Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 215 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.co پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہمارے ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 36 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔

جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔


مسیح کا آسمان پر اُٹھایا جانا اور آمدِ ثانی

THE ASCENSION AND SECOND COMING OF CHRIST
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
خُداوند کے دِن کی صبح، 18 جولائی، 2010
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord's Day Morning, July 18, 2010

’’اور جب وہ اُسے ٹکٹکی باندھے آسمان کی طرف جاتا ہوا دیکھ رہے تھے تو دیکھو دو مرد سفید لباس میں اُن کے آس پاس آ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے: اے گلیلی آدمیوں! تم کھڑے کھڑے آسمان کی طرف کیوں دیکھ رہے ہو؟ یہی یسوع جو تمہارے پاس سے آسمان پر اُٹھایا گیا ہے، اِسی طرح پھر آئے گا جس طرح سے تم لوگوں نے اُسے آسمان پر جاتے ہوئے دیکھا ہے‘‘ (اعمال1:10۔11)۔

آج کی صبح میں آسمان میں مسیح کے اُٹھائے جانے اور اُس کی آمد ثانی پر بات کروں گا۔ میں آپ کو عظیم سپرجیئن کے ’’آسمان میں اُٹھایا جانا اور دوسری آمد کا عملی طور پر سمجھا جاناThe Ascension and Second Advent Practically Considered،‘‘ نامی عنوان کے پیغام کا سادہ کیا گیا ترجمہ پیش کر رہا ہوں، جس کی سپرجیئن نے اصل میں خود 28 دسمبر، 1884 میں منادی کی تھی (میٹرو پولیٹن عبادت گاہ کی واعظ گاہ Metropolitan Tabernacle Pulpit، جلد 31، صفحات13۔24)۔ کسی بھی اور ہستی نے ہمارے خداوند یسوع مسیح کی زندگی اور مذہبی خدمت پر اِس قدر زیادہ وضاحت سے کبھی بھی بات نہیں کی جس طرح سی۔ ایچ۔ سپرجیئن نے کی۔ میری کتنی خواہش ہے کہ نوجوان مبلغین کی ساری نئی نسل سپرجیئن کے واعظوں کو دوبارہ حوصلہ افزائی اور خُدائی ہدایت کے لیے دیکھیں۔ ہماری نسل کو مبلیغین کے شہزادے کو دوبارہ سُننے کی ضرورت ہے۔ اُس کے واعظ، خصوصی طور پر جو یسوع کی زندگی اور مذہبی خدمت پر ہیں، 21 ویں صدی میں اُن کو سادہ کرنے اور اُن کی دوبارہ تبلیغ کرنے کی ضرورت ہے۔ آج نوجوان لوگوں کو اُن کے پیغامات کو سُننے کی ضرورت ہے۔ اُنہیں سادہ کیا جانا چاہیے اور کم فصیح انگریزی میں پیش کیا جانا چاہیے کہ ہمارے کم خواندہ ذہن اُنہیں سمجھ پائیں۔ اِس لیے، میں آپ کو اُن کا یہ پیغام ایک سادہ روپ میں آج کی صبح پیش کر رہا ہوں۔

یسوع کی زندگی کی تاریخ میں پانچ بڑے بڑے واقعات کافی نمایاں طور پر واضح ہوتے ہیں۔ سارے سچے مسیح، یسوع کی پیدائش، اُس کی موت، اُس کے مُردوں میں سے دوبارہ جی اُٹھنے اور اُس کے آسمان میں اُٹھائے جانے کے بارے میں سوچنے سے محبت کرتے ہیں۔ ہمیں اُس کی آمد ثانی کے بارے میں سُننا بھی اچھا لگتا ہے۔ مسیح کی زندگی اور مذہبی خدمت میں یہ پانچ واقعات انتہائی اہم ہیں اورہمیں اِن کے بارے میں اکثر سوچنا چاہیے۔ اِن میں سے ہر ایک واقعہ دوسرے کی جانب رہنمائی کرتا ہے اور اُس کی آمد ثانی کے لیے رہنمائی کرنے میں ایک سنہری زنجیر بناتا ہے۔ اُس کی پیدائش اُس کی موت کے لیے رہنمائی کرتی ہے۔ اُس کا مُردوں میں سے دوبارہ زندہ ہونا اُس کے واپس اُوپر آسمان میں اُٹھائے جانے کی جانب رہنمائی کرتی ہے۔ اُس کا آسمان میں اُٹھایا جانا حیرت انگیز جلال میں اُس کی دوسری آمد کی جانب رہنمائی کرتا ہے۔

آج کی صبح ہم مسیح کے آسمان میں اُٹھائے جانے سے شروع کریں گے۔ مسیح گیارہ شاگردوں کے ساتھ زیتون کے پہاڑ کے پہلو پر چڑھتا ہے۔ وہ چند ایک دِن پہلے ہی مُردوں میں سے جی اُٹھا تھا۔ اُس نے اکثر اُن سے بات کی تھی اور اُنہیں کہہ چکا تھا،

’’میرے ہاتھ اور پاؤں دیکھ، میں ہی ہوں۔ مجھے چھو کر دیکھو کیونکہ روح کی ہڈیاں ہی ہوتی ہیں اور نہ گوشت جیسا کہ تم مجھ میں دیکھ رہے ہو۔ یہ کہنے کے بعد اُس نے اُنہیں اپنے ہاتھ اور پاؤں دیکھائے‘‘ (لوقا24:39۔40)۔

