Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 215 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.co پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہمارے ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 36 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔

جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔


دُعّا ایک جنگ ہے

(حیاتِ نو پر واعظ نمبر17)
PRAYER IS THE BATTLE
(SERMON #17 ON REVIVAL)
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
خُداوند کے دِن کی شام، 1 مارچ، 2015
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Evening, March 1, 2015

’’آخری بات یہ ہے کہ تُم خداوند میں اور اُس کی قوت سے معمور ہو کر مضبوط بن جاؤ۔ خدا کے دیئے ہُوئے تمام ہتھیاروں سے لیس ہو جاؤ تاکہ تُم اِبلیس کے منصوبوں کا مقابلہ کر سکو‘‘ (افسیوں 6:‏10، 11).

میں گذشتہ سارا ہفتہ اِس واعظ کے ساتھ جدوجہد کرتا رہا۔ میں جانتا تھا کہ خُدا مجھ سے دعا پر منادی کروانا چاہتا تھا۔ لیکن میں نہیں جانتا تھا کہ اِس واعظ میں دعا کے کونسے پہلو، کونسی خصوصیت پر توجہ مرکوز کرنی تھی۔ آخر کار خُدا نے مجھ پر ظاہر کر دیا کہ مجھے اُسی موضوع پر واپس جانا چاہیے جس پر میں نے گذشتہ اِتوار کی رات کو بات کی تھی، باعنوان ’’دعا میں شیطان سے مقابلہ کرنا۔‘‘

ہم اکثر دعا ایک جنگ کی حیثیت کے طور جیسے موضوع پر منادی نہیں سُنتے۔ لیکن یہ ایک جنگ ہے۔ ڈاکٹر جے ورنن میگی Dr. J. Vernon McGee نے کہا،

ہم ایک روحانی جنگ میں ہیں۔ جنگ کے میدان میں شیطان اپنے غلاموں [اپنے آسیبوں] کی صف بندی عُہدوں کے لحاظ سے کر چکا ہے۔ کہا یہ جاتا ہے کہ ہم اُن کے خلاف کُشتی لڑتے ہیں۔ یہ بُرائی کی روحانی قوتوں کے ساتھ – بدی کی روحانی فوجوں کے ساتھ دوبدو مقابلے کے بارے میں بات کرتی ہے… یہ ہماری جنگ ہے (جے ورنن میگی، ٹی ایچ۔ ڈی۔ J. Vernon McGee, Th.D.، بائبل میں سے Thru the Bible، جلد پنجم، صفحہ279؛ افسیوں6:‏12 پر تبصرہ)۔

اِس جنگ کے بارے میں پولوس رسول کیا کہتا ہے؟ یہ سارا معاملہ آیات 18 اور 19 میں دکھائی دیتا ہے، جو کہتا ہے،

’’پاک روح کی ہدایت سے ہر وقت اور ہر طرح دعا اور منّت کرتے رہو اور اِس غرض سے جاگتے رہو اور سب مُقدسّوں کے لیے بلاناغہ دعا کرتے رہو۔ میرے لیے بھی دعا کرو تاکہ جب کبھی مجھے بولنے کا موقع ملے تو مجھے پیغام سُنانے کی توفیق ہو اور میں خُوشخبری کے بھید کو دلیری سے ظاہر کر سکوں‘‘ (افسیوں 6:‏18۔19).

لیونارڈ ریونحل Leonard Ravenhill نے کہا، ’’دعا وہ جنگ ہے۔‘‘ میرے خیال میں وہ اِس بارے میں صحیح تھے۔ ’’دعا وہ جنگ ہے۔‘‘

