Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 215 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.co پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہمارے ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 36 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔

جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

تعطیلاتِ کرسمس کی دیوانگی!

!CHRISTMAS HOLIDAY MADNESS
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
خُداوند کے دِن کی صبح، 30 نومبر، 2014
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord's Day Morning, November 30, 2014

’’بنی آدم کے دل بدی سے اور اُن کے سینے عمر بھر دیوانگی سے بھرے رہتے ہیں اور اُس کے بعد وہ مُردوں میں جا ملتے ہیں‘‘ (واعظ 9:3).

سُلیمان بادشاہ نے واعظ کی کتاب لکھی تھی۔ یہ اُس نے جو اپنی زندگی میں مختلف تجربے کیے تھے اُن کا ایک ریکارڈ ہے۔ اپنی زندگی میں تسکین لانے کے لیے جو ہوتا ہے وہ دیکھنے کے لیے اُس نے ہر ممکن کوشش کی تھی۔ اُس نے حکمت کی کھوج کی کوشش کی۔ اُس نے لطف پانے کی کوشش کی تھی۔ اُس نے دولت حاصل کرنے کی کوشش کی تھی۔ اُس نے مذھب کی کوشش کی۔ اُس نے شہرت کے لیے کوشش کی۔ اُس نے اِخلاقیات کی کوشش کی تھی۔ بالاآخر وہ اِس نتیجے پر پہنچا تھا کہ ’’یہ سب بے معنی اور ہوا کےتعاقب کی طرح ہیں‘‘ (واعظ1:14)۔ وہ ہر بات دیکھ چکا تھا اور ہر ممکن کوشش کر چکا تھا، اور یہ سب کچھ بے معنی اور خالی سا لگتا تھا۔ اِس سے اُس نے یہ نتیجہ نکالا، یوحنا رسول کے ساتھ، کہ ’’دُنیا اور اُس کی خواہش دونوں ختم ہو جائیں گی‘‘ (1یوحنا2:17)۔

واعظ 9:3 ایک انتہائی قنوطی تلاوت ہے۔ یہ نسل انسانی کا ایک انتہائی نظریہ پیش کرتی ہے۔ اِس کے باوجود میں یقین کرتا ہوں کہ سُلیمان بادشاہ بالکل صحیح تھا۔ اِس تلاوت میں اُس نے تین بیانات دیے ہیں جو کہ انتہائی سچے ہیں، اور باقی کی تمام بائبل کے ساتھ ہم آہنگی رکھتے ہیں۔

’’بنی آدم کے دل بدی سے اور اُن کے سینے عمر بھر دیوانگی سے بھرے رہتے ہیں اور اُس کے بعد وہ مُردوں میں جا ملتے ہیں‘‘ (واعظ 9:3).

I۔ اوّل، سُلیمان بادشاہ نے کہا، ’’بنی آدم کے دِل بدی سے بھرے رہتے ہیں۔‘‘

اُس نے اِس کو ایک اور آیت میں واضح کیا، جب اُس نے کہا،

’’زمین پر ایسا راستباز کوئی نہیں ہے، جو صرف نیکی ہی نیکی کرے اور کبھی خطا نہ کرے‘‘ (واعظ 7:20).

’’بنی آدم کے دِل بدی سے بھرے ہوئے ہیں۔‘‘ یہ وہ نہیں ہے جو آج زیادہ تر لوگ یقین کرتے ہیں۔ بارہا ہم لوگوں کو کہتے ہوئے سُن چکے ہیں، ’’میں یقین کرتا ہوں کہ انسان بُنیادی طور پر نیک ہے۔‘‘ لیکن اِس نظریے کی حمایت جواز یا کلام پاک سے نہیں ہوتی ہے! جواز ظاہر کرتا ہے کہ انسان ’’بدی سے بھرا ہوا‘‘ ہے! اخبارات پڑھیں۔ ٹیلی ویژن پر خبریں دیکھیں۔ ہم بدی کو بہت زیادہ اور نیکی کو انتہائی کم دیکھتے ہیں۔ یہاں تک کہ جو ’’نیک‘‘ دکھائی دیتا ہے بالاآخر خودغرضی یا غرور سے آتا ہے، اور یوں اخلاقی طور پر بدی ہوتی ہے! بار بار جواز سُلیمان کے الفاظ کی بھرپور سچائی کو ظاہرکرتا ہے، ’’بنی آدم کے دِل بدی سے بھرے ہوئے ہیں۔‘‘