وہ اُن کے ساتھ اپنے مُردوں میں سے جی اُٹھنے کے بعد کھانا کھا چکا تھا۔ وہ اُن کے ساتھ چالیس دِنوں تک بات چیت کرتا رہا تھا، اور اُنہیں عظیم مقصد پیش کر چکا تھا،

’’اِسی لیے تم جاؤ اور ساری قوموں کو شاگرد بناؤ، اور اُنہیں باپ، بیٹے اور پاک روح کے نام سے بپتسمہ دو: اور اُنہیں یہ تعلیم دو کہ اُن سب باتوں پر عمل کریں جن کا میں نے تمہیں حکم دیا ہے اور دیکھو! میں دُنیا کے آخر تک ہمیشہ تمہارے ساتھ ہوں‘‘ (متی28:19۔20)۔

’’اور یسوع نے اور بھی بہت سے کام کیے۔ اگر ہر ایک کے بارے میں تحریر کیا جاتا تو میں سمجھتا ہوں کہ جو کتاب وجود میں آتیں اُن کے لیے دُںیا میں گنجائش نہ ہوتی‘‘ (یوحنا21:25)۔

لیکن اب جی اُٹھا مسیح گیارہ شاگردوں کے ساتھ کوہ زیتون کے پہاڑ کے پہلو پر چڑھتا ہے۔ اب وہ کوہ زیتون کی چوٹی پر پہنچ جاتے ہیں اور یسوع رُک جاتا ہے۔ نجات دہندہ شاگردوں کے وسط میں کھڑا ہوتا ہے اور اُنہیں دعا میں برکت دیتا ہے۔ وہ اپنے چھیدے ہوئے ہاتھوں کو بُلند کرتا ہے، اور جب وہ اُنہیں بُلند کر رہا ہوتا ہے، وہ زمین پر سے اُٹھنا شروع کر دیتا ہے۔ وہ اُسے اُن سے اوپر ہوتا ہوا دیکھ کر حیران رہ جاتے ہیں۔ ایک ہی لمحے میں وہ زیتون کے درختوں کی چوٹیوں سے اوپر اُٹھ جاتا ہے۔ پھر وہ اوپر وسطی ہوا میں اُٹھتا ہے، اور پھر اوپر وہاں پر جاتا ہے جہاں بادل ہوتے ہیں۔ شاگرد حیرت کے ساتھ بھونچکے کھڑے رہ جاتے ہیں، اور اچانک وہ چلا جاتا ہے، ایک بادل میں، ’’اور بادل نے اُسے اُن کی نظروں سے چُھپا لیا‘‘ (اعمال1:9)۔ شاگرد وہیں پر کھڑے کھڑے اوپر بادلوں میں دیکھتے رہتے ہیں۔ وہ وہیں پر کھڑے رہتے ہیں، اپنی گالوں پر بہتے ہوئے آنسوؤں کے ساتھ، اب بھی اوپر ہی دیکھ رہے ہوتے ہیں۔

وہ شاید وہیں پر کھڑے اوپر تک اُسے دیکھتے رہے جب تک اُن کی حیرت خوف میں نہ بدل جاتی، لیکن اُن میں مداخلت کی گئی۔ دو فرشتوں نے اُن سے بات کی اور کہا، ’’تم کھڑے کھڑے آسمان کی طرف کیوں دیکھ رہے ہو؟‘‘ (اعمال1:11)۔ یہ فرشتے اُن کے سامنے انسانی روپ میں نمودار ہوئے تھے تاکہ وہ خوفزدہ نہ ہوں۔ پھر سفید لباس میں ملبوس فرشتوں نے بولنا شروع کیا۔ فرشتوں نے ’’اے گلیلی آدمیو‘‘ پکارنے سے ظاہر کیا کہ وہ اُنہیں جانتے ہیں۔ اُنہیں واپس ہوش و حواس میں لائے، شاگرد واپس یروشلم جانے کے لیے تیار ہوتے ہیں۔ اُنہیں احساس ہو جاتا ہے کہ نجات دہند کا اُوپر اُٹھایا جانا کوئی ایسی بات نہیں تھی جس کے بارے میں اُنہیں افسردہ ہونا چاہیے۔ وہ آسمان کے جلال میں اوپر اپنے تخت پر جا چکا ہے۔

دیکھا آپ نے، میں نے زیادہ تصورات کا استعمال نہیں کیا۔ میں نے مشکلوں ہی سے سادہ ترین زبان میں جو کچھ رونما ہوا تھا اُس کا تزکرہ کیا۔ لیکن میں چاہتا ہوں کہ آپ اِس نظارے کے بارے میں اپنے ذہن میں سوچیں جب کہ میں آپ سے ہماری تلاوت میں سے تین باتوں کے بارے میں بات کرتا ہوں،

’’اور جب وہ اُسے ٹکٹکی باندھے آسمان کی طرف جاتا ہوا دیکھ رہے تھے تو دیکھو دو مرد سفید لباس میں اُن کے آس پاس آ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے: اے گلیلی آدمیوں! تم کھڑے کھڑے آسمان کی طرف کیوں دیکھ رہے ہو؟ یہی یسوع جو تمہارے پاس سے آسمان پر اُٹھایا گیا ہے، اِسی طرح پھر آئے گا جس طرح سے تم لوگوں نے اُسے آسمان پر جاتے ہوئے دیکھا ہے‘‘ (اعمال1:10۔11)۔