جب میں نوجوان تھا تو میں نے آیات13 سے 17 تک اُن آیات پر سنڈے سکول میں سبق سُنے تھے۔ وہ خُدا کے ہتھیاروں سے لیس ہونے کے بارے میں اسباق تھے۔ میں نے اُن اسباق میں بوریت والا پایا تھا۔ وہ کیوں اُکتا دینے والے تھے؟ کیونکہ اُن کے مرکز میں لڑائی کے بجائے ہتھیار تھے۔ میں نے توجہ سے سُنا ہوتا اگر اُنہوں نےشیطان اور اُس کے آسیبوں کے ساتھ ہماری لڑائی کے بارے میں بات کی ہوتی۔ میں عمل کرنے کے لیے اُٹھ کھڑا ہوا ہوتا اگر اُنہوں نے ’’روح کی تلوار، جو خُداوند کا کلام ہے‘‘ کے بارے میں بات کی ہوتی (افسیوں6:‏17)۔ بائبل میں سے آیات پر حق جتائیں، اور اُنہیں کسی تلوار کی مانند شیطان کے دِل میں اُتار دیں۔ کلام پاک کی آیات کو اپنائیں اور اُن کے ساتھ آسیبوں کو کاٹ ڈالیں – جب تک کہ یہ غلیظ روحیں ہار نہیں جاتیں۔

یہ نہیں ہے جو سیمنریاں نوجوان مبلغین کو بتا رہی ہیں۔ میں نے حال ہی میں ایک نام نہاد کہلائی جانے والی قدامت پسند سینمری کے سلسلہ بہ سلسلہ علمِ الہٰیات کے پروفیسر کی جانب سے انٹرنیٹ پر ایک آرٹیکل پڑھا۔ وہ بائبل پر پردے میں ایک وار تھا۔ پہلے اُںہوں نے کہا، ’’[بائبل کے] الفاظ الہٰامی ہیں۔‘‘ لیکن پھر وہ مُکر گئے اور اِس تصور پر تنقید کی کہ وہ الفاظ الہٰامی ہیں! اُنہوں نے اُس کو ’’اِملا والی تھیوری‘‘ اور ’’میکینکی تھیوری‘‘ کہا۔ کیا حماقت ہے! یا تو الفاظ الہٰام سے ہیں یا پھر ہیں ہی نہیں! زمانہ ساز ساؤتھرن بپٹسٹ اور پریسبائیٹیرئین سیمنریوں میں مَیں نے مکمل طور پر آزاد خیال پروفیسروں کو بائبل کے کلام کی الوہیت کا مذاق اُڑاتے ہوئے سُنا وہ اِس کو ’’میکینکی تھیوری‘‘ کہتے تھے۔ کیا اِس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ آزاد خیال اُس کی سیمنری میں داخل ہو رہی ہے؟ جی ہاں، غالباً یہ ہو رہی ہے۔ مبلغین کو جاننے کی ضرورت ہے کہ بائبل کا تمام کا تمام کلام ’’خُدا کے الہٰام سے دیا گیا‘‘ ہے (2تیموتاؤس3:‏16)۔ اور ہم سب کو جاننے کی ضرورت ہے کہ ’’روح کی تلوار… خُدا کا کلام ہے‘‘ (افسیوں6:‏17)۔ آپ خُدا کے کلام میں ایک وعدے پر ڈٹے رہیں، اور پھر شیطان کو اُس آیت کےساتھ ماریں، اور پھر اُس آیت کو آسیبوں کے دِل میں سے گزار دیں، اور وہ اپنے بل کھول دیں گے اور آپ سے دور بھاگ جائیں گے، جیسے شیطان یسوع کے پاس سے بھاگ گیا تھا جب اُس نے بیابان میں کلام پاک کا حوالہ دیا تھا۔

یہ ہے جو حیاتِ نو میں رونما ہوتا ہے۔ مغربی دُنیا میں آخری بہت بڑا علاقائی حیاتِ نو، سکاٹ لینڈ کے ساحل سے پرے، لوئیس کے جزیروں پر رونما ہوا تھا۔ خُداوند نے پاک روح کی قوت کو 1949 اور 1953 کے درمیان سیلاب کی طرح نازل کیا تھا۔ اِس کے بارے میں پڑھیں! لوگوں نے کیا دعا مانگی تھی؟ کیوں، اُنہوں نے دعا میں اشعیا44:‏3 پر حق جتایا تھا!

