Print Sermon

اِس ویب سائٹ کا مقصد ساری دُنیا میں، خصوصی طور پر تیسری دُنیا میں جہاں پر علم الہٰیات کی سیمنریاں یا بائبل سکول اگر کوئی ہیں تو چند ایک ہی ہیں وہاں پر مشنریوں اور پادری صاحبان کے لیے مفت میں واعظوں کے مسوّدے اور واعظوں کی ویڈیوز فراہم کرنا ہے۔

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 46 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کے مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔

جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔


دعا میں اکٹھے سرگرم رہنا

STRIVING TOGETHER IN PRAYER
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
ہفتے کی شام، 7 فروری، 2015
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Saturday Evening, February 7, 2015

’’بھائیو، میں تمہیں خُداوند یسوع مسیح کا جو ہمارا خُداوند ہے، واسطہ دے کر اور پاک روح کی محبت یاد دلا کر تم سے اِلتماس کرتا ہوں کہ میرے ساتھ مل کر خُدا سے دعا کرنے میں سرگرم رہو‘‘ (رومیوں15:30)۔

پولوس روم کی کلیسیا سے بات کر رہا ہے۔ وہ اُس سب سے دعا مانگنے کے لیے کہہ رہا ہے کہ میں جب تمہارے پاس آؤں گا تو مسیح کی ساری برکتیں لے کر آؤں گا۔ پولوس دعاؤں پر انحصار کرتا تھا۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے مسیح خود اُنہیں اُس کے ساتھ دعا مانگنے کے لیے کہتا ہے۔ وہ اُن سے اِلتجا کرتا ہے کہ مسیح کی واسطہ اُس کے لیے دعا مانگیں، اور پاک روح کی محبت یاد دِلا کر جس سے پاک روح کام کرتا ہے اُن سے اِلتماس کرتا ہے کہ اُس کی مذہبی خدمت کے لیے اُس کے ساتھ مِل کر خُدا سے اِکٹھے دعا میں سرگرم رہیں۔ جس یونانی لفظ نے ’’سرگرم strive‘‘ کا ترجمہ کیا وہ یونانی زبان کے لفظ ’’ایگونائیزومائی agonizomai‘‘ سے ہے۔ ہم اِس سے اپنا انگریزی کا لفظ ’’درد و کرب agony‘‘ اخذ کرتے ہیں۔ پولوس اُن سے اپنے لیے خُدا سے دعا میں ’’درد و کرب‘‘ کے ساتھ سرگرم رہنے کے لیے کہہ رہا ہے۔ پولوس نے یہی یونانی لفظ اُس وقت استعمال کیا جب ایپفراسEpaphras نامی شخص کی بات کرتا ہے، جو ’’ہمیشہ بڑی جانفشانی سے تمہارے لیے دعا کرتا ہے‘‘ (کُلسیوں4:12)۔ پولوس کہہ رہا ہے ’’دعا میں میرے ساتھ جانفشاں رہو۔‘‘ وہ اُن سے چاہتا ہے کہ انتہائی سرگرمی اور جانفشانی کے ساتھ دعا مانگیں۔ وہ اُن سے چاہتا ہے کہ ایسے دعا مانگیں جیسے گتسمنی کے باغ میں یسوع نے مانگی تھی،‘‘

’’اور وہ سخت درد و کرب میں مبتلا ہو کر اور بھی دِلسوزی سے دعا کرنے لگا‘‘ (لوقا 22:44).

وہاں پر ’’ایگونیاagonia‘‘ کا ترجمہ بطور ’’درد و کربagony‘‘ کیا گیا ہے۔ جارج رائیکر بیری George Ricker یوں ترجمہ کرتا ہے، ’’اُس نے کشمکش میں مبتلا ہو کرزیادہ بیقراری سے دعا مانگی۔‘‘ اُس نے ’’درد و کربagonia‘‘ کا ترجمہ بطور ’’کشکمشconflict‘‘ کیا۔ عبرانیوں 5:7 گتسمنی میں مسیح کی دعا پر تبصرہ ہے،

’’یسوع نے ایک بشر کی حیثیت سے زندگی گزارنے کے دِنوں میں پُکار پُکار کر اور آنسو بہا بہا کر خدا سے دعائیں اور اِلتجائیں کیں جو اُسے مَوت سے بچا سکتا تھا اور اُس کی خدا ترسی کی وجہ سے اُس کی سُنی گئی‘‘ (عبرانیوں 5:7).

