی خواہش رکھنے والی خاتون سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے! میرے خیال میں ہمیں اُن کی تبلیغ سُنانی چاہیے – اور تب ہی نوجوان لوگ گرجہ گھر میں آئیں گے! یہ بات اُکتا دینے والی نہیں ہوگی! یہ بات نوجوان لوگوں کی توجہ کو مرکوز کر دے گی! اور آخر میں ہمارے پاس نوجوان لوگوں کا ایک گروہ ہوگا جو خُدا کے لیے دھکتے ہوں – جیسے کہ ہمارے پاس یہاں اِتوار کی صبح ہوتے ہیں! خوفزدہ ہونا چھوڑ دیں اورجان ناکس کی مانند منادی کریں!

تبلیغ کرنا محض معلومات کو فراہم کرنا ہی نہیں ہوتا! آج کل کے نام نہاد کہلائے جانے والے ’’تفسیراتی واعظوں‘‘ سے دور ہٹیں۔ اُنہیں چھوڑ دیں! ڈاکٹر لائیڈ جونز صرف ایک یا دو آیات پر منادی کیا کرتے تھے جیسے کہ پیوریٹنز کرتے تھے۔ اُنہوں نے کہا، ’’واعظ گاہ میں مبلغ لوگوں کو محض علم اور معلومات فراہم کرنے کے لیے نہیں ہوتا ہے۔ وہ اُنہیں متاثر کرنے کے لیے ہوتا ہے، وہ اُن میں جذبہ کی شدت کو بڑھانے کے لیے ہوتا ہے، وہ اُن میں جان ڈالنے اور اُنہیں روح میں جلال بخشنے کے لیے باہر بھیجتا ہے‘‘ (دی پیوریٹنز The Puritans، صفحہ 316)۔