’’میں پیاسی زمین پر پانی اُنڈیلوں گا، اور خشک زمین پر ندیاں جاری کروں گا: میں اپنی رُوح تیری نسل پر، اور اپنی برکت تیری اولاد پر نازل کروں گا‘‘ (اشعیا 44:‏3).

میں یہ اپنی یاداشت میں سے پیش کر رہا ہوں۔ مبلغ، ڈُنکن کیمپبیل Duncan Campbell نے ایک گھر میں رات گئے کچھ مسیحیوں کو دعا مانگنے کے لیے اکٹھا کیا۔ آدھی رات کے قریب، اُس نے لوگوں میں سے ایک کو کہا، ’’میرے خیال میں تمہارے دعا مانگنے کا وقت ہو گیا ہے۔‘‘ وہ شخص کھڑا ہوا اور کہا، ’’خُداوندا، تو نے وعدہ کیا تھا ’پیاسی زمین پر پانی اُنڈیلوں گا، اور خُشک زمین پر ندیاں جاری کروں گا‘ – اور تم یہ کر نہیں رہے ہو! اوہ خُدایا، وہ کر جس کا تو نے وعدہ کیا تھا۔‘‘ ڈُنکن کیمپبیل نے کہا، ’’اُسی لمحے گھر ایک پتے کی مانند لرزنے لگا – زلزلے کی مانند۔‘‘ اُنہوں نے کہا، ہم باہر نکلے اور خُدا کی قدرت نازل ہو چکی تھی۔ لوگ بیٹھنے کے لیے کرسیوں کے ساتھ گرجہ گھر کے لیے جا رہے تھے۔ ہم نے گرجہ جانے کے لیے اپنا راستہ ناپا، اُس وقت مکمل آدھی رات ہو چکی تھی، اور گمراہ لوگ رو اور سسک رہے تھے، اور لوگ پوچھ رہے تھے، ’نجات پانے کے لیے مجھے کیا کرنا چاہیے؟‘‘‘ حیاتِ نو کی آگ نازل ہو چکی تھی! اب میں نے یاداشت سے اُس بات کو دہرایا، مگر یہ جو کچھ ڈُنکن کیمپبیل نے لکھا تھا اُس سے کافی ملتی جُلتی تھی۔

کیا ہم اشعیا44:‏3 جیسے آیت پر ڈٹے رہنے میں کامیاب رہ سکتے ہیں؟ کیا ہم اُس آیت کو شیطان کے چہرے پر مار سکتے ہیں؟ کیا ہم اِس کو ایک تلوار کی مانند آسیبوں کے پیٹ میں گھونپ سکتے ہیں؟ کیا ہم اُس جیسی ایک آیت خُدا کے پاس لا سکتے ہیں اور اُس سے اِس کا جواب مانگنے کے لیے اِلتجا کر سکتے ہیں؟ وہ حقیقی دعا ہے! وہ اُس قسم کی دعا ہے جس کا جواب خُدا دیتا ہے!

میں ڈاکٹر اے۔ ڈبلیو۔ ٹوزر Dr. A. W. Tozer سے پیار کرتا ہوں۔ میں نے حال ہی میں گذشتہ ہفتے اُن کی سوانح حیات پڑھی۔ وہ جی نہیں چُراتے تھے۔ وہ لفظوں کے ساتھ نہیں کھیلتے تھے۔ وہ بالکل وہی کہتے تھے جو سوچتے تھے۔ ڈاکٹر ٹوزر نے کہا،

’’ہم لاکھوں الفاظ اُمڈ دیتے ہیں اور کبھی بھی غور نہیں کرتے کہ ہماری دعاؤں کا جواب نہیں ملتا ہے۔‘‘ (’’آدھی رات کے بعد پیدا ہوا Born After Midnight،‘‘ صفحہ34)۔