I۔ پہلی بات، یہاں فرشتوں کی دھیمی سی سرزش ہے۔

’’اے گلیلی آدمیوں! تم کھڑے کھڑے آسمان کی طرف کیوں دیکھ رہے ہو؟ یہ سفید لباس میں ملبوس مُردوں کی کوئی سخت سرزش نہیں تھی۔ یہاں کوئی بات سخت یا ناگوار نہیں ہے، محض دھیمی سی ڈانٹ، ایک سرسری سی ملامت۔ آخر کار، جو کچھ شاگرد کر رہے تھے وہ ایک غلطی تھی، ناکہ بہت بڑا گناہ۔

غور کریں، سب سے پہلے، کہ جو وہ کر رہے تھے پہلی نظرمیں دُرست دکھائی دیتا تھا۔ میرے خیال میں کہ اگر یسوع یہاں پر ابھی ہمارے ساتھ ہوتا تو ہم اُسی کی جانب دیکھتے۔ جب وہ اوپر آسمان میں اُٹھایا گیا، تو یہ اُس کے دوستوں کی ذمہ داری تھی کہ اُس پر نظریں جمائے رکھتے۔ اوپر دیکھتے رہنا کبھی بھی غلط نہیں ہو سکتا تھا۔ ہمیں ایسا کرنے کے لیے اکثر بائبل میں کہا جاتا ہے۔ زبور نویس نے کہا، ’’میں اپنی دُعائیں تیرے حضور پیش کروں گا اور اوپر دیکھوں گا‘‘ (حوالہ دیکھیں زبور5:3)۔ پولوس رسول ہمیں بتاتا ہے، ’’عالم بالا کی چیزوں کے خیال میں رہو نہ کہ زمین پر کی چیزوں کے خیال میں‘‘ (کُلسیوں3:2)۔ ’’دیکھناlook‘‘ ہمیشہ سے دُرست لفظ رہا ہے۔ قبل از متجسم نجات دہندہ کہتا ہے، ’’تم میری طرف دیکھو اور نجات پاؤ‘‘ (اشعیا45:22)۔ اپنی تمام زندگیاں، ہمیں ’’یسوع کی جانب دیکھتے رہنا‘‘ چاہیے (عبرانیوں12:2)۔

لیکن یہاں پر ایک ’’نظریں جما کر دیکھنا‘‘ ہے جو کہ دُرست نہیں ہے، جب وہ ’’نظریں جما کر دیکھنا‘‘ پرستش کی نظروں سے نہیں ہوتا ہے بلکہ تجسس کی ایک نظر ہوتی ہے۔ اُس بات کو جاننے کی خواہش کرنا دُرست نہیں جس کو خُدا نے آشکارہ نہیں کیا ہے۔ میرے دوستو، خالی آسمان میں اوپر دیکھتے رہنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ اگر مسیح خود اوپر ہماری فضا میں نظر نہیں آتا ہے تو ہماری آنکھوں کے دیکھنے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے۔ مستحکم نظر آسمان میں ڈالنا شاید حقیقی پرستش ہو، لیکن اگر یہ مسیح کے لیے کام کرنے کی جگہ بنا لیتی ہے تو یہ سراسر حماقت ہے۔ آج یہاں ایسے لوگ ہیں جو اپنے سروں کو پیچھے گراتے ہیں، اپنے بازوؤں کو پھیلا کر، اوپر آسمان میں نظریں جماتے ہیں، جو یہاں اِس زمین پر مسیح کے لیے بہت کم کام کرتا ہے۔ یہ سراسر حماقت بن جاتی ہے۔

اس کے باوجود مجھے کہنا چاہیے کہ اُس کے لیے اوپر دیکھنا انتہائی قدرتی بات تھی۔ میں حیران نہیں ہوں کہ گیارہ شاگرد وہیں کھڑے اوپر دیکھتے رہے۔ اگر میں وہاں پر ہوتا، تو میں پُریقین ہوں میں نے بھی وہی کام کیا ہوتا۔ کیا آپ وہاں پر اوپر دیکھتے ہوئے کھڑے نہ رہے ہوتے؟ مسیح ہمیں اُن باتوں کو کرنے کی اجازت دیتا ہے جو معصومانہ طور پر قدرتی ہوتی ہیں، لیکن وہ نہیں چاہتا کہ ہم اُنہیں حد سے زیادہ تجاوز کر دیں۔ اِس لیے وہ کسی نہ کسی کو ہمیں بتانے کے لیے بھیجتا ہے، ’’تم یہاں کھڑے کھڑے کیا گھور رہے ہو؟‘‘ اور سچے مسیحی جواب دیں گے، ’’ہمیں ہمیشہ تک کے لیے نظریں اوپر اُٹھائے یہاں کھڑے نہیں رہنا چاہیے۔‘‘ ہمیں اپنی روزمرّہ کی زندگیوں میں واپس چلے جانا چاہیے کہ مسیح کے لیے جئییں اور کام کریں۔ پرستش میں مسیح کے لیے اوپر دیکھنا دُرست ہے، لیکن ہمیں پھر کام پر واپس چلے جانا چاہیے۔ ہمیں ایک تاریک ہوتی ہوئی دُنیا میں بشروں کو جیتنے والا اور گواہ ہونا چاہیے۔