’’تبلیغ کرنا،‘‘ ’’ایک ڈاکٹر‘‘ نے کہا، ’’لوگوں کے ساتھ کچھ نہ کچھ کرنے کے مقصد کے لیے ہوتا ہے‘‘ (لائیڈ جونز Lloyd-Jones، تبلیغ اور مبلغین Preaching and Preachers، صفحہ 85)۔ تبلیغ کو لوگوں کے ساتھ کیا کرنا چاہیے؟ ٹھیک ہے، پہلی بات، اِس کو اُنہیں یا تو ناراض یا خوفزدہ کرنا چاہیے! ناراض کیوںکہ آپ اُنہیں بتا رہے ہوتے ہیں کہ اُن کے پاس غلیظ، باغی دِل ہوتے ہیں! ناراض کیونکہ آپ اُنہیں بتا رہے ہوتے ہیں کہ وہ اِس قدر زیادہ ہوشیار اور اِس قدر زیادہ خوددار نہیں ہیں جتنا کہ وہ سوچتے ہیں۔ کیا وہ بے اعتقادے ہیں کیونکہ وہ ہوشیار ہیں؟ اُن میں سے کوئی بھی اِس قدر ہوشیار نہیں ہوگا جتنا کہ ڈاکٹر چعینDr. Chan ہیں۔ اُن میں سے ایک بھی اِتنا ہوشیار نہیں ہوگا جتنا کہ ڈاکٹر کیگنDr. Cagan ہیں۔ اور اُن میں سے ایک بھی اتنا ہوشیار نہیں ہے جتنا کہ میں ہوں، خود اپنے طور طریقوں میں، اور میں یہ بات جانتا ہوں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ میں اُن سے خوفزدہ نہیں ہوں! گذشتہ ہفتے رون ریگنRon Reagan نے ٹیلی ویژن پر بات جاری رکھی تھی اور کہا، ’’میں رون ریگن ہوں۔ میں ساری زندگی ایک دہریہ رہا ہوں۔ اور میں جہنم میں جلنے سے خوفزدہ نہیں ہوں۔‘‘کیا وہ دو کوڑی کا، بیمار، بیلٹ ڈانسر واقعی میں سوچتا ہے کہ وہ اپنے باپ صدر ریگن President Reagan سے زیادہ ہوشیار ہے؟ وہ کبھی اپنے باپ کے لیے ایک موم بتی بھی نہیں جلائے گا۔ وہ اپنے مُردہ باپ کی آنکھ میں اپنی اُنگلی گُھسیڑ سکتا ہے، لیکن وہ کبھی بھی ایک مصنف، ایک عوامی سپیکر، آزاد دُنیا کا وہ رہنما، 20 ویں صدی کی دوسرے نصف میں عظیم ترین صدر نہیں بن پائے گا جو اُس کا باپ تھا! وہ کبھی بھی ایک پُراسرار بیلٹ ڈانسر سے زیادہ نہیں بن پائے گا (یہ ہی وہ تھا) – ایک پُرانا دقیانوسی بیلٹ ڈانسر جو صرف اپنے مُردہ باپ کے نام پر پیسے بنا سکتا ہے! جی نہیں، وہ بے اعتقادے اِس لیے نہیں ہیں کیونکہ وہ ہوشیار ہیں۔ وہ بے اعتقادے اِس لیے ہیں کیونکہ وہ اُس حقیقت کا سامنا نہیں کر پائیں گے کہ اُن کے پاس بے اعتقادی کا ایک بدکار دِل ہے، اُن کی خُدا کے خلاف جس نے اُنہیں تخلیق کیا ایک مُڑی تڑی بغاوت ہے! ایسا مت کہیں! آپ اُنہیں خوفزدہ کر دیں گے!‘‘ ٹھیک ہے، میں شاید ایک کو خوفزدہ کر کے بھگا دوں گا لیکن یہ بات دو کو خوفزدہ کر کے بُلا بھی لے گی – یوں ہم ایک اور فرد کے اضافے کے ساتھ کامیاب ہونگے! اگر میں اِس طرح سے منادی نہیں کروں گا تو کوئی بھی بچایا نہیں جائے گا۔ اپنی منادی میں مجھے آپ کو بتانا پڑے گا کہ آپ کا دِل گندہ، پُراسرار اور باغی ہے! جی ہاں، اور مجھے آپ کو بتانا پڑے گا کہ یسوع مسیح نے کہا آپ اپنے گناہوں کے لیے جہنم میں جائیں گے۔ رون ریگن جہنم سے اِس لیے خوفزدہ نہیں ہے کیونکہ اِس قدر مکمل احمق ہے کہ وہ سوچتا ہے کہ وہ خُداوند یسوع مسیح سے زیادہ ہوشیار ہے اور امریکہ کی ریاست ہائے متحدہ کے صدر سے بھی زیادہ ہوشیار ہے۔ آپ اُس کے جیسے احمق کی مدد نہیں کر سکتے۔ وہ ’’احمق اپنے دِل میں ٹھان چکا ہوتا ہے کہ کوئی خُدا ہے ہی نہیں‘‘ (زبور14:1)۔ وہ مذید اور بیلٹ ڈانسر ہونے کے لیے نہایت بوڑھا ہو چکا ہے۔ وہ صرف اپنے باپ کے ایمان کا مذاق اُڑانے کے ذریعے سے پیسے بنا سکتا ہے۔ کیسا گندگی کا ایک تھیلا! وہ ایک بوڑھی عورت کی مانند نظر آنا شروع ہو چکا ہے! جسمانی نیت کی خواہش رکھنے والا ایک گندگی کا تھیلا!

ایک جہنم ہے جو اُن لوگوں کا انتظار کر رہی ہے جن کے دِل خُدا کے خلاف بغاوت پر تیار ہیں! خُداوند یسوع مسیح نے کہا،

’’اِس کے ہاتھ پاؤں باندھ کر باہر اندھیرے میں ڈال دو، جہاں وہ روتا اور دانت پیستا رہے گا۔ کیونکہ بُلائے ہوئے تو بہت ہیں مگر چُنے ہوئے کم ہیں‘‘ (متی13، 14)۔

جی ہاں، ایک خوفناک جہنم ہے جو اُن کا انتظار کر رہی ہے خُداوند یسوع مسیح پر بھروسہ کرنے کے لیے بہت زیادہ باغی ہو چکے ہیں!