دوبارہ، ڈاکٹر ٹوزر نے کہا،

کیا آپ نے غور کیا کس قدر زیادہ حیاتِ نو کے لیے دعائیں مانگیں جا چکی ہیں – اور کس قدر کم حیاتِ نو نتیجتاً آیا ہے؟… کیا غلط ہو چکا ہے؟ بس صرف یہی: نا ہی تو رہنماؤں نے اور نہ ہی لوگوں نے خُدا کے کلام کی فرمانبرداری کرنے کے لیے کوئی کوشش کی ہے… دعا کبھی بھی فرمانبرداری کے لیے قابلِ قبول متبادل نہیں ہوتی‘‘ (اے۔ ڈبلیو۔ ٹوزر، ڈی۔ ڈی۔ A. W. Tozer, D.D.، ’’دعا فرمانبرداری کا متبادل نہیں ہوتی Prayer No Substitute for Obedience‘‘)۔

اب ہماری تلاوت پر دوبارہ نظر ڈالیں۔ یہ کس سے مخاطب ہے؟

’’آخری بات، میرے بھائیوں یہ ہے کہ تُم خداوند میں اور اُس کی قوت سے معمور ہو کر مضبوط بن جاؤ‘‘ (افسیوں 6:‏10).

روحانی جنگ پر، افسیوں کا یہ حصہ کلیسیا میں لوگوں سے مخاطب ہے، ’’میرے بھائیوں۔‘‘ یونانی ٹیسٹُس رِیسیپٹُس Textus Receptus Greek ہمیں بتاتا ہے یہ حوالہ کلیسیا میں لوگوں کے لیے ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ میں یقین کرتا ہوں یہ حوالہ بنیادی طور پر گرجہ گھر میں دعاؤں کے لیے نشاندہی کرتا ہے، اُن میں جس کو ہم ’’دعائیہ اِجلاس‘‘ کہتے ہیں۔ یہ صرف دعائیہ اِجلاس تک ہی مخصوص نہیں ہے، مگر یہ ہی اِس کا بنیادی مطلب ہے۔ ہم 1 کرنتھیوں14:‏34 میں پڑھتے ہیں، ’’عورتیں کلیسیا کے اِجلاس میں خاموش رہیں: اُنہیں بولنے کی اِجازت نہیں۔‘‘ دوبارہ، 1 تیموتاؤس2:‏11 میں ہمیں بتایا جاتا ہے، ’’عورت کو چاہیے کہ وہ چُپ چاپ پوری فرمانبرداری کے ساتھ تعلیم پائے۔‘‘ ڈاکٹر جان آر۔ رائس Dr. John R. Rice نے اُس کے بارے میں اپنے کتابچے میں ’’Bobbed Hair, Bossy Wives and Women Preachers‘‘ لکھا (Sword of the Lord Publishers, 1941)۔

اب اِس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ عورتیں دعائیہ اِجلاس میں خاموشی سے دعا نہیں مانگ سکتیں۔ وہ آدمیوں کی دعاؤں کی پیروی کر سکتی ہیں اور ’’آمین‘‘ کہہ سکتی ہیں، یوں دعا کو خود اپنا بنا سکتی ہیں۔ میں جانتا ہوں یہ بات کچھ عورتوں کی بغاوت کرنے کا سبب بن جائے گی۔ یہاں تک کہ اگر وہ سچی مسیحی بھی ہوں، ’’زنانہ‘‘ تحریکوں سے بے شمار دُنیاوی خیالات اب بھی اُن کے ذہنوں میں ہیں۔ اور بے شمار پادری صاحبان اُن کو دُرست کرنے سے خوفزدہ ہوتے ہیں۔ صورتحال افسوسناک ہے۔ یہ وجوہات میں سے ایک ہے جو میں سوچتا ہوں کہ امریکہ کے گرجہ گھر دوبارہ حیاتِ نو کا تجربہ کریں گے، کم از کم میری زندگی میں تو نہیں۔