وہ گتسمنی میں مسیح کی دعا ہے۔ اور وہ ہم پر ظاہر کرتی ہے کہ الفاظ ’’ایگونائیزومائی agonizomai‘‘ اور ’’درد و کرب agonia‘‘ کا مطلب کیا ہوتا ہے۔ وہ الفاظ ’’پکار پکار کر اور آنسو بہا بہا کر‘‘ دعا مانگنے کے بارے میں بات کرتے ہیں، یا، جیسا کہ دورِ حاضرہ کا ایک مترجم اِس کو تحریر کرتا ہے، دعا مانگنا ’’بُلند چیخوں اور آنسوؤں کے ساتھ‘‘ (NIV)۔

یہ ہے جو پولوس روم کے مسیحیوں کو کرنے کے لیے کہہ رہا تھا جب اُس نے اُنہیں ’’اپنے ساتھ مل کر خُدا سے دعا کرنے میں سرگرم‘‘ رہنے کے لیے قائل کیا۔ ہمارے لوگوں میں سے ایک شخص جو اِس طرح سے دعا مانگنا جانتا ہے اُس نے ایک دوسرے گرجہ گھر میں دعائیہ اِجلاس میں باآوازِ بُلند دعا مانگی۔ پادری صاحب نے اُس کی سرزش کی اور اُسے ’’خُدا پر چیخنے‘‘ سے منع کیا۔ مجھے اِس بارے میں بہت بعد میں پتا چلا۔ شروع میں اُس پادری صاحب کے ساتھ میں ناراض تھا۔ مگر میں نے کچھ نہیں کہا۔ بعد میں اُس شخص کو جس نے یوں دعا مانگی تھی مَیں نے بتایا کہ غالباً یہ پہلی مرتبہ تھا کہ پادری صاحب نے ایک حقیقی، مسیح کی جیسی دعا اپنے گرجہ گھر میں واقعی میں سُنی تھی! ہمارے غُربت کے مارے گرجہ گھروں میں آج لوگ پُرخلوص منادی اور پُرخلوص دعا سے دنگ رہ جاتے ہیں! وہ مُردہ تبلیغ اورمٹی کی مانند خُشک دعاؤں کے عادی ہو چکے ہیں! مگر کیوں اِس قدر خُلوص کے ساتھ اور جوش کے ساتھ دعا مانگی جائے؟ کیوں درد و کرب میں دعا مانگی جائے جیسے مسیح نے مانگی تھی؟ چارلس سیمیعین Charles Simeon نے کہا،

خُدا ایک ذمہ داری کی حیثیت سے سفارشی دعا سے محظوظ ہوتا ہے، اور لوگوں میں اپنی برکات کو بخشنے کے ذریعے کی حیثیت سے اِس کو مقرر کرتا ہے۔ [اِس لیے ہمیں چاہیے] اُس کے مقرر کردہ طریقے میں اُس کی برکات کو تلاش کریں (تمام بائبل پر تفسیراتی خاکہ Expository Outlines on the Whole Bible، ژونڈروان Zondervan، دوبارہ اشاعت1955، جلد 15، رومیوں، صفحہ 586)۔

گذشتہ اِتوار کی صبح ’’الیکشن‘‘ پر میرا واعظ سُننے کے بعد، کچھ لوگ شاید کہیں، ’’ایسے دعا کیوں مانگی جائے اگر خُدا پہلے سے ہی جانتا ہے اور جو ہونے والا ہے اُس کا حکم پہلے سے ہی نافذ کر چکا ہے؟‘‘ چارلس سیمیعین نے جواب پیش کیا، ’’خُدا ایک ذمہ داری کی حیثیت سے [ایسی دعا] سے محظوظ ہوتا ہے اور لوگوں میں اپنی برکات کو بخشنے کے ذریعے کی حیثیت سے اِس کو مقرر کرتا ہے۔‘‘ مسٹر سیمیعین مکمل طور پر اصلاح پسند ہو گئے تھے۔ اُنہوں نے چُناؤ [الیکشن] میں یقین کیا۔ مگر وہ جانتے تھے کہ خُدا کی برکات پانے کے لیے ’’مقرر کردہ طریقہ‘‘ درد و کرب میں دعا مانگنے کے ذریعے سے ہے۔ یاد رکھیں کہ اِس سے پہلے کہ خُدا مسٹر سیمیعین کے گرجہ گھر کو دوسری عظیم بیداری کے دوران حیات نو کے لیے ایک مرکز بناتا وہ کئی سالوں تک شدید کشمکش سے گزرے تھے۔ چارلس سیمیعن کے پاس ایک پادری کا سا دِل، ایک شیر کی سی منادی اور ایک مقدس کی سی دعائیں تھیں۔ عظیم حیاتِ نو کے دور میں، جان ویزلی John Wesley کی زندگی کے آخری دِنوں میں وہ ویزلی کے دوست تھے۔