لیکن ’’[خُدا] نہیں چاہتا کہ کوئی شخص ہلاک ہو‘‘ (2پطرس3:9)۔ اور یہی وجہ ہے کہ اُس نے اپنا اکلوتا بیٹا گنہگاروں کی جگہ پر، ایک متبادل کی حیثیت سے، ہمارے گناہوں کی قیمت ادا کرنے کے لیے صلیب پر مرنے کے لیے بھیجا۔

اور یہ بات بالاآخر ہمیں ہماری تلاوت کی جانب لے جاتی ہے۔ یوحنا رسول کو جنت کی ایک بصیرت پیش کی گئی تھی۔ اور وہاں پر اُس نے ’’ایک بڑا ہجوم‘‘ دیکھا تھا، جس کو کوئی بھی شخص گِن نہیں سکتا، جہاں تمام قوموں، اور قبیلوں اور لوگوں اور زبانوں کے لوگ تھے [جو] تخت کے سامنے اور برّہ کے سامنے کھڑے تھے… یہ وہ لوگ ہیں جو ایک بہت بڑی مصیبت سے نکل کر آئے ہیں اور اُنہوں نے اپنے جامے برّہ کے خون میں دھو کر سفید کیے ہیں‘‘ (مکاشفہ7:9، 14)۔ وہ جو آسمان میں ہیں یسوع کے خون کے وسیلے سے دُھل کر پاک صاف کیے گئے ہیں کیونکہ اُس کے بیٹے یسوع مسیح کا خون ہمیں تمام گناہ سے پاک کرتا ہے‘‘ (1یوحنا1:7)۔ ڈاکٹر اینڈریو میورے Dr. Andrew Murray (1828۔1917) نے کہا،

میں پورے اعتماد کے ساتھ موت سے ملاقات کر سکتا ہوں – آسمان میں جانے کا میرا حق بنتا ہے… وہ کون ہیں جن کو خُدا کے تخت کے سامنے جگہ مل پائے گی؟ ’’اُنہوں نے برّہ کے خون میں اپنے جامے دھو کرسفید کیے ہوئے ہیں‘‘ … آسمان کی اُمید کے ساتھ خود کو دھوکہ مت دیں اگر آپ اُس قیمتی خون کے وسیلے سے پاک صاف نہیں کیے گئے ہیں۔ موت کے ساتھ ملاقات کرنے کی جرأت یہ جانے بغیر کہ یسوع خود اپنے خون کے وسیلے سے آپ کو پاک صاف کر چکا ہے مت کیجیے گا۔ (اینڈریو میورے، ڈی۔ڈی۔ Andrew Murray, D.D.، یسوع کی خون کی قوت The Power of the Blood of Jesus، سی ایل سی پبلیکیشنز CLC Publications، اشاعت 2003، صفحہ 221)۔

میں آج کی صبح یسوع پر بھروسہ کرنے کے لیے آپ کو للکارتا ہوں۔ جس لمحے آپ تنہا اُس [یسوع] میں اپنا بھروسہ رکھتے ہیں تو آپ اُس کے پاک خون کے وسیلے سے دُھل کر پاک صاف ہو جاتے ہیں! یہی ہے جب آپ ایک حقیقی انسان بنتے ہیں! یہی ہے جب آپ صلیب کے ایک سپاہی بنتے ہیں!

