Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 215 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.co پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہمارے ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 36 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔

جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔


اتوار کی شام کو بند!

CLOSED ON SUNDAY NIGHT!
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
خُداوند کے دِن کی شام، 18 نومبر، 2001
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord's Day Evening, November 18, 2001

’’دولہا کے آنے میں دیر ہو گئی اور وہ سب کی سب اونگھتے اونگھتے سو گئیں‘‘ (متی25:5)۔

عقلمند اور بیوقوف کنواریوں کی تمثیل ہمارے زمانے کے بے شمار گرجا گھروں کی حالت کو واضح کرتی ہے۔ ہم اب ایک کے بعد ایک گرجا گھر کو شام کی عبادت کو ختم کرتا ہوا دیکھ رہے ہیں۔ میں یقین کرتا ہوں کہ اُن علامتوں میں سے ایک ہے کہ ہم اب آخری ایام میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔ یہ واعظ کوئی تلخ تنقید یا کسی پر ایک حملہ نہیں ہے۔ اِس واعظ سے مُراد اِن تاریک دِنوں میں جدوجہد کرتے ہوئے پادری صاحبان کی مدد اور اُن کی حوصلہ افزائی ہے۔ یہ میری دعا ہے کہ جیسے جیسے آپ اِسے پڑھیں تو آپ کو حوصلہ ملے گا۔

1685 بعد از مسیح میں تحریر کرتے ہوئے، پیوریٹن بائبل کے تبصرہ نگار میتھیو پول Mathew Poole متی 25:1۔13 کے شاندار طور پر عمدہ تفسیر پیش کرتے ہیں (پاک بائبل پر میتھیو پول کا تبصرہ Mathew Poole’s Commentary on the Holy Bible، جلد سوئم، سچائی کا بینر Banner of Truth، 1685 کے ایڈیشن کی 1990 میں دوبارہ اشاعت)۔ پول نشاندہی کرتے ہیں کہ تمثیل کا اہم مقصد ’’[مسیح کی] آمد کے وقت کی غیریقینی صورتحال کی نگرانی کی چوکسی اور ذمہ داری‘‘ کو ظاہر کرنا ہے۔ وہ جاری رہتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ دس کنواریاں اقراری کلیسیاؤں کو ظاہر کرتی ہیں۔ اُن میں سے آدھی مسیح میں ایمان نہ لائی ہوئیں غیر تبدیل شُدہ ہیں اور دوسری آدھی حالانکہ نجات یافتہ ہیں لیکن سو رہی ہیں۔ پول کہتے ہیں:

اُن کا اونگھنا اور سونا بہترین کی کمزوری کے معنوں کو ظاہر کرتا ہے، جو سوتی ہیں [اِس کے علاوہ]… آدھی رات کو دولہے کا آنا مصیبتوں یا آفتوں کے تاریک زمانے میں یا ایک ایسے وقت میں جس کا پتا نہ چلے مسیح کی آمد کو ظاہر کرتا ہے۔

یہ حوالہ آج کی شام ہمارے گرجا گھروں میں مسیحی مذہب کی ایک بالکل صحیح وضاحت ہے۔ لاکھوں مبشران اور بنیاد پرست اُونگھ اور سو رہے ہیں۔ مسیح کی آمدِ ثانی انتہائی قریب آ رہی ہے، لیکن ہمارے گرجا گھر سوئے پڑے ہیں! ہم اب ایک کے بعد دوسرے گرجا گھر کو اپنی شام کی عبادتوں کو بند کرتا ہوا دیکھتے ہیں۔ میں قائل ہو چکا ہوں کہ یہ آخری ایام کی علامتوں میں سے ایک ہے – اُونگھتے ہوئے گرجا گھر اپنے دروازوں کو بند کر رہے ہیں – جوں جوں وقت قریب آ رہا ہے – اور دُنیا جسے کہ ہم جانتے ہیں یہ خاتمے کی جانب بڑھ رہی ہے۔

’’دولہا کے آنے میں دیر ہو گئی اور وہ سب کی سب اونگھتے اونگھتے سو گئیں‘‘ (متی25:5)۔

اِتوار کی شام کی عبادتوں کا بند ہونا ہر قسم کے بپٹسٹس [گرجا گھروں] کے درمیان تازہ ترین رُجحان ہے۔ مغربی بپٹسٹس [گرجا گھر] اور کچھ وسیع مغربی گرجا گھر، ’’ترقی یافتہprogressive‘‘ بی بی ایف آئیBBFI گرجا گھر، اور یہاں تک کہ چند ایک ’’بوب جونز‘‘ بنیاد پرست گرجا گھر اِتوار کی صبح کی عبادت کے بعد دروازے بند کر رہے ہیں – امریکہ کے ایک سرے سے لے کر دوسرے سرے تک۔ اِتوار کی شام کی عبادت تیزی سے ماضی کی بات بنتی جا رہی ہے۔

میں یقین رکھتا ہوں کہ یہ بات بے شمار گرجا گھروں کی پرانی بیماری کو ظاہر کرتی ہے۔ یہ یقینی طور پر کسی بھی طرح سے کوئی مثبت علامت نہیں ہے۔ جیسا کہ کسی بھی پرانی بیماری کے ساتھ، ڈاکٹر کی جانب سے کوئی بھی علاج نہیں بتایا جا سکتا جب تک کہ بیماری کی دُرست طریقے سے تشخیص نہ کی جا چکی ہو۔ اِس واعظ میں، ہم مریض (وہ گرجا گھر جو شام کی عبادتیں کرتے ہیں) کا معائنہ کریں گے اور وجہ کی تشخیص کریں گے – اور پھر علاج کی تجویز دیں گے – ایک دوائی اور ایک علاج۔ اِس گرجا گھروں کی بیماری کو پانچ طریقوں سے جانچا جا سکتا ہے۔

I۔ پہلی بات، بپتسمہ دینے والے گرجا گھروں میں اِتوار کی شام کی عبادت کا بند ہونا صرف حال ہی میں ہوا ہے جو ایک عام پروٹسٹنٹ رُجحان میں رونما ہو چکا ہے۔