پھر کلامِ پاک کو پڑھیں۔ بائبل کے ایک سرے سے لیکر دوسرے تک ہمیں انسان کی گناہ سے بھرپور فطرت، اُس کے مکمل اخلاقی بگاڑ کے بارے میں بتایا جاتا ہے۔ سیلاب سے پہلے،

’’خداوند نے دیکھا کہ زمین پر انسان کی بدی بہت بڑھ گئی ہے اور اُس کے دِل کے خیالات ہمیشہ بدی کی طرف مائل رہتے ہیں‘‘ (پیدائش 6:5).

اپنے مشہور واعظ ’’اصلی گناہ Original Sin‘‘ میں، انجیلی بشارت کا پرچار کرنے والے عظیم جان ویزلی John Wesley (1703۔1791) نے کہا کہ لوگ اب بھی ایسے ہی ہیں جیسے وہ سیلاب سے پہلے تھے۔ جان ویزلی نے کہا،

[اُس سیلاب] کے بعد یہ ہزار سال سے بھی زیادہ کی بات تھی کہ خُدا نے داؤد کے ذریعے سے اِعلان کیا، ’’[وہ سب کے سب باہم نجس ہو گئے: اُن میں کوئی نہیں جو بھلائی کرتا ہو، ایک بھی نہیں،‘‘ زبور14:3؛ رومیوں3:10]۔ اور اِس بات کی گواہی تمام انبیاء نے دی… اس لیے اشعیا نے [کہا]، ’’تمہارا پورا سر زخمی ہے، اور سارا دِل مریض ہو چکا ہے۔ پاؤں کے تلوے سے سر کی چوٹی تک تمہارا کوئی حصّہ بھی سالم نہیں ہے، صرف زخم اور چوٹیں اور سڑے ہوئے گھاؤ ہیں‘‘ [اشعیا1:5۔6]۔ یہی بات تمام رسولوں نے بھی کہی ہے۔ اِن تمام باتوں سے ہم سیکھتے ہیں، انسان کی اپنی قدرتی حالت میں ہونے سے تعلق رکھتے ہوئے… کہ ’’اُس کے دِل کے خیالات ہمیشہ بدی ہی کی طرف مائل رہتے ہیں‘‘ اب بھی بدی کے ہی ہیں، ’’صرف بدی کے،‘‘ اور کہ ’’مائل ہی رہتے ہیں‘‘ (جان ویزلی، ایم۔ اے۔ John Wesley, M.A.، ’’اصلی گناہ Original Sin،‘‘ جان ویزلی کے کارنامے The Works of John Wesley، بیکر کُتب گھرBaker Book House، دوبارہ اشاعت1979، جلد چہارم، صفحات57، 58)۔

یرمیاہ نبی نے کہا،

’’دل سب چیزوں سے بڑھ کر حیلہ بازاور انتہائی بدکار اور لاعلاج ہوتا ہے، اُس کا بھید کون جان سکتا ہے؟‘‘ (یرمیاہ 17:9).

یوں، ہم دیکھتے ہیں کہ بائبل، ایک سرے سے لیکر دوسرے تک، سُلیمان کے بیان کی حمایت کرتی ہے، ’’بنی آدم کے دِل بدی سے بھرے ہوئے ہیں۔‘‘ اور ہم اِس بات کی ہر روز ٹیلی ویژن اور اخبارات میں تصدیق دیکھتے ہیں۔ ’’بنی آدم کے دِل بدی سے بھرے ہوئے ہیں۔‘‘

II۔ دوئم، سُلیمان بادشاہ نےکہا، ’’اور اُن کے سینے عمر بھر دیوانگی سے بھرے رہتے ہیں۔‘‘

’’بنی آدم کے دل بدی سے اور اُن کے سینے عمر بھر دیوانگی سے بھرے رہتے ہیں اور اُس کے بعد وہ مُردوں میں جاملتے ہیں‘‘ (واعظ 9:3).