لیکن افسیوں چھ باب میں یہ حوالہ خصوصی طور پر کلیسیا میں آدمیوں سے بات کر رہا ہے، شیطان کی آسیبی قوتوں کے خلاف دعا میں جماعت کی رہنمائی کرنا۔ یہ ایک وجہ ہے جو میں سوچتا ہوں کہ سنڈے سکول میں چھوٹے چھوٹے لڑکوں اور لڑکیوں کو ’’مسیحی زرہ بکتر‘‘ کے بارے میں تعلیم دینا احمقانہ بات ہے! یہ آدمیوں کی جنگ ہے۔ آدمیوں کو کھڑا ہونا چاہیے اور کلیسیا کی دعا میں جنگ کی رہنمائی کرنی چاہیے! آدمیوں کو دعا میں رہنمائی کرنی چاہیے، اور عورتوں اور بچوں کو اپنے ’’آمینوں‘‘ کے ساتھ دشمن کے خلاف جنگ میں اُن کی پیروی کرنی چاہیے۔ اگر آپ ایک دعائیہ اِجلاس میں بیٹھتے ہیں اور دعا کے ہر حصے کے بعد ’’آمین‘‘ نہیں کہتے، تو آپ خُدا کی فوج کا حصہ نہیں ہیں۔ آپ کو گھر ہی پر رہنا چاہیے اگر آپ اُن آدمیوں کی دعاؤں کے لیے ’’آمین‘‘ نہیں کہتیں جو دعا میں رہنمائی کر رہے ہیں۔ کیوں آتی ہیں؟ – اگر آپ اپنے ’’آمینوں‘‘ کے ساتھ اُن کی تائید نہیں کرتیں۔

میں آپ سے معافی چاہتا ہوں اگر اِس سے آپ کو تکلیف ہوتی ہے – میں یقین کرتا ہوں کہ آدمی اور نوجوان لوگ ہمارے گرجہ گھروں سے گاڑیوں میں نکلتے ہیں، جو عورتوں کا سنڈے سکول کا انچارج بننے کا ایک بالواسطہ نتیجہ ہے، اور اُنہیں دعائیہ اِجلاسوں میں رہنمائی کرنے کا بالواسطہ نتیجہ ہے۔

اگر آپ اِس کے بارے میں ایک کتاب پڑھنا چاہتے ہوں، تو میں ڈیوڈ میورو David Murrow، تھامس نیلسن، 2005 کی کیوں آدمی گرجہ گھر جانے سے نفرت کرتے ہیں Why Men Hate Going to Church کتاب پڑھنے کے لیے مشورہ دوں گا۔ تیسرا باب اِس حقیقت سے نمٹ رہا ہے کہ نوجوان بالغوں کے ساتھ ساتھ آدمی بھی اُن گرجہ گھر میں شامل نہیں ہوتے جہاں عورتیں رہنمائی کرتی ہیں۔ یہاں تک کہ اگر پادری صاحب مضبوط اور مردانہ وجاہت کے ہوں، وہ اکثر اپنا اختیار سنڈے سکول کی ایک خاتون سپرینٹنڈنٹ کو یا ایک خاتون مُناد کو دے دیتے ہیں! کوئی تعجب نہیں نوجوان لوگ اور زیادہ تر آدمی گرجہ گھر جانے سے نفرت کرتے ہیں! عورتیں زیادہ تر آدمیوں کی یا زیادہ تر نوجوان لوگوں کی جو اپنی بلوغت کے آخیر میں یا بیس کی ابتدائی عمر والے حصے میں ہوتے ہیں رہنمائی نہیں کر سکتیں۔ صرف آدمی اُن کی رہنمائی کر سکتے ہیں۔ جی نہیں، میں دوبارہ کہتا ہوں، کلیسیا میں مضبوط آدمیوں کو ہی دعائیہ اِجلاسوں میں رہنمائی کرنی چاہیے۔

اُٹھو کھڑے ہو جاؤ، اے خُدا کے لوگو! فضول باتوں سے پیچھا چُھڑا لو؛
دِل اور جان اور ذہن اور قوت پیش کرو بادشاہوں کے بادشاہ کی خدمت کرنے کے لیے۔