میتھوڈسٹس نے اپنی اتوار کی عبادتوں کو لگ بھگ 1910 میں بند کرنا شروع کیا۔ پریسبائیٹیرئینز Presbyterians نے اپنی اِتوار کی شام کی عبادتوں کو تقربیاً 1925 میں بند کرنا شروع کیا۔ امریکی بپٹسٹس [گرجا گھروں] نے اپنی اِتوار کی شام کی عبادتوں کو تقریباً 1945 میں بند کرنا شروع کیا۔ مغربی بپٹسٹس [گرجا گھروں] نے ایسا کرنا تقریباً 1985 میں شروع کیا۔ اِس بات کو یاد رکھنا چاہیے کہ میتھوڈسٹس، پریسبائیٹیرئینز اور امریکی بپٹسٹس [گرجا گھر] اتنے ہی بائبل میں یقین رکھنے والے تھے جتنا کہ کوئی بنیاد پرستFundamental بپٹسٹس گرجا گھر جب یہ رُجحان ’’پروگریسیوprogressive‘‘ ملبغین کے اپنے فرقوں کے درمیان شروع ہوا۔

آج میتھوڈسٹس، پریسبائیٹیرئینز اور امریکی بپٹسٹس [گرجا گھر] پر نظر ڈالیں! اُن کی رُکنیت کی حاضریاں سال بہ سال گھٹتی جا رہی ہیں۔ یہ تمام کے تمام تینوں فرقے 1900 سے لیکر اب تک سینکڑوں ہزاروں ممبران کو کھو چکے ہیں۔ اُن کے ہزاروں گرجا گھر مکمل طور پر بند ہو چکے ہیں۔ اِتوار کی شام کی عبادت کو بند کرنا اُن کی مدد نہیں کر پایا۔ یہ تباہی کی پھسلن ڈھلوان پر صرف ایک قدم تھا۔

اِس کے باوجود آج بے شمار خود مختیار بپٹسٹس [گرجا گھر] سوچتے ہیں کہ وہ کسی نئی اور ترقی یافتہ سوچ میں سب سے آگے ہیں جب وہ اُسی راہ کی پیروی کرتے ہیں جس نے میتھوڈسٹس، پریسبائیٹیرئینز اور امریکی بپٹسٹس [گرجا گھر] کو تباہ ہونے میں مدد دی۔ حال ہی میں ہمارے ایک خودمختار بپٹسٹس مبلغ نے کہا، ’’میں انقلابی قدم اُٹھا چکا ہوں! میں ہماری اتوار کی شام کی عبادت ختم کر چکا ہوں!‘‘ وہ سوچتا ہے کہ یہ اُس کے گرجہ گھر کی مدد کرے گا، لیکن میں سوچتا ہوں کہ یہ صرف اُس کی مذہبی جماعت کے لیے نقصان کا سبب بنے گا – جیسا کہ یہ اُن ’’بڑی بڑی‘‘ کلیسیاؤں میں جن کا میں نے تذکرہ کیا، کیا جا چکا ہے۔

ونسٹن چرچل Winston Churchill نے ایک مرتبہ کہا، ’’تاریخ کا مطالعہ کرو! تاریخ کا مطالعہ کرو!‘‘ اُس نے کہا، ’’جس قدر پیچھے دور تک آپ دیکھ سکتے ہیں، اُسی قدر آگے ممکنہ طور پر دور تک دیکھ سکتے ہیں۔‘‘ اِسی لیے یہ جاننا اہم ہے کہ ’’بڑی بڑی mainline‘‘ پروٹسٹنٹ اور بپٹسٹس گرجا گھروں میں کیا رونما ہوا جب ماضی میں اُنھوں نے اتور کی شام کی عبادتوں کو چھوڑنا شروع کیا۔ یہ دیکھنا ضروری ہے کہ کیسے اِس سے اُن کی نیست و نابود ہونے اور تحلیل ہونے میں مدد ملی۔

تاریخ دان تیموتھی ایل۔ سمتھ Timothy L. Smith ابتدائی 19ویں صدی کی عظیم پروٹسٹنٹ اور بپٹسٹس کلیسیاؤں [گرجا گھروں] کے بارے میں ان حقائق کی نشاندہی کر چکے ہیں:

یقینی طور پر جدید معیار کی گرجا گھر کی رکنیت ایک محنت طلب معاملہ ہے۔ تمام اوینجیلکل فرقوں کو باہمی رابطہ کار، مسیح میں ایمان لانے کی تبدیلی کا ایک ذاتی تجربہ اور ایک ثابت قدم زندگی درکار ہوتی ہے۔ دو پرستشی عبادتیں اور سبت کے روز سنڈے سکول روایتی تھے، جس کے ساتھ ساتھ وسطِ ہفتہ میں دعا کے لیے اجتماع ہوتا تھا… یہ تمام کی تمام سرگرمیاں آج انتہائی سنجیدگی کے ساتھ نہیں کی جا رہی ہیں (ڈاکٹر۔ تیموتھی ایل۔ سمتھDr. Timothy L. Smith، حیاتِ نو کی تعلیم اور معاشرتی اصلاح: خانہ جنگی کے دھانے پر امریکی پروٹسٹنٹ اِزم Revivalism and Social Reform: American Protestantism on the Eve of the Civil War، ہارپر Harper، 1965، صفحہ 18).

آج، روایتی ’’بڑے بڑے‘‘ گرجا گھر ماضی میں جو وہ تھے اُس کا محض ایک سایہ ہیں۔ انھوں نے شام کی عبادت چھوڑ دی۔ انھوں نے دعائیہ اجلاس چھوڑ دیئے۔ اب وہ پاک روح کو چھوڑنے کے عمل میں ہیں! یہ اُن خود مختار بپٹسٹس [گرجا گھر] کے درمیان جو ہمارے زمانے میں اُسی راہ پر چل رہے ہیں ناگزیر نتیجہ بھی ہوگا۔

’’دولہا کے آنے میں دیر ہو گئی اور وہ سب کی سب اونگھتے اونگھتے سو گئیں‘‘ (متی25:5)۔

II۔ دوسری بات، بپٹسٹ گرجا گھروں میں اتوار کی شام کی عبادت بند کرنا ’’فیصلہ سازیتdecisionism‘‘ کے نتائج میں سے ایک ہے۔