جس عبرانی لفظ نے ’’دیوانگی madness‘‘ کا ترجمہ کیا اُس لفظ کی جڑ سے آتا ہے جس کا مطلب ’’احمقانہ foolish‘‘ ہوتا ہے (Strong, #1984)۔ وہ اصل لفظ ’’ہاؤلیلہ howlelah‘‘ ہے اور اِس کا مطلب ’’دیوانگی‘‘ ہوتا ہے (Strong, #1947)۔ دیوانگی، ذہنی خلفشار، بدحواسی، مجنونی، وحشی – یہ ہے وہ تصویر! ’’اُن کے سینے عمر بھر دیوانگی سے بھرے رہتے ہیں۔‘‘ سٹرانگ Strong کی کونکورڈینس Concordance ہمیں بتاتی ہے کہ عبرانی لفظ کی جڑ کا مطلب ’’نمائش ظاہر کرنا، احمقانہ پن دکھانا، خوشی منانا، جنونی ہو جانا‘‘ ہوتا ہے۔ میتھیو ھنری Mathew Henry نے کہا کہ لوگ ’’… اب دیوانے ہیں، اور وہ تمام خوشیاں جن سے وہ بابرکت ہوتے دکھائی دیتے ہیں لیکن … وہ ایک بدحواس [دیوانے] آدمی کے خوابوں اور گمانوں کی مانند ہیں‘‘ (تمام بائبل پر میتھیو ھنری کا تبصرہ Mathew Henry’s Commentary on the Whole Bible، ھینڈرکسن پبلیشرز Hendrickson Publishers، دوبارہ اشاعت1996، جلد سوئم، صفحہ 849؛ واعظ 9:3 پر غور طلب بات)۔

انسانی دِل کی دیوانگی بُت پرستی کی مختلف اقسام تک پھیلی ہوئی ہے۔ یرمیاہ نبی نے کہا، ’’وہ اپنے پر پاگل ہیں‘‘ (یرمیاہ50:38) – ’’اور اُن کے سینے عمر بھر دیوانگی سے بھر رہتے ہیں‘‘ (واعظ9:3)۔ ہمارے زمانے کے لوگ بھی ’’اپنے بتوں پر دیوانے‘‘ ہیں – فحش نگاری، مادیت پرستی، گناہ سے بھرپور لطف کے بُت اور ’’شُغل و تفریح‘‘ کا سب سے بڑا بُت۔

’’چُھٹیاں‘‘ سال کا وہ وقت ہوتا ہے جب انسانی دِل کا دیوانہ جنون کھلم کھلا ظاہر ہوتا ہے۔ کرسمس اور نئے سال کے مواقعوں پر اِنسان کے دِل کی دیوانگی ایک آتش فشان کی مانند اُبل کر پھٹتی ہے! ڈاکٹر اے۔ ڈبلیو۔ ٹوزرDr. A. W. Tozer (1897۔1963) نے کہا،

دیوانگی کی ایک قسم عوام کو گرفت میں لے لیتی ہے، اور پھر وہ شروع ہوتا ہے… ہر کوئی اپنے حصّے کے لیے جہاں وہ ہوتا ہے اُس کے مقابلے میں کہیں اور پہنچنے کے لیے جنونی کوشش کرتا ہے۔ کوئی بھی یہ پوچھنے کے لیے نہیں رُکتا کہ یہ سب کچھ کس بارے میں ہے، لیکن عملی طور پر ہر ایک جو ہسپتال یا جیل میں نہیں ہوتا ہے اُس عمومی بھگڈر میں شامل ہو جاتا جو ہر جانب سے اور کہیں بھی جا رہی اور واپس آ رہی ہوتی ہے۔ ایک ناقابل مزاحمت آرزو ہم میں سے زیادہ تر کو ہوا میں پھنسے ہوئے مٹی کے ذرّوں کی مانند اُٹھا لیتی ہے، اور ہمیں چکرائے ہوئے سے انداز میں اور خطرناک طور پر پھراتی اور گھماتی ہے… (اے۔ ڈبلیو۔ ٹوزر، ڈی۔ڈی۔ A. W. Tozer, D.D.، خُدا انسان کو بتاتا ہے کو دیکھ بھال کرتا ہے God Tells the Man Who Cares، میں ’’وسط گرما کی دیوانگی Midsummer Madness،‘‘ مسیحی اشاعتی ادارے Christian Publications، 1970 ایڈیشن، صفحہ 127)۔ ڈاکٹر ٹوزر کے بارے میں پڑھنے کے لیے یہاں پر کلک کریں To read about Dr. Tozer click here۔