یہاں ایک عملی نکتہ ہے: ہم شاید اُس کی نقل کر سکتے ہیں جو اُنہوں نے کیا۔ ’’اوہ،‘‘ آپ کہتے ہیں، ’’میں کبھی بھی آسمان میں نظریں جمانے کے لیے کھڑا نہیں ہوں گا۔‘‘ لیکن میں پُریقین نہیں ہوں کہ آپ دُرست ہیں۔ کچھ لوگ نہایت مُتجسس ہوتے ہیں لیکن انتہائی فرمانبردار نہیں ہوتے۔ وہ شاید بائبل کی پیشن گوئیوں کو جاننے کے لیے نہایت متجسس ہوں، جبکہ زیادہ اہم معاملات کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔ مجھے ایک شخص یاد ہے جو پیشن گوئی کی تفصیلات میں نہایت دلچسپی رکھتا تھا، لیکن جس کے ہاں اپنے سات بچوں کے ساتھ کوئی خاندانی دعا نہیں ہوتی تھی۔ میں ایسے لوگوں کو جانتا ہوں جو آپ کو بائبل کی پیشن گوئیوں کے بارے میں بتائیں گے، لیکن جو مسیح میں ایمان لا کر تبدیل ہونے کے بارے میں، گرجا گھر میں حاضر ہونے کے بارے میں، مسیحی زندگی کی گواہی دینے یا اُسے بسر کرنے کے بارے میں نہایت ہی کم جانتے ہیں۔ میں مانتا ہوں کہ نبوکدنصر کے رویا میں نقش کے پیروں کے مطالعے میں اہمیت ہے، اور اُن بادشاہتوں کو سمجھنے کی اہمیت جو پیروں کی دس انگلیوں سے بنتی تھیں، لیکن میں نہیں سوچتا ایسے مطالعے کو ایک مسیحی زندگی بسر کرنے کی جگہ لے لینی چاہیے۔ اگر پیشن گوئیوں کا مطالعہ کرنے میں جو وقت لگتا ہے اُس کو بشروں کو جیتنے اور دعا مانگنے میں صرف کیا جائے، تو انسان کو زیادہ فائدہ پہنچے گا اور خُدا کو اور زیادہ جلال ملے گا۔ میں آپ سے چاہتا ہوں کہ پیشن گوئی کو سمجھیں، لیکن اِس بات کو مت بھولیں کہ ہمارا اہم مقصد یہ پکارنا ہے، ’’دیکھو خُدا کا برّہ!‘‘ ہر ذرائع سے سیکھیں جو آپ پیشن گوئی کے بارے میں سیکھنا چاہتے ہیں، لیکن اُس سے پہلے ہر وہ کچھ کریں جس سے آپ اپنے بچوں کو تعلیم دے سکتے ہیں، اور خاندانی عبادتوں میں، اور سب سے پہلے اِس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ اپنی مقامی کلیسیا میں سخت محنت کر رہے ہیں، گمراہ لوگوں کو گرجا گھر لانے کے لیے اور خُدا کی کلیسیا کو بنانے کے لیے! بدنصیبی، جہالت اور گناہ جو ہمارے اِرد گرد ہیں ہر طرف سے تقاضا کرتے ہیں کہ ہم خدا کے کام کے لیے اپنی تمام قوتیں صرف کر دیں! اور اگر آپ سُنیں گے نہیں، بیشک میں سفید لباس میں ملبوس ایک فرشتہ نہیں ہوں، میں آپ سے کہتا ہوں، ’’کیوں یہاں پر کھڑے رہ کر پیشن گوئی کے اسرار میں نظریں جمانے کی کیا ضرورت ہے جبکہ یسوع کے لیے کرنے کو بے شمار کام باقی پڑا ہوا ہے، اور آپ اُس کو کر نہیں رہے ہیں؟‘‘ اوہ آپ جو مُتجسس تو ہیں لیکن فرمانبردار نہیں ہیں، میں خوفزدہ ہوں کہ آپ میری نہیں سُنیں گے، لیکن میں بتا چکا ہوں، اور میں دعا مانگتا ہوں کہ پاک روح آپ کے دِلوں میں اِس کے بارے میں بات کرے گا۔

دوسرے ’’پرستش‘‘ کے بارے میں بات کرتے ہیں، لیکن فعال نہیں ہوتے – ’’پرستش‘‘ کے گیتوں میں اور ’’پرستش‘‘ کے اوقات میں نہایت دلچسپی رکھتے ہیں، لیکن اچھے کام کرنے کے لیے پُرجوش نہیں ہوتے ہیں۔ سچی پرستی کی قلت ہے، اور میں خواہش کرتا ہوں اِس میں اضافہ ہو۔ لیکن میں ’’پرستش‘‘ کے بارے میں باتیں کر رہا ہوں جس میں مذہب خود غرضی کا موضوع بن جاتا ہے۔ میں خوفزدہ ہوں کہ کچھ لوگ ’’پرستش کو اِس طرح سے لیتے ہیں جیسے اِس کا اہم مقصد لطف اندوز ہونا اور خود کی تسکین پانا ہوتا ہے۔ جب ایک شخص کا مذہب صرف خود کو لطف پہنچانے تک محدود ہو جاتا ہے، تو اُس میں ایک بیماری ہوتی ہے۔ جب ایک شخص ایک سوال کے ذریعے سے ایک واعظ کا انصاف کر رہا ہوتا ہے، تو ’’کیا اِس سے مجھے کچھ پتا چلتا ہے؟‘‘ یہ ایک سؤرانہ فیصلہ ہوتا ہے۔ یہاں ایک ایسی بات ہوتی ہے جیسے سؤر کا مذہب، جس میں ایک شخص صرف اتنا ہی سوچتا ہے کہ وہ موسیقی سے کتنا لطف اندوز ہوا، وہ ’’پرستش‘‘ سے کتنا لطف اندوز ہوا، وہ واعظ سے کتنا لطف اندوز ہوا۔ یہ ایک سؤرانہ مذہب ہے۔ خود مسیح کی پرستش فیشن کے طور پر ایسے جاری رہ سکتی ہے کہ وہ آپ کو مسیح سے دور کر دیتی ہے! پرستش جس کے بعد مقامی گرجا گھر میں فعال عبادت نہیں ہوتی، فرشتوں کی ملامتوں کی صحیح مستحق ہوتی ہے، ’’اے گلیلی آدمیوں، تم کھڑے کھڑے آسمان کی طرف کیوں دیکھ رہے ہو؟‘‘