اُٹھو کھڑے ہو جاؤ، اے خُدا کے لوگو! کلیسیا تمہارے لیے انتظار کرتی ہے،
اُس کی قوت اُس کے کام کے برابر نہیں؛ اُٹھو کھڑے ہو جاؤ، اور اُس کو عظیم کر دو!
(’’اُٹھو کھڑے ہو جاؤ، اے خُدا کے لوگو!Rise Up, O Men of God!‘‘ شاعر ولیم پی۔ میرل William P. Merrill، 1867۔1954)۔

پھر ہمیں بتایا جاتا ہے،

’’خدا کے دیئے ہُوئے تمام ہتھیاروں سے لیس ہو جاؤ تاکہ تُم اِبلیس کے منصوبوں کا مقابلہ کر سکو‘‘ (افسیوں 6:‏11).

یہاں ہمیں شیطان کی ’’جعل سازیوں‘‘ یا ’’سکیموں‘‘ کے ’’خلاف مقابلہ کرنے‘‘ کے لیے بتایا گیا ہے۔ وہ لفظ ’’مقابلہstand‘‘ آیات 11، 13 اور 14 میں تین مرتبہ دھرایا گیا۔ یہ ہمیں بتاتا ہے کہ مسیح کے نام میں جنگ میں دشمن کے خلاف کھڑے ہونے والے ایک سپاہی کی مانند شیطان کی سکیموں کے خلاف مقابلہ کرنے کے لیے کھڑے ہو جائیں! دوبارہ، میں ریونحل Ravenhill کے الفاظ دہراؤں گا، ’’دعا وہ جنگ ہے۔‘‘

’’پاک روح کی ہدایت سے ہر وقت اور ہر طرح دعا اور منّت کرتے رہو اور اِس غرض سے جاگتے رہو اور سب مُقدسّوں کے لیے بلاناغہ دعا کرتے رہو۔ میرے لیے بھی دعا کرو تاکہ جب کبھی مجھے بولنے کا موقع ملے تو مجھے پیغام سُنانے کی توفیق ہو اور میں خُوشخبری کے بھید کو دلیری سے ظاہر کر سکوں‘‘ (افسیوں 6:‏18۔19).

میرے دیرینہ پادری صاحب، ڈاکٹر ٹموتھی لِن Dr. Timothy Lin نے دعائیہ اِجلاسوں کے بارے میں یہ کہا،

لوگ اکثر کہتے ہیں کہ اِس سے کوئی فرق نہیں پڑنا چاہے آپ اکیلے دعا مانگیں یا ایک گروپ کے ساتھ دعا مانگیں، یہ ہی اِس سے کوئی فرق پڑتا ہے کہ چاہے گھر پر تنہا دعا مانگیں یا گرجہ گھر میں بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ اکٹھے ہو کر دعا مانگیں۔ اِس قسم کا بیان ایک سُست ہستی کو محض خود کو تسکین دینے کا مؤجب ہوتا ہے یا دعا کی قوت سے لاعلم ایک شخص کی بظاہر معقول وضاحت ہوتی ہے! دیکھیے ہمارا خُداوند دعا کے اِس پہلو کے بارے میں کیا کہتا ہے:

’’میں تُم سے پھر کہتا ہُوں کہ اگر تُم میں سے دو شخص اتفاق کرکے جو کچھ چاہیں کہ ہو جائے وہ میرے آسمانی باپ کی طرف سے اُن کے لیے ہو جائے گا۔ کیونکہ جہاں دو یا تین میرے نام پر اکٹھے ہوتے ہیں وہاں میں اُن کے درمیان موجود ہوتا ہُوں‘‘ (متی 18:‏19۔20).