پچاس سال پہلے ڈاکٹر ٹوزر نے جو ’’وسط سرما کی دیوانگی‘‘ کے بارے میں کہا تھا، اب برابر سے لاگو ہوتا ہے، اگر زیادہ نہ کہا جائے تو موسم خزان اور سرما کی ’’تعطیل‘‘ کی دیوانگی! لوگ شکرگزاری کی عید Thanksgiving پر، کرسمس اور نئے سال پر ’’جہاں پر وہ ہوتے ہیں وہاں سے کہیں اور پہنچنے کے لیے‘‘ اور ’’تفریح‘‘ حاصل کرنے کے لیے ’’ایک جنونی کوشش‘‘ میں وحشی ہو جاتے ہیں۔ چند ایک گھنٹوں کی کہلائی جانے والی ’’تفریح‘‘ کے لیے، واپس مشرق جانے یا واپس مغرب جانے کے لیے کوشش میں، شکرگزاری کی عید کے موقعے پر ہزاروں لوگ ائرپورٹوں پر پھنس جاتے ہیں۔ اُن میں سے کسی نے بھی کبھی بھی خُدا کا شکریہ ادا کرنے کے لیے گرجہ گھر جانے کے بارے میں نہیں سوچا!

’’تعطیل کی یہ دیوانگی‘‘ ہالووین Halloween کے ساتھ شروع ہوتی ہے۔ ایک نوجوان خاتون جو یہاں گرجہ گھر کے لیے چند ایک مرتبہ آئیں تھیں اُنہوں نے کہا کہ اُنہیں ہالووین کے لباس میں ’’تیار ہونے کے لیے‘‘ گرجہ گھر عبادت کے لیے آنے کو چھوڑنا پڑا۔ اُنہیں ہالووین کا لباس پہننے کے لیے تیاری کو شروع کرنے کے لیے، اِتوار کی صبح 10:30 بجے کی عبادت کو چھوڑنا پڑا! آخر کو، وہ ہالووین پارٹی دوپہر میں 2:00 بجے شروع ہوئی تھی، اور اِس میں اُن کو ایک جادوگرنی یا ایک پری – یا ایک خون چوسنے والی بلا [ویمپائر] – یا کچھ بھی اور کی مانند تیار ہونے کے لیے کئی گھنٹے لگے ہوں گے! یہ کیا ہے ماسوائے دیوانگی کے – تعطیل کی دیوانگی؟ ’’وہ اپنے بتوں پر دیوانے ہیں‘‘ (یرمیاہ50:38)۔ ’’اُن کے سینے عمر بھر دیوانگی سے بھرے رہتے ہیں‘‘ (واعظ9:3)۔

اور یہ اور بھی بدتر ہو جائے گی! اُن ’’تعطیلات‘‘ کے دیوانے جنون میں، لوگ بھاگ اُٹھیں گے، جیسے کہ ڈاکٹر ٹوزر نے کہا، ایک ’’عوامی بھگڈر‘‘ میں… ’’[جہاں وہ ہیں] اُس کے مقابلے میں کہیں اور پہنچنے کے لیے۔‘‘ بے شمار لوگ تو گھر میں ٹھہرنے اور کرسمس اور نئے سال پر گرجہ گھر آنے کے بارے میں بھی غور نہیں کرتے! ’’ایک پُرکشش آرزو اُنہیں ہوا میں پھنسے ہوئے مٹی کی ذرات کی مانند اُٹھا لیتی ہے‘‘ – اور اُنہیں دیوانگی کے ساتھ کسی اور جگہ پر امریکن آئیڈل – نامی ’’تفریح‘‘ کے پاگلانہ تعاقب میں خود کو بیماری کی طرح ہڑپ کیے جانے کے لیے زور سے لا کر پھینک دیتی ہے۔

جب 1940 کی دہائی میں میں ایک بچہ ہی تھا تو لوگ گھروں میں ٹھہرتے تھے اور ’’تعطیلات‘‘ کے دوران گرجہ گھر جاتے تھے۔ لیکن آج وہ شکرگزرای کی عید، کرسمس اور نئے سال پر ’’دیوانے‘‘ سے ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔ ’’اُن کے دِلوں میں… دیوانگی‘‘ اُنہیں ’’تفریح‘‘ کے بہت بڑے بُت کے آگے جھکنے کی جنونی کوشش میں اُن کے گھر اور گرجہ گھر سے کھینچ نکالتی ہے۔ آپ ایک وحشی دیوانے شخص سے توقع نہیں کر سکتے کہ وہ کرسمس اور نئے سال پر گرجہ گھر میں ٹھہرے، کیا آپ کرسکتے ہیں؟ یہ انتہائی تصور جدید زمانے کے تفریح سے پاگل انسانی ذہن کے لیے جارحانہ ہے۔