چارلس سیمیعن نے کہا کہ ’’تثلیث کا عقیدہ،‘‘ اگر وہ سچا تھا، تو کلام پاک کے دو یا تین واضح حوالوں میں اِس کا ذکر نہ کیا جاتا بلکہ سارے کے سارے کلام [میں پایا] جاتا….‘‘ اور یوں ہم اِس کو یہاں تلاوت میں پاتے ہیں،

’’بھائیو، میں تمہیں خُداوند یسوع مسیح کا جو ہمارا خُداوند ہے، واسطہ دے کر اور پاک روح کی محبت یاد دلا کر تم سے اِلتماس کرتا ہوں کہ میرے ساتھ مل کر خُدا سے میرے ساتھ مل کر دعا کرنے میں سرگرم رہو‘‘ (رومیوں15:30)۔

اُس نے کہا کہ پولوس رسول نے درخواست کی تھی کہ روم میں مسیحی ’’اُس کی زندگی کے تحفظ، اُس کے کام کی کامیابی اور دُںیا میں اُس سے فائدہ مندی کی توسیع‘‘ کے لیے دعا مانگیں۔ اب یہ وہ مقاصد ہیں جس کی ہر مذہبی خادم کو ضرورت ہوتی ہے [کہ اُس کے لوگ دعا اِن کے لیے دعا کریں]۔‘‘ اور یہی ہے جس کے لیے خود میری اپنی مذہبی خدمت میں آپ کو دعا مانگنے کی ضرورت ہے۔

مسٹر سیمیعن حقیقی، درد وکرب والی دعا کی اہمیت کو جانتے تھے۔ وہ 1783 میں کیمرج میں پاک تثلیث کے گرجہ گھر کے پادری کی حیثیت سے مقرر کیے گئے تھے۔ مذہبی جماعت کی جانب سے شدید مخالفت کی گئی تھی جو اُن کے انجیلی بشارت کے پرچار کے جوش اور عقائد کو ناپسند کرتی تھی۔ جب اُنہوں نے اپنے پہلے واعظ کی تبلیغ کی تو زیادہ تر اراکین احتجاجاً گھر ہی پر ٹھہر گئے تھے۔ سیمیعن نے چند ایک ہی آنے والوں کو تبلیغ کی جو اُس کو سُننے کے لیے آئے تھے۔ پھر مذہبی جماعت نے اپنی مسیحی جماعت کے گرجہ گھر کے دروازوں میں تالے لگا دیے کہ آنے والوں کو اُن کے گرجہ گھر میں بیٹھنے کے لیے جگہ پانے سے روکیں۔ سیمیعن نے طویل راہداری میں بینچ رکھوا دیے، مگر لوگوں نے گرجہ گھر کے صحن میں بینچ پھینک دیے۔ سیمیعن نے اِتوار کی شام کی عبادتیں کھوئے ہوئے لوگوں تک پہنچنے کے لیے شروع کیں، مگر لوگوں نے گرجہ گھر کے دروازوں میں تالے لگا دیے، اور اُنہیں اِجلاس کھلی جگہ پر کروانے پڑتے۔ یہ یقین کرنا مشکل ہے کہ چارلس سیمیعن اُس گرجہ گھر میں چوّن برس تک ٹھہرے رہے۔

جیسے جیسے سال گزرتے گئے اُن کے دشمن کم ہوتے گئے اور اُنہیں حقیقی تبدیلی پر منادی کرنے سے روکنے کے لیے کم اہل ہوتے گئے۔ بالاآخر اُن کے گرجہ گھر میں حیاتِ نو آ ہی گیا، اور یہ انگلستان میں عظیم گرجہ گھروں میں سے ایک گرجہ گھر بن گیا۔