وہ جو خصوصی طور پر خود کو ’’پرستش‘‘ میں لطف اندوز کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں، یا وہ جو بائبل کی پیشن گوئی پر جدید ترین خیالات میں خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں، اُنہیں اِن فرشتوں کے ذریعے سے سرزش کرنے کی ضرورت پڑتی ہے، ’’تم کھڑے کھڑے آسمان کی طرف کیوں دیکھ رہے ہو؟‘‘

II۔ دوسری بات، یہاں مسیح کے بارے میں خوشی سے بھرپور وضاحت ہے۔

میں چاہتا ہوں کہ آپ مسیح کی خوشی سے بھرپور تفصیل پر غور کریں۔ اُنہوں نے اُس کی وضاحت یوں کی ہے،

’’ یہی یسوع جو تمہارے پاس سے آسمان پر اُٹھایا گیا ہے‘‘ (اعمال 1:11).

میں ’’یہی یسوع‘‘ کی وضاحت کو سراہتا ہوں، کیونکہ یہ اُن کی جانب سے کی گئی ہے جو اُسے بہترین طور پر جانتے تھے۔ وہ ’’فرشتوں کو دکھائی دیا‘‘ تھا (1تیموتاؤس3:16)۔ اُنہوں نے اُسے زمین پر اُس کی ساری زندگی دیکھا تھا۔ وہ اُسے جانتے تھے۔ اور جب اُنہوں نے اُسے باپ کی جانب اُٹھتے ہوئے دیکھا، تو اُنہوں نے اُس کے بارے میں کہا، ’’یہی یسوع۔‘‘ میں اُن کی بے خطا گواہی کے وسیلے سے جانتا ہوں کہ وہ وہی یسوع تھا، اور یہی یسوع ہے، جو کبھی زمین پر رہتا تھا۔ وہ یہی ہے۔

یسوع جا چکا ہے، لیکن وہ اب بھی وجود رکھتا ہے۔ وہ ہمیں چھوڑ چکا ہے لیکن وہ مُردہ نہیں ہے۔ وہ ایک روح میں نہیں تبدیل ہوا یا کہیں گُھل یا تحلیل نہیں ہو گیا۔ ’’یہی یسوع‘‘ اوپر باپ کے تخت کے لیے جا چکا ہے، اور وہ وہاں پر اتنے ہی یقین کے ساتھ ہے جتنا وہ کبھی پیلاطُس کی عدالت میں کھڑا تھا۔ جتنے یقین کے ساتھ وہ صلیب پر لٹکا ہوا تھا، اُتنے ہی یقین کے ساتھ یہ وہی یسوع خُدا کے تخت پر داہنی جانب بیٹھا ہوا ہے۔ وہ مسیح جس پر اُنہوں نے تھوکا تھا اب وہ مسیح ہے جس کی پرستش فرشتے متواتر کرتے ہیں۔ وہ مسیح جس کو اُنہوں نے دُرّے سے کوڑے مارے تھے اب وہ وہی ہے جس کی آسمان میں مقدسین اور فرشتے پرستش کرتے ہیں۔ اِس کے بارے میں سوچیں اور آج کی صبح خوش ہو جائیں۔ یسوع زندہ ہے! احتیاط کریں کہ آپ بھی زندہ رہیں۔ ادھر اُدھر بیوقوفیاں مت کریں جیسے کہ آپ کے پاس کرنے کے لیے کوئی کام ہی نہ ہو۔ مسیح کے آمد ثانی پر بادلوں میں اُس کا استقبال کرنے کے لیے ساکت کھڑے انتظار مت کرتے رہیں۔ ٹیلی ویژن کے ’’مسیحی‘‘ کی مانند اپنے ہاتھوں کے ساتھ ہوا میں فضول میں وقت نہ گزاریں۔ مسیح زندہ ہے، اور اُس کے پاس آپ کے کرنے کے لیے کام ہے جب تک وہ آ نہیں جاتا۔ اِس لیے جائیں، اور اِسے کریں!

’’یہی یسوع ‘‘ – مجھے اُس لفظ سے محبت ہے، کیونکہ ’’یسوع‘‘ کا مطلب ’’ایک نجات دہندہ‘‘ ہوتا ہے۔ اگر آپ ایک گمراہ گنہگار ہیں، تو اُس کا یہی نام جو اوپر آسمان میں جا چکا ہے آپ کے لیے ایک دعوت نامہ بن جاتا ہے! کیا آپ ’’اِسی یسوع‘‘ کے پاس آئیں گے؟ یہ وہی ہے جس نے اندھوں کو بینائی بخشی تھی اور قید میں سے قیدیوں کو رہائی دلائی تھی۔ وہ آج بھی یہی کام کر رہا ہے۔ اوہ، کہ آپ کی آنکھیں شاید اُس کے نور کو دیکھ لیں! وہ جس نے کوڑھیوں کو چھوا تھا، اور مُردوں کو زندہ کیا تھا، اب بھی وہی یسوع ہے۔ وہ حتی الامکان بچانے کے قابل ہے۔ وہ آپ کو ہمیشہ کے لیے بچانے کے قابل ہے! اوہ، میں دعا مانگتا ہوں کہ آپ اُسی یسوع کی جانب دیکھیں گے اور اُس کے وسیلے سے نجات پائیں گے! اُس کی جانب دیکھیں اور زندگی پائیں! آپ کو صرف اِتنا کرنے کی ضرورت ہے کہ یسوع میں ایمان کے وسیلے سے آئیں، جیسے وہ عورت جس نے اُس کے لباس کو چھوا تھا اور شفا پا گئی تھی، کیونکہ یہ وہی یسوع ہے۔ قصوروار گنہگاروں کے لیے اُس کی محبت اب بھی ویسی ہی ہے جیسی جب وہ اِس زمین پر رہا کرتا تھا۔ وہ ابھی گناہ سے پاک صاف کر دے گا اور نجات دلائے گا، بالکل جیسے اُس نے اُس وقت کیا تھا جب وہ یہاں تھا۔