جیسا کہ ہم نے ہماری کتاب آج کا اِرتدادToday’s Apostasy میں نشاندہی کی، چارلس جی فنی Charles G. Finney نے 19ویں صدی کے وسط میں عظیم پروٹسٹنٹ اور بپٹسٹ کلیسیاؤں میں ’’فیصلہ سازیت‘‘ کو مشہور کیا۔ فنّی کی ’’فیصلہ سازیت‘‘ نے انسانی روح میں خُدا کے کام کی حیثیت سے بائبل کی مسیح میں ایمان لانے والی تبدیلی کو اِس تصور کے ساتھ کہ آدمی سطحی طور پر ’’مسیح کے لیے ایک فیصلہ‘‘ کرنے کے ذریعے سے نجات پاتا ہے بدل ڈالا۔ محض ایک دعا یا جسمانی ردعمل نے اُس پرانے زمانے کے مسیح میں ایمان لا کر تبدیل ہونے کے بائبل والے انقلابی تصور کی جگہ لے لی۔ نتیجہ کے طور پر، وہ پروٹسٹنٹ اور بپٹسٹ گرجا گھر بہت جلد اپنی رُکنیت کی حاضریوں میں لاکھوں کی تعداد میں گمراہ لوگوں کے ساتھ بھر گئے۔ غیرنجات یافتہ لوگ اِتوار کو دو دفعہ گرجا گھر جانا نہیں چاہتے – اِس طرح سے فنّی کے طریقۂ کاروں کو اپنا لینے کے بعد اِن گرجا گھروں میں سے چند ایک دہائیوں کے بعد ہی اِتوار کی شام کی عبادت غائب ہو گئی۔

اِس کی بالکل دُرست دہرائی اب سارے امریکہ کے ’’قدامت پسند conservative‘‘ بپٹسٹ گرجا گھروں میں رونما ہو رہی ہے۔ ایک جنوبی بپٹسٹ پادری مجھ سے افسوس کر رہا تھا کہ اُسے اپنی اتور کی شام کی عبادت بند کرنی پڑی تھی۔ اُس نے کہا، ’’اُنھوں نے مجھے بتایا وہ نہیں آئیں گے۔‘‘ میں نے یہ کہتے ہوئے محسوس کیا، ’’اگر میرے گرجا گھر میں لوگوں نے مجھے وہ کہا ہوتا، تو میں عبادت اُن کے بغیر ہی کرواتا رہتا – چاہے اِس کا مطلب ہوتا کہ صرف میرا خاندان اور میں ہی وہاں پر ہوتے۔‘‘ لیکن میں نے خاموشی ہی پر اِکتفا کیا۔

ایک نوجوان شخص کی حیثیت سے میں جتنے بھی بیپٹسٹ گرجا گھروں میں گیا اُن میں سے کسی ایک میں بھی اتوار کی شام کو سارے کے سارے لوگ موجود نہیں ہوتے تھے۔ ہم ہمیشہ سے سمجھتے تھے کہ وہ لوگ جو کم مخلص تھے، یا کبھی بھی سچے طور پر مسیح میں ایمان لا کر تبدیل نہیں ہوئے تھے، کبھی بھی وہاں نہیں ہوں گے۔ لیکن ہم کسی نہ کسی طور آگے بڑھتے رہے۔ میری جوانی کی اتوار کی شام کی عبادتیں ہمیشہ ہی بہترین عبادتیں ہوا کرتی تھیں۔ گیت بہت ہوتے تھے۔ واعظ بہتر دکھائی دیتے تھے۔ ہمیں اتوار کی شام کی وہ عبادتیں بہت پسند تھیں! ہو سکتا ہے کہ یہ اِس وجہ سے تھا کہ وہ جو مذہبی ۔ مگر ۔ گمراہ تھے وہاں پر ہر کسی کی روح کو کھینچنے کے لیے وہاں پر نہیں تھے۔ ماضی میں جھانکتے ہوئے، یہی ہے جو میں سوچتا ہوں۔

آج خود ہمارے اپنے گرجا گھر میں، ہر کوئی اتوار کی شام کو واپس آتا ہے۔ میں یقین کرتا ہوں یہ اِس لیے ہے کیوں کہ اُنہیں ایسا کرنے کے لیے تربیت دی گئی ہے۔ لیکن میں یہ بھی یقین کرتا ہوں کہ اِس حقیقت کے ساتھ اِس طرح سے نپٹنا کہ ہم اِس بات کو یقینی بنانے کے لیے بے انتہا احتیاط کے ساتھ کہ ہر شخص کی مسیح میں ایمان لانے کی خالص تبدیلی اُن کے گرجا گھر کا ممبر بننے سے پہلے ہو چکی ہے۔ ذاتی طور پر، میں کسی کو سچے طور پر مسیح میں ایمان لا کر تبدیل ہونےکے لیے کہیں زیادہ انتظار کروا لوں گا بجائے اِس کے کہ ایک اور گمراہ شخص کو جو اِتوار کی شام کو گرجا گھر نہیں آئے گا جلدی سے بپتسمہ دے دوں!

میں یقین کرتا ہوں کہ ’’فیصلہ سازیت‘‘ نے ہمارے گرجا گھروں کی حاضریوں کو گمراہ لوگوں کے ساتھ بھر دیا ہے – اور ہم اب قیمت چکا رہے ہیں۔ وہ بس اِتوار کی شام کو آنا ہی نہیں چاہتے!

’’دولہا کے آنے میں دیر ہو گئی اور وہ سب کی سب اونگھتے اونگھتے سو گئیں‘‘ (متی25:5)۔

III۔ تیسری بات، اِتوار کی شام کی عبادت کا بند ہو جانا اکثر اِس وجہ سے بھی ہوتا ہے کہ پادری صاحب کو منادی کے لیے بُلاہٹ ہی نہیں ہوئی ہوتی۔

ایک پادری جس کی تبلیغ کرنے کے لیے ’’بُلاہٹ‘‘ شفاف نہیں ہوتی اُس کے پاس کہنے کے لیے کچھ زیادہ نہیں ہوتا۔ اُس کے پاس دو واعظوں کو جن میں ہجوم کو برقرار رکھنے کے لیے کافی ’’مواد‘‘ ہو تیار کرنے کا اگر ناممکن نہیں تو بہت مشکل کام ہوتا ہے۔ جب لوگ پوچھتے ہیں، ’’کیا خُداوند کی طرف سے کوئی کلام ہے؟‘‘ تو اُس کو نہیں پتا چلے گا کہ کیسے ہر اِتوار کو دو مرتبہ اُن کی توجہ قائم رکھنے کے لیے ایک نہایت مضبوط جواب دے گا۔