1832 میں سیمیعن نے اپنی مذہبی خُدمات کی پچاسویں سالگرہ اُس گرجہ گھر میں منائی۔ ڈاکٹر وارن وائرسبی Dr. Warren Wiersbe نے کہا، ’’اُس نے اپنے تمام دشمنوں کو خاموش کرا دیا یا زیادہ دیر تک کھڑا نہ رہنے دیا… گرجہ گھر میں ہم آہنگی تھی، عمارتوں کی مرمت کی گئی، اور خوشخبری قوت اور صراحت کے ساتھ آگے بڑھ رہی تھی۔ وہ اُن دِنوں سے کہیں آگے نکل آیا تھا جب اُس کے گرجہ گھر کے افسروں نے اُسے خود اپنے ہی گرجہ گھر سے باہر نکال دیا تھا… آج چارلس سیمیعن ہمیں کیا کہتا ہے… ایک ہی بات کے لیے، کلام کی منادی کرو۔ دوسری بات، مخالفت کے باوجود کام پر ڈٹے رہو… اُس نے تربیتی دعاؤں کے لیے مثال قائم کی‘‘ (وارن ڈبلیو وائرسبی، ڈی۔ ڈی۔ Warren W. Wiersbe, D. D.، پچاس لوگ ہر مسیحی کو جاننے چاہیے Fifty People Every Christian Should Know، بیکر بُکس Baker Books، 2009، صفحہ52)۔ سیمیعن نے تمام بائبل کا احاطہ کرتے ہوئے 2,536 خُلاصوں پر مشتمل کتابوں کا ایک بہت بڑا سیٹ شائع کیا۔ سپرجیئن اور ڈاکٹر مارٹن لائیڈ جونز دونوں ہی نے اِن کتابوں کو پڑھنے کے لیے مشورہ دیا۔ سیمیعن نے اپنے نوجوان اسسٹنٹ ھنری مارٹن Henry Martyn کو متاثر کیا، جو اپنے گرجہ گھر سے انڈیا کے لیے پہلے مشنریوں میں سے ایک کی حیثیت سے باہر نکلا۔ سیمیعن نے دُںیا کے کونے کونے میں خوشخبری کو لے جانے کے لیے چرچ مشنری سوسائٹی کا آغاز کرنے میں مدد دی۔ وہ خصوصی طور پر یہودی لوگوں کے لیے مشنوں میں دلچسپی رکھتے تھے۔ اُنہوں نے ایمسٹردم Amsterdam میں وہاں کے یہودی لوگوں کے لیے ایک گرجہ گھر کی بنیاد رکھی۔ ایک ایسے دور میں جب لوگ سمجھ نہیں پاتے تھے کہ یہودیوں کے لیے خُدا نے ایک مستقبل رکھا تھا، وہ منادی کیا کرتے تھے کہ یہودی لوگ اسرائیل میں واپس آئیں گے اور کہ خاتمے کے عظیم حیاتِ نو میں وہ یسوع کے پاس آئیں گے (وائرسبیWiersbe، ibid.، صفحہ51)۔

چارلس سیمیعن حیاتِ نو کے لیے شدید دعا میں یقین رکھتے تھے۔ ہماری تلاوت پر اپنے تبصرے میں اُنہوں نے کہا،