’’یہی یسوع۔‘‘ وہ الفاظ نہ صرف ہم پر یہ ظاہر کرتے ہیں کہ یہ وہی مسیح ہے جو زمین پر رہا کرتا تھا۔ وہ الفاظ ہم پر یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ یہی یسوع دوبارہ واپس آ رہا ہے۔ یہی یسوع جو اوپر چلا گیا تھا آسمان پر اُٹھائے جانے کے موقع پر دوسری آمد کے موقع پر نیچے آ جائے گا۔ اُس کی آمدِ ثانی پر، وہ یہی یسوع ہوگا جس نے زمین پر زندگی بسر کی تھی – اور یہی یسوع ابھی آسمان میں رہ رہا ہے – خُدا کے داہنے ہاتھ پر۔

یہ احساس کرنا اہم ہے کہ فطرت میں وہ یہی ہستی ہوگی – مگر حالت میں وہی ہستی نہیں ہو گی۔ وہ اب نجات دہندہ ہے۔ لیکن جب وہ بادلوں میں آئے گا، وہ منصف ہوگا۔ ہماری آنکھیں اُس دِن اُس کو دیکھیں گی۔ ہم اُس کو ناصرف اُس کے ہاتھوں میں کیلوں کے نشانات کے وسیلے سے پہچان پائیں گے بلکہ اُس کے انتہائی ظہور کی وجہ سے بھی پہچان پائیں گے۔ ہم کہیں گے، ’’یہ وہی ہے! یہ وہی ہے!‘‘

جب شاگردوں سے پوچھا گیا تھا، ’’تم کھڑے کھڑے آسمان کی طرف کیوں دیکھ رہے ہو؟‘‘ تو اُنہوں نے شاید کہا ہو، ’’ہم یہاں اِس لیے کھڑے ہیں کیونکہ ہم نہیں جانتے جانا کہاں ہے۔ ہمارا مالک جا چکا ہے۔‘‘ لیکن چونکہ یہ وہی یسوع ہے، اور وہ دوبارہ آ رہا ہے، جاؤ اور بالکل ابھی کام پر لگ جاؤ۔ وہ جو بائبل کو مسترد کرتے ہیں کہتے ہیں، ’’مسیحیت ختم ہو چکی ہے۔ تمہارا الٰہی مسیح جا چکا ہے۔‘‘ ہمارا جواب یہ ہے۔ ہم کھڑے کھڑے آسمان میں نہیں دیکھ رہے ہیں۔ ہم نے ہمت نہیں ہاری ہے کیونکہ یسوع ہم سے دور چلا گیا ہے۔ وہ زندہ ہے! وہ عظیم مخلصی دینے والا زندہ ہے! یہ ہماری خوشی ہے کہ ہم اپنی آنکھیں اُٹھائیں کیونکہ ہم اُس کے دوبارہ آنے کی توقع رکھتے ہیں۔ یہ ہماری مساوی خوشی ہے کہ اپنی نظروں کو زمین کی جانب رکھیں، اور شہر میں نیچے جائیں، لوگوں کو بتانے کے لیے کہ یسوع جی اُٹھا ہے، اور کہ وہ اُنہیں بچا سکتا ہے اور اُنہیں ہمیشہ کی زندگی بخش سکتا ہے، اگر وہ اُس میں یقین کریں گے۔ ہم ہارے نہیں ہے۔ اِس سے بہت پرے ہیں! اُس کا اُٹھایا جانا کوئی شکست نہیں ہے، بلکہ ایک تیاری ہے یا پیش قدمی ہے۔ وہ آنے میں صرف اِس لیے دیر کر رہا ہے کیونکہ وہ گنہگاروں کے لیے مسلسل تڑپ رہا ہے۔ وہ فتح قابلِ سوال نہیں ہے۔ خُدا کی تمام فوجیں حتمی جنگ کے لیے تیاریاں کر رہی ہیں۔ یہی یسوع اپنے سفید گھوڑے پر سوار ہو کر آسمان کی فوجوں کی رہنمائی کرنے کے لیے تیاریاں کر رہا ہے، فتح کرنے کے لیے اور فتح کر رہا ہے!