افسوسناک طور پر، بے شمار مبلغین کی تو پہلے نمبر پر منادی کرنے کے لیے سرے سے کبھی بھی کوئی بُلاہٹ ہوتی ہی نہیں۔ میں ایک مرتبہ کھانے کی میز پر مبلغین کے ایک گروہ کے ساتھ بیٹھا۔ جب ہم باتیں کر رہے تھے، میں نے کہا، ’’چلیں آپ کی گواہی سُنتے ہیں کیسے خُداوند نے آپ کو تبلیغ کے لیے بُلایا۔ جب سب کی باری ہو گئی تو میں یہ جان کر حیران رہ گیا کہ صرف ایک اور پادری صاحب کے پاس خُدا کے اُس کو تبلیغ کے لیے بُلانے کا معتبر واقعہ پیش کرنے کے قابل تھا۔ میں حیران ہوا تھا کیونکہ وہ تمام کے تمام بے شمار باتوں میں نہایت عمدہ اشخاص تھے۔

لیکن اگر ایک انسان کی خُدا کی جانب سے کبھی بھی بالکل شفاف یا سیدھی بُلاہٹ نہیں ہوتی، تو وہ کبھی بھی اُس طرح سے تبلیغ کرنے کے قابل نہیں ہوتا جو اُسے سُننے کے لیے لوگوں کو ہر اِتوار کو دو دفعہ سُننے پر مجبور کرے۔ وہ کبھی بھی ’’اپنے خزانے سے نئی اور پرانی دونوں قسم کی چیزوں کو نکالنے کے‘‘ قابل نہیں ہوگا (متی13:52)۔

افسوسناک طور پر، ہم کئی دہائیوں سے مذہبی خدمت کے لیے نوجوان لوگوں کو ’’بھرتی‘‘ کرتے رہے ہیں۔ ہم اُنہیں ’’تبلیغ کی خاطر خود کو حوالے کرنے کے لیے‘‘ بُلا چکے ہیں۔ میری نظر میں، یہ ایک غلطی ہے۔ اپنے نوجوان لوگوں کو ایک مبلغ کی حیثیت سے رضاکارانہ طور پر پیش ہونے کا پوچھنے کی بجائے ہمیں اُنہیں اِس بارے میں گھر جانے اور دعا مانگنے کے لیے کہنا چاہیے۔ ہمیں اُنہیں کہنا چاہیے کہ دعا مانگیں جب تک خُدا اُنہیں بالاآخر بُلا نہیں لیتا – اور یہ بات اُن پر واضح کر دیں کہ اُنہیں اُسی [خُداوند] کے لیے بولنا چاہیے اور اُسی [خُداوند] کے لیے منادی کرنی چاہیے۔ صرف جب اُن کے پاس خُدا کی جانب سے ایک انتہائی واضح اور ناقابلِ غلطی بُلاہٹ ہوتی ہے – اُن کے دِلوں میں اُس [خُداوند] کی ساکن، چھوٹی سی آواز کے ذریعے سے اُنہیں مذہبی خدمت میں داخل ہونے کے بارے میں سوچنا چاہیے۔ اور کبھی بھی کسی کو بھی اپنے والدین کو خوش کرنے کے لیے مذہبی خدمت میں داخل نہیں ہونا چاہیے۔ ہمارے پاس ضرورت سے کہیں زیادہ ’’لاڈلے کہلائے جانے والے‘‘ مبلغین ہیں، اور نہایت ہی چند ایک خُدا کے بُلائے ہوئے مبلغین ہیں۔ کوئی تعجب نہیں کہ لوگ اُنہیں سُننے کے لیے اِتوار کی شام کو نہیں آتے! لوگ کہہ رہے ہیں، ’’کیا یہاں خُداوند کا کوئی نبی نہیں ہے جس سے ہم پوچھ سکیں؟‘‘ (1سلاطین22:7)۔ جواب اکثر ’’نہیں‘‘ ہوتا ہے – اور یہ اُن اہم وجوہات میں سے ایک ہوتی ہے کہ کیوں وہ لوگ اِتوار کی شام کو واپس نہیں لوٹتے۔ اگر آپ کی تبلیغ کرنے کے لیے بُلاہٹ نہیں ہوئی ہے، تو خُداوند سے اپنی بُلاہٹ کے لیے دعا مانگیں، جب تک کہ یا تو وہ ایسا کر نہیں لیتا یا وہ آپ پر اِس بات کو واضح نہیں کر دیتا کہ آپ کو مذہبی خدمت کے کام کو چھوڑ دینا چاہیے۔

’’دولہا کے آنے میں دیر ہو گئی اور وہ سب کی سب اونگھتے اونگھتے سو گئیں‘‘ (متی25:5)۔

IV۔ چوتھی بات، اِتوار کی شام کی عبادت کو بند کرنے سے بے شمار غیرمتوقع، نقصان دہ نتائج سامنے آتے ہیں۔

میں پُریقین ہوں کہ جن کا میں تزکرہ کروں گا اُن کے مقابلے میں اور بھی بے شمار منفی نتائج ہوں گے۔ لیکن یہاں اُن میں سے چند ایک ہیں جو ذہن میں آتے ہیں۔

1. وہ کلیسیائیں جو اپنی شام کی عبادتیں بند کر رہی ہیں مشنریوں کے لیے نمائندگی کو اِس سے دوگنا مشکل بنا رہی ہیں۔ خود مختار بپتسمہ دینے والے [بپٹسٹس] اپنے مشنریوں کی ’’نمائندگی کے کام [خوشخبری کے عظیم مقصد کو پھیلانے]‘‘ کے ذریعے سے سہارا [پالنا پوسنا، گھربار چلانا] پاتی ہیں – ہمارے گرجا گھروں میں بات کرنے سے۔ اگر ہم اپنی اِتوار کی شام کی عبادتوں کو کرتے ہیں تو وہ مشنری گرجا گھروں میں بات کرنے کی اپنے ½ مواقعوں کو کھو دیتے ہیں۔ پس، ہمارے گرجا گھروں میں اِتوار کی شام کی عبادتوں کو بند کرنا مشنریوں کے لیے سہارے [پالنے پوسنے، گھربار چلانے] کو اِتنا ہی دوگناہ مشکل بنا ڈالے گی، کیونکہ بات کرنے کے اُن کے ½ مواقعے تو ختم ہو چکے ہوں گے۔ جیسا کہ اب یہ [رُجحان] چل رہا ہے تو اُن کے لیے سہاروں [پالنے پوسنے، گھربار چلانے]کو پروان چڑھانا کافی مشکل ہو گیا ہے! آئیے اِتوار کی شام کی عبادت کو بند کرنے سے اِس کو اِتنا ہی دوگنا مت بنائیں!