ہمارے گرجہ گھر میں حال میں مسیح میں ایمان لا کر تبدیل ہونے والے کچھ لوگوں کے الفاظ سُنیں۔ یہ حقیقی نوجوان لوگ ہیں جو یہاں اِس صبح موجود ہیں۔ ایک نوجوان خاتون نے یہ شہادت پیش کی،

’’کیا تم یسوع پر بھروسہ کرو گی؟‘‘ ڈاکٹر ہائیمرز نے مجھ سے پوچھا۔ ’’دوزانو ہو جاؤ اور اُس پر بھروسہ کرو۔‘‘ میں نے کیا۔ میں نے اُس [یسوع] پر بھروسہ کیا۔ میں نے خود کو یسوع کے حوالے کر دیا۔ یسوع مجھ سے محبت کرتا ہے! اُس کے بعد مذید اور سوالات نہیں تھے اور نہ ہی یقین دہانی کروانے کی مذید اور ضرورت… یسوع مجھ سے محبت کرتا ہے! اُس نے میرے لیے صلیب پر خون بہایا، میرے گناہ کا کفارہ ادا کرنے کے لیے اور مر گیا… حیرت انگیز محبت! میں خُداوند کا اُس کے پیارے بیٹے کی جانب کھینچنے کے لیے شکریہ ادا کرتی ہوں۔ میں یسوع سے محبت کرتی ہوں کیونکہ اُس نے پہلے مجھ سے محبت کی۔

یہاں پر کالج کی عمر کے لڑکے کی جانب سے ایک دوسری گواہی ہے،

آج کی صبح میں بچا لیا گیا تھا، ڈاکٹر ہائیمرز نے منادی کی تھی کہ کیسے شیطان اُن کو جو مسیح کے بغیر ہوتے ہیں اندھا کر دیتا ہے۔ اُنہوں نے جو شیطان کرتا ہے اُن طریقوں میں سے ایک کے بارے میں بتایا جو ایک گمشدہ یا گمراہ شخص کے ذہن کے اندر کام کرنے سے ہوتا ہے اور اُس کے یہ سوچنے پر مجبور کرنا ہوتا ہے کہ اُس کے پاس یقین دہانی کا احساس ضرور ہونا چاہیے تاکہ اُس کے پاس مشورہ دینے والے کو کہنے کے لیے کچھ نہ کچھ ہو۔ میں نے خود سے سوچا، ’’یہ میں ہوں! بالکل یہی ہے جو میں سوچتا رہا تھا‘‘ … میں چکر لگاتا رہا تھا اور کبھی بھی ایک مرتبہ بھی مسیح کی جانب نہیں دیکھا تھا۔ وہاں پر زندگی تھی، میرا انتظار کر رہی تھی، اور اِس کے باوجود میں نے اُس [یسوع کی] خاطر خود کو خطرے میں ڈالنے سے انکار کر دیا… میں کیسے اُس [یسوع] کو دوبارہ حقارت سے دھتکار پاؤں گا؟ میں کیسے اپنے گناہ پر قائم رہ پاؤں گا اور یسوع کی جانب نظر نہیں اُٹھاؤں گا؟ وہ جس نے میری جان سے محبت کی؟ ہائے، کس قدر شدت کے ساتھ مجھے اُس کی ضرورت تھی کہ مجھ سے گناہ کا بوجھ لے لے۔ کیسے میرے دِل کی تاریکی یسوع کی خالص خوبصورتی اور راستبازی کی متضاد تھی… میں نے شیطان کے جھوٹوں کو سُننے کے لیے انتظار نہیں کیا۔ میں جانتا تھا کہ مجھے یسوع کی وہیں پر اُس ہی وقت ضرورت تھی۔ مجھے انتظار نہیں کرنا چاہیے! انتظار کرنے کا مطلب تھا اسیری میں رہنا، شیطان کا غلام بنے رہنا۔ مجھے گناہ سے دُھل کر پاک صاف ہونے کے لیے یسوع کے پاس جانا ہی تھا۔ لہٰذا میں اُس [یسوع] کے پاس گیا! … خُدا کی ستائش ہو کہ اُس نے اپنے بیٹے یسوع کو بخشا، کہ مجھے خطرے سے بچائے اور اپنے خون کے ساتھ میرے گناہ کو معاف کروائے!