III۔ تیسری بات، یہاں پر بہت بڑی بڑی عملی باتوں کا اِطلاق ہوتا ہے۔

یہ سچائیاں عملی ہیں۔ یہ اِس لیے نہیں بخشی گئیں کہ ہم آسمان میں گھورتے رہیں، بلکہ زمین پر خُدا کی خدمت کرنے کے لیے ہمیں ترغیب دیں۔ وہ کیا ہیں؟

1. کیوں، پہلے، کہ یسوع آسمان میں چلا گیا ہے۔ یسوع جا چکا ہے! یسوع جا چکا ہے! یسوع کو آپ کے پاس سے آسمان میں لے جایا جا چکا ہے، خُدا کے تخت پر، جہاں سے وہ ہماری مدد اور ہمارے لیے دعا مانگ سکتا ہے۔ میں دُنیا میں جانے اور کام پر جانے کے لیے ہر وجہ کو دیکھتا ہوں کیونکہ وہ آسمان میں جا چکا ہے اور آسمان اور زمین پر تمام قوت اُس کو بخشی گئی ہے۔ ’’اِس لیے تم جاؤ اور ساری قوموں کو شاگرد بناؤ اور اُنہیں باپ بیٹے اور پاک روح کے نام سے بپتسمہ دو‘‘ (متی28:19)۔

2. دوسرا اطلاق یہ ہے کہ یسوع دوبارہ اْ رہا ہے۔ اُس نے ہمیں چھوڑا نہیں ہے۔ ہمارا رہنما میدان جنگ کے دوسرے حصے میں جا چکا ہے، لیکن وہ واپس آئے گا، شاید آپ کے اگلی پلک چھپکانے میں۔ یہاں مسیح اور بادشاہ اور میدان جنگ میں کم تر ترین سپاہی کے مابین ایک عظیم اتحاد رہتا ہے۔ وہ ہماری پرواہ کرتا ہے۔ اُس کا دِل ہمارے ساتھ ہے، اور وہ ہمارے لیے دعا مانگ رہا ہے۔ وہ کہتا ہے، ’’دیکھو، میں جلد آنے والا ہوں اور ہر ایک کو اُس کے عمل کے مطابق دینے کے لیے میرے پاس اجر موجود ہے‘‘ (مکاشفہ22:12)۔

3. تیسرا اِطلاق یہ ہے کہ وہ اُسی طرح سے آ رہا ہے جسے وہ گیا تھا۔ تلاوت کہتی ہے کہ وہ ’’اِسی طرح سے پھر آئے گا جس طرح سے تم لوگوں نے اُسے آسمان پر جاتے دیکھا ہے‘‘ (اعمال1:11)۔ بعض تبصرہ نگار انگریزی کو سمجھنے کی اہلیت رکھتے ہوئے دکھائی نہیں دیتے۔ وہ کہتے ہیں کہ اِس کا مطلب ہوتا ہے پینتیکوست کے دِن پر اُس کی ’’روحانی‘‘ آمد۔ لیکن کوئی بھی ذرا سی بھی سمجھ کے ساتھ دیکھ سکتا ہے کہ ’’روحانی آمد‘‘ اُسی طریقے سے نہیں آ رہی جس طرح سے وہ آسمان میں اوپر گیا تھا! ہمارا خُداوند اُوپر اُٹھایا گیا تھا۔ وہ اُس کو ہوا میں اُٹھتا ہوا دیکھ سکتے تھے۔ وہ دوبارہ ویسے ہی واپس آئے گا جیسے اوپر گیا تھا۔ ’’دیکھو، یسوع بادلوں کے ساتھ آ رہا ہے؛ اور ہر آنکھ اُسے دیکھے گی‘‘ (مکاشفہ1:7)۔ ’’یہی یسوع‘‘ واقعی میں اوپر گیا تھا۔ ’’یہی یسوع‘‘ واقعی میں دوبارہ آئے گا۔ وہ بادلوں میں سے نیچے اُترے گا بالکل جیسے وہ بادلوں میں اوپر گیا تھا۔ اور ’’آخری وقت وہ زمین پر کھڑا ہوگا‘‘ (ایوب19:25)۔ ’’اور اُس دِن وہ کوہ زیتون پر جو مشرق میں ہے کھڑا ہو گا… اور خُداوند میرا خُدا آئے گا اور تمام مقدس لوگ اُس کے ساتھ ہوں گے‘‘ (زکریا14:4۔5)۔ جب وہ دوبارہ واپس آئے گا، وہ باغی قوموں کو لوہے کی سُلاخ کے ساتھ توڑے گا، کیونکہ اُس دِن اُس کی قوت ناقابلِ مزاحمت ہوگی۔
     تیسرا اِطلاق یہ ہے کہ وہ اُسی طرح سے آ رہا ہے جسے وہ گیا تھا۔ تلاوت کہتی ہے کہ وہ ’’اِسی طرح سے پھر آئے گا جس طرح سے تم لوگوں نے اُسے آسمان پر جاتے دیکھا ہے‘‘ (اعمال1:11)۔ بعض تبصرہ نگار انگریزی کو سمجھنے کی اہلیت رکھتے ہوئے دکھائی نہیں دیتے۔ وہ کہتے ہیں کہ اِس کا مطلب ہوتا ہے پینتیکوست کے دِن پر اُس کی ’’روحانی‘‘ آمد۔ لیکن کوئی بھی ذرا سی بھی سمجھ کے ساتھ دیکھ سکتا ہے کہ ’’روحانی آمد‘‘ اُسی طریقے سے نہیں آ رہی جس طرح سے وہ آسمان میں اوپر گیا تھا! ہمارا خُداوند اُوپر اُٹھایا گیا تھا۔ وہ اُس کو ہوا میں اُٹھتا ہوا دیکھ سکتے تھے۔ وہ دوبارہ ویسے ہی واپس آئے گا جیسے اوپر گیا تھا۔ ’’دیکھو، یسوع بادلوں کے ساتھ آ رہا ہے؛ اور ہر آنکھ اُسے دیکھے گی‘‘ (مکاشفہ1:7)۔ ’’یہی یسوع‘‘ واقعی میں اوپر گیا تھا۔ ’’یہی یسوع‘‘ واقعی میں دوبارہ آئے گا۔ وہ بادلوں میں سے نیچے اُترے گا بالکل جیسے وہ بادلوں میں اوپر گیا تھا۔ اور ’’آخری وقت وہ زمین پر کھڑا ہوگا‘‘ (ایوب19:25)۔ ’’اور اُس دِن وہ کوہ زیتون پر جو مشرق میں ہے کھڑا ہو گا… اور خُداوند میرا خُدا آئے گا اور تمام مقدس لوگ اُس کے ساتھ ہوں گے‘‘ (زکریا14:4۔5)۔ جب وہ دوبارہ واپس آئے گا، وہ باغی قوموں کو لوہے کی سُلاخ کے ساتھ توڑے گا، کیونکہ اُس دِن اُس کی قوت ناقابلِ مزاحمت ہوگی۔