2. وہ گرجا گھر جو اپنی اِتوار کی شام کی عبادت کو بند کرتے ہیں اپنے لوگوں کے لیے اُن دوسرے گرجا گھروں میں جو شاید اُن لوگوں کو بھٹکنے میں رہنمائی دیں، جانے کے لیے دروازے کھول دیتے ہیں۔ ایک مبلغ، جنہوں نے حال ہی میں اپنی اِتوار کی شام کی عبادت کو بند کیا اُنہوں نے کہا، ’’یہ مجھے دوسرے گرجا گھروں میں جانے کے لیے فراغت فراہم کرتا ہے۔‘‘ اُںہوں نے سوچا تھا یہ شاندار تھا کہ اب وہ اِتوار کی شام کو دوسرے مبلغین کو جا کر سُن پائیں گے۔ لیکن میں نے سوچا، ’’اُن کے اپنے لوگوں کا کیا بنے گا؟ کیا اُن میں سے کچھ کے ذہن میں یہی خیال نہیں آیا ہوگا؟‘‘ اور اُن لوگوں کے ساتھ کیا رونما ہوگا؟ یاد رکھیں، بہترین لوگ اب بھی اِتوار کی شام کو آنا چاہیں گے۔ لیکن وہ کہاں پر آئیں گے؟ کیا وہ کرشماتی گرجا گھر میں جائیں گے، اگلے ہی موڑ پر ایک جوشیلی عبادت میں؟ کیا وہ انجیلی بشارت کا پرچار کرنے والے [ایونجیلیکل] ایک نئے بائبل کے اُستاد کے ذریعے سے ایک ’’ہوشیار‘‘ پیغام کے ساتھ بھٹکنے میں رہنمائی پائیں گے، جس کا گرجا گھر محض موڑ مُڑتے ہی ہے؟ میں کہتا ہوں کہ اُن میں سے کچھ جائیں گے – اور کہ آپ آخر کار اپنے بہترین لوگوں کو اُن گرجا گھروں کے لیے جو شام کو کُھلے رہتے ہیں کھو دیں گے اگر آپ نے اپنی اِتوار کی شام کی عبادت کو بند کر دیا۔

3. وہ گرجا گھر جو اپنی اِتوار کی شام کی عبادت کو بند کر دیتے ہیں وہ ہفتے کے سب سے بڑے انجیلی بشارت کے پرچار کی تعلیم کو پھیلانے کے موقعے کو کھو دیتے ہیں۔ ایک دوسرے مبلغ نے مجھے نیویارک میں ایک گرجا گھر کے بارے میں بتایا جو اپنی اِتوار کی شام کی عبادت کو بند کر چکا ہے۔ اِس کے بجائے وہ اپنے لوگوں کو صبح کی عبادت کے بعد کھانے کھلاتے ہیں اور پھر ایک اور عبادت کے لیے اُنہیں واپس اجتماع گاہ میں لے جاتے ہیں۔ اِس طرح سے لوگوں کو اِتوار کی دوپہر 2:00 بجے تک گھروں کو جانا مل جاتا ہے۔ ’’وہ اُسی قدر بائبل سمجھ لیتے ہیں،‘‘ اُس مبلغ نے مجھے بتایا۔ لیکن کیا اِتوار کی شام کا واحد مقصد ’’اُنہیں زیادہ بائبل سمجھانا‘‘ ہی ہوتا ہے؟ میرا ایسا خیال نہیں ہے۔ کئی سالوں تک اچھے اچھے گرجا گھروں نے اِتوار کی شام کی عبادت کو انجیلی بشارت کے پرچار کی تعلیم کے ایک اِجلاس کے لیے بنائے رکھا۔ میں یقین کرتا ہوں کہ ماضی قریب میں بپٹسٹ گرجا گھروں کے بڑے بڑے مضبوط نکات میں سے یہ ایک تھا۔ لوگوں کو گمراہ رشتے داروں، دوستوں اور جان پہچان والوں کو اِتوار کی شام کو خوشخبری سُننے کے لیے لانے کا حوصلہ فراہم کیا جاتا تھا۔ یہ گرجا گھر کے نیک لوگوں کو اِتوار کی تمام دوپہر کے لیے ایک گمراہ شخص کا شام کی عبادت کے لیے ’’ذہن بنانے‘‘ کا موقع فراہم کرتا تھا۔ آپ لوگوں کو صبح کی عبادت کے بعد کھانا فراہم کر سکتے ہیں، جس کے بعد مذید اور بائبل کا مطالعہ ہوتا ہو، لیکن یہ اُس انجیلی بشارت کے پرچار کی تعلیم کو تباہ کرتا ہے جس کو ہمارے بپٹسٹ گرجا گھروں نے اِتوار کی شام کی عبادتوں سے تعمیر کیا تھا! حال ہی میں میرے ایک دوست پادری صاحب نے مجھے بتایا کیسے اُن کے گرجا گھر کے مضبوط ترین لوگوں میں سے ایک جب وہ گمراہ تھا تو اِتوار کی شام کی عبادت میں ’’اِتفاقیہ چلے آنے‘‘ کے نتیجے میں گرجا گھر کا فرد بنا۔ اُس جیسے کتنے لوگوں کو آپ کھو دیں گے اگر آپ اِتوار کی شام کی اپنی عبادت کو بند کرنے کے ذریعے سے انجیلی بشارت کے پرچار کی تعلیم کے اِس بہت بڑے موقعے کو کھو دیتے ہیں؟