اور یہاں پر ایک اور ہے۔ یہ سب کے سب حقیقی لوگ ہیں۔ اُن میں سے ایک اِسی گرجہ گھر میں پلا بڑھا ہے۔ دوسرے دو کالج کی عمر کے نوجوان لوگ ہیں جو ہمارے گرجہ گھر میں انجیل کو سُننے کے لیے لائے گئے تھے۔ یہاں پر گواہی ایک نوجوان شخص کی جانب سے ہے جو ہمارے لائے جانے سے پہلے کبھی بھی گرجہ گھر میں نہیں آیا تھا۔ اُس نے کہا،

     جب سے میں نے ہائی سکول چھوڑا میں نے دُنیا کے بارے میں بہت ہی کم سوچا کہ یہ کیا بن جائے گی۔ میں نے اپنی زندگی کو بس گزارتے گزارتے گزار دیا۔ سکول سے گریجوایشن کرنا، ایک اچھا کیرئیر حاصل کرنا اور ایک خاندان کا آغاز کرنا۔ یہ میرا آئیڈیل [مثالی] مستقبل تھا لیکن یہ سب میرے لیے بے معنی تھا۔ اُس وقت، میرا کوئی مخصوص مذھبی اعتقاد نہیں تھا – صرف وہی باتیں تھی جن کے بارے میں مَیں نے سوچا تھا کہ وہ اچھے اخلاق کی تھیں۔ میرے لیے مختلف مذاھب بھی ایک دلچسپ موضوع ہوتا تھا۔ تاہم، اُس وقت یسوع میرے لیے محض ایک مذھبی شخصیت تھی۔ اُس کی مصلوبیت ایک کہانی میں محض الفاظ تھے۔
     انجیل سُننے کے بعد، میں نے تعجب کرنا شروع کیا کہ یسوع ہے کون۔ میری گناہ سے بھرپور فطرت میں، میں نے بائبل پڑھنے اور ہر شخص کا مشاہدہ کرنے کے ذریعے سے کہ کیسے نجات پائی جائےمطالعہ کرنے کی کوشش کی۔ ہر مرتبہ یسوع پر بھروسہ کرنے کے لیے میری کوشش ایک ناکامی تھی اور وہ اوقات جب میں نے سوچا میں نجات پا چکا تھا صرف میں ہی خود کو نجات دلانے کی کوششیں کر رہا تھا۔ ہر روز یسوع دور ہوتا ہوا دکھائی دے رہا تھا۔ جتنی دور تک میں نے پکڑنے کی کوشش کی اُتنا ہی اُس کے اور میرے درمیان فاصلہ زیادہ ہوتا گیا۔
      7 جون، 2015 کو، مجھے ڈاکٹر ہائیمرز اور ڈاکٹر کیگن کی جانب سے بتایا گیا کہ میں ابھی تک گمشدہ تھا گمراہی میں تھا۔ مجھے اِس سے پہلے بھی بے شمار مرتبہ بتایا جا چکا تھا کہ میں کس قدر گمراہ تھا لیکن اِس مرتبہ بات مختلف تھی۔ خُدا وہاں پر تھا۔ میرے گناہوں نے میرے دِل میں بھاری پن کرنا شروع کر دیا تھا جو کہ میں نے پہلے کبھی بھی محسوس نہیں کیا تھا، میں نے یسوع کو بار بار مسترد کرنے کی وجہ سے خود سے نفرت کی۔ میں نے خود کے لیے ساری اُمید کھو دی، لیکن اُس ہی لمحے میں، ایک معجزہ رونما ہوا۔ یسوع حقیقی تھا! جب میں آنسو بہا رہا تھا، دعا مانگ رہا تھا اور اُس کی محبت کے لیے اُس کا شکریہ ادا کر رہا تھا تو صرف اُس کی محبت بھری قربانی تھی جس کے بارے میں کچھ سوچ پایا۔ اُس نے خود کو اذیت سہنے کے لیے حوالے کر دیا اور میرے گناہوں کو دھونے کے لیے صلیب پر اپنا خون بہایا۔ یہ حیرت انگیز بات ہے کہ اُس نے ہم گنہگاروں پر کس قدر زیادہ محبت اُنڈیلی۔ یسوع کے سوا کوئی بھی دوسرا یہ نہیں کر پائے گا۔ اور اِس کے بدلے میں وہ اگر کچھ مانگتا ہے تو وہ محض اُس [یسوع] پر بھروسہ کرنا ہے۔ ہائے، یسوع کو جاننا کس قدر حیرت انگیز ہے۔ میں اب مذید اور تنہا نہیں ہوں، کیونکہ اب بات کرنے کے لیے میرے پاس وہ [یسوع] ہے۔ میں اب مذید اور آوارہ گردی نہیں کر رہا ہوں، کیونکہ وہ [یسوع] میری رہنمائی کر رہا ہے۔ وہ میرا دوست ہے، میرا خُدا اور میرا نجات دہندہ۔