ہمارے خُداوند نے پُرزور طور پر ہمیں یاد دلایا ہے کہ اِس الہٰی اختیار سے اِستفادہ ایک فرد کی کوشش سے حاصل [نہیں ہو سکتا]، بلکہ تمام کلیسیا کی … صرف متحدہ کوششوں کے ذریعے سے۔ دوسرے لفظوں میں جب صرف مسیحی ایک جان ہو کر دعا مانگتے ہیں… کُل کلیسیا، تب ہی کلیسیا پھر پُراثر انداز میں ایسے الہٰی اختیار کو استعمال کر سکتی ہے اور لطف اُٹھا سکتی ہے۔
آخر ایام کی کلیسیا، تاہم اِس سچائی کی حقیقت کو نہیں دیکھ سکتی تھی، نا ہی خُدا کی قدرت [پا سکتی] تھی۔ یہ کس قدر بڑا نقصان ہے!... وہ شیطان کے عمل کو باندھنا چاہتی ہے، [گمراہ] کو چُھڑانے کے لیے اور اِس سے بھی بڑھ کر خُدا کی موجودگی کی حقیقت کا تجربہ کرنے کے لیے۔ افسوس! یہ ہو نہیں سکتا (ٹموتھی لِن، پی ایچ۔ ڈی۔ Timothy Lin, Ph.D.، کلیسیا کی نشونما کا راز The Secret of Church Growth FCBC، 1992، صفحات92، 93)۔

ہمیں تسلیم کر لینا چاہیے کہ ہم ابھی تک اُس معیار پر پورے نہیں اُترے ہیں۔ میں اُمید کرتا ہوں کہ آپ آج کی رات اِس واعظ کے مسودے کی نقل اپنے ساتھ گھر لے کر جائیں گے۔ اگلے ہفتے میں اِس کو کئی مرتبہ پڑھیں اگر آپ پہلے ہی سے نجات یافتہ ہیں۔ آئیے معیار پر پورے اُتریں، جیسا کہ ڈاکٹر لِن نے ہمیں بتایا!

ایک دوسرا خیال۔ یہ بات میرے لیے واضح ہے کہ پولوس کلیسیا میں دعائیہ اِجلاس میں آدمیوں کے دعا مانگنے کے بارے میں بات کر رہا ہے۔ افسیوں5:‏19 سے لیکر 33 تک آیات مقامی کلیسیا کے بارے میں بات کرتی ہیں۔ تب پولوس کہتا ہے، ’’آخر میں، میرے بھائیوں‘‘… دعا میں جنگ کرو!

اگر آپ ابھی تک نجات یافتہ نہیں ہیں، تو اِس صبح کے واعظ کو پڑھنا جاری رکھیں، ’’میں کروں گا – تجھے پاک صاف!‘‘ اِس شام کا واعظ براہ راست اُن لوگوں کے لیے ہے جو پہلے ہی سے نجات یافتہ ہیں۔ ہمارے لیے اب یہ وقت ہے کہ ’’ایک جان ہو کر دعا میں مشغول ہو‘‘ جائیں، حیاتِ نو کے لیے۔ خُدا حیاتِ نو بھیجنا چاہتا ہے، اور وہ حیاتِ نو کو بھیجے گا۔ یقین کریں! اشعیا44:‏3 کے وعدے پر حق جتائیں۔ دعا مانگیں ’’اوہ، خُداوندا، وہ کر جس کا تو نے وعدہ کیا تھا۔‘‘ آمین! اور آمین! بوڑھا جان نیوٹن Old John Newton (1725۔1807) اِس بارے میں جانتا تھا! اُنہوں نے کہا،

آؤ، میری جان، تمہارے [الفاظ] تیار ہیں،
   یسوع دعا کا جواب دینے سے پیار کرتا ہے؛
اُس نے خود تمہیں دعا کرنے کے لیے کہا ہے،
   اِس لیے وہ تمہیں انکار نہیں کرے گا،
اِس لیے وہ تمہیں انکار نہیں کرے گا۔