4. وہ گرجا گھر جو اپنی اِتوار کی شام کو عبادتوں کو بند کر دیتے ہیں ہر ہفتے ایک مکمل نزرانے [چندے] کو کھو دیتے ہیں۔ ہر مبلغ کو جان لینا چاہیے کہ ہر مرتبہ جب آپ تھالی کو آگے پیش کرتے ہیں تو نزرانہ [چندہ] کے بغیر اگلے فرد کے پاس نہیں [تھالی لے کر] جاتے۔ اِسی لیے، شام کی عبادتوں کو بند کرنے سے، آپ ایک مکمل نزرانے کو کھو دیتے ہیں۔ اِس سے کوئی فرق نہیں پڑتا لوگ دوسری عبادتوں میں کتنا [نزرانہ] دیتے ہیں، اِتوار کی شام کا نزرانہ کھو جاتا ہے جب عبادت بند کر دی جائے۔ ایک اوسط گرجا گھر جو اِتوار کی شام کو بند ہو جاتا ہے تقریباً $200 سے $500 – یا زیادہ، ہر ہفتے کھو دیتا ہے۔ خود سے سوال کریں: کیا شام کی عبادت کو بند کرنا مالی طور پر کارآمد ہے؟ کیا اِتوار کی شام کو بند کرنے سے ہر مہینے $800 تا $2,000 کھونا عقلمندی ہے؟ یہ تعجب کی بات ہے کسی نے بھی پہلے اِس سادہ سے نکتے کے بارے میں نہیں سوچا!

5. وہ گرجا گھر جو اپنی اِتوار کی شام کی عبادتیں بند کر دیتے ہیں نوجوان لوگوں تک پہنچنے اور اُنہیں شاگرد بنانے کے شاندار موقع کو گنوا دیتے ہیں۔ نوجوان لوگ رات کو باہر نکلنا چاہتے ہیں۔ یاد رکھیں، اِتوار کی شام کی عبادت کو بند کرنا صرف بوڑھوں کو دلکش لگے گا، جو گھر میں رہنا چاہتے ہیں، ٹی وی دیکھنے کے لیے، اور جلدی سونے کے لیے۔ یہ زیادہ تر شادی شُدہ لوگ اور بوڑھے لوگ ہوتے ہیں جو اِتوار کی شام کی عبادتوں میں غیرحاضر ہونے کو اِتنا زیادہ محسوس نہیں کرتے۔ لیکن نوجوان لوگ نہیں جانتے خود کے ساتھ کیا کریں۔ میرا یقین ہے کہ مقامی گرجا گھر کو نوبالغوں اور نوجوان بالغوں کے لیے دوسرا گھر ہونا چاہیے۔ میں یقین کرتا ہوں کہ آپ کے گرجا گھر کا مستقبل اُن کے ساتھ منسلک ہے۔ میں یقین کرتا ہوں کہ اِتوار کی شام کی عبادت کو اِن نوجوان لوگوں کو ذہن میں رکھ کر مرتب کرنا چاہیے۔ ہم اُن کی توجہ حاصل کر سکتے ہیں، مسیح کے لیے اُنہیں جیت سکتے ہیں، اور اُنہیں مقامی گرجا گھر میں عبادتوں کے لیے تربیت دے سکتے اگر ہماری اِتوار کی شاموں کی عبادتیں نوجوانوں پر مبنی ہوں۔ دوسری طرف، اگر ہم اِتوار کی شام کی عبادت کو بند کرتے ہیں، تو ہمارے گرجا گھروں میں جلد ہی نیلے بالوں کے ساتھ صرف مُٹھی بھر بوڑھی خواتین رہ جائیں گی اِتوار کی صبح ایک گھنٹے کے لیے ایک خالی گرجا گھر کی عمارت میں ڈر سے دُبکی ہوئیں – موڑ مُڑتے ہیں اُس میتھوڈسٹ گرجا گھر کی مانند – جس نے اپنی اِتوار کی شام کی عبادت کو پچاس یا ساٹھ سال پہلے چھوڑ دیا تھا۔ میں یقین کرتا ہوں کہ بپٹسٹ گرجا گھرجنہوں نے اپنی شام کی عبادتوں کو چھوڑ دیا ہے اب سے چند ایک سالوں کے بعد اِسی حالت میں ہوں گے اگر ہم اِتوار کی رات کو منادی کرتے رہنا جاری نہیں رکھتے!

’’دولہا کے آنے میں دیر ہو گئی اور وہ سب کی سب اونگھتے اونگھتے سو گئیں‘‘ (متی25:5)۔

V۔ پانچویں بات، اِتوار کی شام کی عبادت کو بند کر دینا حیاتِ نو کے لیے مددگار ماحول کو تخلیق نہیں کرتا۔

میں اِس موضوع کو صرف چھو سکتا ہوں، لیکن یہ جاننے کے لیے کہ حیاتِ نو اکثر رات کو نازل ہوتے ہیں میں اُن کی تاریخ کے بارے میں کافی پڑھ چکا ہوں۔ میں شاید یہاں تک کہتا ہوں کہ وہ عموماً رات کو نازل ہوتے ہیں۔

ڈاکٹر اے۔ ڈبلیو۔ ٹوزر Dr. A. W. Tozer نے ’’آدھی رات کے بعد پیدا ہوا Born After Midnight‘‘ کہلایا جانے والا ایک پیغام لکھا۔ اُس میں اُنہوں نے کہا:

اُس تصور میں قابلِ غور سچائی ہے کہ حیاتِ نو آدھی رات کے بعد پیدا ہوتے ہیں، کیونکہ حیاتِ نو… صرف اُنہی کے پاس آتے ہیں جو اُنہیں شدت کے ساتھ چاہتے ہیں… اِس کے لیے عام ڈگر سے ہٹ کر غیرمعمولی دعا مانگنے کے لیے ایک سنجیدہ ذہن اور پُرعزم دِل درکار ہوتا ہے۔ زیادہ تر مسیحیوں کے پاس یہ نہیں ہوتا۔ اور یہ اِس سے کہیں زیادہ ممکن ہے کہ وہ نایاب ہستی جو اِس غیرمعمولی تجربے تک پہنچ پاتی ہے وہاں پر آدھی رات کے بعد پہنچتی ہو (اے۔ ڈبلیو۔ ٹوزرA. W. Tozer، ’’آدھی رات کے بعد پیدا ہوا Born After Midnight،‘‘ اے۔ ڈبلیو۔ ٹوزر کے شاہکار The Best of A. W. Tozer میں، وارن ڈبلیو۔ وئیرسبی Warren W. Wiersbe نے مرتب کیا، بیکر Baker، 1978، صفحات 37۔39)۔