4. چوتھا اِطلاق یہ ہے کہ آپ کو خُداوند سے ملنے کے لیے جب وہ واپس آتا ہے تیار رہنے کی ضرورت ہے۔ مسیحیوں کو اُس کی مقامی گرجا گھر کے ذریعے سے خدمت کرنی چاہیے۔ لیکن کیا ہو اگر آپ ابھی تک مسیح میں ایمان لا کر تبدیل نہیں ہوئے؟ آپ تیار نہیں ہوں گے جب یسوع آئے گا جب تک کہ آپ اُس میں ایمان لا کر تبدیل نہیں ہو جاتے۔ اپنے گناہ سے ناطہ توڑ ڈالیں اور مکمل طور پر یسوع مسیح کی جانب رُخ کر لیں۔ ’’خُداوند یسوع مسیح میں ایمان لا تو تو نجات پائے گا‘‘ (اعمال16:31)۔ یقین کر اور زندہ رہ! یسوع آپ کے گناہ کی ادائیگی کے لیے قربان ہو گیا۔ یسوع مُردوں میں سے زندہ ہو گیا۔ یسوع آسمان میں زندہ ہے۔ یسوع دوبارہ آ رہا ہے۔ یسوع میں ابھی ایمان لاؤ، مکمل طور پر اور سارے دِل کے ساتھ۔ وہ آپ کو گناہ، جہنم اور قبر سے نجات دلائے گا۔ آمین!



اگر اس واعظ نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز آپ سے سُننا پسند کریں گے۔ جب ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں تو اُنہیں بتائیں جس ملک سے آپ لکھ رہے ہیں ورنہ وہ آپ کی ای۔میل کا جواب نہیں دیں گے۔ اگر اِن واعظوں نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز کو ایک ای میل بھیجیں اور اُنہیں بتائیں، لیکن ہمیشہ اُس مُلک کا نام شامل کریں جہاں سے آپ لکھ رہے ہیں۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای میل ہے rlhymersjr@sbcglobal.net (‏click here) ۔ آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو کسی بھی زبان میں لکھ سکتے ہیں، لیکن اگر آپ انگریزی میں لکھ سکتے ہیں تو انگریزی میں لکھیں۔ اگر آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو بذریعہ خط لکھنا چاہتے ہیں تو اُن کا ایڈرس ہے P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015.۔ آپ اُنہیں اِس نمبر (818)352-0452 پر ٹیلی فون بھی کر سکتے ہیں۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہائیمرز کے واعظ www.sermonsfortheworld.com
یا پر پڑھ سکتے ہیں ۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

یہ مسوّدۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے ہمارے گرجہ گھر سے ویڈیو پر دوسرے تمام واعظ اور ویڈیو پیغامات حق
اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

واعظ سے پہلے کلام پاک میں سے تلاوت ڈاکٹر کرھیٹن ایل۔ چعین Dr. Kreighton L. Chan نے کی تھی: اعمال 1:1۔12 .
واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بینجیمن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith
نے گایا تھا: ’’وہ دوبارہ آ رہا ہے He is Coming Again‘‘
(شاعر میبل جانسٹن کیمپ Mabel Johnston Camp، 1871۔1937).

لُبِ لُباب

مسیح کا آسمان پر اُٹھایا جانا اور آمدِ ثانی

THE ASCENSION AND SECOND COMING OF CHRIST

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

’’اور جب وہ اُسے ٹکٹکی باندھے آسمان کی طرف جاتا ہوا دیکھ رہے تھے تو دیکھو دو مرد سفید لباس میں اُن کے آس پاس آ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے: اے گلیلی آدمیوں! تم کھڑے کھڑے آسمان کی طرف کیوں دیکھ رہے ہو؟ یہی یسوع جو تمہارے پاس سے آسمان پر اُٹھایا گیا ہے، اِسی طرح پھر آئے گا جس طرح سے تم لوگوں نے اُسے آسمان پر جاتے ہوئے دیکھا ہے‘‘ (اعمال1:10۔11)۔

(لوقا 24:39۔40؛ متی 28:19۔20؛ یوحنا 21:25).

I۔   بات، یہاں فرشتوں کی دھیمی سی سرزش ہے، زبُور 5:3؛ کُلسیوں 3:2؛
اشعیا 45:22؛ عبرانیوں 12:2۔

II۔  دوسری بات، یہاں مسیح کے بارے میں خوشی سے بھرپور وضاحت ہے، اعمال1:11؛ 1۔ تیموتاؤس 3:16۔

III۔ تیسری بات، یہاں پر بہت بڑی بڑی عملی باتوں کا اِطلاق ہوتا ہے، متی 28:19؛
مکاشفہ 22:12؛ اعمال 1:11؛ مکاشفہ 1:7؛ ایوب 19:25؛
زکریاہ 14:4۔5؛ اعمال 16:31۔