اور اب، میرے دوست، کیا آپ یسوع پر بھروسہ کریں گے اور اُس کے خون کے وسیلے سے اپنے تمام گناہ سے پاک ہونا چاہیں گے؟ جب آپ نجات دہندہ پر بھروسہ کرتے ہیں تو آپ گانے کے قابل ہو جائیں گے،

یہ مجھے نجات دہندہ کی محبت کے بارے میں بتاتا ہے، جو مجھے آزاد کروانے کے لیے مرا؛
   یہ مجھے اُس کے قیمتی خون کے بارے میں بتاتا ہے، جو گنہگار کی کامل التجا ہے۔
ہائے، میں کس قدر یسوع سے محبت کرتا ہوں، ہائے، میں کس قدر یسوع سے محبت کرتا ہوں،
   ہائے، میں کس قدر یسوع سے محبت کرتا ہوں، کیونکہ اُس نے پہلے مجھ سے پیار کیا!
(’’ ہائے، میں کس قدر یسوع سے محبت کرتا ہوں، Oh, How I Love Jesus‘‘
      شاعر فریڈریک وائٹ فیلڈ، 1829۔1904)۔

ڈاکٹر چعین، مہربانی سے دعا میں ہماری رہنمائی فرمائیں۔ آمین۔

اگر اِس واعظ نے آپ کو برکت بخشی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز آپ سے سُننا چاہیں گے۔ جب آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں تو آپ اُنہیں ضرور بتائیں کہ آپ کس مُلک سے لکھ رہے ہیں ورنہ وہ آپ کی ای میل کو جواب نہیں دیں گے۔ اگر اِن واعظوں نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز کو ایک ای میل لکھیں اور اُنہیں بتائیں، لیکن ہمیشہ جس ملک سے آپ لکھ رہے ہیں اُس کا نام شامل کریں۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای میل ہے rlhymersjr@sbcglobal.net (click here) ۔ آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو کسی بھی زبان میں لکھ سکتے ہیں، لیکن اگر آپ انگریزی میں لکھ سکتے ہیں تو انگریزی میں لکھیں۔ اگر آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو بذریعہ خط لکھنا چاہتے ہیں تو اُن کا ایڈرس ہے P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015.۔ آپ اُنہیں اِس نمبر (818)352-0452 پر ٹیلی فون بھی کر سکتے ہیں۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہائیمرز کے واعظ www.sermonsfortheworld.com
یا پر پڑھ سکتے ہیں ۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

یہ مسودۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے تمام ویڈیو پیغامات حق اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے
جا سکتے ہیں۔

واعظ سے پہلے تلاوت مسٹر ایبل پرودھوم Mr. Abel Prudhomme نے کی تھی: مکاشفہ7:9۔17 .
واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بنجامن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith نے گایا تھا:
     ’’ ہائے، میں کس قدر یسوع سے محبت کرتا ہوں، Oh, How I Love Jesus‘‘ (شاعر فریڈریک وائٹ فیلڈ، 1829۔1904)۔