سب باتوں سے بالا، میں آپ کو تمام ممکنہ سنجیدگی کے ساتھ، خود اپنے لوگوں کے لیے دعا میں مصروف رہنے کے لیے کہوں گا… جب آپ دوسروں کے لیے دعا مانگیں تو جیسے آپ اپنی زندگی کے لیے کُشتی لڑ رہے ہوں ویسے ہی ’’جدوجہد‘‘ کرنی چاہیے… یقین رکھیے، یہ چند ایک نیم گرم [دعائیں] نہیں ہیں جن کی خُدا آپ سے توقع کرتا ہے… آپ کی تباہی کے لیے تاریکی کی ساری قوتیں [اکٹھی] مل کر آ جاتی ہیں… یہ تنہا دعا ہی کے وسیلے سے ہے کہ آپ اپنے دشمنوں سے نجات حاصل کر سکتے ہیں، یا خُدا کی مرضی کو پورا کرنے کے لیے قوت پا سکتے ہیں۔ آپ کو مانگنا چاہیے، اگر آپ چاہتے ہیں؛ اور ڈھونڈ پائیں تو تلاش کریں؛ اور اگر آپ پر رحم کا دروازہ کھل پائے تو کھٹکھٹائیں۔ پھر میں آپ سے [التجا] کرتا ہوں، [دعا میں] سنجیدگی اختیار کریں… میں آپ کی مِنت کرتا ہوں، خُداوند یسوع مسیح کے واسطے: اور کبھی بھی اُس کو مت چھوڑیں، جب تک کہ آپ کو خواہش کردہ برکات اُس [یسوع] سے حاصل نہ ہو جائیں۔ منّجی کے خون کے ذریعے سے رحم کے لیے اُس سے التجا کریں؛ اپنی جانوں پر بہت بہتات میں اُس کے پاک روح [کو نازل کرنے] کی اُس سے التجا کریں… تب یہ برکات آپ پر نازل ہوں گی، اور خُدا آپ کی ابدلاآباد نجات میں جلالیت پائے گا (چارلس سیمیعنCharles Simeon، تمام بائبل پر تفسیراتی خاکے Expository Outlines on the Whole Bible، جلد 15، رومیوں، ژونڈروان اشاعتی گھر Zondervan Publishing House، دوبارہ اشاعت 1955، صفحات 592، 593)۔

آمین! اور آمین!

گمراہ دُنیا ہمارے خلاف ہے! ابلیس اور اُس کی بدروحیں ہمارے خلاف ہیں! خود ہماری اپنی ذہنی و جسمانی فطرتیں ہمارے خلاف ہیں! مسیح میں ایمان لا کر حقیقی طور سے تبدیل ہونے اور حیات نو کے لیے ہماری واحد اُمید خُدا میں ہے! اور ہم دعا میں ’’اکٹھے سرگرم‘‘ رہنے کے وسیلے سے ہی صرف اُس کی طاقت اور قوت پا سکتے ہیں۔ خُدا دوبارہ وہ کر سکتا ہے جو اُس نے چارلس سیمیعن کے دِنوں میں کیا تھا! خُدا دوبارہ وہ کر سکتا ہے جو اُس نے پولوس رسول کے دِنوں میں کیا تھا!

’’بھائیو، میں تمہیں خُداوند یسوع مسیح کا جو ہمارا خُداوند ہے، واسطہ دے کر اور پاک روح کی محبت یاد دلا کر تم سے اِلتماس کرتا ہوں کہ میرے ساتھ مل کر خُدا سے میرے ساتھ مل کر دعا کرنے میں سرگرم رہو‘‘ (رومیوں15:30)۔

آمین! ہمارے خُداوند کے نام کی ستائش کریں! کاش وہ آپ کی جب تک جنگ جیت نہیں جاتے سپاہیوں کی مانند دعا مانگنے میں مدد کرے اور اُس کے روح کی قوت ہمارے گمراہ اراکین کے لیے نجات لائے اور ہمارے گرجہ گھر میں حیاتِ نو لائے! آمین!

اگر اِس واعظ نے آپ کو برکت بخشی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز آپ سے سُننا چاہیں گے۔ جب آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں تو آپ اُنہیں ضرور بتائیں کہ آپ کس مُلک سے لکھ رہے ہیں ورنہ وہ آپ کی ای میل کو جواب نہیں دیں گے۔ اگر اِن واعظوں نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز کو ایک ای میل لکھیں اور اُنہیں بتائیں، لیکن ہمیشہ جس ملک سے آپ لکھ رہے ہیں اُس کا نام شامل کریں۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای میل ہے rlhymersjr@sbcglobal.net (click here) ۔ آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو کسی بھی زبان میں لکھ سکتے ہیں، لیکن اگر آپ انگریزی میں لکھ سکتے ہیں تو انگریزی میں لکھیں۔ اگر آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو بذریعہ خط لکھنا چاہتے ہیں تو اُن کا ایڈرس ہے P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015.۔ آپ اُنہیں اِس نمبر (818)352-0452 پر ٹیلی فون بھی کر سکتے ہیں۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہائیمرز کے واعظ www.sermonsfortheworld.com
یا پر پڑھ سکتے ہیں ۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

یہ مسودۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے تمام ویڈیو پیغامات حق اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے
جا سکتے ہیں۔