مجھ پر بحیثیت ایک ’’قانون دان‘‘ مطلق العنان آمر – اور بدتر – نوجوان لوگوں کو ’’تعطیلات‘‘ کے دوران گرجہ گھر میں ہونے کے لیے کہنے پر حملہ کیا جا چکا ہے۔ مگر میں قدم پیچھے نہیں ہٹاؤں گا! مسیح نے کہا،

’’مبارک ہو تُم جب ابنِ آدم کے سبب سے لوگ تُم سے کینہ رکھیں، اور تمہیں الگ کردیں، تمہاری بے عزتی کریں اور تمہارے نام کو بُرا جان کر کاٹ دیں۔ اُس دن خوش ہونا اور خوشی کے مارے اُچھلنا کیونکہ تمہیں آسمان پر بڑا اجر حاصل ہوگا، اِس لیے کہ اُن کے باپ دادا نے نبیوں کے ساتھ بھی ایسا ہی سلوک کیا تھا‘‘ (لوقا 6:22۔23).

میں خواہش کرتا ہوں کہ ہر مبلغ میں ’’تعطیلات کی دیوانگی‘‘ کے خلاف بولنے کا حوصلہ ہو جیسا کہ ڈاکٹر اے۔ ڈبلیو۔ ٹوزر میں تھا! کیا مبلغین کے لیے یہی وقت نہیں ہے کہ وہ اِن ’’تعطیلات‘‘ کی مادیت پرستی، شراب نوشی اور بدمست محفلوں کے خلاف بولیں؟ کیا مبلغین کے لیے ڈاکٹر ٹوزر کی مانند یہی وقت نہیں ہے؟ جیسے جیسے ہماری معاشیات ناکام ہو رہی ہے اور ہماری تہذیب ٹکرے ٹکرے ہو رہی ہے – اور ہمارے لوگ زیادہ سے زیادہ بھڑکیلے زیور، اور دوروں اور ’’تفریح‘‘ اور کھیلنے کی تقریبات اور منشیات کے لیے چیخ رہے ہیں – جیسے جیسے امریکہ قدیم رومی سلطنت کی مانند گِرتا جا رہا ہے تو ہمیں اپنے لوگوں کو اِس جنونی ’’موت کے رقص‘‘ سے بچانے کے لیے ڈاکٹر ٹوزر کی مانند انبیانہ آوازوں کی ضرورت ہے!

لاس ویگاس کے لیے دوروں سے چُھٹکارہ پائیں! سان فرانسسکو – اور سان ڈیاگو کے لیے دوروں سے چُھٹکارہ پائیں! صدوم اور عمورہ، ’’اور اُن کے جیسے شہر‘‘ (یہوداہ7)، کوئی ایسی جگہ نہیں ہیں کہ کرسمس پر یا نئے سال پر اُدھر بھاگا جائے! تعطیل کی دیوانگی سے پرھیز کریں! گرجہ گھر میں خُدا کے لوگوں کے ساتھ ہوں، ’’تفریح‘‘ کے بہت بڑے بُت کے بجائے مسیح کی پرستش کریں۔ بائبل کہتی ہے،

’’خداوند خدا فرماتا ہے کہ اُن میں سے نکل کر الگ رہو‘‘ (2۔ کرنتھیوں 6:17).

آنے والی ’’تعطیل‘‘ کے جنون سے باہر نکلیں! باہر نکلیں! باہر نکلیں! اور کرسمس پر اور نئے سال کی شام کو ہمارے ساتھ گرجہ گھر میں ہوں! مگر ہماری تلاوت میں ایک آخری شِق ہے۔

III۔ سوئم، سُلیمان بادشاہ نے کہا، ’’اور اُس کے بعد وہ مُردوں میں جا ملتے ہیں۔‘‘

مہربانی سے کھڑیں ہو جائیں اور واعظ9:3 آیت با آواز بُلند پڑھیں۔

’’بنی آدم کے دل بدی سے اور اُن کے سینے عمر بھر دیوانگی سے بھرے رہتے ہیں اور اُس کے بعد وہ مُردوں میں جا ملتے ہیں‘‘ (واعظ 9:3).