جب تم بادشاہ کے حضور میں جا رہے ہو؛
   ڈھیروں [اِلتجائیں لے جانے سے خوف مت کرنا]؛
کیونکہ اُس کی قوت اور فضل ایسا ہے
   کوئی بھی کبھی ضرورت سے زیادہ مانگ نہیں سکتا،
کوئی بھی کبھی ضرورت سے زیادہ مانگ نہیں سکتا۔
   (’’آؤ، میری جان، تمہارا لباس تیار ہے Come, My Soul, Thy Suit Prepare‘‘ شاعر جان نیوٹن John Newton، 1725۔1807؛ پادری صاحب نے ترمیم کی)۔

آپ میں سے وہ جو گمراہ ہیں میں کہتا ہوں، ’’اُمید مت چھوڑیں!‘‘ ’’اُداس اور نااُمید مت ہوں! تم کافی عرصے تک اُداس اور نااُمید رہ چکے ہو – درحقیقت طویل عرصے تک! بہت زیادہ طویل عرصے تک! یسوع تمہاری مدد کرنے کے لیے یہاں ہے! یسوع تمہاری اُداسی کو دور کرنے کے لیے یہاں ہے! یسوع تمہیں اُمید اور سکون دینے کے لیے یہاں ہے! ہم جتنی بہترین کر سکتے تھے دعا مانگ چکے ہیں، اور اب تمہارے لیے یسوع یہاں پر ہے! پاک روح اُس کو بالکل ابھی مہیا کرتا ہے! تم کافی عرصہ تک اُداس اور نااُمید رہ چکے ہو! تمہیں اب مذید اور سزایابی کی ضرورت نہیں رہی۔ جوزف ہارٹ Joseph Hart (1712۔1768) نے کہا، ’’ساری موزونیت جو وہ چاہتا ہے وہ تمہارے لیے اُس کی ضرورت ہے All the fitness He requireth is to see your need of Him ‘‘۔ اُس کا خون آپ کو پاک صاف کر دے گا! وہ آپ کے گناہوں کو ڈھانپ دے گا! وہ اِن کو دھو ڈالے گا – اور آپ نجات پا لیں گے! یسوع کے پاس آنا آسان ہے! اُس سے دور رہنا مشکل ہے! یسوع پر بھروسہ کرنا تو بہت ہی آسان ہے! اوہ، میں دعا مانگتا ہوں کہ آپ جلد ہی اُس پر بھروسہ کریں گے! آمین!


اگر اس واعظ نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز آپ سے سُننا پسند کریں گے۔ جب ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں تو اُنہیں بتائیں جس ملک سے آپ لکھ رہے ہیں ورنہ وہ آپ کی ای۔میل کا جواب نہیں دیں گے۔ اگر اِن واعظوں نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز کو ایک ای میل بھیجیں اور اُنہیں بتائیں، لیکن ہمیشہ اُس مُلک کا نام شامل کریں جہاں سے آپ لکھ رہے ہیں۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای میل ہے rlhymersjr@sbcglobal.net (‏click here) ۔ آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو کسی بھی زبان میں لکھ سکتے ہیں، لیکن اگر آپ انگریزی میں لکھ سکتے ہیں تو انگریزی میں لکھیں۔ اگر آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو بذریعہ خط لکھنا چاہتے ہیں تو اُن کا ایڈرس ہے P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015.۔ آپ اُنہیں اِس نمبر (818)352-0452 پر ٹیلی فون بھی کر سکتے ہیں۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہائیمرز کے واعظ www.sermonsfortheworld.com
یا پر پڑھ سکتے ہیں ۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

یہ مسوّدۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے ہمارے گرجہ گھر سے ویڈیو پر دوسرے تمام واعظ اور ویڈیو پیغامات حق
اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

واعظ سے پہلے تلاوت مسٹر ایبل پرودھوم Mr. Abel Prudhomme نے کی تھی: افسیوں6:‏10۔19 .
واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بینجیمن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith نے گایا تھا:
’’آؤ، میری جان، تمہارا لباس تیار ہے Come, My Soul, Thy Suit Prepare‘‘
شاعر جان نیوٹن John Newton، 1725۔1807؛ پادری صاحب نے ترمیم کی)