مہربانی سے ’’اُلٹی‘‘ رائے قائم مت کر لیجیے گا کہ میں کہہ رہا ہوں ہماری عبادتوں کو مسلسل بنیادوں پر جب تک آدھی رات نہیں گزر جاتی جاری رہنا چاہیے۔ تاہم، مجھے دو بپٹسٹ گرجا گھروں میں اعلیٰ درجے کے حیاتِ انواع کے چشم دید گواہ ہونے کا نایاب تجربہ ہو چکا ہے، جس کے نتیجے میں سینکڑوں لوگ مسیح میں ایمان لا کر تبدیل ہوئے۔ وہ دونوں ہی اُس وقت تک جاری رہے جب تک کہ شام کی عبادتیں عام طور پر ختم ہو چکی ہوتی ہیں، رات گئے تک۔ اُن گرجا گھروں میں سے ایک نے خُدا کے بھیجے ہوئے حیاتِ نو کے تقریباً دو سالوں میں بے شمار ہزاروں لوگوں کا اضافہ کیا۔ دوسرے والے نے تین مہینوں میں پانچ سو سے زیادہ لوگوں کا اضافہ کیا۔ خُدا کے بھیجے ہوئے اِن حیاتِ انواع میں سے دوسرے والا ایک اِتوار کی شام کی عبادت میں شروع ہوا جو کہ تقریباً آدھی رات تک جاری رہی۔ پہلے والے میں ایک اِتوار کے بعد دوسری اِتوار کی رات کو جنتی حیاتِ نو آتے چلے گئے جن میں کسی نے بھی گھڑی [وقت] کی جانب دھیان نہیں دیا۔

کیا اُن دونوں بپٹسٹ گرجا گھروں نے ایسے حیاتِ نو کی برکات کا تجربہ کیا ہوتا اگر اُنہوں نے اپنی شام کی عبادتوں کو بند کیا ہوا ہوتا؟ شاید – لیکن مجھے اِس کے بارے میں سنجیدگی سے شک ہے۔ اگر آپ کو شدت کے ساتھ حیاتِ نو چاہیے، تو آپ اُس انتہائی عبادت کو نہیں بند کریں گے جس میں یہ اکثر نازل ہوتا ہے۔

’’دولہا کے آنے میں دیر ہو گئی اور وہ سب کی سب اونگھتے اونگھتے سو گئیں‘‘ (متی25:5)۔

لیکن اِس سے بالکل ہی اگلی آیت کہتی ہے، ’’اور آدھی رات ہوئی تو شور مچ گیا کہ دیکھو، دولہا آ گیا ہے؛ اُس سے ملنے کے لیے آ جاؤ۔ تب وہ ساری کنواریاں جاگ اُٹھیں، اور اپنے اپنے چراغ جلانے لگیں‘‘ (متی25:6۔7)۔ وہ حیاتِ نو ہے – رات کو پیدا ہوا! آیئے اِس کو کھو نہ دیں جب یہ آئے – کیونکہ ہم اپنے گرجا گھروں کو اِتوار کی شام کو تالے لگا چکے ہیں!

نتیجہ

کیا ہوا اگر آپ کا گرجا گھر پہلے ہی سے اِتوار کی شام کو دروازے بند کر چکا ہے؟ آپ کو کیا کرنا چاہیے؟ میں ایک مبلغ کو جانتا ہوں جس کو احساس ہو گیا تھا کہ اِتوار کی شام کی عبادت بند کرنے کے ذریعے سے وہ ایک غلطی کر چکا ہے۔ اُس نے عقلمندی کے ساتھ نوجوان لوگوں کے لیے اِتوار کی رات کی عبادت کو شروع کیا۔ اِس کو آہستہ آہستہ پھیلایا جا سکتا ہے جب تک کہ (کچھ بھی کہے سُنے بغیر) آپ اِتوار کی شام کی عبادت کو واپس نہیں لے آتے، جس میں بے شمار بالغ آ رہے ہوں۔

آپ کو اِتوار کی شام کو کیا تبلیغ دینی ہوتی ہے؟ کیوں نہ درجہ بہ درجہ علم الہٰیات پر ایک سادہ سی کتاب حاصل کر لی جائے، جیسی کہ فیٹزواٹرFitzwater یا تھائسین Thiessen جیسی (پرانے ایڈیشن، نئے ایڈیشن تباہ ہو چکے ہیں)، اور اُن درجہ بہ درجہ علم الہٰیات کے عظیم موضوعات پر محض منادی کر کے لوگوں کے دِلوں میں راہ بنائیں؟ نوجوان لوگ اِس کو پسند کریں گے۔ اُنہیں غور طلب باتیں لکھنے کے لیے کہیں۔ اِس سے اُنہیں اُن آزاد خیال اور بے اعتقادے لوگوں کے خلاف ’’گولہ بارود [مواد]‘‘میسر ہوگا جن سے عام طور پر اُن کا سامنا ہوتا ہے۔

یا، آپ ڈاکٹر نارمن گیسیلرز Dr. Norman Geisler کی معافی چاہنے پر نئی کتاب اٹل بنیادیں Unshakable Foundations (بیت عنیاہ Bethany، 2001) لے سکتے ہیں۔ یہ کتاب اِرتقاء، اِخلاقیات، جنت، جنہم، اِسقاطِ حمل، آسانی سے قتل کرنا [یوتھینیسیا euthanasia]، بُرائی کا مسئلہ، حیاتیاتی نقل cloning اور معاشرے میں دوسرے ہم عصر مسائل کے ساتھ نپٹتی ہے۔ آپ ڈاکٹر گیسیلرز کے خیالات پر خطابات دینے کے لیے اِن مسائل پر پیغامات کے ایک سلسلے پر کام کر سکتے ہیں۔ نوجوان لوگ اِس کو پسند کریں گے – اور آپ کو سُننے کے لیے دوڑے چلے آئیں گے – اِتوار کی شاموں کو۔ یا آپ بائبل کے لیے وِلمنگٹن کی گائیڈ Willmington’s Guide to the Bible لے سکتے ہیں، اور اِس کو بائبل کی بے شمار کتابوں پر صرف منادی کرنے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ لوگوں کو ہمیشہ وہ پسند آتی ہے۔ یا آپ ماضی کے مشنریوں اور عظیم مبلغین پر شام کے پیغامات کے ایک سلسلے کی تبلیغ کر سکتے ہیں – سیرت نگاری سے متعلق واعظ۔