آپ تشریف رکھ سکتے ہیں۔ ’’اور اُس کے بعد وہ مُردوں میں جا ملتے ہیں۔‘‘

موت! یہی ہے جو زندگی کی دیوانگی کے بعد آتی ہے۔ موت! ’’تفریح‘‘ کے شیطانی بُت کے پیچھے دیوانہ وار بھاگنے سے، چٹیل، سرد موت کی حقیقت سے فرار نہیں کیا جا سکتا۔ جی نہیں، وہاں قبر میں کوئی ’’تفریح نہیں ہوگی! وہاں جہنم میں کوئی ’’تفریح‘‘ نہیں ہوتی! بائبل کہتی ہے،

’’وہ امیر آدمی … فوت ہُوا اور دفنایا گیا اور جب اُس نے عالمِ ارواح میں عذاب میں مبتلا ہوکر اپنی آنکھیں اوپر اُٹھائیں‘‘ (لوقا 16:22۔23).

یسوع نے کہا، ’’یہ لوگ ہمیشہ کی سزا پائیں گے‘‘ (متی25:46)۔

’’بنی آدم کے دل بدی سے اور اُن کے سینے عمر بھر دیوانگی سے بھرے رہتے ہیں اور اُس کے بعد وہ مُردوں میں جا ملتے ہیں‘‘ (واعظ 9:3).

ڈاکٹر جان گِل نے اِس آیت کے بارے میں بتایا جب اُنہوں نے کہا،

اپنی زندگی کی تمام دیوانگی کے بعد، مر جاتے ہیں اور مُردوں کی حالت میں چلے جاتے ہیں… وہ نیچے جہنم میں جاتے ہیں (جان گِل، ڈی۔ڈی۔ John Gill, D.D.، پرانے عہدنامے کی ایک تفسیرAn Exposition of the Old Testament، دی بپٹسٹ سٹینڈرڈ بیئرر The Baptist Standard Bearer، دوبارہ اشاعت1989، جلد چہارم، صفحہ 607؛ واعظ9:3 پر تبصرہ)۔

زندگی میں سب سے زیادہ اہم بات لطف و تسکین کے تعاقب نہیں ہوتا ہے۔ ابھی ’’لطف اندوز‘‘ ہونے کا دائمی زندگی میں کوئی معنی نہیں ہوتا، اگر آپ آخری عدالت میں خُدا سے ملنے کے لیے تیار ہوئے بغیر ہی مر جاتے ہیں۔ آپ کو اپنے گناہ کی سزایابی کو محسوس کرنا چاہیے۔ آپ کو مسیح کے لیے گناہ سے منہ موڑنا چاہیے۔ آپ کو فضل کے وسیلے سے مسیح کے پاس لایا جانا چاہیے، اور اُس کے دائمی خون کے وسیلے سے اپنے گناہ سے پاک صاف ہونا چاہیے! یسوع نے کہا، ’’تمہیں نئے سرے سے دوبارہ جنم لینا چاہیے‘‘ (یوحنا3:7)۔

سُلیمان ایک بوڑھا آدمی تھا جب اُس نے واعظ کی کتاب لکھی۔ وہ اپنے بچوں سے ایک باپ کی مانند بات کر رہا تھا۔ میں خود اِس دُنیا میں تقریباً 74 سالوں سے زندگی بسر کر رہا ہوں۔ آج کی صبح میں آپ کے ساتھ ایک بوڑھے انکل کی مانند بات کر رہا ہوں۔ میں چاہتا کہ آپ مسیحی زندگی کو کامیاب بنائیں، اور میں اُمید کرتا ہوں کہ آپ میری بات سُنیں گے۔ واعظ کے اختتام پر سُلیمان نے کہا، ’’اپنی جوانی کے دِنوں میں اپنے خالق کو یاد رکھ‘‘ (واعظ12:1)۔ جوانی وہ وقت ہوتا ہے جب سنجیدگی کے ساتھ ہمیشہ کی زندگی کے بارے میں سوچنا چاہیے۔ میں اُمید کرتا ہوں کہ آپ نوجوان لوگ میری بات سُنیں گے کیونکہ، سُلیمان کی مانند، میں زندگی کے 74 سالوں کو دیکھ چکا ہوں۔ میں جانتا ہوں کہ آپ کے لیے مسیح کو تلاش کرنا کس قدر اہمیت کا حامل ہے، اور ہمیشہ کے زندگی کے بارے میں ابھی سوچنا، جبکہ آپ ابھی نوجوان ہی ہیں۔ اُن الفاظ کو سُنیں جو مسٹر گریفتھ Mr. Griffith نے اِس واعظ سے پہلے گائے تھے۔

تم ہمیشہ کی زندگی کہاں پر گزارو گے؟ یہ سوال تم پر اور مجھ پر آتا ہے؛
وہ حتمی جواب کیا ہوگا؟ تم ہمیشہ کی زندگی کہاں پر گزارو گے؟
ہمیشہ کی زندگی! ہمیشہ کی زندگی! تم ہمیشہ کی زندگی کہاں پر گزارو گے؟
      (’’ تم ہمیشہ کی زندگی کہاں پر گزارو گے؟ Where Will You Spend Eternity?‘‘ شاعرہ علیشاہ اے۔ ھوفمین Elisha A. Hoffman، 1839۔1929)۔

ہمیشہ کی زندگی کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا آپ کو ’’تعطیل کی دیوانگی‘‘ کی جان کو لعنتی کر دینے والی پریشانی سے بچا لے گا۔ نجات دہندہ یسوع مسیح کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا آپ کو گناہ سے بیدار کر دے گا، اور اُس میں نجات کے لیے آپ کی رہنمائی کرے گا۔ وہ صلیب پر آپ کے گناہ کا کفارا ادا کرنے کے لیے مرا۔ وہ مُردوں میں سے آپ کو دائمی زندگی دینے کے لیے جی اُٹھا۔ مسیح کے بارے میں سنجیدہ ہو جائیں! ابھی سے ہی کرسمس کے کھانے، اور کرسمس کی شام اور نئے سال کی شام کا بھی یہاں گرجہ گھر میں ہونے کے لیے منصوبہ بنا لیں۔ خُداوند آپ کو برکت دے! آمین۔ ڈٓاکٹر چعین Dr. Chan، مہربانی سے دعا میں ہماری رہنمائی کریں۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہیمرز کے واعظwww.realconversion.com پر پڑھ سکتے ہیں
www.rlhsermons.com پر پڑھ سکتے ہیں ۔
"مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

یہ مسودۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے تمام ویڈیو پیغامات حق اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے
جا سکتے ہیں۔

واعظ سے پہلے کلام پاک سے تلاوت مسٹر ایبل پرودھوم Mr. Abel Prudhomme نے کی تھی: لوقا16:19۔26.
واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بنجامن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith نے گایا تھا: ’’ تم ہمیشہ کی زندگی کہاں پر گزارو گے؟
Where Will You Spend Eternity?‘‘ (شاعرہ علیشاہ اے۔ ھوفمین Elisha A. Hoffman، 1839۔1929)۔

لُبِ لُباب

تعطیلاتِ کرسمس کی دیوانگی!

!CHRISTMAS HOLIDAY MADNESS

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

’’بنی آدم کے دل بدی سے اور اُن کے سینے عمر بھر دیوانگی سے بھرے رہتے ہیں اور اُس کے بعد وہ مُردوں میں جا ملتے ہیں‘‘ (واعظ 9:3).

(واعظ1:14؛ 2:11، 17؛ 1یوحنا2:17)

I. اوّل، سُلیمان بادشاہ نے کہا، ’’بنی آدم کے دِل بدی سے بھرے رہتے ہیں،
واعظ7:20؛ پیدائش6:5؛ زبور14:3؛
رومیوں3:10؛ اشعیا1:5۔6؛ یرمیاہ17:9 .

II. دوئم، سُلیمان بادشاہ نے کہا، ’’اور اُن کے سینے عمر بھر دیوانگی سے بھرے
رہتے ہیں،‘‘ یرمیاہ50:38؛ لوقا6:22۔23؛ یہوداہ7؛
2۔کرنتھیوں6:17۔

III. سوئم، سُلیمان بادشاہ نے کہا، ’’اور اُس کے بعد وہ مُردوں میں جا ملتے ہیں،‘‘
لوقا16:22۔23؛ متی25:46؛ یوحنا3:7؛ واعظ12:1 .