یا آپ مسیحی تاریخ پر ایک کتاب لے سکتے ہیں، جیسے کہ ڈاکٹر عرل ای۔ کئیرنس Dr. Earle E. Cairns کی صدیوں سے گزرتی مسیحیت Christianity Through the Centuries(ژونڈروان Zondervan، 1981)، کتاب میں سے تبلیغ کر سکتے ہیں – مسیحی تاریخ کے عظیم واقعات پر۔ اِس وقت تک – شام کے ’’جوانوں کی‘‘ عبادت میں بالغین آہستہ آہستہ واپس آنا شروع ہو جائیں گے – کیونکہ وہ بھی اِن پیغامات کو سُننا چاہیں گے! ہمیشہ اِس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ صبح کی عبادت میں شام کو کیا موضوع ہو گا اِس کا اعلان کریں! عنوانات کو جس قدر ممکن ہو سکتا ہے دلچسپ بنائیں۔ آپ کو اِتوار کی صبح بار بار کہنا چاہیے، ’’میں شام کی عبادت میں اُن باتوں پر بات کر رہا ہوں جن کے ساتھ بس میں اِتوار کی صبح میں نہیں نمٹ سکتا۔‘‘ یہ سچ ہے، اور یہ بات لوگوں کو آپ کو سُننے کے لیے کھینچ لائے گی! میں آپ کو اِتواروں کی بے شمار شاموں کے لیے کافی خیالات پیش کر چکا ہوں جو تین یا چار سالوں تک چل سکتے ہیں – یا زیادہ!

آئیے اِتوار کی شام کی عبادت کو دوبارہ بحال کریں! ٹی وی پر اب کیا چل رہا ہے اُس کو شکست دینا اب انتہائی دشوار نہیں ہوگا۔ ہم ٹی وی کے بڑے بڑے پروگراموں کے خلاف نہیں ہیں جیسے ’’دی ایڈ سولیون شو The Ed Sullivan Show،‘‘ ’’جیک بینی کا پروگرام The Jack Benny Program‘‘ یا جان وائن John Wayne کی پہلی بار چلنے والی فلم جس کو ابھی تک ٹی وی پر کسی نے نہیں دیکھا۔ اِتوار کی شام کو ہمارے پاس مذید کچھ اور زیادہ حقیقی حریف نہیں رہیں گے۔ ٹیلی ویژن شام کی عبادت کے لیے تقریباً اِتنا بڑا حریف نہیں رہا جتنا یہ 1950 اور 1960 کی دہائی میں ہوا کرتا تھا – یا یہاں تک کہ 70 کی دہائی میں۔ ’’ساٹھ منٹSixty Minutes ‘‘ یا کوئی فٹبال کھیل مشکلوں ہی سے اتنے دلچسپ لگ سکتے ہیں جتنی کہ ایک بخوبی تیار کی ہوئی، توانائی سے بھرپور، دانشورانہ تحریک دینے والی اِتوار کی شام کی عبادت!

اِس کے لیے شروع ہو جائیں!


اگر اس واعظ نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز آپ سے سُننا پسند کریں گے۔ جب ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں تو اُنہیں بتائیں جس ملک سے آپ لکھ رہے ہیں ورنہ وہ آپ کی ای۔میل کا جواب نہیں دیں گے۔ اگر اِن واعظوں نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز کو ایک ای میل بھیجیں اور اُنہیں بتائیں، لیکن ہمیشہ اُس مُلک کا نام شامل کریں جہاں سے آپ لکھ رہے ہیں۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای میل ہے rlhymersjr@sbcglobal.net (‏click here) ۔ آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو کسی بھی زبان میں لکھ سکتے ہیں، لیکن اگر آپ انگریزی میں لکھ سکتے ہیں تو انگریزی میں لکھیں۔ اگر آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو بذریعہ خط لکھنا چاہتے ہیں تو اُن کا ایڈرس ہے P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015.۔ آپ اُنہیں اِس نمبر (818)352-0452 پر ٹیلی فون بھی کر سکتے ہیں۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہائیمرز کے واعظ www.sermonsfortheworld.com
یا پر پڑھ سکتے ہیں ۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

یہ مسوّدۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے ہمارے گرجہ گھر سے ویڈیو پر دوسرے تمام واعظ اور ویڈیو پیغامات حق
اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

واعظ سے پہلے کلام پاک کی تلاوت: متی25:1۔13 .
واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بینجیمن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith نے گایا تھا:
’’اے خُداوندا، اپنے کام کو احیاء بخشRevive Thy Work, O Lord‘‘
(شاعر البرٹ مِڈلین Albert Midlane، 1825۔1909)۔

لُبِ لُباب

اِتوار کی شام کو بند!

CLOSED ON SUNDAY NIGHT!

ڈاکٹر آر۔ ایل ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

’’دولہا کے آنے میں دیر ہو گئی اور وہ سب کی سب اونگھتے اونگھتے سو گئیں‘‘ (متی25:5)۔

I.    پہلی بات، بپتسمہ دینے والے گرجا گھروں میں اِتوار کی شام کی عبادت کا بند ہونا صرف حال ہی میں ہوا ہے جو ایک عام پروٹسٹنٹ رُجحان میں رونما ہو چکا ہے۔

II.   دوسری بات، بپٹسٹ گرجا گھروں میں اِتوار کی شام کی عبادت بند کرنا ’’فیصلہ سازیتdecisionism‘‘ کے نتائج میں سے ایک ہے۔

III.  تیسری بات، اِتوار کی شام کی عبادت کا بند ہو جانا اکثر اِس وجہ سے بھی ہوتا ہے کہ پادری صاحب کو منادی کے لیے بُلاہٹ ہی نہیں ہوئی ہوتی، متی13:52؛ 1سلاطین22:7 .

IV.  چوتھی بات، اِتوار کی شام کی عبادت کو بند کرنے سے بے شمار غیرمتوقع، نقصان دہ نتائج سامنے آتے ہیں۔

V.   پانچویں بات، اتوار کی شام کی عبادت کو بند کر دینا حیاتِ نو کے لیے مددگار ماحول کو تخلیق نہیں کرتا، متی25:6۔7 .